Posts

Showing posts from July, 2020

جب مشہور برطانوی بحری جہاز ٹائی ٹینک حادثے کا شکار ہوا تو اس کے آس پاس تین ایسے بحری جہاز موجود تھے جو ٹائی ٹینک کے مسافروں کو بچا سکتے تھے۔۔ سب سے قریب جو جہاز موجود تھا اسکا نام سیمسن (Samson) تھا اور وہ حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے صرف سات میل کی دوری پہ تھا۔ سیمسن کے عملے نے نہ صرف ٹائی ٹینک کے عملے کی طرف سے فائر کئے گئے سفید شعلے (جو کہ انتہائی خطرے کی صورت میں فضا میں فائر کئے جاتے ہیں) دیکھے تھے بلکہ مسافروں کی آہ و بُکا کو سُنا بھی تھا۔ لیکن کیونکہ سیمسن کے عملے کے لوگ غیر قانونی طور پہ انتہائی قیمتی سمندری حیات کا شکار کر رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ پکڑے جائیں لہذا ٹائی ٹینک کی صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی بجائے مدد کرنے کے وہ جہاز کو ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں بہت دور لے گئے۔ یہ جہاز ہم میں سے ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی گناہوں بھری زندگی میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ان کے اندر سے انسانیت کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور پھر وہ ساری زندگی اپنے گناہوں کو چھپاتے گزار دیتے ہیں۔ دوسرا جہاز جو قریب موجود تھا اس کا نام کیلیفورنین (Californian) تھا جو حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے چودہ میل دور تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن نے بھی ٹائی ٹینک کی طرف سے مدد کی پکار کو سنا اور باہر نکل کے سفید شعلے اپنی آنکھوں سے دیکھے لیکن کیونکہ وہ اس وقت برف کی چٹانوں میں گھرا ہوا تھا اور اسے ان چٹانوں کے گرد چکر کاٹ کے ٹائی ٹینک تک پہنچنے میں خاصی مشکل صورتحال سے دو چار ہونا پڑتا لہذا کیپٹن نے اس کی بجائے دوبارہ اپنے بستر میں جانا اور صبح روشنی ہونے کا انتظار کرنا مناسب سمجھا۔ صبح جب وہ ٹائی ٹینک کی لوکیشن پہ پہنچا تو ٹائی ٹینک کو سمندر کی تہہ میں پہنچے چار گھنٹے گزر چکے تھے اور ٹائی ٹینک کے کیپٹن ایڈورڈ اسمتھ سمیت 1569 افراد موت کے گھاٹ اتر چکے تھے۔ یہ جہاز ہم میں سے ان افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو کسی کی مدد کرنے کو اپنی آسانی سے مشروط کر دیتے ہیں اور جب تک حالات حق میں نہ ہوں کسی کی مدد کرنا اپنا فرض نہیں سمجھتے۔ تیسرا جہاز کارپیتھیا (Carpathia) تھا جو ٹائی ٹینک سے 68 میل دور تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن نے ریڈیو پہ ٹائی ٹینک کے مسافروں کی چیخ و پکار سنی۔ صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی باوجود اس کے کہ یہ ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں جنوب کی طرف جا رہا تھا، اس نے فورا اپنے جہاز کا رخ موڑا اور برف کی چٹانوں اور خطرناک موسم کی پروا کئے بغیر مدد کے لئے روانہ ہو گیا۔ اگرچہ یہ دور ہونے کے باعث ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کے دو گھنٹے بعد لوکیشن پہ پہنچ سکا لیکن یہی وہ جہاز تھا جس نے لائف بوٹس پہ امداد کے منتظر ٹائی ٹینک کے باقی ماندہ 710 مسافروں کو زندہ بچایا تھا اور انہیں بحفاظت نیو یارک پہنچا دیا تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن کیپٹن آرتھر روسٹرن کو برطانوی نیوی کی تاریخ کے چند بہادر ترین کیپٹنز میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے اس عمل پہ انہیں کئی سماجی اور حکومتی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔ یاد رکھیئے، ہماری زندگی میں ہمیشہ مشکلات رہتی ہیں، چیلنجز رہتے ہیں، لیکن وہ جو ان مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے بھی انسانیت کی بھلائی کے لئے کچھ کر جائیں انہیں ہی انسان اور انسانیت یاد رکھتی ہے۔ دعا کیا کریں کہ اللہ کسی کی مدد کی توفیق دے کیوں کہ یہ انسانیت کی معراج اور اعلی ترین درجہ ہے۔

جب مشہور برطانوی بحری جہاز ٹائی ٹینک حادثے کا شکار ہوا تو اس کے آس پاس تین ایسے بحری جہاز موجود تھے جو ٹائی ٹینک کے مسافروں کو بچا سکتے تھے۔۔ سب سے قریب جو جہاز موجود تھا اسکا نام سیمسن (Samson) تھا اور وہ حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے صرف سات میل کی دوری پہ تھا۔ سیمسن کے عملے نے نہ صرف ٹائی ٹینک کے عملے کی طرف سے فائر کئے گئے سفید شعلے (جو کہ انتہائی خطرے کی صورت میں فضا میں فائر کئے جاتے ہیں) دیکھے تھے بلکہ مسافروں کی آہ و بُکا کو سُنا بھی تھا۔ لیکن کیونکہ سیمسن کے عملے کے لوگ غیر قانونی طور پہ انتہائی قیمتی سمندری حیات کا شکار کر رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ پکڑے جائیں لہذا ٹائی ٹینک کی صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی بجائے مدد کرنے کے وہ جہاز کو ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں بہت دور لے گئے۔  یہ جہاز ہم میں سے ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی گناہوں بھری زندگی میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ان کے اندر سے انسانیت کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور پھر وہ ساری زندگی اپنے گناہوں کو چھپاتے گزار دیتے ہیں۔ دوسرا جہاز جو قریب موجود تھا اس کا نام کیلیفورنین (Californian) تھا جو حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے ...

🌾🌾 سفرِ عشق۔۔۔۔۔ 🌸🌺🥀 🌲سیاحت کا جنوں۔۔۔۔ 🏕️🏔️ 👈🏼 قسط نمبر ≋〔⋖ 3 ⋗〕≋ 📹 پاکستان قدرتی حسن، پہاروں، وادیوں، دریاؤں اور آبشاروں سے مالا مال ہے، اگر اس کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کی وادیوں کو دیکھا جائے تو شاید آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا کہ اتنے خوبصورت، پرسکون اور پرفضا مقامات کی دولت پاکستان کو اللّه تعالیٰ نے دی ہے۔ 🔅🔆🎊🎊 💎 پاکستان کے ایسے ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مشہور جگہ کی سیر ہم آپ کو کرواتے ہیں، جس کا نام ہے وادی ناران۔۔۔۔۔ 🖼️ ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* باقی مسافر حضرات، بابا جی کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جبکہ ڈرائیور پہلےکی طرح مسکرا رہا تھا جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ سب ہوٹل میں کھانا کے لیے داخل ہوئے۔ ہمیں بھوک نہیں لگ رہی تھی۔ ہوٹل کے سامنے سڑک کی دوسری جانب ایک دکان تھی۔ دکان کیا، ٹھیلہ لگ رہا تھا۔ ہم وہاں گئے۔ جوان سا لڑکا تھا۔ ہم نے 4 عدد ٹماٹر لیے اور جوان لڑکے کو آدھا کلو گھی اور 3 انڈے دینے کو کہا۔ جب وہ انڈے اور گھی دینے لگا تو ہم نے پوچھا "وادیِ کاغان تک کتنے گھنٹے کا رستہ باقی ہے”۔ اس نے کہا بس دو گھنٹے۔ پھر ہم نے دوسرا سوال کیا کہ کیا وہاں سامان خورد و نوش میسر ہے؟ تو وہ مسکرا کر کہنے لگا کہ ہاں۔ بلکل ہے۔ ہمارا جی چاہ رہا تھا کہ خریدا ہوا سامان واپس کر دیں۔ مگر "نفس ِخوب” نے ہمیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ جبکہ "نفس ِبد” ہمیشہ کی طرح ہمیں بھڑکانے کی بے جا کوشش کرتا رہا۔ جب سب کھانا کھا کر باہر نکلے تو بابا جی ہماری طرف آئے اور کہنے لگے "یہ گدھے کا بچہ آج رات ہمیں خاک میں کرے گا "۔ ہم نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ دعائیں کر کر کے بل آخر ہم منزل مقصود پر پہنچ ہی گئے۔ تاریکی میں ہماری آنکھیں کمزوری کا اظہار کرتی ہیں۔ اس لیے ہمیں زیادہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہمیں اپنا حسن بھی بہت عزیز ہے اس لیے ہم عینک کے استعمال سے گریز کرتے ہیں ۔ ہمارا یہ گمان ہےکہ کہیں ایسا نا ہو کہ کوئی دل نشین ہمارے عشق کے جال میں پھنس جائے مگر پھر ہماری عینک کو دیکھ کر اپنے دل کا فیصلہ رد کر دے ۔ دل بھی کیا کمبخت چیز ہے۔ سارے مسافرکوسٹر سے اترے ۔ اترتے ہی ہمیں محسوس ہوا کہ سڑک احمد فرازصاحب کی سی تھی۔ یعنی رخ بلندی کی جانب۔ کچھ دیر میں ہمیں محسوس ہوا کہ بجلی چلی گئی ہے کیونکہ ہر جگہ سے جنریٹر کی دل خراش آوازیں آرہی تھیں۔ بارش زور و شور سے تشویق میں مگن تھی۔ وہ فرنگی لوگ کہتے ہیں ناں کہ It was raining cat and dogs یعنی بلی اور کتوں والی بارش۔ خیر،سب نے اپنا سامان اٹھایا اور اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہم ابھی آسمان و زمین پر غور کر ہی رہے تھے کہ اچانک بابا جی کہنے لگے "کوئی جگہ نہیں ۔ ۔ ۔ تو ہمارے ساتھ آجاو” ہم نے بابا جی کا بہت شکریہ ادا کیا۔ "خدا آپ کو سلامت رکھے۔ آپ نے پوچھ لیا، بس ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ مہمان نوازی کا شکریہ۔” بابا جی کہنے لگے "نہیں نہیں، ہمارا ادھر ہوٹل ہے بچہ، ہم کرایہ لیتا ہے۔ ہم پوچھ رہا ہے اگر جگہ نہیں ہے تو ہم تم کو اپنا ہوٹل دکھاوے” تب بات سمجھ میں آئی۔ ہم نے سوچھا بابا جی اصول کے پکے نظر آتے ہیں۔ اور جگہ دیکھنے میں کیا حرج ہے۔ پسند نہیں آیا تو ہم نا کر دینگے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے ۔ جگہ دکھا دیں۔ بابا جی نے اشارہ کیا اور ہم ان کا پیچھا کرنے لگے۔ بابا جی ہمیں ایک تاریک اور تنگ گلی میں لے گئے۔ راستے میں ہم نے پوچھا "بابا جی اتنا بتا دیں کہ کرایہ کتنا ہے؟” بابا جی نے کہا "بچہ، پہلے جگہ تو دیکھ لو۔ تم کو نوبت والا کمرہ دکھائے گا۔” گلی کے اندھر جاتے ہی ہمیں ایک بہت بڑی عمارت نظر آئی۔ عمارت کی دیواروں پر خوبصورت ٹائلز لگے ہوئے تھے۔ باہر سے ہر کمرے پر نصب کی ہوئی ایک جیسی کھڑکیاں نظر آرہی تھیں جو کہ بہت صاف ستھری اور کشادہ تھیں۔ ہم نے سوچا جگہ تو بہت اچھی ہے مگر پتا نہیں کرایہ کتنا ہوگا۔ اس عمارت کے قریب جاتے ہی کیا دیکھتے ہیں کہ بابا جی کمر کی لچک دکھا کر عمارت کو چھوڑ کر دوسری جانب داخل ہوگئے۔ ہم آگے چلے اور ایک دوسری گلی میں داخل ہوئے۔ اندر ایک چھوٹی سی عمارت تھی۔ عمارت کے اندر گئے تو ہمیں پتا لگا کہ عمارت میں مرمت کا کام باقی ہے۔ راستہ میں شکستہ بوتلیں، اینٹیں، ہتھوڑے، ٹوٹی پھوٹی ٹائلیں، اور سمینٹ کی تھیلیاں پڑی تھیں۔ بابا جی پہلی منزل کی جانب گئے جو عمارت کی آخری منزل بھی تھی۔ بابا جی نے الٹے ہاتھ پرپہلےکمرے کا دروازہ کھولا اور ہم اندر گئے۔ کمرہ چھوٹا تھا۔ ایک بستر، ایک چھوٹی سی میز، جس پر ایک پانی کی بوتل اور ایک گلاس نجانے کب سے رکھا ہوا تھا، فرش پر کچھ اخبار کے صفحے جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کسی نے ان صفحات سے اپنے ہاتھ صاف کیے ہوں گے۔ ایک دروازہ غسل خانے میں جا کھلتا تھا۔ ہمیں کمرہ صحیح لگا۔ ویسے بھی ہم کونسا عیش کرنے آئے تھے؟ ہم تو آئے تھے غم اٹھانے ، دربدر ہونے، جستجو کرنے ۔ بقول جون؛ اے شخص میں تیری جستجو سے بے زار نہیں ہوں، تھک گیا ہوں ہم نے دیکھا جگہ صاف ستھری ہے۔ بابا جی بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ "نوبت والا کمرہ دکھایا ہے تم کو”۔ ہمیں بات سمجھ نہیں آئی مگر ہم خوش ہوئے۔ کوئی جدید ماڈل کا کمرہ ہوگا۔ پھر بابا جی کہنے لگے "ہمارے پاس گرم پانی موجود نہیں ہے ہم پہلے سے بتاوے”۔ ہماری خوشی دھیمی پڑھ گئی۔ ہماری اماں جنہیں ہم "مانی” پکارتے ہیں ہمیں بچپن سے کہتی چلی آرہی ہیں کہ ہم "بز مانند” ہیں۔ یعنی ہمیں سردی جلدی لگتی ہے۔ ہم اپنی انگلیاں آپس میں مسلنے(ملنے) لگےاور بابا جی سے پوچھا بابا جی کتنا؟ بابا جی نے کہا "دیکھو، تم ایسا موسم میں آیا ہے جو کوئی نہیں آتا۔ "بیجنیس” بلکل کم ہے، اور تم آئے بھی ہو اکیلے، دیکھ رہے ہو یہ کمرہ 2 لوگوں کے لیے ہے۔” ہم نے سر کجھا کر سوچا، "لے بھائی، ایسی تمہید باندھنے کے بعد ایسا نرخ بتائیں گے کہ ہم پانی مانگے بغیر ہی بھاگ جائیں گے”۔ مگر بابا جی نے کہا "400 روپیے”۔ ہم سوچ میں پڑھ گئے۔ جہاں تک ہمیں یاد آرہا تھا، مراد علی نے کہا تھا کہ کم سے کم 2 ہزار اور 1500 میں ایک کمرہ کرایہ پر دیتے ہیں۔ پھر یہ کیا ماجرا ہے؟ ہمیں سوچ میں دیکھ کر بابا جی نے دوبارہ دہرایا "بچہ ، یہ نوبت والا کمرہ ہے”۔ یہ سنتے ہی ہم نے فورا کہا ٹھیک ہے ۔ بابا جی چلے گئے۔ ہم نے دوبارہ کمرے کا خوب جائزہ لیا۔ ٹھیک لگ رہا تھا۔ کمرے میں صرف ایک کھڑکی تھی وہ بھی عمارت کے اندر ہی کھلتی تھی۔ پھر ہم نے سب سے اہم جگہ کا جائزہ لیا۔ جی ہاں،غسل خانہ۔ صاف لگ رہا تھا۔ نل کا پانی کھولا تو پانی برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔ پاس ہی ایک استعمال شدہ صابن بھی نظر آیا۔ جبکہ ایک عدد بالٹی اور لوٹہ بھی رکھا ہوا تھا۔ ہم واپس کمرے میں آئے۔ بستہ کمرے کے ایک کھونے میں پھینکا اور بستر پر گر گئے۔ سر میں درد کی شدت ابھی بھی موجود تھی۔ شاید پہلے سے بھی زیادہ۔ بارش کی آواز اپنے زوروں پر تھی۔ کپڑے بدل کر اور پاؤں وغیرہ دھو کرہم بستر پر لیٹ گیے اور پلکوں کو وصال بخشی۔ ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾ 0꙲         🏞️اگر آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں نیچے آکر آپ کو چھولیں بلکہ لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟ اس دلچسپ سفر کے بارے میں مزید جاننے کے لئے کل کی قسط کا انتظار کریں۔ 🚙🚕🚗

🌾🌾 سفرِ عشق۔۔۔۔۔ 🌸🌺🥀 🌲سیاحت کا جنوں۔۔۔۔ 🏕️🏔️ 👈🏼 قسط نمبر   ≋〔⋖ 3 ⋗〕≋ 📹 پاکستان قدرتی حسن، پہاروں، وادیوں، دریاؤں اور آبشاروں سے مالا مال ہے، اگر اس کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کی وادیوں کو دیکھا جائے تو شاید آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا کہ اتنے خوبصورت، پرسکون اور پرفضا مقامات کی دولت پاکستان کو اللّه تعالیٰ نے دی ہے۔ 🔅🔆🎊🎊 💎 پاکستان کے ایسے ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مشہور جگہ کی سیر ہم آپ کو کرواتے ہیں، جس کا نام ہے وادی ناران۔۔۔۔۔ 🖼️ ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* باقی مسافر حضرات، بابا جی کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جبکہ ڈرائیور پہلےکی طرح مسکرا رہا تھا جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ سب ہوٹل میں کھانا کے لیے داخل ہوئے۔ ہمیں بھوک نہیں لگ رہی تھی۔ ہوٹل کے سامنے سڑک کی دوسری جانب ایک دکان تھی۔ دکان کیا، ٹھیلہ لگ رہا تھا۔ ہم وہاں گئے۔  جوان سا لڑکا تھا۔ ہم نے 4 عدد ٹماٹر لیے اور جوان لڑکے کو آدھا کلو گھی اور 3 انڈے دینے کو کہا۔ جب وہ انڈے اور گھی دینے لگا تو ہم نے پوچھا "وادیِ کاغان تک کتنے گھنٹے کا رستہ باقی ہے”۔ اس نے کہا بس دو گھنٹے۔ پھر ہم نے دوسرا ...

🔵🔵🔵🔳🔵🔵🔵 *⁉️ہم اللہ کیلئے کیا کیا قربان کر سکتے ہیں* 👈🏻👈🏻سوچئے ہمیں کیا چیز اللہ سے زیادہ پیاری ہو جاتی ہے؟ *🏵️ہماری اَنا* *جو اللہ کی خاطر جھک جائے، اللہ اسکو بلند کرتا ہے۔* ✴️اپنی ناک کی خاطر اڑے رہیں گے، اکڑے رہیں گے تو گھروں کے یہی برے حالات رہے ہیں، رشتے داریاں ڈسٹرب رہیں گی۔ *اللہ کی خاطر، انا کو ذبح کر دیں۔* اپنی عزت قربان کرکے جھگڑا ختم کر دیجئے۔ *🏵️ہماری خواہشات* ✴️اللہ کا حکم ٹوٹ جائے مگر خواہشات نہ ٹوٹیں۔ اپنی دل پسند چیز تو پوری ہو جائے، اللہ تعالی کے حکم اور حدود چاہے خراب کریں۔ *اپنی دل کی، نفس کی خواہشات کو اللہ کی خاطر ذبح کر دیجئے۔* اللہ کے حکم کو سب سے آگے کر دیجئے۔ *🏵️ہمارے بچے اور ان کے جذبات* ان عظیم باپ بیٹوں دونوں کے جذبات کا سخت امتحان تھا۔ *✴️ہماری اولاد بھی ہمارے لئے آزمائش ہے، اتنی سخت نہیں کہ اپنے دل کے ٹکڑے کو ذبح کرنا پڑے۔* 🔴جب بچوں کی خواہشات اللہ کے حکم کے خلاف ہوں ہم تب بھی کیوں مان لیتے ہیں۔ *ان کے جذبات زخمی نہ ہوں لیکن اللہ کے حکم ہو اہمیت نہیں دی جاتی۔* 🔴جیسے وہ چاہتے ہم وہی فضول رسمیں کر کے ان کی شادیاں کرتے ہیں۔ *ان کی ایسی فرمائش جو آخرت کیلئے نقصان دہ ہے وہ بھی پوری کر دیتے ہیں، کہیں ہمارے بچے نہ ترسیں، کہیں ان کا دل نہ ٹوٹے۔* 👈🏻👈🏻ان سب باتوں کے مطابق ہم آج اپنا جائزہ لیں۔ *کیا ہماری اللہ کی محبت خالص ہے، یا اس میں اولاد اور ہماری خواہشات کی ملاوٹیں شامل ہے۔* 🏵️یاد رکھئے۔ *وہی ہے جو ہستی خالص محبت کے لائق ہے۔* *اسکی محبت اور خوف کو ہر محبت اور ہر دوسرے اندیشے سے آگے کر دیں* 🟠🟠🟠🟥🟠🟠🟠

🔵🔵🔵🔳🔵🔵🔵 *⁉️ہم اللہ کیلئے کیا کیا قربان کر سکتے ہیں*  👈🏻👈🏻سوچئے ہمیں کیا چیز اللہ سے زیادہ پیاری ہو جاتی ہے؟ *🏵️ہماری اَنا* *جو اللہ کی خاطر جھک جائے، اللہ اسکو بلند کرتا ہے۔* ✴️اپنی ناک کی خاطر اڑے رہیں گے، اکڑے رہیں گے تو گھروں کے یہی برے حالات رہے ہیں، رشتے داریاں ڈسٹرب رہیں گی۔ *اللہ کی خاطر، انا کو ذبح کر دیں۔* اپنی عزت قربان کرکے جھگڑا ختم کر دیجئے۔ *🏵️ہماری خواہشات* ✴️اللہ کا حکم ٹوٹ جائے مگر خواہشات نہ ٹوٹیں۔ اپنی دل پسند چیز تو پوری ہو جائے، اللہ تعالی کے حکم اور حدود چاہے خراب کریں۔  *اپنی دل کی، نفس کی خواہشات کو اللہ کی خاطر ذبح کر دیجئے۔*  اللہ کے حکم کو سب سے آگے کر دیجئے۔ *🏵️ہمارے بچے اور ان کے جذبات* ان عظیم باپ بیٹوں دونوں کے جذبات کا سخت امتحان تھا۔ *✴️ہماری اولاد بھی ہمارے لئے آزمائش ہے، اتنی سخت نہیں کہ اپنے دل کے ٹکڑے کو ذبح کرنا پڑے۔* 🔴جب بچوں کی خواہشات اللہ کے حکم کے خلاف ہوں ہم تب بھی کیوں مان لیتے ہیں۔ *ان کے جذبات زخمی نہ ہوں لیکن اللہ کے حکم ہو اہمیت نہیں دی جاتی۔* 🔴جیسے وہ چاہتے ہم وہی فضول رسمیں کر کے ان کی شادیاں کرتے ہیں۔...

_* 🌿🌹🌿🌹🌿🌹🌿 قربانی کے معنی ہیں ،، اللّه کا تقرب حاصل کرنے والی چیز ،، اور یہ لفظ ،، قربانی قربان سےنکلا ھے اور لفظ قربان ، قرب ، سے نکلا ھے تو قربانی کے معنی یہ ہیں کہ وہ چیزجس سےاللّه تعالٰی کا تقرب حاصل کیاجائے اور اس قربانی کے سارے عمل میں یہ سکھایا گیا ھے کہ ہمارےحکم کی اتباع کانام دین ھے۔ جب ہماراحکم آجائے تو اس کےبعد عقلی گھوڑے دوڑانے کا موقع ھے نہ اس میں حکمتیں اورمصلحتیں تلاش کرنےکاموقع باقی رہتاھے اور نہ اس میں چوں وچرا کرنے کا موقع ھے ۔ ایک مؤمن کا کام یہ ھے کہ اللّه کی طرف سے حکم آجائے تو اپنا سر جھکا دے اور اس حکم کی اتباع کرے ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کےپاس حکم آگیا کہ بیٹے کو ذبح کردو اور یہ حکم بھی خواب کے ذریعے سے آیا ، اگر اللّه تعالٰی چاہتےتو وحی کے ذریعے حکم نازل فرمادیتےکہ اپنےبیٹےکو ذبح کرو لیکن اللّه تعالٰی نے ایسا نہیں کیابلکہ خواب میں آپؑ کو یہ دکھایا گیا اپنے بیٹے کو ذبح کر رھے ہیں اگر ہمارے جیسا تاویل کرنےوالاکوئی شخص ہوتاتو یہ کہہ دیتاکہ یہ توخواب کی بات ھے ۔ اس پر عمل کرنے کی کیا ضرورت ھے مگر یہ بھی حقیقت میں ایک امتحان تھا کہ چونکہ جب انبیاء علیہم السلام کاخواب وحی ہوتا ھے تو کیا وہ اس وحی پر عمل کرتے یا نہیں ؟ اس لئے آپؑ کو یہ عمل خواب دکھایا گیا اورجب آپؑ کو یہ معلوم ھوگیا کہ یہ اللّه تعالٰی کی طرف سے ایک حکم ھے کہ اپنے بیٹے کو ذبح کردو تو باپ نے پلٹ کر اللّه تعالٰی سے یہ نہیں پوچھاکہ یااللّه ! یہ حکم آخرکیوں دیاجارہا ھے؟ اس میں کیا حکمت اور مصلحت ھے ؟ دنیا کا کوئی قانون کوئی نظامِ زندگی اس بات کو اچھا نہیں سمجھتا کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے ، عقل کی کسی میزان پر اس حکم کو اتار کر دیکھے تو کسی میزان پر یہ پورا اترتا نظر نہیں آتا ۔ تو آپ علیہ السلام نے اللّه تعالٰی سے اس کی مصلحت نہیں پوچھی البتّہ بیٹے سے امتحان اور آزمائش کرنے کے لئے سوال کیا کہ : ( سورۃ الصفات آیت ۱۰۳ ) ،، اے بیٹےمیں نےتو خواب میں یہ دیکھا ھےکہ تمہیں ذبح کر رہا ھوں اب تمہاری کیا رائے ھے ؟ ان کی رائے اس لئے نہیں پوچھی کہ اگر ان کی رائے نہیں ھوگی تو ذبح نہیں کروں گا بلکہ ان کی رائے اس لئےپوچھی کہ بیٹے کو آزمائیں اور اللّه تعالٰی کے حکم کے بارے میں ان کا تصور کیاھے ؟ وہ بیٹا بھی حضرت ابراہیم خلیل اللّه کا بیٹا تھا ، وہ بیٹا جن کے صلب سے سید الاولین والآخرین ﷺ دنیا میں تشریف لانے والے تھے اس بیٹے نے بھی پلٹ کر یہ نہ پوچھا کہ ابا جان ! مجھ سےکیا جرم سرزد ھوا ھے ؟ میرا قصور کیا ھے؟ کہ مجھے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ھے اس میں کیا حکمت اور مصلحت ھے ؟ بلکہ بیٹے کی زبان پر ایک جواب تھا کہ : آیت ترجمہ ۔ ،، ابا جان ! آپ کے پاس جو حکم آیا ھے اس کو کر گزریئےاور جہاں تک میرا معاملہ ھےتو آپؑ ان شاء اللّه مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔ میں آہ وبکا نہیں کروں گا ، میں روؤں گا نہیں اور چلاؤں گانہیں اور آپؑ کو اس کام سے نہیں روکوں گا آپ کر گزریئے ۔ جب باپ بھی ایسا اولوالعزم اور بیٹا بھی اولوالعزم ، دونوں اس حکم پر عمل کرنے کے لئے تیار ھوگئے اور باپ نے بیٹے کو زمین پر لٹا دیا اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام نےفرمایاکہ اباجان آپؑ مجھے پیشانی کےبل لٹائیں اس لئے کہ اگر سیدھا لیٹا تو میری صورت سامنے ھوگی جس کی وجہ سے کہیں ایسا نہ ھو کہ آپؑ کے دل میں بیٹے کی محبّت کاجوش آجائےاور آپؑ چھری نہ چلاسکیں ۔ اللّه تعالٰی کویہ ادائیں اتنی پسند آئیں کہ اللّه تعالٰی نےان اداؤں کا ذکر قرآن کریم میں بھی فرمایا ۔ روایتوں میں آتا ھے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لٹانے لگے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اباجان ! آپؑ مجھے ذبح تو کررھےہیں ایک کام یہ کرلیجئے کہ میرےکپڑے اچھی طرح سمیٹ لیجئے اس لئے کہ کہ جب میں ذبح ھوں گاتو فطری طور پر تڑپوں گا اور تڑپنےکے نتیجے میں ھوسکتا ھے کہ خون کے چھینٹے دور تک جائیں اور اس کی وجہ سے میرے کپڑے جگہ جگہ سے خون میں لت پت ھوجائیں اور پھر میری والدہ جب میرے کپڑوں کو دیکھیں گی تو ان کو بہت ملال ھوگا اس لئے آپ میرے کپڑوں کو اچھی طرح سمیٹ لیں ۔ پھر کیا ھوا ؟ جب ان دونوں نےاپنےحصےکا کام پورا کردیا تو اللّه تعالٰی فرماتےہیں کہ جب بندوں نے اپنے حصے کا کام کرلیا تو اب مجھے اپنے حصے کا کام کرنا ھے ۔ چنانچہ فرمایا کہ : اے ابراہیمؑ تم نے اس خواب کو سچ کر دکھایا ، اب ہماری قدرت کا تماشا دیکھو ۔ چنانچہ جب آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک جگہ بیٹھے مسکرا رھے ہیں اور وہاں ایک دنبہ ذبح کیا ھوا پڑا ھے ۔ یہ پورا واقعہ جو درحقیقت قربانی کی آمد کی بنیاد ھے روز اول سےیہ بتا رہا ھےکہ قربانی اس لئےشروع کی گئی ھے تاکہ انسانوں کے دلوں میں یہ احساس یہ علم اور معرفت پیدا ھو کہ اللّه تعالٰی کا حکم ہر چیز پر فوقیت رکھتا ھے اور دین درحقیقت اتباع کا نام ھے اور جب حکم آجائے تو پھر عقلی گھوڑے دوڑانے کا موقع نہیں حکمتیں اور مصلحتیں تلاش کرنے کا موقع نہیں ھے ۔ مختصر سی کوشش امید ھے کہ سمجھدار آدمی کے لئے اس تحریر میں بہت کچھ ھے ۔۔ اللّه ربّ العزّت ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ،آمین 🦋ﷻ💖ﷺ🦋ﷻ💖ﷺ🦋,ﷻ💖ﷺ🦋ﷻ💖 💚💛🤍💚💛🤍💚💛🤍💚💛

*_ 🌿🌹🌿🌹🌿🌹🌿 قربانی کے معنی ہیں ،، اللّه کا تقرب حاصل کرنے والی  چیز ،، اور یہ لفظ ،، قربانی قربان سےنکلا ھے اور لفظ قربان ، قرب ، سے نکلا ھے تو قربانی کے معنی یہ ہیں  کہ وہ چیزجس سےاللّه تعالٰی کا تقرب حاصل کیاجائے  اور اس قربانی کے سارے عمل میں یہ سکھایا گیا ھے  کہ ہمارےحکم کی اتباع کانام دین ھے۔ جب ہماراحکم آجائے تو اس کےبعد عقلی گھوڑے دوڑانے کا موقع ھے نہ اس میں حکمتیں اورمصلحتیں تلاش کرنےکاموقع باقی رہتاھے اور نہ اس میں چوں وچرا کرنے کا موقع  ھے ۔ ایک مؤمن کا کام یہ  ھے کہ  اللّه  کی طرف سے  حکم آجائے تو اپنا سر  جھکا  دے  اور اس  حکم کی  اتباع کرے ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کےپاس حکم آگیا کہ  بیٹے کو ذبح کردو اور یہ حکم بھی خواب  کے ذریعے سے  آیا ، اگر اللّه تعالٰی چاہتےتو وحی کے ذریعے حکم  نازل فرمادیتےکہ اپنےبیٹےکو ذبح کرو لیکن اللّه تعالٰی  نے ایسا نہیں کیابلکہ خواب میں آپؑ کو یہ دکھایا گیا  اپنے بیٹے کو ذبح کر رھے  ہیں اگر ہمارے  جیسا تاویل  کرنےوالاکوئی ش...

میرے بہت پیارے دوست *شاہ نواز بھائی* کی طرف سے آئی ایک عمدہ تحریر چاند رات کی بات .... میی کوئ سولہ سترہ سال کاتھا اور میرے چھوٹے بھائ بہنیں دو دو اڑھائ اڑھائ سال کے وقفے سے مجھ سے چھوٹے تھے اللہ سب کو سلامت رکھے آمین. ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* عید آنے والی تھی محلے اور اسکول کے بچوں کے لئیے گھر گھر عید کی تیاریاں ہو رہی تھیں نئے ملبوس تیار ہو رہے تھے نئے پاپوش خریدے جا رہے تھے ہمارے ماں باپ کو پروا ہی نہ تھی کہ اپنے بچوں کے لئیے بھی عید کی کوئ خریداری کریں. ہماری امی ہمیں آخری دن تک تسلیاں دیتی رہیں کہ تمارے ابا جان کو کہیں سے عید سے پہلے پیسے ضرور آئیں گے اور آپ سب کے لئیے نئے سوٹ اور بوٹ بازار سے جا کر لے آئیں گے. والد صاحب کو پاداش حق گوئ میں پہلے کئ مرتبہ حکومتی جبر کا نشانہ بنایا جا چکاتھا کاروبار ضبط کرلیئے جاتے تھے زبان بندی کر دی جاتی تھی اسلئیے گھر میں بعض مرتبہ پریشانی اور تنگی آجاتی تھی لیکن میرے والدین ہمیں محسوس نہیں ہونے دیتے تھے. دوچار دن کی مشکل ہوتی پھر حالات معمول پر آجاتے کہیں نہ کہیں سے اسباب رزق مہیا ہو جاتے اور ہمارے والدین اللہ کا شکر ادا کرتے. فلمی دنیا نے ابا جان کوفلمی گانے لکھنے کی پھر آفر کی اور حکمران تو چاہتے ہی تھے ان کی زبان اور قلم حکومت کی جائز و ناجائز پالیسیوں کے حق میں استعمال ہوںx مگر انہوں نے ہمیشہ کہا کہ عزت نفس کی قیمت تجھے معلوم نہ تھی. بیچ دی تو نے جو دو چار نوالوں کے لئیے. بہر حال عید کی چاند رات آگئ ہم بہن بھائ رو رلا کر مایوس ہو کر سو گئے والدہ محترمہ بھی خزانہء غیب کا انتظار کر کے مشیت ایزدی جان کر صبر و شکر کر کے نیند کی وادیوں میں کھو گئیں. مگر باپ کو نیند نہ آئی اس کا یقین اپنے رب پہ بہت پختہ تھا اس باپ نے یہ یقین کی منزل حضرت مدنی رحمتہ اللّه، حضرت لاہوری رحمتہ اللّه، حضرت امیر شریعت رحمتہ اللّه، حضرت دینپوری رحمتہ اللّه، حضرت رائے پوری رحمتہ اللّه، حضرت ھالیجوی رحمتہ اللّه جیسے بزرگوں کی چشم فیض کے نتیجہ میں حاصل کی تھی. اس کی آس نہیں ٹوٹی تھی وہ رات بارہ بجے سخت سردی کے موسم میں رضائی منہ پہ ڈال کے اپنے مالک سے رو رو کر اپنے بچوں کے لیئے نئے کپڑے اور جوتے مانگ رہا تھا. اس نے سوچا ابھی صبحِ عید طلوع ہونے میں چھ گھنٹے باقی ہیں. تہجد میں اٹھ کر دو نفل پڑھ کے مانگوں گا. اس وقت مالک بہت نزدیک ہو کے سنتا ہے سنا ہے جنت کی سب سے زیادہ حسین حورجس کا نام لائبہ ہے آسمان دنیا پہ آکر تہجد کے وقت پکارا کرتی ہے کہ ہے کوئی اللہ کا بندہ جو اس وقت میرے اللہ کوراضی کر کے مجھے حاصل کرے. نیند کی دعا مانگ کر آیت الکرسی اورمعوذتین پڑھ کر دائیں کروٹ اختیار کر ہی رہا تھا کہ دروازہ پر دستک ہوئی اور آواز آئی گیلانی صاحب دروازہ کھولئیے سردیوں کی سردترین رات , بارہ ساڑھے بارہ کا وقت اسوقت کون آگیا, بادل نا خواستہ اٹھا اور کھڑکی سے باہر جھانکا تو اندھیرے میں ایک لمبا تڑنگا نوجوان سر پر بڑا سا چادر کا ٹھاٹھا بنا کر باندھا ہوا کھڑا نظر آیا. ارے بھائی کون ہو تعارف تو کرواو جواب آیا شاہ جی دروازہ تو کھولیں سب کچھ بتاتا ہوں. اس وقت کوئی چور ڈاکو یادشمن بھی ہو سکتا تھا بتی جلا کر ڈرتےڈرتے دروازہ کھولا اور اسے کہا منہ سے اب کپڑا ہٹاو اور بیٹھو. کون ہو, جن ہو یا فرشتہ وہ بولا نہ جن نہ فرشتہ میں تو انسان ہوں جامعہ مدنیہ لاہور میں دورہء حدیث کا طالب علم ہوں حضرت مولانا سید حامد میاں نے مجھے اپنے گھر بلوایا اور فرمایاکہ ابھی اور اسی وقت جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبیداللہ انورکے پاس شیرانوالہ جاو ان کا کوئ کام ہے شاید شیخوپورہ بھیجنا ہے. وہ بولا میں مولانا انور کے پاس پہنچا وہ میرے منتظر تھے انہوں نے یہ بند لفافہ مجھے پکڑایا اور فرمایا یہ شیخو پورہ جناح پارک میں سید امین گیلانی کو دے کر آو اور مجھے واپس آکر بتاو. میں تمارا انتظار کرونگا. چنانچہ یہ لفافہ پکڑیں اور مجھے اجازت دیں. السلام علیکم. ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾ وہ طالب علم رخصت ہوا لفافہ کھولا تو اس میں اتنی رقم موجود تھی جس سے تمام بچوں کے سوٹ اور بوٹ آجائیں. یہ چاند رات کا واقعہ مجھے آج یاد آرہا ہے. ابا جان نے اسی وقت مجھے جگایا اور وہ پیسے مجھے دیئے فرمایا سب بہن بھائیوں کو بازار لے جاو آج چاند رات ہے ساری رات دکانیں کھلی ہیں ریڈی میڈ کپڑے اور نئےجوتے لے کر آو. *کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدآ یے.* اللہ حافظ دعا جو; سید سلمان گیلانی لاہور پاکستان. ۲۴ جولائ ۲۰۲۰

میرے بہت پیارے دوست *شاہ نواز بھائی* کی طرف سے آئی ایک عمدہ تحریر چاند رات کی بات .... میی کوئ سولہ سترہ سال کاتھا اور میرے چھوٹے بھائ بہنیں دو دو اڑھائ اڑھائ سال کے وقفے سے مجھ سے چھوٹے تھے اللہ سب کو سلامت رکھے آمین. ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* عید آنے والی تھی محلے اور اسکول کے بچوں کے لئیے  گھر گھر عید کی تیاریاں ہو رہی تھیں نئے ملبوس تیار ہو  رہے تھے نئے پاپوش خریدے جا رہے تھے ہمارے  ماں باپ کو پروا ہی نہ تھی کہ اپنے بچوں کے لئیے بھی عید کی کوئ خریداری کریں.  ہماری امی ہمیں آخری دن تک تسلیاں دیتی رہیں کہ تمارے ابا جان کو کہیں سے عید سے پہلے پیسے ضرور آئیں گے اور آپ سب کے لئیے نئے سوٹ اور بوٹ بازار سے جا کر لے آئیں گے. والد صاحب کو پاداش حق گوئ میں پہلے کئ مرتبہ حکومتی جبر کا نشانہ بنایا جا چکاتھا کاروبار ضبط کرلیئے جاتے تھے زبان بندی کر دی جاتی تھی اسلئیے گھر میں بعض مرتبہ پریشانی اور تنگی آجاتی تھی لیکن میرے والدین ہمیں محسوس نہیں ہونے دیتے تھے. دوچار دن کی مشکل ہوتی  پھر حالات معمول پر آجاتے کہیں نہ کہیں سے اسباب رزق مہیا ہو جاتے اور ہمارے والدین اللہ کا ...

🌾🌾 سفرِ عشق۔۔۔۔۔ 🌸🌺🥀 🌲سیاحت کا جنوں۔۔۔۔ 🏕️🏔️ 👈🏼 قسط نمبر ≋〔⋖ 2 ⋗〕≋ 📹 پاکستان قدرتی حسن، پہاروں، وادیوں، دریاؤں اور آبشاروں سے مالا مال ہے، اگر اس کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کی وادیوں کو دیکھا جائے تو شاید آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا کہ اتنے خوبصورت، پرسکون اور پرفضا مقامات کی دولت پاکستان کو اللّه تعالیٰ نے دی ہے۔ 🔅🔆🎊🎊 💎 پاکستان کے ایسے ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مشہور جگہ کی سیر ہم آپ کو کرواتے ہیں، جس کا نام ہے وادی ناران۔۔۔۔۔ 🖼️ ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* پنجاب سے گزرتے ہوے سبز اور گھنے باغات اور خوش نما وادیاں دل و دماغ کو ٹھنڈک پہنچاتی رہیں۔ ٹرین نے بلآخر 3 بجے راولپنڈی کے اسٹیشن پرقدم رنجہ فرمایا ۔ ہمارے دوست الطان حیدر نے ہمیں پہلے ہی "مسافرِ خانہ توبا” کا پتا دے دیا تھا جہاں 500 روپئے ایک رات کا کرایہ تھا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ مسافر خانہ باقی جگہوں سے صاف ستھرا اور ہماری "اوقات” کے مطابق ہے۔ سٹیشن سے باہر آتے ہی ایک پستہ قد اور تیرہ رنگ شخص ہماری طرف آیا۔ ہم نے مسافر خانہ کا نام لیا۔ جب ہم ٹیکسی میں بیٹھے تو ڈرائیور کہنے لگا "کیا صاحب؟، مسافرخانہ توبا تو عجیب لوگ جایا کرتے ہیں، آپ تو پڑھے لکھے ہیں، آپ کو ایسی جگہ زیب نہیں دیتی” ہم نے فورا "زیب اور ہانیہ” کے بارے میں سوچا اور کہا کوئی اچھی جگہ لے چلو۔ مسافر خانہ۔ جگہ دیکھ کہ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ یہ مسافر خانہ مہنگا ہی ہوگا۔ اس دوران ہم اپنی اوقات یاد کرتے رہے۔ ہم اندر گئے۔ "نہیں نہیں، 2 ہزار تو بلکل نہیں دیں گے ۔ بہت زیادہ ہے۔” "صاحب۔ اے سی ہے، ٹی وی ہے، اور کیا چاہیے؟” ہم نے ڈرائیور کو بلایا اور کہا، یار یہ تو بہت زیادہ بتا رہا ہے، کہاں لے آئے ہو تم ہمیں؟ ٹیکسی والے نے پنجابی میں اس بندے کو کچھ سمجھایا۔ ہمیں بس اتنا سمجھ آیا کہ ان لوگوں کی آپس میں پہلے سے سیٹینگ تھی اور ہم اس مابین مرغا بن گئے تھے۔ ہم کافی تھک چکے تھے۔ کہیں اور جانے کی ہمت بھی نہیں تھی لہٰذا تھوڑی بحث و تمحیض کے بعد نرخ 1500 طے پایا اور ہم کمرے کی طرف چل دیئے۔ سارا دن سونے کے بعد رات کو ہم باہر چلے آئے۔ موسم کافی خوشگوار تھا۔ چہل قدمی میں مزہ آرہا تھا۔ لوگ اپنی فیملی کے ساتھ گھوم پھر رہے تھے۔ تبھی بلا وجہ ہمیں الہام ہوا کہ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں خاتم الشعرا جون ایلیا صاحب کی کتاب "شاید” خرید کر اپنے ظرف میں اضافہ کرنا چاہیے۔ ہم جستجو میں پڑ گئے۔ لوگوں سے پوچھ کر ہم ایک 2 منزلہ کتاب گھر جا پہنچے، جہاں پوچھنے پر پتا چلا کہ کتابوں کے اس عالی شان محل میں جون ایلیا کی ایک بھی کتاب موجود نہیں۔ ہم ششدر رہ گئے۔ یہ سننے سے پہلے ہمیں موت کیوں نہ آئی؟” کیا ایسا ممکن ہے؟ وہ کونسا کتاب گھر ہے جو جون ایلیا کی کتاب نہیں رکھتا۔ خاک ایسی زندگی پر۔ مگر قیامت تو اگلے مرحلے میں آنے والی تھی۔ جی ہاں، 2 گھنٹہ ڈھونڈنے کے بعد 5 کتاب گھروں کی سیر کرنے پر بھی ہمیں جون ایلیا کی ایک بھی کتاب نہیں مل سکی۔ یہ دیکھ کر ہم راولپنڈی سے بد دل سے ہوگئے۔ سارا موسم تلخ اور دل رنجیدہ ہو گیا۔ ہم واپس مسافر خانہ اپنے کمرے میں چلے آئے۔ دل بھر گیاتھا اس شہر سے۔ گیا اس شہر ہی سے میر آخر ۔ ۔ ۔ تمھاری طرز بد سے کچھ نہ تھا خوش صبح ِ انور (کیونکہ ہم دیر سے اٹھے تھے اس لیے صبحِ صادق کہنا صادق کی بے عزتی ہوگی) ہم رکشے والے کو 150 دے کر پیر ودھائی اڈہ” پہنچے۔ ہمیں یاد تھاکہ مراد علی نے کہا تھا کہ پیر ودھائی اڈہ سے گاڑیاں مانسہرہ اور پھر وہاں سے وادی” کاغان” کو جاتی ہیں۔210 روپیے کا ٹکٹ لے کر ہم کوسٹر میں بیٹھ گئے۔ کافی گرمی تھی۔ آدھے گھنٹے بعد کوسٹر روانہ ہوئی۔ ہر طرف سر سبزمنظر تھا۔ حالانکہ یہ ستمبر کا مہینہ تھا۔ ملک کے اس حصے کی جانب یہ ہمارا پہلا سفر تھا۔ سب سے زیادہ حیرانی ہمیں ایبٹ آباد کو دیکھ کر ہوئی۔ اس سفر سے پہلے ہمارا یہ تصور تھا کہ پہاڑوں پر صرف ہزارہ برادری کے گھر ہوتے ہیں اور وہ بھی کوئٹہ میں۔ مگر ایبٹ آباد میں نہ صرف بہت سارے گھر پہاڑوں پر دیکھنے کو ملے، بلکہ وہاں کے پہاڑ بہت سرسبز اور خوبصورت بھی تھے۔ ہم نے سوچا اگر مری آباد کے پہاڑوں کو سبز رنگ کیا جائے تو ایبٹ آباد کا چھوٹا بھائی کہلائے گا۔ مگر پھر یہ خوشی دھیمی پڑ گئی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کوئٹہ کی طرح یہاں بھی ہر جگہ وردی والے کی عمارتیں اور وردی کے لوگ جلوہ افروز ہیں ۔ ہم افسردہ ہو گئے۔ ہم تقریباٗ 3 بجے مانسہرہ پہنچے۔ مانسہرہ میں ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ موسم تو کافی خوشگوار تھا، مگر شاید مسلسل سفر کرنے کی وجہ سے ہمارے سر میں درد بڑھتاجا رہا تھا۔ ہم نے 50 کا ٹکٹ لیا اور وادی کاغان جانے والی کوسٹر میں بیٹھ گئے۔ کوسٹر میں ابھی کافی جگہ خالی تھی۔ ہمیں خیال آیا کہ کیا پتہ کہ وادی کاغان میں سامانِ خورد نوش موجود ہوگا کہ نہیں۔ ہم اترے اور ایک دکان پر گئے۔ ہم نے کچھ سامان لیا اور پوچھنے لگے کہ کیا وادیِ کاغان میں وسائلِ خورد و نوش ملتے ہیں کہ نہیں۔ دکاندار مسکرا کر کہنے لگا "ہاں بھائی۔ وہاں بھی ملتے ہیں۔ مگر زرا مہنگے داموں۔” خیر ہم واپس آگئے۔ کوسٹر اب بھی خالی پڑا تھا اس لیے ہم باہر ایک تھڑے پربیٹھ گئے اور آس پاس دیکھنے لگے۔ ایک جانب دو نو عمر مگر خستہ حال لڑکیاں ایک ڈرائیور سے باتیں کر رہی تھیں۔ ڈرائیور 50 کا نوٹ آگے کرتا اور جب ان لڑکیوں میں سے ایک ہاتھ بڑھاتی تو ڈرائیور اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیتا۔ پھر تینوں مل کر ہنستے۔ دوسری جانب ایک عمر رسیدہ شخص اپنے ٹھیلے کے ساتھ کھڑا انگور بیچ رہا تھا۔ اس کے بائیں جانب ایک خورد سال بچہ کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک شکستہ کھلونا تھا۔ لڑکا بڑی عقیدت سے اس کھلونے کو دیکھ رہا تھا۔ پھر عمر رسیدہ شخص نے بچے کو کچھ کہا اور خود تھوڑی دور جا کر دیوار کے ساتھ لیٹ گیا۔ خورد سال بچہ ٹھیلے کے اور نزدیک ہو گیا اور دوبارہ کھلونے کے ساتھ کھیلنے لگا۔ اس دوران ایک گاہک آیا اور بچے سے انگور کا دام پوچھنے لگا۔ بچہ کھلونا نیچے رکھ کر اس انداز سے دکانداری کرنے لگا جیسے وہ بچہ نہیں بلکہ ایک جوان اور سیانا لڑکا ہو۔ گاہک کچھ خریدے بغیر واپس چلا گیا۔ لڑکا دوبارہ کھلونا اٹھا کر کھیلنے میں مشغول ہو گیا۔ کچھ دیر چہل قدمی کے بعد ہم دوبارہ کوسٹر میں آ بیٹھے۔ مسافروں میں آگے ایک بابا جی بیٹھے تھے جو زور زور سے باتیں کر رہے تھے۔ ہم نے ہیڈفون لگایا اور دوبارہ گھسی پٹی موسیقی سننے لگے۔ تقریباَ 2 گھنٹے گزر نے کے باوجود مسافروں کی تعداد پوری نہیں ہو رہی تھی۔ ہم نے ڈرائیور سے بات کی تو اس نے کہا کہ کم مسافر لے جانے سے اس کا نقصان ہوگا۔ ہم پھر انتظار میں بیٹھے رہے۔ ایک گھنٹہ اور گزر گیا ۔ تنگ آکر ہم نے ڈرائیور سے پوچھا کہ کتنے بندے کم ہیں تو اس نے جواب دیا 4۔ مسافروں میں سے کسی نے مشورہ دیا کہ اگر ہر بندہ 10 روپیے زیادہ دے تو کوسٹر کا کرایہ پورا ہوجائے گا۔ مسافروں سے مشاورت کے بعد سب راضی ہوگئے مگر وہ بابا جی جو زور زور سے مسلسل ساتھ بیٹھے شخص سے باتیں کر رہا تھا انکار کرنے لگا۔ بابا جی بولا "خدا قسم ہم ولله اگر ایک روپیہ دیوے” مسافروں نے بابا جی کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اس بات پر بہ ضد تھے کہ "کوسٹر والے کبھی اپنا ایک روپیہ بھی کم نہیں کرتے تو ہم اس بار زیادہ پیسہ کیوں دیوے؟” زیادہ سمجھانے پر بابا جی نے آخر کہا، "بھئی ہمارا گھر مانسہرہ میں بھی ہے، اگر گاڑی نہیں چلتا تو ہم آج ادھر سوئے گا” یہ سنتے ہی ہمیں غصہ آیا اور ہم نے کہا "بابا جی آپ کا گھر ہے، دوسروں کا نہیں ، آپ دوسروں کے بارے میں بھی سوچیں”۔ اس پر عجیب شور و غل ہونے لگا۔ ہر کوئی بول رہا تھا۔ بڑی منت سماجت کے بعد بابا جی نے آخر کار پیسہ دے دیا اور یوں کوسٹر روانہ ہو گیا۔ روانہ ہوتے ہی ہمیں محسوس ہوا کہ بارش ہونے والی ہے۔ بادل گرجنے کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔ ہوا بھی کافی تیزی ہوگئی تھی۔ مگر راستہ اتنا خوبصورت تھا کہ نظریں ہٹانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ شب کی تاریکی پھیلنے کے ساتھ بادل کےگرجنے کی آوازیں کسی آرام بخش موسیقی سے کم نہیں تھیں۔ میں مسلسل ہیڈ فون لگائے پیانو اور بادل گرجنے کی اس اختلاط کو سن رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ہمیں محسوس ہوا کہ کوسٹر میں کچھ لوگ بلند آواز میں باتیں کر رہے ہیں۔ ہیڈ فون نکالا تو وہی بابا جی ،جو کچھ دیر پہلے پیسوں پر بحث کر رہے تھے، اب ڈرائیور کی سرزنش کر رہے تھے کہ وہ گاڑی چلاتے وقت فون پہ مسلسل بات کیوں کر رہا ہے۔ بابا جی زور زور سے ہاتھ ہلا ہلا کر بات کر رہے تھے جبکہ ڈرائیور بس ہنس رہا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بارش ہونے لگی۔ یہ دیکھ کرڈرائیور نے کوسٹر روکا تاکہ چھت پر رکھا سامان نیچے لایا جا سکے۔ سب اپنا اپنا سامان اندر رکھنے لگے۔ ہمارا بستہ بھی ہمارے حوالے کر دیا گیا۔ کچھ گھنٹوں کی مسافت کے بعد کھانے کے لیے ایک سنسان ریسٹورینٹ پر روکا گیا جو بظاہر کوئی گھر لگ رہا تھا ۔ جیسے ہی ہم باہر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بابا جی پھر زور زور سے بات کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے”ہم اس حرام خور کو قتل کر دے گا۔ کتے کا بچہ ، سارا رستہ چرس پی کر گاڑی چلاتا رہا۔” ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸       🏞️اگر آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں نیچے آکر آپ کو چھولیں بلکہ لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟ اس دلچسپ سفر کے بارے میں مزید جاننے کے لئے کل کی قسط کا انتظار کریں۔ 🚙🚕🚗

🌾🌾 سفرِ عشق۔۔۔۔۔ 🌸🌺🥀 🌲سیاحت کا جنوں۔۔۔۔ 🏕️🏔️ 👈🏼 قسط نمبر   ≋〔⋖ 2 ⋗〕≋ 📹 پاکستان قدرتی حسن، پہاروں، وادیوں، دریاؤں اور آبشاروں سے مالا مال ہے، اگر اس کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کی وادیوں کو دیکھا جائے تو شاید آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا کہ اتنے خوبصورت، پرسکون اور پرفضا مقامات کی دولت پاکستان کو اللّه تعالیٰ نے دی ہے۔ 🔅🔆🎊🎊 💎 پاکستان کے ایسے ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مشہور جگہ کی سیر ہم آپ کو کرواتے ہیں، جس کا نام ہے وادی ناران۔۔۔۔۔ 🖼️ ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* پنجاب سے گزرتے ہوے سبز اور گھنے باغات اور خوش نما وادیاں دل و دماغ کو ٹھنڈک پہنچاتی رہیں۔ ٹرین نے بلآخر 3 بجے راولپنڈی کے اسٹیشن پرقدم رنجہ فرمایا ۔ ہمارے دوست الطان حیدر نے ہمیں پہلے ہی "مسافرِ خانہ توبا” کا پتا دے دیا تھا جہاں 500 روپئے ایک رات کا کرایہ تھا۔ اس نے یہ بھی  کہا تھا کہ مسافر خانہ باقی جگہوں سے صاف ستھرا اور ہماری "اوقات” کے مطابق ہے۔ سٹیشن سے باہر آتے ہی ایک پستہ قد اور تیرہ رنگ شخص ہماری طرف آیا۔ ہم نے مسافر خانہ کا نام لیا۔ جب ہم ٹیکسی میں بیٹھے تو ڈرائیور کہنے لگا "کیا صا...
*نیکی اور بدی کے متعلق قــــرآن‌ کریم کیا فرما رہا ہے؟* ✅ نیکی اور برائی خود تمھاری طرف ہی پلٹتیں ہیں۔ قرآن کریم نے مختلف جگہ پر بہت تاکید فرمائی ہے ۔ ✅ اگر کوئی اچھا کام انجام دیتا ہے تو اپنے آپکو نفع پہنچاتا ہے۔ ❎ اگر کوئی برا کام انجام دیتا ہے تو اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے. جسا کہ سوره اسراء آیه 7 میں ارشاد ہو رہا ہے: 💠 إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا۔۔۔ اب تم نیک عمل کرو گے تو اپنے لئے اور برا کرو گے تو اپنے لئے کرو گے۔۔۔ 🌀 اسی طرح سوره فصلت آیه 46 میں ارشاد ہو رہا ہے۔ 💠 مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاء فَعَلَيْهَا وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ﴿46﴾ جو بھی نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا اور جو برائی کرے گا اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہوگا اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ 🌀 اور اسی طرح سوره جاثیه آیه 15 میں ارشاد ہوتا ہے 💠 مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاء فَعَلَيْهَا ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ﴿15﴾ جو نیک کام کرے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور جو برائی کرے...

*خیالات بدلیں معاشرہ بد لیے My Daily Dairy .com

ھ۔۔۔۔۔۔ • 👈 *بـــــــس ہـــــــوسٹـــــــس* 👉 ماں نے ڈرتے ڈرتے عالیہ کی طرف دیکھا اور بولی عالیہ یہ اتنا سارا پھل تو کہاں سے لائی ہے؟ ابھی تو تنخواہ ملنے میں بہت دن باقی ہیں !! ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* ماں کی آنکھوں میں کرب تھا۔ دماغ میں جو ممکنہ سچ گھوم رہا ہے اسے سننے سے ڈر رہی تھی، حالانکہ اسے پتہ تھا عالیہ اس سے کبھی جھوٹ نہیں بولے گی اسی لئے یہ سوال پوچھ کر وہ پچھتا رہی تھی۔ عالیہ بولی امی جی آپ پریشان نہ ہوں آپکو پتہ ہے میں نہ آپ کو رسوا کروں گی نہ شرمسار ہونے دونگی، آج جب ہم ٹرمینل پر واپس پہنچے اور میں مسافروں کو رخصت کر رہی تھی تو ایک صاحب نے بس سے اترتے ہوئے میرے ہاتھ میں ہزار روپے کا نوٹ تھما دیا اور بولے ... بیٹا !!! یہ تمہاری عیدی ہے۔ امی جی میری آنکھیں بھیگ گئیں مجھے ابو بہت یاد آئے، مجھے یاد ہے ابو ہمارے لئے موسم کے پھل لایا کرتے تھے میں نے بھی فیصلہ کیا آج گھر پھل لے کر جاوں گی۔ امی پتہ ہے پھل خریدتے ہوئے میں کیا سوچ رہی تھی !! روزانہ کئی لوگ مجھے غلیظ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اور شیطانی مسکراہٹ کیساتھ فون نمبر کی پرچیاں اور وزٹنگ کارڈز دے کر جاتے ہیں، ...
🔎🔎 *معلومات کی جستجو* 🛰️🛰️🛰️ 👈🏻 *سلسلہ نمبر 37* 🧐 ┄┅════❁ سائنس کی دنیا ❁════┅┄ *دلچسپ اور حیرت انگیز معلومات کا یہ سلسلہ منتخب تحریریں گروپ کی جانب سے، ہر سلسلہ اپنے اندر ایک مکمل کہانی کے ساتھ پیش کیا جائے گا، خیال رہے کہ پوسٹ میں شامل معلومات سائنس کے اعتبار سے پیش کی جا رہی ہے۔* ┄┅════❁ منتخب تحریریں ❁════┅┄ *پیزا کچھ دلچسپ حقائق* *پیزا کا نام سنتے ہی کچھ لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ اور منہ میں پانی آجاتا ہے- چاہے اسے تیار کرنے کا انداز کچھ بھی ہو لیکن پتلی کرسٹ سے لے کر موٹی کرسٹ تک٬ چیز٬ چکن٬ پیپرونی ہو یا سبزیاں٬ ہر قسم کی اجزا کی آمیزش پیزا کو دنیا کے پسندیدہ کھانوں میں شمار کر دیتی ہے... 1۔ دنیا بھر میں یکساں مقبول پیزا کی تاریخ پر اگر ہم روشنی ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اس کے اصل مؤجد اٹلی اور نیپلز ہیں- پیزا مختلف قسم کے اوون میں تیار کیا جاتا ہے اور اس کی تیاری میں کئی منفرد اجزا استعمال ہوتے ہیں-“ پیزا “ کا لفظ اٹلی کے شہر Gaeta سے دریافت ہونے والی قدیم دستاویز میں بھی موجود ہے- ان کاغذات کا تعلق 997 عیسوی سے ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیزا کی تاریخ ایک ہزار سال س...
*💀"جنات کا غلام"💀💀* ✍🏼 تحریر شاہد نزیر چوہدری 👈🏼 *قسط 18* 🎭🎭🎭 🐍 خطرناک قوتوں کے زیرِ اثر ایک شخص پر مبنی، دہشت ناک واقعات کے گرد گھومتی یہ خوف، تجسس اور دہشت سے بھرپور کہانی، اس دلچسپ سلسلہ میں لوگوں کو خوفزدہ کر دینے والے واقعات کا نا ختم ہونے والا سلسلہ یقیناً آپ کے دلوں میں ایک دہشت کا ماحول پیدا کر دے گا۔ 🦀 ┄┅═══❁ منتخب تحریریں ❁═══┅┄ اس سے اگلی شام بھی میرے لئے بڑی مصروف اور عجیب تر تھی۔ شام کو ہی شاہ صاحب نے مجھے کہہ دیا تھا کہ آج وہ مجھے اپنے ساتھ سمبڑیال لیکر جائیں گے.... یہ قصبہ وزیرآباد سیالکوٹ روڈ پر ہے۔ نہر کے کنارے آباد اس قصبہ کو چند ماہ پہلے ہی تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہاں سکھ اور ہندو رہتے تھے۔ یہاں سیالکوٹ کا ڈرائی پورٹ بھی ہے جو لب نہر ہے۔ شاہ صاحب نے بتایا کہ انہیں ایک ستم گزیدہ گھرانے کی مدد کرنی ہے۔ اس گھر میں آنے والی ہر بہو پر جن عاشق ہو جاتا تھا۔ جس سے گھبرا کر اس گھر کے نوجوان قصبہ چھوڑ جاتے تھے۔ اب وہاں صرف چھوٹا بیٹا، ایک بیٹی، ان کی والدہ اور والد رہ رہے تھے۔ چھوٹی بہو کو بھی دورے پڑتے تھے.... لیکن انکا بیٹا عم...

zip online paid servey program 6$ us dollar for servew

Image
How it Works Creating mobile and online surveys is easy with ZipSurvey. Our intuitive survey software makes it easy to develop your surveys, and our simple email tools make it easy to deploy and track responses. Quick and easy reporting helps you make important research decisions faster and without difficulty. Most importantly, collecting unlimited survey responses means you can conduct your research while keeping your research costs low. .linke sign up .  https://bdr3.app.link/JHoQODhbH7 1 CREATE AND CUSTOMIZE Our easy survey builder allows you to create customized surveys for your company or brand. Choose from a variety of employee survey, customer satisfaction survey, and marketing survey templates and questionnaires with hundreds of survey questions or build custom questions with many unique question types to choose from. You can easily brand your surveys and choose colors to match your branding. You can also utilize branching and more advance features for  no additio...

My Daily Dairy .com.27/7/2020

پولیو ویکسین سے ڈپریشن کے علاج تک   محمد عامر خاکوانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  آج کل پولیو کے قطرے پلائے جانے کی حکومتی مہم چل رہی ہے، اس حوالے سے ایک اشتہار دیکھا تو دل میں چبھا۔ سادہ سا ایک جملہ تھا، پوری دنیا سے یہ ختم ہوگیا، صرف دو ملک رہ گئے ہیں، پاکستان اور افغانستان ،اپنے بچوں کو قطرے پلائیں تاکہ ہم بھی محفوظ ہوجائیں۔ صدمہ اس بات پر ہوا کہ افغانستان وہ ملک ہے جہاں بہت جگہ قبائلی سیٹ اپ چل رہا ہے، پچھلے چالیس برسوں سے وہاں وقفوں وقفوں سے خانہ جنگی ہی چل رہی ہے، خواندگی کی شرح بھی زیادہ نہیں۔ ایسے ملک کا موازنہ پاکستان کے ساتھ ، جہاں اچھا بھلا شہری کلچر پیدا ہوچکا ، خواندگی کی شرح بھی بری نہیں، ٹی وی ، انٹرنیٹ دیہات تک پہنچ چکا ہے، سماجی شعور بھی اچھا خاصا ہے۔ اس سب کے باوجو دہم ابھی تک پولیو کے مرض کا خاتمہ نہیں کر پائے۔    پولیو کے مرض کا خاتمہ نہ ہونے کی ایک ہی وجہ ہے۔ بطور قوم ہمارا سازشی نظریوں کو قبولیت بخشنا اور ایسی سازشی تھیوریز گھڑنے والوں کو برداشت کرنا۔ بات اتنی سادہ ہے کہ چند جملوں میں سمجھائی جا سکتی ہے۔ ”پولیو ایک خطرناک مرض ہے، اس کے وائرس کسی بچے ...
پولیو ویکسین سے ڈپریشن کے علاج تک   محمد عامر خاکوانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  آج کل پولیو کے قطرے پلائے جانے کی حکومتی مہم چل رہی ہے، اس حوالے سے ایک اشتہار دیکھا تو دل میں چبھا۔ سادہ سا ایک جملہ تھا، پوری دنیا سے یہ ختم ہوگیا، صرف دو ملک رہ گئے ہیں، پاکستان اور افغانستان ،اپنے بچوں کو قطرے پلائیں تاکہ ہم بھی محفوظ ہوجائیں۔ صدمہ اس بات پر ہوا کہ افغانستان وہ ملک ہے جہاں بہت جگہ قبائلی سیٹ اپ چل رہا ہے، پچھلے چالیس برسوں سے وہاں وقفوں وقفوں سے خانہ جنگی ہی چل رہی ہے، خواندگی کی شرح بھی زیادہ نہیں۔ ایسے ملک کا موازنہ پاکستان کے ساتھ ، جہاں اچھا بھلا شہری کلچر پیدا ہوچکا ، خواندگی کی شرح بھی بری نہیں، ٹی وی ، انٹرنیٹ دیہات تک پہنچ چکا ہے، سماجی شعور بھی اچھا خاصا ہے۔ اس سب کے باوجو دہم ابھی تک پولیو کے مرض کا خاتمہ نہیں کر پائے۔    پولیو کے مرض کا خاتمہ نہ ہونے کی ایک ہی وجہ ہے۔ بطور قوم ہمارا سازشی نظریوں کو قبولیت بخشنا اور ایسی سازشی تھیوریز گھڑنے والوں کو برداشت کرنا۔ بات اتنی سادہ ہے کہ چند جملوں میں سمجھائی جا سکتی ہے۔ ”پولیو ایک خطرناک مرض ہے، اس کے وائرس کسی بچے ...