🌾🌾 سفرِ عشق۔۔۔۔۔ 🌸🌺🥀 🌲سیاحت کا جنوں۔۔۔۔ 🏕️🏔️ 👈🏼 قسط نمبر ≋〔⋖ 2 ⋗〕≋ 📹 پاکستان قدرتی حسن، پہاروں، وادیوں، دریاؤں اور آبشاروں سے مالا مال ہے، اگر اس کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کی وادیوں کو دیکھا جائے تو شاید آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا کہ اتنے خوبصورت، پرسکون اور پرفضا مقامات کی دولت پاکستان کو اللّه تعالیٰ نے دی ہے۔ 🔅🔆🎊🎊 💎 پاکستان کے ایسے ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مشہور جگہ کی سیر ہم آپ کو کرواتے ہیں، جس کا نام ہے وادی ناران۔۔۔۔۔ 🖼️ ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* پنجاب سے گزرتے ہوے سبز اور گھنے باغات اور خوش نما وادیاں دل و دماغ کو ٹھنڈک پہنچاتی رہیں۔ ٹرین نے بلآخر 3 بجے راولپنڈی کے اسٹیشن پرقدم رنجہ فرمایا ۔ ہمارے دوست الطان حیدر نے ہمیں پہلے ہی "مسافرِ خانہ توبا” کا پتا دے دیا تھا جہاں 500 روپئے ایک رات کا کرایہ تھا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ مسافر خانہ باقی جگہوں سے صاف ستھرا اور ہماری "اوقات” کے مطابق ہے۔ سٹیشن سے باہر آتے ہی ایک پستہ قد اور تیرہ رنگ شخص ہماری طرف آیا۔ ہم نے مسافر خانہ کا نام لیا۔ جب ہم ٹیکسی میں بیٹھے تو ڈرائیور کہنے لگا "کیا صاحب؟، مسافرخانہ توبا تو عجیب لوگ جایا کرتے ہیں، آپ تو پڑھے لکھے ہیں، آپ کو ایسی جگہ زیب نہیں دیتی” ہم نے فورا "زیب اور ہانیہ” کے بارے میں سوچا اور کہا کوئی اچھی جگہ لے چلو۔ مسافر خانہ۔ جگہ دیکھ کہ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ یہ مسافر خانہ مہنگا ہی ہوگا۔ اس دوران ہم اپنی اوقات یاد کرتے رہے۔ ہم اندر گئے۔ "نہیں نہیں، 2 ہزار تو بلکل نہیں دیں گے ۔ بہت زیادہ ہے۔” "صاحب۔ اے سی ہے، ٹی وی ہے، اور کیا چاہیے؟” ہم نے ڈرائیور کو بلایا اور کہا، یار یہ تو بہت زیادہ بتا رہا ہے، کہاں لے آئے ہو تم ہمیں؟ ٹیکسی والے نے پنجابی میں اس بندے کو کچھ سمجھایا۔ ہمیں بس اتنا سمجھ آیا کہ ان لوگوں کی آپس میں پہلے سے سیٹینگ تھی اور ہم اس مابین مرغا بن گئے تھے۔ ہم کافی تھک چکے تھے۔ کہیں اور جانے کی ہمت بھی نہیں تھی لہٰذا تھوڑی بحث و تمحیض کے بعد نرخ 1500 طے پایا اور ہم کمرے کی طرف چل دیئے۔ سارا دن سونے کے بعد رات کو ہم باہر چلے آئے۔ موسم کافی خوشگوار تھا۔ چہل قدمی میں مزہ آرہا تھا۔ لوگ اپنی فیملی کے ساتھ گھوم پھر رہے تھے۔ تبھی بلا وجہ ہمیں الہام ہوا کہ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں خاتم الشعرا جون ایلیا صاحب کی کتاب "شاید” خرید کر اپنے ظرف میں اضافہ کرنا چاہیے۔ ہم جستجو میں پڑ گئے۔ لوگوں سے پوچھ کر ہم ایک 2 منزلہ کتاب گھر جا پہنچے، جہاں پوچھنے پر پتا چلا کہ کتابوں کے اس عالی شان محل میں جون ایلیا کی ایک بھی کتاب موجود نہیں۔ ہم ششدر رہ گئے۔ یہ سننے سے پہلے ہمیں موت کیوں نہ آئی؟” کیا ایسا ممکن ہے؟ وہ کونسا کتاب گھر ہے جو جون ایلیا کی کتاب نہیں رکھتا۔ خاک ایسی زندگی پر۔ مگر قیامت تو اگلے مرحلے میں آنے والی تھی۔ جی ہاں، 2 گھنٹہ ڈھونڈنے کے بعد 5 کتاب گھروں کی سیر کرنے پر بھی ہمیں جون ایلیا کی ایک بھی کتاب نہیں مل سکی۔ یہ دیکھ کر ہم راولپنڈی سے بد دل سے ہوگئے۔ سارا موسم تلخ اور دل رنجیدہ ہو گیا۔ ہم واپس مسافر خانہ اپنے کمرے میں چلے آئے۔ دل بھر گیاتھا اس شہر سے۔ گیا اس شہر ہی سے میر آخر ۔ ۔ ۔ تمھاری طرز بد سے کچھ نہ تھا خوش صبح ِ انور (کیونکہ ہم دیر سے اٹھے تھے اس لیے صبحِ صادق کہنا صادق کی بے عزتی ہوگی) ہم رکشے والے کو 150 دے کر پیر ودھائی اڈہ” پہنچے۔ ہمیں یاد تھاکہ مراد علی نے کہا تھا کہ پیر ودھائی اڈہ سے گاڑیاں مانسہرہ اور پھر وہاں سے وادی” کاغان” کو جاتی ہیں۔210 روپیے کا ٹکٹ لے کر ہم کوسٹر میں بیٹھ گئے۔ کافی گرمی تھی۔ آدھے گھنٹے بعد کوسٹر روانہ ہوئی۔ ہر طرف سر سبزمنظر تھا۔ حالانکہ یہ ستمبر کا مہینہ تھا۔ ملک کے اس حصے کی جانب یہ ہمارا پہلا سفر تھا۔ سب سے زیادہ حیرانی ہمیں ایبٹ آباد کو دیکھ کر ہوئی۔ اس سفر سے پہلے ہمارا یہ تصور تھا کہ پہاڑوں پر صرف ہزارہ برادری کے گھر ہوتے ہیں اور وہ بھی کوئٹہ میں۔ مگر ایبٹ آباد میں نہ صرف بہت سارے گھر پہاڑوں پر دیکھنے کو ملے، بلکہ وہاں کے پہاڑ بہت سرسبز اور خوبصورت بھی تھے۔ ہم نے سوچا اگر مری آباد کے پہاڑوں کو سبز رنگ کیا جائے تو ایبٹ آباد کا چھوٹا بھائی کہلائے گا۔ مگر پھر یہ خوشی دھیمی پڑ گئی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کوئٹہ کی طرح یہاں بھی ہر جگہ وردی والے کی عمارتیں اور وردی کے لوگ جلوہ افروز ہیں ۔ ہم افسردہ ہو گئے۔ ہم تقریباٗ 3 بجے مانسہرہ پہنچے۔ مانسہرہ میں ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ موسم تو کافی خوشگوار تھا، مگر شاید مسلسل سفر کرنے کی وجہ سے ہمارے سر میں درد بڑھتاجا رہا تھا۔ ہم نے 50 کا ٹکٹ لیا اور وادی کاغان جانے والی کوسٹر میں بیٹھ گئے۔ کوسٹر میں ابھی کافی جگہ خالی تھی۔ ہمیں خیال آیا کہ کیا پتہ کہ وادی کاغان میں سامانِ خورد نوش موجود ہوگا کہ نہیں۔ ہم اترے اور ایک دکان پر گئے۔ ہم نے کچھ سامان لیا اور پوچھنے لگے کہ کیا وادیِ کاغان میں وسائلِ خورد و نوش ملتے ہیں کہ نہیں۔ دکاندار مسکرا کر کہنے لگا "ہاں بھائی۔ وہاں بھی ملتے ہیں۔ مگر زرا مہنگے داموں۔” خیر ہم واپس آگئے۔ کوسٹر اب بھی خالی پڑا تھا اس لیے ہم باہر ایک تھڑے پربیٹھ گئے اور آس پاس دیکھنے لگے۔ ایک جانب دو نو عمر مگر خستہ حال لڑکیاں ایک ڈرائیور سے باتیں کر رہی تھیں۔ ڈرائیور 50 کا نوٹ آگے کرتا اور جب ان لڑکیوں میں سے ایک ہاتھ بڑھاتی تو ڈرائیور اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیتا۔ پھر تینوں مل کر ہنستے۔ دوسری جانب ایک عمر رسیدہ شخص اپنے ٹھیلے کے ساتھ کھڑا انگور بیچ رہا تھا۔ اس کے بائیں جانب ایک خورد سال بچہ کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک شکستہ کھلونا تھا۔ لڑکا بڑی عقیدت سے اس کھلونے کو دیکھ رہا تھا۔ پھر عمر رسیدہ شخص نے بچے کو کچھ کہا اور خود تھوڑی دور جا کر دیوار کے ساتھ لیٹ گیا۔ خورد سال بچہ ٹھیلے کے اور نزدیک ہو گیا اور دوبارہ کھلونے کے ساتھ کھیلنے لگا۔ اس دوران ایک گاہک آیا اور بچے سے انگور کا دام پوچھنے لگا۔ بچہ کھلونا نیچے رکھ کر اس انداز سے دکانداری کرنے لگا جیسے وہ بچہ نہیں بلکہ ایک جوان اور سیانا لڑکا ہو۔ گاہک کچھ خریدے بغیر واپس چلا گیا۔ لڑکا دوبارہ کھلونا اٹھا کر کھیلنے میں مشغول ہو گیا۔ کچھ دیر چہل قدمی کے بعد ہم دوبارہ کوسٹر میں آ بیٹھے۔ مسافروں میں آگے ایک بابا جی بیٹھے تھے جو زور زور سے باتیں کر رہے تھے۔ ہم نے ہیڈفون لگایا اور دوبارہ گھسی پٹی موسیقی سننے لگے۔ تقریباَ 2 گھنٹے گزر نے کے باوجود مسافروں کی تعداد پوری نہیں ہو رہی تھی۔ ہم نے ڈرائیور سے بات کی تو اس نے کہا کہ کم مسافر لے جانے سے اس کا نقصان ہوگا۔ ہم پھر انتظار میں بیٹھے رہے۔ ایک گھنٹہ اور گزر گیا ۔ تنگ آکر ہم نے ڈرائیور سے پوچھا کہ کتنے بندے کم ہیں تو اس نے جواب دیا 4۔ مسافروں میں سے کسی نے مشورہ دیا کہ اگر ہر بندہ 10 روپیے زیادہ دے تو کوسٹر کا کرایہ پورا ہوجائے گا۔ مسافروں سے مشاورت کے بعد سب راضی ہوگئے مگر وہ بابا جی جو زور زور سے مسلسل ساتھ بیٹھے شخص سے باتیں کر رہا تھا انکار کرنے لگا۔ بابا جی بولا "خدا قسم ہم ولله اگر ایک روپیہ دیوے” مسافروں نے بابا جی کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اس بات پر بہ ضد تھے کہ "کوسٹر والے کبھی اپنا ایک روپیہ بھی کم نہیں کرتے تو ہم اس بار زیادہ پیسہ کیوں دیوے؟” زیادہ سمجھانے پر بابا جی نے آخر کہا، "بھئی ہمارا گھر مانسہرہ میں بھی ہے، اگر گاڑی نہیں چلتا تو ہم آج ادھر سوئے گا” یہ سنتے ہی ہمیں غصہ آیا اور ہم نے کہا "بابا جی آپ کا گھر ہے، دوسروں کا نہیں ، آپ دوسروں کے بارے میں بھی سوچیں”۔ اس پر عجیب شور و غل ہونے لگا۔ ہر کوئی بول رہا تھا۔ بڑی منت سماجت کے بعد بابا جی نے آخر کار پیسہ دے دیا اور یوں کوسٹر روانہ ہو گیا۔ روانہ ہوتے ہی ہمیں محسوس ہوا کہ بارش ہونے والی ہے۔ بادل گرجنے کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔ ہوا بھی کافی تیزی ہوگئی تھی۔ مگر راستہ اتنا خوبصورت تھا کہ نظریں ہٹانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ شب کی تاریکی پھیلنے کے ساتھ بادل کےگرجنے کی آوازیں کسی آرام بخش موسیقی سے کم نہیں تھیں۔ میں مسلسل ہیڈ فون لگائے پیانو اور بادل گرجنے کی اس اختلاط کو سن رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ہمیں محسوس ہوا کہ کوسٹر میں کچھ لوگ بلند آواز میں باتیں کر رہے ہیں۔ ہیڈ فون نکالا تو وہی بابا جی ،جو کچھ دیر پہلے پیسوں پر بحث کر رہے تھے، اب ڈرائیور کی سرزنش کر رہے تھے کہ وہ گاڑی چلاتے وقت فون پہ مسلسل بات کیوں کر رہا ہے۔ بابا جی زور زور سے ہاتھ ہلا ہلا کر بات کر رہے تھے جبکہ ڈرائیور بس ہنس رہا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بارش ہونے لگی۔ یہ دیکھ کرڈرائیور نے کوسٹر روکا تاکہ چھت پر رکھا سامان نیچے لایا جا سکے۔ سب اپنا اپنا سامان اندر رکھنے لگے۔ ہمارا بستہ بھی ہمارے حوالے کر دیا گیا۔ کچھ گھنٹوں کی مسافت کے بعد کھانے کے لیے ایک سنسان ریسٹورینٹ پر روکا گیا جو بظاہر کوئی گھر لگ رہا تھا ۔ جیسے ہی ہم باہر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بابا جی پھر زور زور سے بات کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے”ہم اس حرام خور کو قتل کر دے گا۔ کتے کا بچہ ، سارا رستہ چرس پی کر گاڑی چلاتا رہا۔” ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸 🏞️اگر آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں نیچے آکر آپ کو چھولیں بلکہ لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟ اس دلچسپ سفر کے بارے میں مزید جاننے کے لئے کل کی قسط کا انتظار کریں۔ 🚙🚕🚗
🌾🌾 سفرِ عشق۔۔۔۔۔ 🌸🌺🥀
🌲سیاحت کا جنوں۔۔۔۔ 🏕️🏔️
👈🏼 قسط نمبر ≋〔⋖ 2 ⋗〕≋
📹 پاکستان قدرتی حسن، پہاروں، وادیوں، دریاؤں اور آبشاروں سے مالا مال ہے، اگر اس کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کی وادیوں کو دیکھا جائے تو شاید آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا کہ اتنے خوبصورت، پرسکون اور پرفضا مقامات کی دولت پاکستان کو اللّه تعالیٰ نے دی ہے۔ 🔅🔆🎊🎊
💎 پاکستان کے ایسے ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مشہور جگہ کی سیر ہم آپ کو کرواتے ہیں، جس کا نام ہے وادی ناران۔۔۔۔۔ 🖼️
۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄*
پنجاب سے گزرتے ہوے سبز اور گھنے باغات اور خوش نما وادیاں دل و دماغ کو ٹھنڈک پہنچاتی رہیں۔ ٹرین نے بلآخر 3 بجے راولپنڈی کے اسٹیشن پرقدم رنجہ فرمایا ۔ ہمارے دوست الطان حیدر نے ہمیں پہلے ہی "مسافرِ خانہ توبا” کا پتا دے دیا تھا جہاں 500 روپئے ایک رات کا کرایہ تھا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ مسافر خانہ باقی جگہوں سے صاف ستھرا اور ہماری "اوقات” کے مطابق ہے۔
سٹیشن سے باہر آتے ہی ایک پستہ قد اور تیرہ رنگ شخص ہماری طرف آیا۔ ہم نے مسافر خانہ کا نام لیا۔ جب ہم ٹیکسی میں بیٹھے تو ڈرائیور کہنے لگا "کیا صاحب؟، مسافرخانہ توبا تو عجیب لوگ جایا کرتے ہیں، آپ تو پڑھے لکھے ہیں، آپ کو ایسی جگہ زیب نہیں دیتی” ہم نے فورا "زیب اور ہانیہ” کے بارے میں سوچا اور کہا کوئی اچھی جگہ لے چلو۔
مسافر خانہ۔
جگہ دیکھ کہ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ یہ مسافر خانہ مہنگا ہی ہوگا۔ اس دوران ہم اپنی اوقات یاد کرتے رہے۔ ہم اندر گئے۔
"نہیں نہیں، 2 ہزار تو بلکل نہیں دیں گے ۔ بہت زیادہ ہے۔”
"صاحب۔ اے سی ہے، ٹی وی ہے، اور کیا چاہیے؟”
ہم نے ڈرائیور کو بلایا اور کہا، یار یہ تو بہت زیادہ بتا رہا ہے، کہاں لے آئے ہو تم ہمیں؟ ٹیکسی والے نے پنجابی میں اس بندے کو کچھ سمجھایا۔ ہمیں بس اتنا سمجھ آیا کہ ان لوگوں کی آپس میں پہلے سے سیٹینگ تھی اور ہم اس مابین مرغا بن گئے تھے۔ ہم کافی تھک چکے تھے۔ کہیں اور جانے کی ہمت بھی نہیں تھی لہٰذا تھوڑی بحث و تمحیض کے بعد نرخ 1500 طے پایا اور ہم کمرے کی طرف چل دیئے۔
سارا دن سونے کے بعد رات کو ہم باہر چلے آئے۔ موسم کافی خوشگوار تھا۔ چہل قدمی میں مزہ آرہا تھا۔ لوگ اپنی فیملی کے ساتھ گھوم پھر رہے تھے۔ تبھی بلا وجہ ہمیں الہام ہوا کہ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں خاتم الشعرا جون ایلیا صاحب کی کتاب "شاید” خرید کر اپنے ظرف میں اضافہ کرنا چاہیے۔
ہم جستجو میں پڑ گئے۔ لوگوں سے پوچھ کر ہم ایک 2 منزلہ کتاب گھر جا پہنچے، جہاں پوچھنے پر پتا چلا کہ کتابوں کے اس عالی شان محل میں جون ایلیا کی ایک بھی کتاب موجود نہیں۔ ہم ششدر رہ گئے۔ یہ سننے سے پہلے ہمیں موت کیوں نہ آئی؟” کیا ایسا ممکن ہے؟ وہ کونسا کتاب گھر ہے جو جون ایلیا کی کتاب نہیں رکھتا۔ خاک ایسی زندگی پر۔
مگر قیامت تو اگلے مرحلے میں آنے والی تھی۔ جی ہاں، 2 گھنٹہ ڈھونڈنے کے بعد 5 کتاب گھروں کی سیر کرنے پر بھی ہمیں جون ایلیا کی ایک بھی کتاب نہیں مل سکی۔
یہ دیکھ کر ہم راولپنڈی سے بد دل سے ہوگئے۔ سارا موسم تلخ اور دل رنجیدہ ہو گیا۔ ہم واپس مسافر خانہ اپنے کمرے میں چلے آئے۔ دل بھر گیاتھا اس شہر سے۔
گیا اس شہر ہی سے میر آخر ۔ ۔ ۔
تمھاری طرز بد سے کچھ نہ تھا خوش
صبح ِ انور (کیونکہ ہم دیر سے اٹھے تھے اس لیے صبحِ صادق کہنا صادق کی بے عزتی ہوگی) ہم رکشے والے کو 150 دے کر پیر ودھائی اڈہ” پہنچے۔ ہمیں یاد تھاکہ مراد علی نے کہا تھا کہ پیر ودھائی اڈہ سے گاڑیاں مانسہرہ اور پھر وہاں سے وادی” کاغان” کو جاتی ہیں۔210 روپیے کا ٹکٹ لے کر ہم کوسٹر میں بیٹھ گئے۔ کافی گرمی تھی۔ آدھے گھنٹے بعد کوسٹر روانہ ہوئی۔ ہر طرف سر سبزمنظر تھا۔ حالانکہ یہ ستمبر کا مہینہ تھا۔
ملک کے اس حصے کی جانب یہ ہمارا پہلا سفر تھا۔ سب سے زیادہ حیرانی ہمیں ایبٹ آباد کو دیکھ کر ہوئی۔ اس سفر سے پہلے ہمارا یہ تصور تھا کہ پہاڑوں پر صرف ہزارہ برادری کے گھر ہوتے ہیں اور وہ بھی کوئٹہ میں۔ مگر ایبٹ آباد میں نہ صرف بہت سارے گھر پہاڑوں پر دیکھنے کو ملے، بلکہ وہاں کے پہاڑ بہت سرسبز اور خوبصورت بھی تھے۔ ہم نے سوچا اگر مری آباد کے پہاڑوں کو سبز رنگ کیا جائے تو ایبٹ آباد کا چھوٹا بھائی کہلائے گا۔
مگر پھر یہ خوشی دھیمی پڑ گئی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کوئٹہ کی طرح یہاں بھی ہر جگہ وردی والے کی عمارتیں اور وردی کے لوگ جلوہ افروز ہیں ۔ ہم افسردہ ہو گئے۔
ہم تقریباٗ 3 بجے مانسہرہ پہنچے۔ مانسہرہ میں ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ موسم تو کافی خوشگوار تھا، مگر شاید مسلسل سفر کرنے کی وجہ سے ہمارے سر میں درد بڑھتاجا رہا تھا۔ ہم نے 50 کا ٹکٹ لیا اور وادی کاغان جانے والی کوسٹر میں بیٹھ گئے۔ کوسٹر میں ابھی کافی جگہ خالی تھی۔ ہمیں خیال آیا کہ کیا پتہ کہ وادی کاغان میں سامانِ خورد نوش موجود ہوگا کہ نہیں۔
ہم اترے اور ایک دکان پر گئے۔ ہم نے کچھ سامان لیا اور پوچھنے لگے کہ کیا وادیِ کاغان میں وسائلِ خورد و نوش ملتے ہیں کہ نہیں۔ دکاندار مسکرا کر کہنے لگا "ہاں بھائی۔ وہاں بھی ملتے ہیں۔ مگر زرا مہنگے داموں۔”
خیر ہم واپس آگئے۔ کوسٹر اب بھی خالی پڑا تھا اس لیے ہم باہر ایک تھڑے پربیٹھ گئے اور آس پاس دیکھنے لگے۔
ایک جانب دو نو عمر مگر خستہ حال لڑکیاں ایک ڈرائیور سے باتیں کر رہی تھیں۔ ڈرائیور 50 کا نوٹ آگے کرتا اور جب ان لڑکیوں میں سے ایک ہاتھ بڑھاتی تو ڈرائیور اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیتا۔ پھر تینوں مل کر ہنستے۔
دوسری جانب ایک عمر رسیدہ شخص اپنے ٹھیلے کے ساتھ کھڑا انگور بیچ رہا تھا۔ اس کے بائیں جانب ایک خورد سال بچہ کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک شکستہ کھلونا تھا۔ لڑکا بڑی عقیدت سے اس کھلونے کو دیکھ رہا تھا۔ پھر عمر رسیدہ شخص نے بچے کو کچھ کہا اور خود تھوڑی دور جا کر دیوار کے ساتھ لیٹ گیا۔ خورد سال بچہ ٹھیلے کے اور نزدیک ہو گیا اور دوبارہ کھلونے کے ساتھ کھیلنے لگا۔ اس دوران ایک گاہک آیا اور بچے سے انگور کا دام پوچھنے لگا۔ بچہ کھلونا نیچے رکھ کر اس انداز سے دکانداری کرنے لگا جیسے وہ بچہ نہیں بلکہ ایک جوان اور سیانا لڑکا ہو۔ گاہک کچھ خریدے بغیر واپس چلا گیا۔ لڑکا دوبارہ کھلونا اٹھا کر کھیلنے میں مشغول ہو گیا۔
کچھ دیر چہل قدمی کے بعد ہم دوبارہ کوسٹر میں آ بیٹھے۔ مسافروں میں آگے ایک بابا جی بیٹھے تھے جو زور زور سے باتیں کر رہے تھے۔ ہم نے ہیڈفون لگایا اور دوبارہ گھسی پٹی موسیقی سننے لگے۔ تقریباَ 2 گھنٹے گزر نے کے باوجود مسافروں کی تعداد پوری نہیں ہو رہی تھی۔ ہم نے ڈرائیور سے بات کی تو اس نے کہا کہ کم مسافر لے جانے سے اس کا نقصان ہوگا۔ ہم پھر انتظار میں بیٹھے رہے۔ ایک گھنٹہ اور گزر گیا ۔
تنگ آکر ہم نے ڈرائیور سے پوچھا کہ کتنے بندے کم ہیں تو اس نے جواب دیا 4۔ مسافروں میں سے کسی نے مشورہ دیا کہ اگر ہر بندہ 10 روپیے زیادہ دے تو کوسٹر کا کرایہ پورا ہوجائے گا۔ مسافروں سے مشاورت کے بعد سب راضی ہوگئے مگر وہ بابا جی جو زور زور سے مسلسل ساتھ بیٹھے شخص سے باتیں کر رہا تھا انکار کرنے لگا۔
بابا جی بولا "خدا قسم ہم ولله اگر ایک روپیہ دیوے” مسافروں نے بابا جی کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اس بات پر بہ ضد تھے کہ "کوسٹر والے کبھی اپنا ایک روپیہ بھی کم نہیں کرتے تو ہم اس بار زیادہ پیسہ کیوں دیوے؟” زیادہ سمجھانے پر بابا جی نے آخر کہا، "بھئی ہمارا گھر مانسہرہ میں بھی ہے، اگر گاڑی نہیں چلتا تو ہم آج ادھر سوئے گا” یہ سنتے ہی ہمیں غصہ آیا اور ہم نے کہا "بابا جی آپ کا گھر ہے، دوسروں کا نہیں ، آپ دوسروں کے بارے میں بھی سوچیں”۔ اس پر عجیب شور و غل ہونے لگا۔ ہر کوئی بول رہا تھا۔ بڑی منت سماجت کے بعد بابا جی نے آخر کار پیسہ دے دیا اور یوں کوسٹر روانہ ہو گیا۔
روانہ ہوتے ہی ہمیں محسوس ہوا کہ بارش ہونے والی ہے۔ بادل گرجنے کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔ ہوا بھی کافی تیزی ہوگئی تھی۔ مگر راستہ اتنا خوبصورت تھا کہ نظریں ہٹانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ شب کی تاریکی پھیلنے کے ساتھ بادل کےگرجنے کی آوازیں کسی آرام بخش موسیقی سے کم نہیں تھیں۔ میں مسلسل ہیڈ فون لگائے پیانو اور بادل گرجنے کی اس اختلاط کو سن رہا تھا۔
کچھ دیر بعد ہمیں محسوس ہوا کہ کوسٹر میں کچھ لوگ بلند آواز میں باتیں کر رہے ہیں۔ ہیڈ فون نکالا تو وہی بابا جی ،جو کچھ دیر پہلے پیسوں پر بحث کر رہے تھے، اب ڈرائیور کی سرزنش کر رہے تھے کہ وہ گاڑی چلاتے وقت فون پہ مسلسل بات کیوں کر رہا ہے۔ بابا جی زور زور سے ہاتھ ہلا ہلا کر بات کر رہے تھے جبکہ ڈرائیور بس ہنس رہا تھا۔
پھر دیکھتے ہی دیکھتے بارش ہونے لگی۔ یہ دیکھ کرڈرائیور نے کوسٹر روکا تاکہ چھت پر رکھا سامان نیچے لایا جا سکے۔ سب اپنا اپنا سامان اندر رکھنے لگے۔ ہمارا بستہ بھی ہمارے حوالے کر دیا گیا۔ کچھ گھنٹوں کی مسافت کے بعد کھانے کے لیے ایک سنسان ریسٹورینٹ پر روکا گیا جو بظاہر کوئی گھر لگ رہا تھا ۔ جیسے ہی ہم باہر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بابا جی پھر زور زور سے بات کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے”ہم اس حرام خور کو قتل کر دے گا۔ کتے کا بچہ ، سارا رستہ چرس پی کر گاڑی چلاتا رہا۔”
♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾
🏞️اگر آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں نیچے آکر آپ کو چھولیں بلکہ لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟
اس دلچسپ سفر کے بارے میں مزید جاننے کے لئے کل کی قسط کا انتظار کریں۔ 🚙🚕🚗
Comments