Posts

Showing posts from August, 2020

*ایک شیعہ نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام شیعہ تھے*۔ *میں نے کہا وہ کیسے؟* *اس نے کہا: ”وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ* *[ القران سورت الصافات : ایت نمبر 83]* *ترجمہ: اور بے شک ابراہیم ع اس کے شیعہ میں سے ہیں*۔ *میں نے کہا تو ابھی مان جاۓ گا……* *اس نے کہا کیسے؟……… میں نے کہا:………* سنے قرآن پاک سے ۔۔۔* *( 1) ”وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ، وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ* *[ لقران آیت ۔10۔ 11 سورت الحجر]* *ترجمہ: ہم نے آپ سے پہلے شیعوں میں جتنے بھی رسول بھیجے اور جو بھی رسول آتا وہ ان کا مذاق اڑاتے"* *( 2) ”إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًاً“ [القران سورت القصص آیت نمبر 4]* *ترجمہ: "بےشک فرعون نے سر کشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو شیعہ بنا رکھا تھا"* *(3) ”مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ “* *ترجمہ:ان لوگوں میں سےجنہوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور خود بھی شیعہ ہو گۓ“* *[ القران پاک سورت الروم آیت نمبر 32]* *(4) ” إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ ٍٕ“* *ترجمہ: "بے شک جن لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے وہ شیعہ تھے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں"* *[ القران پاک سورت الانعام آیت نمبر 159]* *مجھ سے کہنے لگا دراصل آپ کی بات تو ٹھیک ہے میں تو مذاق کر رہا تھا ۔۔* *#نوٹ آپ سب سے گزارش ہے کہ اس تحریر کو اپنی وال ۔ اپنی گروپ ۔ اپنی پیج وغیرہ سے شئیر کریں تا کہ ان کو پتہ چل جائے جن کو پتہ نہیں ہے ،،*

 *ایک  شیعہ نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام شیعہ تھے*۔ *میں نے کہا وہ  کیسے؟* *اس نے کہا:  ”وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ*  *[ القران سورت الصافات : ایت نمبر 83]* *ترجمہ: اور بے شک ابراہیم ع اس کے شیعہ میں سے ہیں*۔        *میں نے کہا تو ابھی مان جاۓ گا……* *اس نے کہا کیسے؟……… میں نے کہا:………* سنے قرآن پاک  سے ۔۔۔*   *( 1)   ”وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ، وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ*  *[ لقران آیت ۔10۔ 11 سورت  الحجر]*  *ترجمہ: ہم نے آپ سے پہلے شیعوں میں جتنے بھی رسول بھیجے اور جو بھی رسول آتا وہ ان کا مذاق اڑاتے"* *( 2)   ”إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًاً“ [القران سورت القصص آیت نمبر  4]* *ترجمہ: "بےشک فرعون نے سر کشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو شیعہ بنا رکھا تھا"* *(3)  ”مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ “*   *ترجمہ:ان لوگوں میں سےجنہوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑ...

*🌹❤️جنتی مردوں اور عورتوں کی کیا کیا صفات ہیں؟؟؟؟؟؟؟* ان صفات کو اللہ تعالی نے قرآن کی ایک آیت میں جمع کردیا ہے ۔ 👈🏻إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ *بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں* 👈🏻وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ *مومن مرد اور مومنہ عورتیں* 👈🏻وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ *اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ *سچے مرد اور سچی عورتیں* 👈🏻وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ *صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ *عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ *صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ *روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں* 👈🏻وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ *اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالذَّاكِرِينَ للَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ *کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں* 👈🏻أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (الاحزاب : 35) *👌🏻👍🏻👈🏻ان سب کے لئے اللہ تعالی نے وسیع مغفرت اور بہت زیادہ ثواب تیار کر رکھا ہے* *ان آیات میں جہاں اللہ تعالی نے مثالی مرد کے دس اوصاف کا ذکر کیا ہے وہیں مثالی عورت کی بھی دس خوبیوں کا ذکر کیا ہے* •══════════B *انتخاب و پیشکش* *کوثر عباس*8 *جامعہ حیدریہ عباس آباد کوٹ سمابہ رحیم یار خان پاکستان*

 *🌹❤️جنتی مردوں اور عورتوں کی کیا کیا صفات ہیں؟؟؟؟؟؟؟*  ان صفات کو اللہ تعالی نے قرآن کی ایک آیت میں جمع کردیا ہے ۔  👈🏻إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ *بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں* 👈🏻وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ *مومن مرد اور مومنہ عورتیں*  👈🏻وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ *اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ *سچے مرد اور سچی عورتیں* 👈🏻وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ *صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں*  👈🏻وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ *عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں*  👈🏻وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ *صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ *روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں*  👈🏻وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ *اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالذَّاكِرِينَ للَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ *کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے ...

✍ *تین مشکلات کیلئے تین ہی راه حل* 👌 1⃣ پہلی مشکل : 💢اگر شھوت میں مبتلا ہوۓ ہو... ✅ اسکا راه حل: اپنی نماز میں تجدید نظر كرو ضرور نماز میں سستی کرتے ہو گے... دلیل فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ۔۔۔ سورہ مریم آیت 59 پھر ان کے بعد ان کی جگہ پر وہ لوگ آئے جنہوں نے نماز کو برباد کردیا اور خواہشات کا اتباع کرلیا۔۔۔ 2⃣ دوسری مشکل : 💢اگر تم عدم توفیق اور بد بختی کا احساس كرتے ہو.. ✅ اسکا راه حل : اپنی والدہ محترمہ کیساتھ تمھارا رابطہ درست نہیں ہے لہذا اس بارے تجدید نظر کرو.. دلیل وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا سورہ مریم آیت 32 اور اپنی والدہ کے ساتھ حَسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور ظالم و بدنصیب نہیں بنایا ہے۔ 3⃣تیسری مشکل: 💢اگر تنگی اور زندگی کی مشکلات کا احساس کرتے ہو۔ ✅ اسکا راه حل: قرآن کریم کیساتھ اپنا رابطه درست كرو... دلیل وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا۔۔۔سورہ طہ آیت 124 اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لئے زندگی کی تنگی بھی ہے۔ t *انتخاب* *کوثرعباس* *جامعہ حیدریہ عباس آباد کوٹ سمابہ رحیم یار خان پاکستان*

 ✍ *تین مشکلات کیلئے تین ہی راه حل* 👌 1⃣ پہلی مشکل : 💢اگر شھوت میں  مبتلا ہوۓ ہو... ✅ اسکا راه حل: اپنی نماز میں تجدید نظر كرو ضرور نماز میں سستی کرتے ہو گے... دلیل فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ۔۔۔ سورہ مریم آیت 59 پھر ان کے بعد ان کی جگہ پر وہ لوگ آئے جنہوں نے نماز کو برباد کردیا اور خواہشات کا اتباع کرلیا۔۔۔ 2⃣ دوسری مشکل : 💢اگر تم عدم توفیق اور بد بختی کا احساس كرتے ہو.. ✅ اسکا راه حل :  اپنی والدہ محترمہ کیساتھ تمھارا رابطہ درست نہیں ہے لہذا اس بارے تجدید نظر کرو.. دلیل وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا سورہ مریم آیت 32 اور اپنی والدہ کے ساتھ حَسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور ظالم و بدنصیب نہیں بنایا ہے۔ 3⃣تیسری مشکل: 💢اگر تنگی اور زندگی کی مشکلات کا احساس کرتے ہو۔ ✅ اسکا راه حل: قرآن کریم کیساتھ اپنا رابطه درست كرو... دلیل وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا۔۔۔سورہ طہ آیت 124 اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لئے زندگی کی تنگی بھی ہے۔  *انتخاب*  *کوثرعب...

مہنگے موبائل فون خریدنے والو اس پیغام کو ضرور پڑھیں 😢😢😢😢😢 ایک نو سال کا بچہ مسجد کے کونے میں بیٹھے چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے نہ جانے کیا مانگ رہا تھا؟ کپڑوں میں پیوند لگا تھا مگر نہایت صاف تھے اس کے ننھےننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل بےخبر اللہ پاک سے باتوں میں لگا ھوا تھا جیسے ہی وہ اٹھا ایک اجنبی نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا اور پوچھا اللہ پاک سے کیا مانگ رھے ھو؟ اس نے کہا کہ میرے ابو مر گۓ ھیں ان کےلئے جنت میری امی ہر وقت روتی رہتی ھے اس کے لئے صبر میری بہن ماں سے کپڑے مانگتی ھے اس کے لئے رقم اجنبی نے سوال کیا کیا آب سکول جاتے ھو؟ بچے نے کہا ہاں جاتا ھوں اجنبی نے پوچھا کس کلاس میں پڑھتے ھو؟ نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا ماں چنے بنا دیتی ھے وہ سکول کے بچوں کو فروخت کرتا ھوں بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ھیں ہمارا یہی کام دھندا ھے بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رھا تھا تمہارا کوئ رشتہ دار اجنبی نہ چاہتے ھوۓ بھی بچے سے پوچھ بیٹھا؟ امی کہتی ھے غریب کا کوئ رشتہ دار نہیں ھوتا امی کبھی جھوٹ نہیں بولتی لیکن انکل جب ھم کھانا کھا رہے ھوتےہیں اور میں کہتا ھوں امی آپ بھی کھانا کھاؤ تو وہ کہتی ھیں میں نے کھالیا ھے اس وقت لگتا ھے وہ جھوٹ بول رھی ھیں. بیٹا اگر گھر کا خرچ مل جاۓ تو تم پڑھوگے؟ بچہ:بالکل نہیں کیونکہ تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ھیں ہمیں کسی پڑھے ھوۓ نے کبھی نہیں پوچھا پاس سے گزر جاتے ھیں اجنبی حیران بھی تھا اور پریشان بھی پھر اس نے کہا کہ ہر روز اسی مسجد میں آتا ھوں کبھی کسی نے نہیں پوچھا یہاں تمام آنے والے میرے والد کو جانتے تھے مگر ہمیں کوئی نہیں جانتا بچہ زور زور سے رونے لگا انکل جب باپ مر جاتا ھے تو سب اجنبی بن جاتے ھیں میرے پاس بچے کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا ایسے کتنے معصوم ھوں گے جو حسرتوں سے زخمی ھیں بس ایک کوشش کیجۓ اور اپنے اردگرد ایسے ضروت مند یتیموں اور بےسہارا کو ڈھونڈئے اور ان کی مدد کیجئے موبائل اور لوڈ کے دینے سے پہلے اپنے آس پاس کسی غریب کو دیکھ لیں شاید اسکو آٹے کی بوری زیادہ ضرورت ھو تصویر یا ویڈیو بھیجنے کی جگہ یہ میسج کم ازکم ایک یا دو گروپ میں ضرور شئیر کریں خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھیں جزاک اللہ (ایک دفعہ شیر ضرور کیجیئے گا پلیز پڑھ کر)

 مہنگے موبائل فون خریدنے   والو  اس پیغام کو ضرور پڑھیں  😢😢😢😢😢        ایک نو سال کا بچہ مسجد کے کونے میں بیٹھے چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے نہ جانے کیا مانگ رہا تھا؟ کپڑوں میں پیوند لگا تھا مگر نہایت صاف تھے اس کے ننھےننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل بےخبر اللہ پاک سے باتوں میں لگا ھوا تھا جیسے ہی وہ اٹھا ایک اجنبی نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا اور پوچھا اللہ پاک سے کیا مانگ رھے ھو؟ اس نے کہا کہ  میرے ابو مر گۓ ھیں ان کےلئے جنت میری امی ہر وقت روتی رہتی ھے اس کے لئے صبر میری بہن ماں سے کپڑے مانگتی ھے اس کے لئے رقم اجنبی نے سوال کیا کیا آب سکول جاتے ھو؟ بچے نے کہا ہاں جاتا ھوں اجنبی نے پوچھا کس کلاس میں پڑھتے ھو؟ نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا ماں چنے بنا دیتی ھے وہ سکول کے بچوں کو فروخت کرتا ھوں بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ھیں ہمارا یہی کام دھندا ھے بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رھا تھا تمہارا کوئ رشتہ دار اجنبی نہ چاہتے ھوۓ بھی بچے سے پوچھ بیٹھا؟ امی کہتی ھے غ...

• 👈 *جتنی_محنت_اتنی_کامیابی* 👉 مارک سپٹز دنیا کا نامور تیراک تھا۔ یہ تاریخ کا پہلا تیراک تھا جس نے اولمپکس میں نو بار فتح حاصل کی۔ یہ اکٹھے سات گولڈ میڈل حاصل کرنے والا پہلا تیراک بھی تھا۔ مارک سپٹز نے ١٩۷٢ء میں میونخ کے اولمپکس میں سات گولڈ میڈل لئے اور پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ وہ یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سٹیج پر بیٹھا اور ہنس کر رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دینے لگا۔ ایک رپورٹر نے اچانک اس سے کہا، ”مارک ٹوڈے از لکی فار یو“ یہ فقرہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔ وہ تڑپ کر مڑا اور رپورٹر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دے دی۔ رپورٹر ڈرتے ڈرتے سٹیج پر آ گیا۔ مارک سپٹز نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے پیار سے بولا، ”میں ١٩٦٨ء میں میکسیکو کے اولمپکس میں شریک تھا۔ میں نے بڑی کوشش کی لیکن میں آدھ منٹ یعنی تیس سیکنڈ سے ہار گیا۔ میں نے اس وقت فیصلہ کیا میں اگلا اولمپکس بھی جیتوں گا اور سب سے زیادہ گولڈ میڈل بھی حاصل کروں گا۔“ وہ رکا اور پھر بولا، ”تم جانتے ہو مجھے تیس سیکنڈ کور کرنے کے لئے کتنی محنت کرنا پڑی؟“ رپورٹر خاموش رہا۔ مارک سپٹز چند سیکنڈ رک کر بولا، ”میں چار سال میں دس ہزار گھنٹے پانی میں رہا۔ میں نے ان چار برسوں میں ایک بھی چھٹی نہیں کی۔ میں کرسمس کے دن بھی سوئمنگ پول میں ہوتا تھا اور اپنا برتھ ڈے بھی تیر کر مناتا تھا۔ ان چار برسوں میں میرے والدین کا انتقال ہوا، میرے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا، میری گرل فرینڈز مجھے چھوڑ گئیں، میرا اکاﺅنٹ خالی ہو گیا، میرے کریڈٹ کارڈز بند ہو گئے۔ میری گاڑی میرا گھر بک گیا لیکن میں نے ایک بھی دن چھٹی نہیں کی۔ تم اگر ان دس ہزار گھنٹوں کو چار پر تقسیم کرو تو یہ اڑھائی ہزار گھنٹے سالانہ اور آٹھ گھنٹے روزانہ بنتے ہیں۔ میں اتنا عرصہ پانی میں رہنے کی وجہ سے”ایسڈ ری فلکس ڈزیز“ کا شکار ہو گیا۔ میرے پورے جسم میں درد ہوتا ہے اور مجھے روزانہ فزیو تھراپی کرنا پڑتی ہے۔ میں اس بیماری اور دس ہزار گھنٹے کی پریکٹس کے بعد اپنی صرف 30 سیکنڈ کی کمی پوری کرنے کے قابل ہوا اور میں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ سات گولڈ میڈل حاصل کر لئے، لیکن تم کہتے ہو یہ میرا لکی ڈے ہے۔ میں روز پانی میں آٹھ گھنٹے پریکٹس کرتا تھا۔ تم روزانہ 10 گھنٹے پریکٹس کر لو۔ میرا لکی ڈے تمہارا لکی ڈے بن جائے گا۔“ وہ اس کے بعد رکا اور پھر تاریخی فقرہ کہا، اس نے کہا، ”انسان جتنی محنت کرتا جاتا ہے وہ اتنا خوش نصیب ہوتا جاتا ہے“۔ دنیا میں سپورٹس واحد شعبہ ہے جس میں قسمت کم اور مہارت زیادہ کام آتی ہے۔ کھیل نفسیات، کیمسٹری، فزکس اور ریاضی کا زبردست کمبی نیشن ہوتے ہیں اور آپ اس کمبی نیشن پر اسی وقت پورے اتر تے ہیں جب آپ پریکٹس کی انتہا کر دیتے ہیں۔ قسمت بھی بے شک آپ پر مہربان ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا لیکن کھلاڑی صرف قسمت سے پوری زندگی نہیں جیت سکتے۔ یہ چیمپیئن بھی نہیں بن سکتے۔ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ سچن ٹنڈولکر کی مثال لے لیجیئے۔ سچن ٹنڈولکر کو کرکٹ کا دیوتا کہا جاتا ہے اور یہ غلط بھی نہیں۔ یہ کرکٹ کی تاریخ میں 100 سنچریاں بنانے والا پہلا کھلاڑی ہے۔ یہ تاریخ کا پہلا کھلاڑی ہے جس نے 664 انٹرنیشنل میچز کھیلے اور 34 ہزار 3 سو 57 رنز بنائے۔ یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں دس ہزار رنز بنانے والا پہلا کھلاڑی بھی تھا اور یہ دنیا میں تیز ترین رنز بنانے والا بیٹس مین بھی۔ آپ سچن ٹنڈولکر کا اعتماد ملاحظہ کیجیئے ۔ آسٹریلیا کے بولر بریڈ ہوگ نے ٢٠٠۷ء میں حیدر آباد میں سچن ٹنڈولکر کو آﺅٹ کر دیا۔ یہ بریڈ کی زندگی کی سب سے بڑی اچیومنٹ تھی۔ یہ بال لے کر سچن ٹنڈولکر کے پاس چلا گیا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کیا، ”سر یہ میری زندگی کا سب سے بڑا موقع ہے، میں نے گاڈ آف کرکٹ کو آﺅٹ کر دیا۔ آپ پلیز مجھے اس بال پر آٹو گراف دے دیں۔“ سچن ٹنڈولکر نے گیند لی اور اس پر مارکر سے لکھ دیا، ”دس ول نیور ہیپن اگین“ (تمہارے زندگی میں یہ موقع دوبارہ کبھی نہیں آئے گا۔) آپ سچن ٹنڈولکر کا اپنی ذات پر اعتماد دیکھیئے۔ بریڈ ہوگ کا اس کے بعد سچن ٹنڈولکر سے ٢١ مرتبہ سامنا ہوا۔ ہوگ نے سچن کا غرور توڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن بریڈ ہوگ دوبارہ اس کی وکٹ نہیں لے سکا۔ سچن ٹنڈولکر کی اس کامیابی کے پیچھے کیا گُر تھا۔ یہ ساڑھے پانچ فٹ کا لٹل ماسٹر تھا۔ یہ بچہ دکھائی دیتا تھا لیکن یہ اس کے باوجود تاریخ کا سب سے بڑا بیٹس مین بنا اور یہ سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے اور رنز بنانے والا کرکٹر بھی۔ آخر اس شخص کے پاس کون سا فارمولا، کون سا گُر تھا؟ یہ گُر سچن ٹنڈولکر نے ٢٠١٣ء میں اپنی زبان سے دنیا کو بتایا۔ اس کا کہنا تھا میں ١٩٨٩ء میں سولہ سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ میں آیا اور ٢٠١٣ء میں دو سو (٢٠٠) ٹیسٹ میچ کھیل کر ریٹائر ہو گیا۔ میرے کیریئر کے ٢۴ سال بنتے ہیں، ان ٢۴ برسوں میں ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جب میں صبح چھ بجے گراﺅنڈ نہ پہنچا ہوں اور میں نے ۵٠٠ گیندیں فیس نہ کی ہوں. میں نے اپنے کیریئر کے ٢۴ برسوں میں موبائل فون، آئینہ اور اپنے رشتے داروں کا منہ بعد میں دیکھا اور پانچ سو گیندیں پہلے کھیلیں۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا، ”آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟“ سچن نے جواب دیا، ”میں نے ایک بھی چھٹی نہیں کی۔“ پوچھنے والے نے پوچھا ”کرسمس، نیشنل ڈے، دیوالی اور دسہرا آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟“ سچن نے جواب دیا، ”میں شادی کے دن اور سہاگ رات سے اگلی صبح بھی ٹھیک چھ بجے گراﺅنڈ میں تھا۔ میں نے زندگی میں میچز کے علاوہ صرف پریکٹس کے دوران ۴۴ لاکھ گیندیں کھیلی ہیں اور یہ وہ ۴۴ لاکھ گیندیں ہیں جن کی وجہ سے لوگ مجھے گاڈ آف کرکٹ کہتے ہیں۔“ انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ”آپ سنچری یا ڈبل سنچری کرنے کے اگلے دن بھی پریکٹس کرتے تھے۔“ سچن ٹنڈولکر نے جواب دیا ”ہم نے دو اپریل ٢٠١١ء کو ورلڈ کپ جیتا تھا۔ میں ورلڈ کپ جیتنے سے اگلی صبح یعنی ٣ اپریل کو بھی ٹھیک چھ بجے گراﺅنڈ میں تھا اور میں نے پانچ سو گیندیں کھیلنے کے بعد موبائل آن کیا تھا اور وزیراعظم من موہن سنگھ کی مبارک باد کی کال ریسیو کی تھی۔“ آپ دیکھیئے یہ پریکٹس اور خوفناک حد تک ڈسپلن تھا جس نے ساڑھے پانچ فٹ کے دھان پان سے لڑکے کو دنیا کا سب سے بڑا بیٹس مین بنا دیا۔ جس کے ریکارڈ کوئی توڑ سکا اور شاید ہی کوئی توڑ سکے گا۔ یہ صرف خوش قسمتی، ماں یا قوم کی دعائیں نہیں تھیں یہ اس شخص کا ڈسپلن اور کام سے لگن بھی تھی اور اس لگن نے اسے عزت اور شہرت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ ِیہی فلسفہ مذہب میں لاگو ہوتا ہے *جتنی محنت اتنی کامیابی۔* اگر آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں مذہب پر مکمل عمل کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر نمائشی نام نمود سے دنیا کو تو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔دائمی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ *نوٹ:* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے *︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗* 📚 📖 اردو تحـــــــاریـــــــر 📖 📚 *︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘* *📜☜ واٹس ایپ گروپ میں ایڈ ہونے کے لئے Name لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کری94*

 •        👈 *جتنی_محنت_اتنی_کامیابی* 👉 مارک سپٹز دنیا کا نامور تیراک تھا۔ یہ تاریخ کا پہلا تیراک تھا جس نے اولمپکس میں نو بار فتح حاصل کی۔ یہ اکٹھے سات گولڈ میڈل حاصل کرنے والا پہلا تیراک بھی تھا۔ مارک سپٹز نے ١٩۷٢ء میں میونخ کے اولمپکس میں سات گولڈ میڈل لئے اور پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ وہ یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سٹیج پر بیٹھا اور ہنس کر رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دینے لگا۔ ایک رپورٹر نے اچانک اس سے کہا، ”مارک ٹوڈے از لکی فار یو“ یہ فقرہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔ وہ تڑپ کر مڑا اور رپورٹر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دے دی۔ رپورٹر ڈرتے ڈرتے سٹیج پر آ گیا۔ مارک سپٹز نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے پیار سے بولا، ”میں ١٩٦٨ء میں میکسیکو کے اولمپکس میں شریک تھا۔ میں نے بڑی کوشش کی لیکن میں آدھ منٹ یعنی تیس سیکنڈ سے ہار گیا۔ میں نے اس وقت فیصلہ کیا میں اگلا اولمپکس بھی جیتوں گا اور سب سے زیادہ گولڈ میڈل بھی حاصل کروں گا۔“ وہ رکا اور پھر بولا، ”تم جانتے ہو مجھے تیس سیکنڈ کور کرنے کے لئے کتنی محنت کرنا پڑی؟“ رپورٹر خاموش رہا۔ مارک سپٹز چند سیکنڈ رک کر بولا، ”میں چار سال میں...
 •        👈 *جتنی_محنت_اتنی_کامیابی* 👉 مارک سپٹز دنیا کا نامور تیراک تھا۔ یہ تاریخ کا پہلا تیراک تھا جس نے اولمپکس میں نو بار فتح حاصل کی۔ یہ اکٹھے سات گولڈ میڈل حاصل کرنے والا پہلا تیراک بھی تھا۔ مارک سپٹز نے ١٩۷٢ء میں میونخ کے اولمپکس میں سات گولڈ میڈل لئے اور پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ وہ یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سٹیج پر بیٹھا اور ہنس کر رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دینے لگا۔ ایک رپورٹر نے اچانک اس سے کہا، ”مارک ٹوڈے از لکی فار یو“ یہ فقرہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔ وہ تڑپ کر مڑا اور رپورٹر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دے دی۔ رپورٹر ڈرتے ڈرتے سٹیج پر آ گیا۔ مارک سپٹز نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے پیار سے بولا، ”میں ١٩٦٨ء میں میکسیکو کے اولمپکس میں شریک تھا۔ میں نے بڑی کوشش کی لیکن میں آدھ منٹ یعنی تیس سیکنڈ سے ہار گیا۔ میں نے اس وقت فیصلہ کیا میں اگلا اولمپکس بھی جیتوں گا اور سب سے زیادہ گولڈ میڈل بھی حاصل کروں گا۔“ وہ رکا اور پھر بولا، ”تم جانتے ہو مجھے تیس سیکنڈ کور کرنے کے لئے کتنی محنت کرنا پڑی؟“ رپورٹر خاموش رہا۔ مارک سپٹز چند سیکنڈ رک کر بولا، ”میں چار سال میں...

*تین حیرت انگیز واقعات* *اور ان تینوں سے ملنے والا* *ایک سبق* *پہلا واقعہ :* بس پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی. اچانک بجلی چمکی. بس کے قریب آئی اور واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ آدھ گھنٹے بعد بجلی دوبارہ آئی‘ بس کے پچھلے حصے کی طرف لپکی لیکن واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ بجلی ایک بار پھر آ ئی. وہ اس بار دائیں سائیڈ پر حملہ آور ہوئی لیکن تیسری بار بھی واپس لوٹ گئی. ڈرائیور سمجھ دار تھا‘ اس نے گاڑی روکی اور اونچی آواز میں بولا ’’بھائیو بس میں کوئی گناہگار سوار ہے۔ یہ بجلی اسے تلاش کر رہی ہے‘ ہم نے اگر اسے نہ اتارا تو ہم سب مارے جائیں گے‘‘ بس میں سراسیمگی پھیل گئی اور تمام مسافر ایک دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے‘ ڈرائیور نے مشورہ دیا. "سامنے پہاڑ کے نیچے درخت ہے‘ ہم تمام ایک ایک کر کے اترتے ہیں اور درخت کے نیچے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ ہم میں سے جو گناہ گار ہو گا بجلی اس پر گر جائے گی اور باقی لوگ بچ جائیں گے" یہ تجویز قابل عمل تھی‘ تمام مسافروں نے اتفاق کیا‘ ڈرائیور سب سے پہلے اترا، اور دوڑ کر درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ بجلی آسمان پر چمکتی رہی لیکن وہ ڈرائیور کی طرف نہیں آئی. وہ بس میں واپس چلا گیا‘ دوسرا مسافر اترا اور درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا‘ بجلی نے اس کی طرف بھی توجہ نہیں دی‘ تیسرا مسافر بھی صاف بچ گیا یوں مسافر آتے رہے‘ درخت کے نیچے کھڑے ہوتے رہے اور واپس جاتے رہے یہاں تک کہ صرف ایک مسافر بچ گیا. یہ گندہ مجہول سا مسافر تھا. کنڈیکٹر نے اسے ترس کھا کر بس میں سوار کر لیا تھا. مسافروں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ لوگوں کا کہنا تھا: "ہم تمہاری وجہ سے موت کے منہ پر بیٹھے ہیں،تم فوراً بس سے اتر جاؤ" وہ اس سے ان گناہوں کی تفصیل بھی پوچھ رہے تھے جن کی وجہ سے ایک اذیت ناک موت اس کی منتظر تھی. مگر وہ مسافر اترنے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن لوگ اسے ہر قیمت پر بس سے اتارنا چاہتے تھے‘ مسافروں نے پہلے اسے برا بھلا کہہ کر اترنے کا حکم دیا‘ پھر اسے پیار سے سمجھایا، اور آخر میں اسے گھسیٹ کر اتارنے لگے۔ وہ شخص کبھی کسی سیٹ کی پشت پکڑ لیتا تھا‘ کبھی کسی راڈ کے ساتھ لپٹ جاتا تھا، اور کبھی دروازے کو جپھا مار لیتا تھا. لیکن لوگ باز نہ آئے‘ انھوں نے اسے زبردستی گھسیٹ کر اتار دیا. ڈرائیور نے بس چلا دی. بس جوں ہی "گناہ گار شخص "سے چند میٹر آگے گئی، دھاڑ کی آواز آئی، بجلی بس پر گری، اور تمام مسافر چند لمحوں میں جل کر بھسم ہو گئے. وہ *"گناہگار مسافر"* دو گھنٹوں سے مسافروں کی جان بچا رہا تھا۔ *دوسرا واقعہ :* مجھے کسی صاحب نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا. وہ ترکی کے راستے یونان جانا چاہتے تھے. ایجنٹ انھیں ترکی لے گیا. یہ ازمیر شہر میں دوسرے لوگوں کے ساتھ برفباری کا انتظار کرنے لگے. سردیاں یورپ میں داخلے کا بہترین وقت ہوتا تھا. برف کی وجہ سے سیکیورٹی اہلکار مورچوں میں دبک جاتے تھے، بارڈر پرگشت رک جاتا تھا، ایجنٹ لوگوں کو کشتیوں میں سوار کرتے تھے، اور انھیں یونان کے کسی ساحل پر اتار دیتے تھے، یہ ایجنٹوں کی عام پریکٹس تھی۔ اس صاحب نے بتایا: "ہم ترکی میں ایجنٹ کے ڈیرے پر پڑے تھے‘ ہمارے ساتھ گوجرانوالہ کا ایک گندہ سا لڑکا تھا‘ وہ نہاتا بھی نہیں تھا، اور دانت بھی صاف نہیں کرتا تھا. اس سے خوفناک بو آتی تھی. تمام لوگ اس سے پرہیز کرتے تھے. ہم لوگ دسمبر میں کشتی میں سوار ہوئے‘ ہم میں سے کوئی شخص اس لڑکے کو ساتھ نہیں لے جانا چاہتا تھا‘ ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رونا شروع ہو گیا‘ ایجنٹ کے پاس وقت کم تھا چنانچہ اس نے اسے ٹھڈا مار کر کشتی میں پھینک دیا. کشتی جب یونان کی حدود میں داخل ہوئی، تو کوسٹ گارڈ ایکٹو تھے۔ یونان کو شاید ہماری کشتی کی مخبری ہو گئی تھی. ایجنٹ نے مختلف راستوں سے یونان میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر ہر راستے پر کوسٹ گارڈ تھے. اس دوران اس لڑکے کی طبیعت خراب ہو گئی. وہ الٹیاں کرنے لگا. ہم نے ایجنٹ سے احتجاج شروع کر دیا. ایجنٹ ٹینشن میں تھا‘ اسے غصہ آ گیا‘ اس نے دو لڑکوں کی مدد لی، اور اس گندے لڑکے کو اٹھا کر یخ ٹھنڈے پانی میں پھینک دیا. وہ بے چارہ ڈبکیاں کھانے لگا. ہم آگے نکل گئے. ہم ابھی آدھ کلومیٹر آگے گئے تھے کہ ہم پر فائرنگ شروع ہو گئی‘ ایجنٹ نے کشتی موڑنے کی کوشش کی۔ کشتی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی، اور وہ پانی میں الٹ گئی. ہم سب پانی میں ڈبکیاں کھانے لگے‘ میں نے خود کو سردی‘ پانی اور خوف کے حوالے کر دیا. جب میری آنکھ کھلی، تو میں اسپتال میں تھا‘ مجھے هسپتال کے عملے نے بتایا "کشتی میں سوار تمام لوگ مر چکے ہیں.صرف دو لوگ بچے ہیں" میں نے دوسرے زنده شخص کے بارے میں پوچھا. ڈاکٹر نے میرے بیڈ کا پردہ ہٹا دیا، دوسرے بیڈ پر وہی لڑکا لیٹا تھا، جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے سمندر میں پھینکا تھا، سمندر کی لہریں اسے دھکیل کر ساحل تک لے آئی تھیں۔ مجھے کوسٹ گارڈز نے بچا لیا تھا. جب کہ باقی لوگ گولیوں کا نشانہ بن گئے، یا پھر سردی سے ٹھٹھر کر مر چکے تھے. میں پندرہ دن اسپتال رہا. میں اس دوران یہ سوچتا رہا: "میں کیوں بچ گیا"؟ مجھے کوئی جواب نہیں سوجھتا تھا. میں جب اسپتال سے ڈسچارج ہو رہا تھا، مجھے اس وقت یاد آیا. میں نے اس لڑکے کو لائف جیکٹ پہنائی تھی. ایجنٹ جب اسے پانی میں پھینکنے کے لیے آ رہا تھا، تو میں نے فوراً باکس سے جیکٹ نکال کر اسے پہنا دی تھی. یہ وہ نیکی تھی جس نے مجھے بچا لیا. مجھے جوں ہی یہ نیکی یاد آئی، مجھے چھ ماہ کا وہ سارا زمانہ یاد آ گیا، جو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ گزارہ تھا. ہم نہ صرف ترکی میں اس کی وجہ سے بچتے رہے تھے، بلکہ وہ لڑکا جب تک ہماری کشتی میں موجود رہا، ہم سب لوگ کوسٹ گارڈز سے بھی محفوظ رہے، یخ پانی سے بھی، اور موت سے بھی. ہم نے جوں ہی اسے کشتی سے دھکا دیا، موت نے ہم پر اٹیک کر دیا. میں نے پولیس سے درخواست کی: "میں اپنے ساتھی سے ملنا چاہتا ہوں" پولیس اہلکاروں نے بتایا: "وہ پولیس وین میں تمہارا انتظار کر رہا ہے" میں گاڑی میں سوار ہوا، اور جاتے ہی اسے گلے سے لگا لیا۔ مجھے اس وقت اس کے جسم سے کسی قسم کی کوئی بو نہیں آ رہی تھی. تب مجھے معلوم ہوا میرے ساتھیوں کو دراصل اس کے جسم سے اپنی موت کی بو آتی تھی. یہ ان لوگوں کی موت تھی، جو انھیں اس سے الگ کرنا چاہتی تھی. اور وہ جوں ہی الگ ہوئے، سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔ *تیسرا واقعہ:* میرے ایک بزرگ دوست جوانی میں ارب پتی تھے، لیکن ان کی زندگی کا آخری حصہ عسرت میں گزرا. مجھے انھوں نے ایک دن اپنی کہانی سنائی انھوں نے بتایا: "میرے والد مل میں کام کرتے تھے‘ گزارہ مشکل سے ہوتا تھا‘ ان کا ایک کزن معذور تھا‘ کزن کے والدین فوت ہو گئے‘ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں رہا‘ میرے والد کو ترس آ گیا‘ وہ اسے اپنے گھر لے آئے‘ ہم پانچ بہن بھائی تھے‘ گھر میں غربت تھی اور اوپر سے ایک معذور چچا سر پر آ گرا. والدہ کو وہ اچھے نہیں لگتے تھے‘ وہ سارا دن انھیں کوستی رہتی تھیں۔ ہم بھی والدہ کی وجہ سے ان سے نفرت کرتے تھے لیکن میرے والد کو ان سے محبت تھی‘ وہ انھیں اپنے ہاتھ سے کھانا بھی کھلاتے تھے‘ ان کا بول براز بھی صاف کرتے تھے، اور انھیں کپڑے بھی پہناتے تھے. اللہ کا کرنا یہ ہوا که ہمارے حالات بدل گئے‘ ہمارے والد نے چھوٹی سی بھٹی لگائی‘ یہ بھٹی کارخانہ بنی اور وہ کارخانہ کارخانوں میں تبدیل ہو گیا، ہم ارب پتی ہو گئے. 1980ء کی دہائی میں ہمارے والد فوت ہو گئے‘ وہ چچا ترکے میں مجھے مل گئے، میں نے انھیں چند ماہ اپنے گھر رکھا، لیکن میں جلد ہی تنگ آگیا۔ میں نے انھیں پاگل خانے میں داخل کرا دیا. وہ پاگل خانے میں رہ کر انتقال کر گئے. بس ان کے انتقال کی دیر تھی ہمارا پورا خاندان اوپر سے نیچے آ گیا. ہماری فیکٹریاں ہمارے گھر اور ہماری گاڑیاں ہر چیز نیلام ہو گئی. ہم روٹی کے نوالوں کو ترسنے لگے. ہمیں اس وقت معلوم ہوا ہمارے معذور چچا ہمارے رزق کی ضمانت تھے. ہم ان کی وجہ سے محلوں میں زندگی گزار رہے تھے. وہ گئے تو ہماری ضمانت بھی ختم ہو گئی. ہمارے محل ہم سے رخصت ہو گئے، ہم سڑک پر آ گئے۔ *تینوں واقعات سےملنے والا سبق :* یہ تینوں واقعات آپ کے لیے سبق ہیں. ہم نہیں جانتے ہم کن لوگوں کی وجہ سے زندہ ہیں؟ ہم کن کی وجہ سے کامیاب ہیں؟ اور ہم کن کی بدولت محلوں میں زندگی گزار رہے ہیں؟ ہم یہ بھی نہیں جانتے ہم کس کو بس سے اتاریں گے؟ ہم کس کو کشتی سے باہر پھینکیں گے؟ اور ہم کس کے کھانے کی پلیٹ اٹھائیں گے؟ اورپھر وہ شخص ہمارا رزق، ہماری کامیابی، اور ہماری زندگی ساتھ لے جائے گا... ہم ہرگز ہرگز نہیں جانتے، لہٰذا ہم جب تک اس شخص کو نہیں پہچان لیتے، ہمیں اس وقت تک کسی کو بھی اپنی بس یا کشتی اور گھر سے نکالنے کا رسک نہیں لینا چاہیے. کیوں؟ کیونکہ ہو سکتا ہے ہمارے پاس جو کچھ ہو، وہ سب اس شخص کا ہو. اور اگر وہ چلا گیا.... تو سب کچھ چلا جائے، ہم ہم نہ رہیں، مٹی کا ڈھیر بن جائیں۔♥♥

 *تین حیرت انگیز واقعات* *اور ان تینوں سے ملنے والا* *ایک سبق* *پہلا واقعہ :* بس پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی. اچانک بجلی چمکی. بس کے قریب آئی اور واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ آدھ گھنٹے بعد بجلی دوبارہ آئی‘ بس کے پچھلے حصے کی طرف لپکی  لیکن واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ بجلی ایک بار پھر آ ئی. وہ اس بار دائیں سائیڈ پر حملہ آور ہوئی لیکن تیسری بار بھی واپس لوٹ گئی. ڈرائیور سمجھ دار تھا‘ اس نے گاڑی روکی اور اونچی آواز میں بولا ’’بھائیو بس میں کوئی گناہگار سوار ہے۔ یہ بجلی اسے تلاش کر رہی ہے‘ ہم نے اگر اسے نہ اتارا تو ہم سب مارے جائیں گے‘‘ بس میں سراسیمگی پھیل گئی  اور تمام مسافر ایک دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے‘ ڈرائیور نے مشورہ دیا. "سامنے پہاڑ کے نیچے درخت ہے‘ ہم تمام ایک ایک کر کے اترتے ہیں  اور درخت کے نیچے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ ہم میں سے جو گناہ گار ہو گا  بجلی اس پر گر جائے گی اور باقی لوگ بچ جائیں گے" یہ تجویز قابل عمل تھی‘ تمام مسافروں نے اتفاق کیا‘ ڈرائیور سب سے پہلے اترا، اور دوڑ کر درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ بجلی آسمان پر چمکتی رہی  لیکن وہ ڈرائ...

*تین حیرت انگیز واقعات* *اور ان تینوں سے ملنے والا* *ایک سبق* *پہلا واقعہ :* بس پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی. اچانک بجلی چمکی. بس کے قریب آئی اور واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ آدھ گھنٹے بعد بجلی دوبارہ آئی‘ بس کے پچھلے حصے کی طرف لپکی لیکن واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ بجلی ایک بار پھر آ ئی. وہ اس بار دائیں سائیڈ پر حملہ آور ہوئی لیکن تیسری بار بھی واپس لوٹ گئی. ڈرائیور سمجھ دار تھا‘ اس نے گاڑی روکی اور اونچی آواز میں بولا ’’بھائیو بس میں کوئی گناہگار سوار ہے۔ یہ بجلی اسے تلاش کر رہی ہے‘ ہم نے اگر اسے نہ اتارا تو ہم سب مارے جائیں گے‘‘ بس میں سراسیمگی پھیل گئی اور تمام مسافر ایک دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے‘ ڈرائیور نے مشورہ دیا. "سامنے پہاڑ کے نیچے درخت ہے‘ ہم تمام ایک ایک کر کے اترتے ہیں اور درخت کے نیچے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ ہم میں سے جو گناہ گار ہو گا بجلی اس پر گر جائے گی اور باقی لوگ بچ جائیں گے" یہ تجویز قابل عمل تھی‘ تمام مسافروں نے اتفاق کیا‘ ڈرائیور سب سے پہلے اترا، اور دوڑ کر درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ بجلی آسمان پر چمکتی رہی لیکن وہ ڈرائیور کی طرف نہیں آئی. وہ بس میں واپس چلا گیا‘ دوسرا مسافر اترا اور درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا‘ بجلی نے اس کی طرف بھی توجہ نہیں دی‘ تیسرا مسافر بھی صاف بچ گیا یوں مسافر آتے رہے‘ درخت کے نیچے کھڑے ہوتے رہے اور واپس جاتے رہے یہاں تک کہ صرف ایک مسافر بچ گیا. یہ گندہ مجہول سا مسافر تھا. کنڈیکٹر نے اسے ترس کھا کر بس میں سوار کر لیا تھا. مسافروں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ لوگوں کا کہنا تھا: "ہم تمہاری وجہ سے موت کے منہ پر بیٹھے ہیں،تم فوراً بس سے اتر جاؤ" وہ اس سے ان گناہوں کی تفصیل بھی پوچھ رہے تھے جن کی وجہ سے ایک اذیت ناک موت اس کی منتظر تھی. مگر وہ مسافر اترنے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن لوگ اسے ہر قیمت پر بس سے اتارنا چاہتے تھے‘ مسافروں نے پہلے اسے برا بھلا کہہ کر اترنے کا حکم دیا‘ پھر اسے پیار سے سمجھایا، اور آخر میں اسے گھسیٹ کر اتارنے لگے۔ وہ شخص کبھی کسی سیٹ کی پشت پکڑ لیتا تھا‘ کبھی کسی راڈ کے ساتھ لپٹ جاتا تھا، اور کبھی دروازے کو جپھا مار لیتا تھا. لیکن لوگ باز نہ آئے‘ انھوں نے اسے زبردستی گھسیٹ کر اتار دیا. ڈرائیور نے بس چلا دی. بس جوں ہی "گناہ گار شخص "سے چند میٹر آگے گئی، دھاڑ کی آواز آئی، بجلی بس پر گری، اور تمام مسافر چند لمحوں میں جل کر بھسم ہو گئے. وہ *"گناہگار مسافر"* دو گھنٹوں سے مسافروں کی جان بچا رہا تھا۔ *دوسرا واقعہ :* مجھے کسی صاحب نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا. وہ ترکی کے راستے یونان جانا چاہتے تھے. ایجنٹ انھیں ترکی لے گیا. یہ ازمیر شہر میں دوسرے لوگوں کے ساتھ برفباری کا انتظار کرنے لگے. سردیاں یورپ میں داخلے کا بہترین وقت ہوتا تھا. برف کی وجہ سے سیکیورٹی اہلکار مورچوں میں دبک جاتے تھے، بارڈر پرگشت رک جاتا تھا، ایجنٹ لوگوں کو کشتیوں میں سوار کرتے تھے، اور انھیں یونان کے کسی ساحل پر اتار دیتے تھے، یہ ایجنٹوں کی عام پریکٹس تھی۔ اس صاحب نے بتایا: "ہم ترکی میں ایجنٹ کے ڈیرے پر پڑے تھے‘ ہمارے ساتھ گوجرانوالہ کا ایک گندہ سا لڑکا تھا‘ وہ نہاتا بھی نہیں تھا، اور دانت بھی صاف نہیں کرتا تھا. اس سے خوفناک بو آتی تھی. تمام لوگ اس سے پرہیز کرتے تھے. ہم لوگ دسمبر میں کشتی میں سوار ہوئے‘ ہم میں سے کوئی شخص اس لڑکے کو ساتھ نہیں لے جانا چاہتا تھا‘ ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رونا شروع ہو گیا‘ ایجنٹ کے پاس وقت کم تھا چنانچہ اس نے اسے ٹھڈا مار کر کشتی میں پھینک دیا. کشتی جب یونان کی حدود میں داخل ہوئی، تو کوسٹ گارڈ ایکٹو تھے۔ یونان کو شاید ہماری کشتی کی مخبری ہو گئی تھی. ایجنٹ نے مختلف راستوں سے یونان میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر ہر راستے پر کوسٹ گارڈ تھے. اس دوران اس لڑکے کی طبیعت خراب ہو گئی. وہ الٹیاں کرنے لگا. ہم نے ایجنٹ سے احتجاج شروع کر دیا. ایجنٹ ٹینشن میں تھا‘ اسے غصہ آ گیا‘ اس نے دو لڑکوں کی مدد لی، اور اس گندے لڑکے کو اٹھا کر یخ ٹھنڈے پانی میں پھینک دیا. وہ بے چارہ ڈبکیاں کھانے لگا. ہم آگے نکل گئے. ہم ابھی آدھ کلومیٹر آگے گئے تھے کہ ہم پر فائرنگ شروع ہو گئی‘ ایجنٹ نے کشتی موڑنے کی کوشش کی۔ کشتی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی، اور وہ پانی میں الٹ گئی. ہم سب پانی میں ڈبکیاں کھانے لگے‘ میں نے خود کو سردی‘ پانی اور خوف کے حوالے کر دیا. جب میری آنکھ کھلی، تو میں اسپتال میں تھا‘ مجھے هسپتال کے عملے نے بتایا "کشتی میں سوار تمام لوگ مر چکے ہیں.صرف دو لوگ بچے ہیں" میں نے دوسرے زنده شخص کے بارے میں پوچھا. ڈاکٹر نے میرے بیڈ کا پردہ ہٹا دیا، دوسرے بیڈ پر وہی لڑکا لیٹا تھا، جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے سمندر میں پھینکا تھا، سمندر کی لہریں اسے دھکیل کر ساحل تک لے آئی تھیں۔ مجھے کوسٹ گارڈز نے بچا لیا تھا. جب کہ باقی لوگ گولیوں کا نشانہ بن گئے، یا پھر سردی سے ٹھٹھر کر مر چکے تھے. میں پندرہ دن اسپتال رہا. میں اس دوران یہ سوچتا رہا: "میں کیوں بچ گیا"؟ مجھے کوئی جواب نہیں سوجھتا تھا. میں جب اسپتال سے ڈسچارج ہو رہا تھا، مجھے اس وقت یاد آیا. میں نے اس لڑکے کو لائف جیکٹ پہنائی تھی. ایجنٹ جب اسے پانی میں پھینکنے کے لیے آ رہا تھا، تو میں نے فوراً باکس سے جیکٹ نکال کر اسے پہنا دی تھی. یہ وہ نیکی تھی جس نے مجھے بچا لیا. مجھے جوں ہی یہ نیکی یاد آئی، مجھے چھ ماہ کا وہ سارا زمانہ یاد آ گیا، جو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ گزارہ تھا. ہم نہ صرف ترکی میں اس کی وجہ سے بچتے رہے تھے، بلکہ وہ لڑکا جب تک ہماری کشتی میں موجود رہا، ہم سب لوگ کوسٹ گارڈز سے بھی محفوظ رہے، یخ پانی سے بھی، اور موت سے بھی. ہم نے جوں ہی اسے کشتی سے دھکا دیا، موت نے ہم پر اٹیک کر دیا. میں نے پولیس سے درخواست کی: "میں اپنے ساتھی سے ملنا چاہتا ہوں" پولیس اہلکاروں نے بتایا: "وہ پولیس وین میں تمہارا انتظار کر رہا ہے" میں گاڑی میں سوار ہوا، اور جاتے ہی اسے گلے سے لگا لیا۔ مجھے اس وقت اس کے جسم سے کسی قسم کی کوئی بو نہیں آ رہی تھی. تب مجھے معلوم ہوا میرے ساتھیوں کو دراصل اس کے جسم سے اپنی موت کی بو آتی تھی. یہ ان لوگوں کی موت تھی، جو انھیں اس سے الگ کرنا چاہتی تھی. اور وہ جوں ہی الگ ہوئے، سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔ *تیسرا واقعہ:* میرے ایک بزرگ دوست جوانی میں ارب پتی تھے، لیکن ان کی زندگی کا آخری حصہ عسرت میں گزرا. مجھے انھوں نے ایک دن اپنی کہانی سنائی انھوں نے بتایا: "میرے والد مل میں کام کرتے تھے‘ گزارہ مشکل سے ہوتا تھا‘ ان کا ایک کزن معذور تھا‘ کزن کے والدین فوت ہو گئے‘ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں رہا‘ میرے والد کو ترس آ گیا‘ وہ اسے اپنے گھر لے آئے‘ ہم پانچ بہن بھائی تھے‘ گھر میں غربت تھی اور اوپر سے ایک معذور چچا سر پر آ گرا. والدہ کو وہ اچھے نہیں لگتے تھے‘ وہ سارا دن انھیں کوستی رہتی تھیں۔ ہم بھی والدہ کی وجہ سے ان سے نفرت کرتے تھے لیکن میرے والد کو ان سے محبت تھی‘ وہ انھیں اپنے ہاتھ سے کھانا بھی کھلاتے تھے‘ ان کا بول براز بھی صاف کرتے تھے، اور انھیں کپڑے بھی پہناتے تھے. اللہ کا کرنا یہ ہوا که ہمارے حالات بدل گئے‘ ہمارے والد نے چھوٹی سی بھٹی لگائی‘ یہ بھٹی کارخانہ بنی اور وہ کارخانہ کارخانوں میں تبدیل ہو گیا، ہم ارب پتی ہو گئے. 1980ء کی دہائی میں ہمارے والد فوت ہو گئے‘ وہ چچا ترکے میں مجھے مل گئے، میں نے انھیں چند ماہ اپنے گھر رکھا، لیکن میں جلد ہی تنگ آگیا۔ میں نے انھیں پاگل خانے میں داخل کرا دیا. وہ پاگل خانے میں رہ کر انتقال کر گئے. بس ان کے انتقال کی دیر تھی ہمارا پورا خاندان اوپر سے نیچے آ گیا. ہماری فیکٹریاں ہمارے گھر اور ہماری گاڑیاں ہر چیز نیلام ہو گئی. ہم روٹی کے نوالوں کو ترسنے لگے. ہمیں اس وقت معلوم ہوا ہمارے معذور چچا ہمارے رزق کی ضمانت تھے. ہم ان کی وجہ سے محلوں میں زندگی گزار رہے تھے. وہ گئے تو ہماری ضمانت بھی ختم ہو گئی. ہمارے محل ہم سے رخصت ہو گئے، ہم سڑک پر آ گئے۔ *تینوں واقعات سےملنے والا سبق :* یہ تینوں واقعات آپ کے لیے سبق ہیں. ہم نہیں جانتے ہم کن لوگوں کی وجہ سے زندہ ہیں؟ ہم کن کی وجہ سے کامیاب ہیں؟ اور ہم کن کی بدولت محلوں میں زندگی گزار رہے ہیں؟ ہم یہ بھی نہیں جانتے ہم کس کو بس سے اتاریں گے؟ ہم کس کو کشتی سے باہر پھینکیں گے؟ اور ہم کس کے کھانے کی پلیٹ اٹھائیں گے؟ اورپھر وہ شخص ہمارا رزق، ہماری کامیابی، اور ہماری زندگی ساتھ لے جائے گا... ہم ہرگز ہرگز نہیں جانتے، لہٰذا ہم جب تک اس شخص کو نہیں پہچان لیتے، ہمیں اس وقت تک کسی کو بھی اپنی بس یا کشتی اور گھر سے نکالنے کا رسک نہیں لینا چاہیے. کیوں؟ کیونکہ ہو سکتا ہے ہمارے پاس جو کچھ ہو، وہ سب اس شخص کا ہو. اور اگر وہ چلا گیا.... تو سب کچھ چلا جائے، ہم ہم نہ رہیں، مٹی کا ڈھیر بن جائیں۔♥♥

 *تین حیرت انگیز واقعات* *اور ان تینوں سے ملنے والا* *ایک سبق* *پہلا واقعہ :* بس پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی. اچانک بجلی چمکی. بس کے قریب آئی اور واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ آدھ گھنٹے بعد بجلی دوبارہ آئی‘ بس کے پچھلے حصے کی طرف لپکی  لیکن واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ بجلی ایک بار پھر آ ئی. وہ اس بار دائیں سائیڈ پر حملہ آور ہوئی لیکن تیسری بار بھی واپس لوٹ گئی. ڈرائیور سمجھ دار تھا‘ اس نے گاڑی روکی اور اونچی آواز میں بولا ’’بھائیو بس میں کوئی گناہگار سوار ہے۔ یہ بجلی اسے تلاش کر رہی ہے‘ ہم نے اگر اسے نہ اتارا تو ہم سب مارے جائیں گے‘‘ بس میں سراسیمگی پھیل گئی  اور تمام مسافر ایک دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے‘ ڈرائیور نے مشورہ دیا. "سامنے پہاڑ کے نیچے درخت ہے‘ ہم تمام ایک ایک کر کے اترتے ہیں  اور درخت کے نیچے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ ہم میں سے جو گناہ گار ہو گا  بجلی اس پر گر جائے گی اور باقی لوگ بچ جائیں گے" یہ تجویز قابل عمل تھی‘ تمام مسافروں نے اتفاق کیا‘ ڈرائیور سب سے پہلے اترا، اور دوڑ کر درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ بجلی آسمان پر چمکتی رہی  لیکن وہ ڈرائ...

ے اہل عرب

 ️ *""‏اے اہل عرب ،،،،،،،،،،،،،،!!!* " *تمہارا وہ حشر ہوگا کے دنیا تمہاری اس عیاشی پر ہنسے گی کفار جب تم پر حملہ آور ہونگے اور تمہارے علاقے اپنے قبضے میں لیں گے تب تم عجم کو* *پکارو گے تب تم کہو گے او ہماری مدد کرو آؤ ہماری جانیں بچاؤ مگر تب دیر ہوچکی ہوگی ہاں ہم آئیں گے ضرور مسجد نبوی کے محافظ بن کر بیت المقدس ‏اور بیت اللہ کے محافظ بن کر آج تم کفار کو خوش کر لو مگر یاد رکھنا*  *پاکستان ہی تمہاری مدد کرے گا اپنے ترکش بھائیوں کے ساتھ مل کر آج تمہارے پیٹ میں بل پڑ رہے ہیں کے ترکی پاکستان کے قریب ہو رہا* ۔۔ *یاد کرو وہ تم ہی  تھے جنہوں نے خلافت عثمانیہ کو توڑنے میں یورپ کا ساتھ دیا تھا اور یورپ ‏نے تمہیں عرب کا حکمران بنا دیا* ۔ *وقت قریب ہے عثمانی خون پھر سے غالب آے گا اور حکمرانی اللہ اور رسول کو ماننے والوں کی ہوگی*  إن شاء الله

*"اولاد کبھی دوستوں میں جا کر نہیں بگڑتی"* ایک بڑی تعداد ہے ایسے لوگوں کی جو کہتے ہیں ہمارا بچہ دوستوں میں رہ کر بگڑ گیا ہے، باہر کے ماحول نے اسے بگاڑ دیا یے، بچہ جھوٹ بولے تو دوستوں نے سکھایا، بدتمیزی کرے تو دوستوں نے سکھایا، بچہ گالی دے تو دوستوں نے سکھایا ہے، یقین جانیں یہ سوچ ہی پُٹھی یے۔۔۔!!! ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* درحقیقت بچے کے بگڑنے کی وجہ والدین کے اپنے فرائض کی عدم ادایئگی ہے، شروع سے ہی بچے کی تربیت کو اہم فریضہ سمجھا جاتا، بچے کی پرورش کو اولین ترجیح دی جاتی تو یہ بچہ دوستوں میں جا کر کبھی خراب نہیں ہوتا بلکہ دوستوں کی اصلاح کا سبب بنتا۔۔۔!!! بچہ پیدا ہوتے ہی دوستوں میں نہیں جا بیٹھتا، پیدا ہوتے ہی اسکے دوست اسے لینے نہیں آجاتے، پیدا ہوتے ہی آوارہ گردی شروع نہیں کرتا، پیدا ہوتے ہی سگریٹ نہیں پکڑتا، کم کم و بیش شروع کے دس سال تک بچہ مکمل والدین کے ساتھ اٹیچ ہوتا ہے اور یہی وہ دورانیہ ہے جہاں اکثر و بیشتر والدین نہایت عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۔۔!!! بچہ جب پیدا ہوتا یے اسکا دل و دماغ بلکل کورا کاغذ ہوتا ہے کہ جو دیکھے گا سنے گا وہ اس پر چھپتا چلا جاۓ گا، اب ہم نے اس کاغذ پر کچھ نہیں لکھا زمانہ لکھتا چلا گیا، اگر ہم بچپن میں ہی اپنی تربیت اس کاغذ پر اتار دیتے تو زمانے کو برایئاں اتارنے واسطے جگہ ہی نا ملتی۔۔۔!!! جب ماں اور باپ نے اپنی تربیت شروع میں ہی بچے کے اندر اتار دی تو یہ بچہ خراب لوگوں سے مل کر خود کبھی خراب نہیں ہوگا بلکہ خراب لوگوں کے لیۓ اصلاح کا سبب بنے گا۔۔۔!!! ہمارے معاشرے میں تربیت کے نام پر رسمی جملے دہراۓ جاتے ہیں، بیٹا جھوٹ نہیں بولنا بری عادت ہے، بدتمیزی کرنا بری عادت ہے اور یہ رسمی جملے کبھی بچے کے اندر نہیں اترتے بلکہ نہایت ذمہ داری کے ساتھ، غور و فکر کے ساتھ اور دلچسپی سے کی جانے والی تربیت کو بچہ اپنے اندر اتارتا ہے، ہم معاشرہ دیکھ لیں ہر والدین بچے کو رٹے رٹاۓ جملے سکھاتے ہیں لیکن فائدہ کوئی نہیں، اور اسکی وجہ یہی کہ تربیت واسطے فکرمند نہیں، دلچسپی نہیں، ہاں سیکھ جاۓ گا، سمجھ جاۓ گا، ابھی چھوٹا ہے، اور اسی سوچ نے بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔۔۔!!! ٹی وی سیریل اور فلمیں موبائل دیکھتے ہوۓ مایئں بچوں کو دودھ پلارہی ہیں، ایک ہاتھ میں بچے کا فیڈر ہے تو دوسرے ہاتھ میں موبائل ہے، ذرا سا بچہ رونے لگ جاۓ تو ٹی وی کھول کر دے دیں گے، موبائل ہاتھ میں دے دیں گے، اسے کارٹون لگا دیں گے، کوئ موسیقی سن کر بچہ ہاتھ پیر ہلانے لگ جاۓ تو سارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے، اب وہ ماں اپنے بچے کی اعلی پرورش کیسے کرسکتی ہے کہ اسکی خود کی زندگی ڈرامے، فلمیں، موسیقی، شاپنگ، گھومنا گھمانا، موبائل فیس بک واٹس ایپ تک محدود ہو۔۔۔!!! ایک نظر باپ کی ذمہ داریوں پر ڈالیں تو بس وہی رسمی معاملات کہ بچے کے خرچے پورے ہورہے ہیں، ضرورتیات و خواہشات پوری ہورہی ہیں، پورا دن کام میں مصروف، گھر آۓ کھانا کھایا، بچے کو ایک راؤنڈ لگوا کر پھر دوستوں میں مصروف، اور پھر گھر آکر موبائل میں مصروف، اسی طرح دن پھر ہفتے اور پھر سال گذر جاتے ہیں لہذا اس بچے کی تربیت کا جو سب سے اہم دورانیہ تھا وہ والدین نے اپنی ہی مصروفیات، اپنی ہی مستیوں میں ضایع کردیا بعد میں سر پکڑ بیٹھے کے اولاد نا فرمان ہے، اولاد بدتمیز ہے، دوستوں نے بگاڑ دیا، ماحول نے خراب کردیا، ارے بھئ ماحول کے ساتھ تو وہ بعد میں جڑا یے، دوست تو اسکے بعد میں بنے ہیں، اتنے سالوں سے تو وہ آپ ہی کے پاس تھا۔۔۔!c ماں اور باپ دونوں کو مل کر ذمہ داری کے ساتھ بچے کی تربیت کرنی ہوگی، اپنے آپ کو لگانا ہے، اپنے آپ کو کھپانا ہے، اولاد کی تربیت واسطے ماں کی گود سب سے پہلی اور اہم درسگاہ ہے کہ ماں اسے سینے سے لگاۓ اپنی تربیت بچے میں منتقل کرے، اسے اللہ کی پہچان کرواۓ، اسے رسول اللہﷺ کی پہچان کرواۓ، اسے دنیا میں آنے کا مقصد سمجھاۓ، اسے روز مرہ معاملات کی دعایئں سکھاۓ۔ سچ سے محبت سچ میں عزت سچ پر فضیلت اسکے دل میں اتارے۔ جھوٹ سے نفرت، جھوٹ میں شرمندگی، جھوٹ پر گناہ کا یقین اسکے دل میں اتارے۔ گالی، غیبت، چغلی اور بری باتوں سے نفرت اسکے دل میں اتارے۔ رشتہ داروں سے محبت اور حسن سلوک اسکے دل میں اتارے۔ جب ماں کے اندر دین ہوگا، ماں کے اخلاق اچھے ہونگے تو یہاں نسلوں کی نسلیں پروان چڑھیں گی۔۔۔!!! اسی طرح باپ ہے کہ روزانہ بچے کے ساتھ بیٹھ کر کچھ وقت گزارے۔ روز مرہ کے معاملات کا پوچھے۔ صحیح غلط کی پہچان کرواۓ۔ بڑوں کا ادب، بڑوں کی عزت سمجھاۓ۔ غریبوں سے محبت، ضرورت مند کی مدد کا جذبہ اور شوق اسکے اندر پیدا کریں۔ اسکے سامنے یہ ٹیلوژن موبائل ڈرامے فلمیں وغیرہ کا استعمال بلکل نا ہو۔ اسکے سامنے لڑائی جھگڑے گالم گلوچ شور شرابہ بلکل نا ہو۔ بچے کے سامنے سب سے آپ جناب سے بات کریں۔ بچہ ذرا بڑا ہوجاۓ تو اسے نماز پر اپنے ساتھ لیکر جاۓ، اسے لوگوں سے ملنا جلنا سکھاۓ۔ اچھے کام پر اسکی حوصلہ افزائ ہو، فارغ اوقت میں پاس بٹھا کر رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام کے واقعات سناۓ۔۔۔!!! ایسے ماحول سے نکل کر آپ کا شہزادہ جب باہر کی دنیا میں اتا ہے تو کبھی باہر کے لوگوں سے خراب ہوکر نہیں آۓ گا بلکہ انکے لیۓ اصلاح کا سبب بنے گا، انکے لیۓ خیر کا سبب بنے گا، جہاں جاۓ گا اپنی اچھائی چھوڑ آۓ گا، جہاں جاۓ گا والدین کا نام چھوڑ کر آۓ گا۔۔۔!!! اور یہ شہزادہ دنیا میں تو والدین کے لیۓ سربلندی کا باعث بنتا ہی ہے لیکن اپنے اچھے اعمال و کردار کی بدولت والدین کے انتقال کے بعد قبر میں بھی انکے لیۓ راحت و سکون کا ذریعہ بنے گا۔۔۔!!! *انتخاب و پیشکش* *کوثرعباس* *جامعہ حیدریہ عباس آباد کوٹ سمابہ رحیم یار خان پاکستان*

 *"اولاد کبھی دوستوں میں جا کر نہیں بگڑتی"* ایک بڑی تعداد ہے ایسے لوگوں کی جو کہتے ہیں ہمارا بچہ دوستوں میں رہ کر بگڑ گیا ہے، باہر کے ماحول نے اسے بگاڑ دیا یے، بچہ جھوٹ بولے تو دوستوں نے سکھایا، بدتمیزی کرے تو دوستوں نے سکھایا، بچہ گالی دے تو دوستوں نے سکھایا ہے، یقین جانیں یہ سوچ ہی پُٹھی یے۔۔۔!!! ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* درحقیقت بچے کے بگڑنے کی وجہ والدین کے اپنے فرائض کی عدم ادایئگی ہے، شروع سے ہی بچے کی تربیت کو اہم فریضہ سمجھا جاتا، بچے کی پرورش کو اولین ترجیح دی جاتی تو یہ بچہ دوستوں میں جا کر کبھی خراب نہیں ہوتا بلکہ دوستوں کی اصلاح کا سبب بنتا۔۔۔!!! بچہ پیدا ہوتے ہی دوستوں میں نہیں جا بیٹھتا، پیدا ہوتے ہی اسکے دوست اسے لینے نہیں آجاتے، پیدا ہوتے ہی آوارہ گردی شروع نہیں کرتا، پیدا ہوتے ہی سگریٹ نہیں پکڑتا، کم کم و بیش شروع کے دس سال تک بچہ مکمل والدین کے ساتھ اٹیچ ہوتا ہے اور یہی وہ دورانیہ ہے جہاں اکثر و بیشتر والدین نہایت عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۔۔!!! بچہ جب پیدا ہوتا یے اسکا دل و دماغ بلکل کورا کاغذ ہوتا ہے کہ جو دیکھے گا سنے گا وہ اس پر چھپتا چلا جاۓ گا، اب...

*یکم_محرم_الحرام یوم شہادت "حضرت عمر فاروق" رضی اللہ تعالٰی عنہ* ذوالحجہ کی تقریبا ســتائیس اٹھائیــس تاریخ کو حضرت عمـــر ابن خطاب فاروق اعظـــم رضی اللہ عنہ پر مسجد نبوی میں نماز پڑھاتے ھوۓ ابو لئولئو موسی مجوسی نے قلاتلانہ حملہ کیا۔آپ رضی اللہ عنہ زخمی ھوۓ اور محـــرم الحـــرام کی پہلی تاریخ کو آپ رضی اللہ عنہ شـــہید ھوۓ۔ معلوم ھوتا ھے اســلامی سال ختم بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ھوتا ھے اور شروع بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ھوتا ھے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کے عظیم الشان بنیادی ستون،آپؒ کی شان میں قرآن کی بے شمار آیتیں نازل ھوئیں ۔اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ھے ہمیں حضرت عمر ابن خطاب فاروق اعظم کا سچا پکا غلام بناۓ اور ہمارے حاکموں کو آپؒ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین ثم آمین حضرت عمر فاروقؓ کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے آپ کی فضیلت میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔ سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب’ (ترجمہ) میرے بعد اگر نبی ہوتے تو عمر ہوتے۔ (مشکوٰۃ شریف:558 ) مذکورہ حدیث سے حضرت عمر فاروق کے مرتبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر حضور پر نبوت ختم نہ ہوتی تو آپ کے بعد حضرت عمر فاروق نبی ہوتے حضور اکرم نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا: بے شک میں نگاہ نبوت سے دیکھ رہا ہوں کہ جن کے شیطان اور انسان کے شیطان دونوں میرے عمر کے خوف سے بھاگتے ہیں۔ (مشکوٰۃ شریف ص558 ) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ: “جب حضرت عمر فاروق اسلام لائے تو حضرت جبرائیل حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ آسمان والے عمر کے اسلام پر خوش ہوئے ہیں۔ ( ابن ماجہ بحوالہ برکات آل رسول ص:291)

 *یکم_محرم_الحرام یوم شہادت "حضرت عمر فاروق" رضی اللہ تعالٰی عنہ* ذوالحجہ کی تقریبا ســتائیس اٹھائیــس تاریخ کو حضرت عمـــر ابن خطاب فاروق اعظـــم رضی اللہ عنہ پر مسجد نبوی میں نماز پڑھاتے ھوۓ ابو لئولئو موسی مجوسی نے قلاتلانہ حملہ کیا۔آپ رضی اللہ عنہ زخمی ھوۓ اور محـــرم الحـــرام کی پہلی تاریخ کو آپ رضی اللہ عنہ شـــہید ھوۓ۔ معلوم ھوتا ھے اســلامی سال ختم بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ھوتا ھے اور شروع بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ھوتا ھے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کے عظیم الشان بنیادی ستون،آپؒ کی شان میں قرآن کی بے شمار آیتیں نازل ھوئیں ۔اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ھے ہمیں حضرت عمر ابن خطاب فاروق اعظم  کا سچا پکا غلام بناۓ اور ہمارے حاکموں کو آپؒ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین ثم آمین حضرت عمر فاروقؓ کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے آپ کی فضیلت میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔ سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب’ (ترجمہ) میرے بعد اگر نبی ہوتے تو عمر ہوتے۔ (مشکوٰۃ شریف:558 ) مذکورہ حدیث سے حضرت عمر فاروق کے مرتبے کا اندازہ ...

ﺑﻨﺖِ_ﺣﻮﺍ_ﮐﯽ_ﺩﺭﺩ_ﺑﮭﺮﯼ_ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ

 👈 ** 👉ﺑﻨﺖِ_ﺣﻮﺍ_ﮐﯽ_ﺩﺭﺩ_ﺑﮭﺮﯼ_ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺁﺝ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ۔۔ !! ﺑﻠﮑﮧ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﺁﺝ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﺍﺕ ﺗﮭﯽ۔۔ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﭼﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﮌ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔۔ ﯾﺦ ﺑﺴﺘﮧ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﺒﯿﮟ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺁﻟﻮﺩ ﺗﮭﯽ۔۔ ﺩﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ﻟﮕﮋﺭﯼ ﮐﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺳﭙﻨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﺗﮏ ﺟﮍﮮ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﻭﮦ ﺍﺗﻨﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﮎ ﺳﮯ ﭘﮏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔۔ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺑﮩﺖ ﺍﺫﯾﺖ ﻧﺎﮎ ﺗﮭﯽ۔۔ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﯽ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎ ﺳﺰﺍ ﺗﮭﯽ۔۔ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﻭﮦ ﺟﮭﯿﻞ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﺝ ﺭﻭﺡ ﺗﮏ ﮐﻮ ﺍﺫﯾﺖ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﺟﻞ ﺑﺠﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔۔ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﮨﻮﻡ ﺳﯽ ﺁﺱ ﺗﮭﯽ۔۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﮧ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯﺍﻟﻢ ﻧﺎﮎ ﭘﮩﻠﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ۔۔ ﺑﺲ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺫﯾﺖ ﻧﺎﮎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻤﺒﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ۔۔ ﮐﯿﺎ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺗﭙﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺮﺳﺘﺎ ﺑﯿﻮﮦ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﻭﺟﻮ...

‏جنگل کا شیر ابو شیری آپ لوگوں نے صحرا کے شیر عمر مختار کا نام تو سن رکھا ہوگا جنہوں نے لیبیا کے صحرا میں اطالوی یعنی اٹلی کی فوج کو بیس سال تگنی کا ناچ نچائے رکھا آج ہم آپ کو ایسے شیر سے متعارف کروائے گے جس کو دنیا جنگل کے شیر کے نام سے جانتی ہے جس کو عمر مختار دوم کے نام سے بھی ‏جانا جاتا ہے جس کا نام بشیر بن سالم حارثی تھا آپ مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ میں رہتے تھے اور آپ ایک عمانی عرب تھے۔ بشیر بن سالم اپنے وقت کا بہت بڑا تاجر تھا جب جرمن فوج نے مشرقی افریقہ پر قبضہ کیا وہاں کے مسلمانوں اور لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے مسلمان کو غلام بنا لیا ان کا ‏سامان لوٹ لیا مسجدوں کی بے حرمتی کی لوگوں کا قتل عام کیا تو بشیر بن سالم نے تزانیہ کے افریقی قبائل کو متحد کیا اور 1888 کو جرمن فوج کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا آپ نے 20 ہزار فوج کی قیادت کی اور جرمن فوج کی برتری کے باوجود ان کو متعدد لڑائیوں میں شکست سے دوچار کیا ‏جرمن فوج کو کافی عرصے تک ابو شیری نے تگنی کا ناچ نچائے رکھا اور جرمن پوسٹوں کو بہت حد تک تباہوں برباد کر دیا اور ساحلوں تک قبضہ کرلیا جس کی وجہ سے مشرقی افریقہ میں موجود جرمن فوج کو برلن سے مدد لینی پڑی جس کے بعد جرمن فوج نے افریقی علاقوں کو مسلمانوں سے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ‏تزانیہ کے مختلف ساحلوں پر بحری جہازوں کے ذریعے اور مختلف علاقوں میں توپوں کے ذریعے شدید گولا باری کی اور جرمن بحریہ نے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر دی تاکہ مجاہدین تک پہنچنے والی رسد و کمک کا راستہ روکا جاسکے پھر جرمن نے مختلف قبائل کو ابو شیری سے غداری کرنے پر مجبور کر دیا ‏جس کی وجہ سے بہت سارا مشرقی افریقہ کا علاقہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلنا شروع ہوگیا اور ابو شیری نے اپنے قبائل کی حفاظت کے لیے عرب فوج سے مدد مانگی۔ مگر جرمن فوج نے غداروں کے ذریعے مختلف افریقی قبائل پر دھاوا بول دیا ابو شیری اور اس کے کچھ ساتھی بمشکل جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ‏ہوئے مگر ابو شیری ایک بار پھر یاوا اور مبوگا قبیلے کو بغاوت جاری رکھنے کے لیے رضا مند کرنے پر کامیاب رہا اور وہ دارالاسلام اور مبوگائی علاقوں پر ایک بار پھر حملہ کرنے کی رہنمائی کرنے میں کامیاب رہا مگر جرمن پاور ان حملوں کو پسپا کرنے کے لیے کافی تھی اسلیے قبائل کو پسپا ہونا پڑا ‏اور انہوں نے ابو شیری کا ساتھ چھوڑ دیا جب ابو شیری نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھی قبائل نے غداری کرکے ابو شیری کو پکڑوا دیا۔ جس کے بعد 15 دسمبر 1889 کو ایک فوجی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی اور کچھ ہی دن بعد ان کو پینگانی میں پھانسی دے دی گئی اور وہی ان کو دفن کردیا گیا

‏جنگل کا شیر ابو شیری آپ لوگوں نے صحرا کے شیر عمر مختار کا نام تو سن رکھا ہوگا جنہوں نے لیبیا کے صحرا میں اطالوی یعنی اٹلی کی فوج کو بیس سال تگنی کا ناچ نچائے رکھا  آج ہم آپ کو ایسے شیر سے متعارف کروائے گے جس کو دنیا جنگل کے شیر کے نام سے جانتی ہے جس کو عمر مختار دوم کے نام سے بھی  ‏جانا جاتا ہے  جس کا نام بشیر بن سالم حارثی تھا آپ مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ میں رہتے تھے اور آپ ایک عمانی عرب تھے۔ بشیر بن سالم اپنے وقت کا بہت بڑا تاجر تھا جب جرمن فوج نے مشرقی افریقہ پر قبضہ کیا وہاں کے مسلمانوں اور لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے مسلمان کو غلام بنا لیا ان کا ‏سامان لوٹ لیا مسجدوں  کی بے حرمتی  کی لوگوں کا قتل عام کیا  تو بشیر بن سالم نے تزانیہ کے افریقی قبائل کو متحد کیا اور 1888 کو جرمن فوج کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا  آپ نے 20 ہزار فوج کی قیادت کی اور جرمن فوج کی برتری کے باوجود ان کو متعدد لڑائیوں میں شکست سے دوچار کیا ‏جرمن فوج کو کافی عرصے تک ابو شیری نے تگنی کا ناچ نچائے رکھا اور جرمن پوسٹوں کو بہت حد تک تباہوں برباد کر دیا اور ساحلوں تک قبضہ کرلی...

ایمان کی فکراور سلطان محمود غزنوی حضرت سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ اپنے کچھ سپہ سالاروں کیساتھ جنگل کے راستہ سے بھٹک گۓ عصر سے وقت تیزی سے سورج ڈھلنے کیطرف گزر رھا تھا سلطان جنگل میں راستہ تلاش کرنے میں سرگرداں تھا کہ ایک ھندو دھرم کی شہزادی پر نگاہ پڑی جو اپنی کنیز کیساتھ شاید شکار پر نکل آئی تھی اکیلی شہزادی اور اسکی کنیز اس چیز سے بے خبر دریا کے کنارے پاؤں ڈبوۓ بیٹھیں تھیں کہ انکے پیچھے ایک جنگلی ریچھ انکے سر پر پہنچ گیا وہ اپنے کھانے کی حلق میں اتارنے ہی والا تھا کہ سلطان نے تیر سے نشانہ بنایا اور تیر اسکے گردن سے پار کر دیا اور پہر دوسرا وار اپنےنیزے کیااور اسے ریچھ کہ حلق میں گھسا دی وہ ریچھ شہزادی کی کنیز کو ایک ھاتھ کے پنجے سے ضرب دے چکا تھا اس سے پہلے شہزادی اپنا ترکش سنبھالتی اور تیر کمان میں لگاتی شاید بہت دیر ھو جاتی سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ نے اس جنگلی درندے کو مارہ جس سے وہ ڈھیر ھو گیا شہزادی کو یہ جاننے میں مشکل نا ھوئی کہ اس مہارت اور بہادری کا مظاھرہ کوئی جنگ جو سپہ سالار ھی کر سکتا ھے شھزادی سلطان کیطرف متوجہ ھوئی اظہار تشکر کے لۓ اپنا تعارف کرواتے ھوئی بولی میرا نام سمرتی ھے میں جے پور ریاست کے مہاراج کی اکلوتی بیٹی ھوں میری جان بچانے کا شکریہ میں تمھیں اپنے والد سے کہہ کر فوج میں کوئی اعلیٰ عہدہ دلا دوں گی ویسے تم ھماری فوج کے سپاھی لگتے نہیں ھو بتاؤ کہاں سے تعلق ھے تمھارا ؟ سمرتی شاید یہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے سامنے کوئی معمولی سپاھی نہیں اس وقت کی سب سے طاقت ور اسلامی لشکر کا سربراہ سلطان محمود غزنوی ھے جسکے نام سے ھی ھندو مہاراجوں کے حلق خشک ھو جاتے تھے سلطان نے مختصراً اپنی شناخت ظاھر نا کرتے ھوئے کہا جی کسی اور فوج کا سپاھی ھوں چلۓ محترمہ میں اپکو کسی محفوظ مقام پر پہنچا دوں آپ میرے پیچھے چلتی جائیں اندھیرا بڑھتا جا رھا ھے راستہ نا ملا تو شاید اسی جنگل میں رات بسر کرنی پڑیگی شھزادی سمرتی جان چکی تھی یہ شخص لالچ اور خوف سے پاک ھے وہ سلطان کی نظروں میں حیاء دیکھ کر خود کو محفوظ محسوس کر رھی تھی جنگل کی خاردار جھاڑیوں کی وجہ سے شھزادی کا پیراہن مختلف جگہ سے چھلنی ھو چکا تھا شھزادی تھکاوٹ سے چور ھو چکی تھی سلطان نے شھزادی کو ایک سخت پتھروں اور درختوں کی اوٹ کیطرف اشارہ کرتے ھوۓ کہا شھزادی صاحبہ آپ ادھر آرام کر لیں رات کی تاریکی بڑھ رھی ھے اور موسم میں بھی تغیر کے آثار ھیں اندھیرے میں مزید سفر گھنے جنگل میں کرنا دشوار ھے علی الصبح نکلیں تو شاید میں اپکو کسی محفوظ مقام پر پہنچا سکوں سمرتی کے پاس سلطان پر اعتماد کرنے کے علاؤہ کوئی دوسرا راستہ نا تھا سلطان نے محسوس کیا شھزادی اپنے بیش قیمت مگر قدرے باریک لباس میں جنگل کی ٹھنڈی رات شاید نا گزار سکے سلطان نے اپنی موٹی چادر شھزادی کیطرف اچھال دی اور معنیٰ خیز نظروں سے شھزادی کو دیکھا جیسے کہہ رھا ھو یہ اوڑھ لیں شھزادی نے بلا جھجک چادر اوڑھی اور ٹیک لگا کر درختوں کی اوٹ میں پاؤں پسار لۓ اسکی نظریں سلطان کے چہرے کی طرف جمی ھوئی تھیں جو نظریں جھکاۓ ایک قریب پڑے بڑے پتھر پر بیٹھ کر آگ جلانے کی کوشش کر رھا تھا بالآخر آگ جل گئ اسکی روشنی میں سلطان کا نورانی اور بھرا ھوا وجاھت والا چہرہ چمک رھا تھا سلطان نے شھزادی سے قطعہ نظر مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھنے لگا شھزادی کو جھٹکا لگا اوہ یہ تو مسلمان لگتا ھے ایک دفعہ شھزادی کانپ گئ کہیں غزنی کے لشکر سے تو نہیں یہ تو لٹیرے ھیں گاۓ بھینس بکری سب کا مانس کھاتے ھیں یہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا لیکن اگلے ھی لمحے شھزادی اب تک اسکے ساتھ گزرے وقت کو یاد کرنے لگی کہ اگر یہ اتنا ھی سفاک اور ظالم ھوتا تو مجھے ریچھ سے نا بچاتا نا چاھتے ھوۓ بھی شھزادی کا دل پھر سے اطمینان و یقین سے بھر گیا سلطان محمود غزنوی رح نماز کے بعد دعا کرتے وقت زارو قطار رونے لگا روتے روتے سلطان نے اپنے خنجر کی نوک اپنے پاؤں کے انگوٹھے پر رکھ کر اسکو دبا دیا شھزادی دیکھتی رھی کہ یہ جوان مرد مجھ سے گفتگو میں بے تکلف نہیں ھونا چاھتا علی الصبح سلطان نے شھزادی سے کہا اب ھمیں نکلنا چاھۓ کچھ دور جا کر سلطان کو ایک سفید پتھر پڑا ملا جو سلطان کے سپاھی نشانی چھوڑ گۓ تھے کہ راستہ اسی طرف ھے یہ اس زمانے کا ایک طریقہ تھا کہ جنگل میں پتھر چھوڑتے جاتے تا کہ پیچھے آنے والا راستہ جان سکے کے گزرنے والا کہاں سے انکا ساتھی گزرا ھے بالآخر شھزادی اور سلطان ایک ھموار راستہ پر آ پہنچے کچھ دور ایک چھوٹے سے گاؤں کے آثار نظر آ رھے تھے سلطان نے کہا یہ آپکی ریاست کی حدود کا ھی گاؤں معلوم پڑتا ھے گاؤں پہنچنے پر شھزادی نے گاؤں کے مکھیاء کو بلایا مکھیاء اپنے کچھ ساتھیوں سمیت حاضر ھوا شھزادی نے کہا ھمیں دو برق رفتار گھوڑے دے جائیں اور کچھ خشک اناج اس سپاھی کو دیا جاۓ شھزادی نے سلطان سے کہا اجنبی ھمیں بہت حیرت ھوئی ھے تم پر تم کس مٹی کے بنے ھو ساری رات تم اپنے خنجر سے زخم کریدتے رھے اور میری طرف کوئی توجہ نا دی تم چاھو تو ھمارے ساتھ محل چلو ھم تمھیں انعام و اکرام سے بھر دیں گے اپنی جان بچانے کے بدلہ میں سلطان نے گھوڑے پر سوار ھو کر شھزادی سے کہا شھزادی صاحبہ زخم اس لے کریدتا رھا کہ آپکا حسن میرے ایمان کو زد نا پہنچاۓ اور میری توجہ میرے درد کیطرف رھے آپکی طرف نا بڑھے شھزادی کیا تمھیں یہ موقعہ گنوانا چاھۓ تھا ھم سے خلوت میں ملاقات کے لۓ لوگ اپنی ریاستیں دستبردار کرنے کو تیار ھیں سلطان شھزادی صاحبہ میں مسلمان ھوں اور محمد عربی ص کا غلام ھوں میری نظر آپکے جسم پر نہیں اپنی روح پر تھی شاید میرے جسم سے گناہ کا داغ دھل جاتا لیکن میری روح پر اس گناہ کا داغ لیکر میں اپنے نبی کے سامنے کے پیش ھوتا مجھے یہ گوارہ نہیں تھا شھزادی یہ جواب سن کر اس سپاھی کی اپنے مذھب کیساتھ لگاؤ دیکھ کر اسکے کردار سے متاثر ھوے بنا نا رہ سکی جیسے اسکا دل اسی اجنبی کے مذھب اور زندگی میں شامل ھونے کو بیقرار ھو یہ کہہ کر سلطان نے اجازت چاھی شھزادی نے کہا اپنی فوج کا نام تو بتاتے جاؤ ھم یاد رکھیں گے سلطان نے چادر سے سے نقاب اوڑھا تیر ترکش کندھے پر ڈالے تلوار اپنے میان میں ڈالی اور گھوڑے کی رکابیں پکڑتے ھوے بولا شھزادی میرا نام ھے سلطان محمود غزنوی اور میں ھی غزنوی کی عزیم الشان فوج کا سالار اعظم اور سلطان ھوں یہ کہہ کر سلطان نے گھوڑے کو ایڑ لگا دی اور سرپٹ بھاگتے ھوۓ آنکھوں سے اوجھل ھو گیا یہ یے وہ عالم اسلام کے ہیرو جو اپنے ایمان کہ فکر میں رہتے تھے کچھ بھی چلا جائے پر ایمان نا جائے کیونکہ یہ ہمارے اللہ اور اسکے رسول کاتحفہ عظیم الشان ہے یہ وہ مسلمان تھے جو ایک سپاہی سے لیکر سلطان تک اللہ اور اسکے رسول کہ ناراضگی سے ڈرتے تھے اور ایک ہم ہے جو اپنے خواھشوں کہ غلام بنے ہوئے ہیں اللہ تعالی ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائیں اور ہمیں صراط مستقیم پر چلائے آمین

 ایمان کی فکراور سلطان محمود غزنوی حضرت سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ  اپنے کچھ سپہ سالاروں کیساتھ جنگل کے راستہ سے بھٹک گۓ  عصر سے وقت تیزی سے سورج ڈھلنے کیطرف گزر رھا تھا  سلطان جنگل میں راستہ تلاش کرنے میں سرگرداں تھا  کہ ایک ھندو دھرم کی شہزادی پر نگاہ پڑی  جو  اپنی کنیز کیساتھ شاید شکار پر نکل آئی تھی  اکیلی شہزادی اور اسکی کنیز اس چیز سے  بے خبر دریا کے کنارے پاؤں ڈبوۓ بیٹھیں تھیں  کہ انکے پیچھے ایک جنگلی ریچھ انکے سر پر پہنچ گیا وہ اپنے کھانے کی حلق میں اتارنے ہی والا تھا کہ سلطان نے تیر سے نشانہ بنایا اور تیر اسکے گردن سے پار کر دیا  اور  پہر دوسرا وار اپنےنیزے کیااور اسے ریچھ کہ حلق میں گھسا دی  وہ ریچھ شہزادی کی کنیز کو ایک ھاتھ کے پنجے سے ضرب دے چکا تھا  اس سے پہلے شہزادی اپنا ترکش سنبھالتی اور تیر کمان میں لگاتی شاید بہت دیر ھو جاتی  سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ نے  اس جنگلی درندے کو مارہ جس سے وہ ڈھیر ھو گیا  شہزادی کو یہ جاننے میں مشکل نا ھوئی کہ اس مہارت اور بہادری کا مظاھرہ کوئی...

*خوش خبری سنا ہی دو* ہمارے ہاں ابھی شادی کو جمعہ جمعہ 8 دن نہیں گذرتے کہ محلے بھر کی آنٹیاں، باجیاں اور خاندان کی چاچیاں ، مامیاں بڑے مشکوک انداز میں اور بظاہر سرگوشی کرتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر دلہن سے پوچھنے لگتی ہیں *ہاں جی، کوئی خوشخبری ہے*؟ یا *ہے کوئی خوشخبری پھرررر؟؟؟* اور صرف ایک بار نہی بلکہ ہر ملاقات کا آغاز اسی جملے سے کیا جاتا ہے __ کیوں جی 😡😠 بس یہی ایک کام رہ گیا ہے زندگی میں؟ اور کیا یہ اس کے اپنے بس میں ہے؟ کیوں غریب کو پریشان کرتے ہو؟ کیوں وقت سے پہلے ذہنی دباؤ کا شکار کرکے معصوم کی خوشیاں چھینتے ہو؟ صبر نہیں ہے 8،9 مہینے کا کہ جب بھی نیا مہمان آئیگا تو اس نے کوئی سلیمانی ٹوپی نہیں پہنی ہوگی جو آپ کو دِکھائی نہیں دے گا، دل بھر کے دیکھ لینا پھر ___ 😏 یہ جملے لڑکی کو کس حد تک پریشان کرسکتے ہیں بلکہ کرتے ہیں اس کو ایک عورت ہی محسوس کرسکتی ہے نہ کہ مرد، (پھر بھی لکھنا مجھے پڑ رہا ہے 😂) لیکن افسوس کہ یہ سوال کرنیوالوں میں 95% عورتیں ہی ہوتی ہیں، اور مقصد ہمدردی جتلانے کے مارے فقط چسکے لینا، اور جن کی اولاد شادی کے 4،5 سال بعد بھی نہ ہوئی ہو ان کو ایسا کہنا *اب تو کوئی خوشخبری سنا ہی دو* سننے والی کے دل کے آر پار ہوجاتا ہے اسی طرح کچھ لوگ مختلف مانے تانے ڈاکٹروں کے مشورے دینے لگتے ہیں، بھئی جس سے پوچھ رہے ہو کیا اس کو فکر نہیں ہے، اس کو اولاد کی خواہش نہیں ہے؟ کیا اس نے علاج کی حتی الوسع کوشش نہی کی ہوگی؟؟؟ 😏😏 نجانے کس کس طرح بیچاری نے دل کو سمجھایا ہوگا، امیدیں دلا دلا کر اپنے اندر کے شور کو دبایا ہوگا ، خود ہی اپنے آپ کو دلاسے دیے ہونگے ذہن بٹانے کیلیے زبردستی کوئی مصروفیت ڈھونڈی ہو گی لیکن اس احمقانہ، بچگانہ ہمدردی نے اس کے سارے زخم پھر سے تازہ کردیے ___ اری ماؤں بہنوں! دوسروں کو Space دینا سیکھو، فالتو سوال اگنور کرنا سیکھو، آپ کیلیے تو شاید یہ معمولی سی بات ہے لیکن کسی دوسرے کا سکون برباد کرسکتی ہے ، یہ نہ ہو کہ خدانخواستہ کل یہ وقت آپ پر یا آپ کے کسی عزیز پر بھی آجائے ___ اور نہ بھی آئے تب بھی یہی کہو جی کہ کوئی مروّت ہوتی ہے، کوئی صبر ہوتا ہے کوئی لحاظ ہوتا ہے، نوٹ : پوسٹ کو جنرلی لیا جائے ، پرسنل قطعا نہ لیا جائے q *کوثرعباس* 8 *جامعہ حیدریہ عباس آباد کوٹ سمابہ رحیم یار خان پاکستان*

 *خوش خبری سنا ہی دو*  ہمارے ہاں ابھی شادی کو جمعہ جمعہ 8 دن نہیں گذرتے کہ محلے بھر کی آنٹیاں، باجیاں اور خاندان کی چاچیاں ، مامیاں بڑے مشکوک انداز میں اور بظاہر سرگوشی کرتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر دلہن سے پوچھنے لگتی ہیں *ہاں جی، کوئی خوشخبری ہے*؟ یا *ہے کوئی خوشخبری پھرررر؟؟؟*  اور صرف ایک بار نہی بلکہ ہر ملاقات کا آغاز اسی جملے سے کیا جاتا ہے __  کیوں جی 😡😠 بس یہی ایک کام رہ گیا ہے زندگی میں؟ اور کیا یہ اس کے اپنے بس میں ہے؟ کیوں غریب کو پریشان کرتے ہو؟ کیوں وقت سے پہلے ذہنی دباؤ کا شکار کرکے معصوم کی خوشیاں چھینتے ہو؟  صبر نہیں ہے 8،9 مہینے کا کہ جب بھی نیا مہمان آئیگا تو اس نے کوئی سلیمانی ٹوپی نہیں پہنی ہوگی جو آپ کو دِکھائی نہیں دے گا، دل بھر کے دیکھ لینا پھر ___ 😏 یہ جملے لڑکی کو کس حد تک پریشان کرسکتے ہیں بلکہ کرتے ہیں اس کو ایک عورت ہی محسوس کرسکتی ہے نہ کہ مرد، (پھر بھی لکھنا مجھے پڑ رہا ہے 😂) لیکن افسوس کہ یہ سوال کرنیوالوں میں 95% عورتیں ہی ہوتی ہیں، اور مقصد ہمدردی جتلانے کے مارے فقط چسکے لینا،  اور جن کی اولاد شادی کے 4،5 سال بعد بھی نہ ہوئی...

🔹 *اخلاقیات کے 20 سنہرے اصول*🔹 1. ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻝ ﻣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ﺍﮔﺮ ﻭﮦ آﭘﮑﯽ ﮐﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ۔ 2۔ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻟﯽ ﮔﺊ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﺭﻗﻢ ﺍﻧﮑﮯ ﯾﺎﺩ ﺩﻻﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﯾﮟ ایک ﺭﻭﭘﯿﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ 1 ﮐﺮﻭﮌ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﭘﺨﺘﮕﯽ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ 3۔ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﭘﺮ ﻣﯿﻨﻮ ﭘﺮ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﮈﺵ ﮐﺎ ﺁﮈﺭ ﻧﮧ ﺩﯾﮟ . ﺍﮔﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺎ ﺁﮈﺭ ﺩﯾﮟ۔ 4۔ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺖ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ جیسا کہ "ﺍﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﺍ؟" ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ 5۔ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ . ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﺮﺩ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻋﻮﺭﺕ۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻗﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ہوتا، ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ۔ 6۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭨﯿﮑﺴﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻭﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺭ آپ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ۔ 7۔ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ 8۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮐﺎﭨﯿﮟ۔ 9۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ہنسی ﻣﺰﺍﻕ ﮐﺮﺭہے ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺪﻭﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﺭﮎ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ 10۔ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭘﮑﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺳﮑﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺑﻮﻟﯿﮟ۔ 11۔ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﺻﺮﻑ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ۔ 12۔ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺯﻥ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺒﺼﺮﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ۔ ﺑﺲ ﮐﮩﯿﮟ "ﺁﭖ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ہیں۔" ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻭﺯﻥ ﮐﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ .13 ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﯾﺎ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﺋﭗ ﻧﮧ ﮐﺮیں۔ ﺁﭘﮑﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﮐﮧ ﺁﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﯾﺎ ﺑﯿﻮﯼ ﯾﺎ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﯽ ﻓﻮﭨﻮ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ 14۔ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻟﺌﮯ۔۔۔ ﺑﺲ ﺁﭖ ﺍﭼﮭﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﺩیں۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ 15۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﺍﯾﮏ ﺳﯽ ﺍﯼ ﺍﻭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻓﺲ ﺑﻮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﮐﯿﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻼﺯﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺶ ﺁﺋﯿﮟ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺗﺮ حیثیت ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ آپ کا ﺑﺮﺗﺎٶ ﺁﭘﮑﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﮯ۔ 16۔ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺁﭖ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﯾﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﯿﺴﺞ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻧﮧ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭼﻼﺋﯿﮟ۔ 17۔ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﻧﮧ ﺩﯾﮟ۔ 18۔ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ۔ 19۔ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺧﻞ ﻧﮧ ﺩﯾﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺁﭘﮑﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﻧﮧ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔ 20۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﺎ ﭼﺸﻤﮧ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔ ™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™ 👑💞💍💞👑 *👑💖💍 Aghr 💍💖👑* *⚜👑Humri Post Achi👑⚜* *💖💍👑 Lagy Too 👑💍💖* *🎀👑 Apny Doston Se 👑🎀* *💖💞 Zaroor Share 💞💖* *💖💞 Kijhy Ga 💞💖* *💖 💞 👍 💞💖* 💍👑💞👑💍 *💍💖2 ALL💖💍* 🌹💞💍💞🌹 *😊 Tack Care 😊* *💖🌹🎁Best Of Luck🎁🌹💖*🔹 *اخلاقیات کے 20 سنہرے اصول*🔹 1. ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻝ ﻣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ﺍﮔﺮ ﻭﮦ آﭘﮑﯽ ﮐﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ۔ 2۔ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻟﯽ ﮔﺊ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﺭﻗﻢ ﺍﻧﮑﮯ ﯾﺎﺩ ﺩﻻﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﯾﮟ ایک ﺭﻭﭘﯿﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ 1 ﮐﺮﻭﮌ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﭘﺨﺘﮕﯽ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ 3۔ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﭘﺮ ﻣﯿﻨﻮ ﭘﺮ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﮈﺵ ﮐﺎ ﺁﮈﺭ ﻧﮧ ﺩﯾﮟ . ﺍﮔﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺎ ﺁﮈﺭ ﺩﯾﮟ۔ 4۔ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺖ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ جیسا کہ "ﺍﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﺍ؟" ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ 5۔ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ . ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﺮﺩ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻋﻮﺭﺕ۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻗﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ہوتا، ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ۔ 6۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭨﯿﮑﺴﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻭﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺭ آپ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ۔ 7۔ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ 8۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮐﺎﭨﯿﮟ۔ 9۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ہنسی ﻣﺰﺍﻕ ﮐﺮﺭہے ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺪﻭﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﺭﮎ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ 10۔ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭘﮑﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺳﮑﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺑﻮﻟﯿﮟ۔ 11۔ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﺻﺮﻑ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ۔ 12۔ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺯﻥ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺒﺼﺮﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ۔ ﺑﺲ ﮐﮩﯿﮟ "ﺁﭖ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ہیں۔" ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻭﺯﻥ ﮐﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ .13 ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﯾﺎ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﺋﭗ ﻧﮧ ﮐﺮیں۔ ﺁﭘﮑﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﮐﮧ ﺁﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﯾﺎ ﺑﯿﻮﯼ ﯾﺎ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﯽ ﻓﻮﭨﻮ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ 14۔ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻟﺌﮯ۔۔۔ ﺑﺲ ﺁﭖ ﺍﭼﮭﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﺩیں۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ 15۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﺍﯾﮏ ﺳﯽ ﺍﯼ ﺍﻭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻓﺲ ﺑﻮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﮐﯿﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻼﺯﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺶ ﺁﺋﯿﮟ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺗﺮ حیثیت ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ آپ کا ﺑﺮﺗﺎٶ ﺁﭘﮑﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﮯ۔ 16۔ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺁﭖ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﯾﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﯿﺴﺞ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻧﮧ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭼﻼﺋﯿﮟ۔ 17۔ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﻧﮧ ﺩﯾﮟ۔ 18۔ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ۔ 19۔ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺧﻞ ﻧﮧ ﺩﯾﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺁﭘﮑﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﻧﮧ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔ 20۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﺎ ﭼﺸﻤﮧ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔ ™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™™ 👑💞💍💞👑 *👑💖💍 Aghr 💍💖👑* *⚜👑Humri Post Achi👑⚜* *💖💍👑 Lagy Too 👑💍💖* *🎀👑 Apny Doston Se 👑🎀* *💖💞 Zaroor Share 💞💖* *💖💞 Kijhy Ga 💞💖* *💖 💞 👍 💞💖* 💍👑💞👑💍 *💍💖2 ALL💖💍* 🌹💞💍💞🌹 *😊 Tak eCare 😊* *💖🌹🎁B est Of Luck🎁🌹💖*

 🔹 *اخلاقیات کے 20 سنہرے اصول*🔹   1. ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻝ ﻣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ﺍﮔﺮ ﻭﮦ آﭘﮑﯽ ﮐﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ۔ 2۔ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻟﯽ ﮔﺊ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﺭﻗﻢ ﺍﻧﮑﮯ ﯾﺎﺩ ﺩﻻﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﯾﮟ ایک ﺭﻭﭘﯿﮧ ﮨﻮ ﯾﺎ 1 ﮐﺮﻭﮌ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﭘﺨﺘﮕﯽ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ 3۔ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﭘﺮ ﻣﯿﻨﻮ ﭘﺮ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﮈﺵ ﮐﺎ ﺁﮈﺭ ﻧﮧ ﺩﯾﮟ . ﺍﮔﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺎ ﺁﮈﺭ ﺩﯾﮟ۔ 4۔ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺖ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ جیسا کہ "ﺍﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ  ﯾﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ  ﯾﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﺍ؟"  ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ 5۔ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ . ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﺮﺩ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻋﻮﺭﺕ۔  ﺁﭖ ﮐﺎ ﻗﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ہوتا، ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ۔ 6۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭨﯿﮑﺴﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻭﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺭ آپ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ۔ 7۔ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ 8۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮐﺎﭨﯿﮟ۔ 9۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ہنسی ﻣﺰﺍﻕ ...