Posts

Showing posts from September, 2020

*زندگی کی تعریف* زندگی کی سب سے بہترین تعریف یہ ہے کہ زندگی کا جواز مل جائے۔جس دن جوازِ ہستی مل جائے، زندگی اسی دن شروع ہوجاتی ہے۔ زندگی اس دن کا نام ہے جس دن یہ احساس آئے کہ یہ زندگی ہے۔ اس سے پہلے زندگی نہیں تھی، دن تھے جو گزارے جاتے تھے۔ جس دن احسا س آجائے تو سمجھ جائیے کہ آپ کو جوازِ ہستی مل گیا۔ جب جوازِ ہستی مل جاتا ہے تو انسان بامقصد چیزوں کے قریب جانے لگتا ہے اوراسے اپنی منزل سامنے نظر آنے لگتی ہے۔آج سے اپنا سب سے اچھا کام تلاش کیجیے اور اللہ تعالیٰ سے دعاکیجیے کہ مالک، میرے سب سے اچھے کام کو اپنی راہ میں لگا۔ میرا بولنا، میرا سننا، میرا لکھنا، میرا پڑھنا، میری توانائی، میرا مال، میرے تمام تر وسائل میرے مقصد حیات پر لگ جائیں۔ یہ بھی شعور ہے کہ اپنے ساتھ جڑی ہوئی زندگیوں کی قدر کرنے لگیں۔انھیں شعور دینے لگیں۔ فہم دینے لگیں۔ اس سے بڑا مقصد اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ اللہ کا بندہ نقصان دہ نہ رہے، بلکہ فائدہ مند ہوجائے۔ اگر آدمی نے دوسروں کو نقصان پہنچانا بند کردیا اور فائدہ پہنچانا شروع کردیا تو سمجھئے کہ وہ مقصد حیات کی طرف چل پڑا ہے۔ یہ سب سے نمایاں علامت ہے۔ پھر وہ اگر سائنسداں ہے تو وہ کوئی دریافت کرے گا، استاد ہے تو نسلیں سنوارے گا، قلم کار ہے تو لوگوں کیلئے ہدایت لکھے گا۔ پھر ہر فن کا ماہر اپنے فن کے ذریعے معاشرے کی اصلا ح کا کام کczo

 *زندگی کی تعریف*  زندگی کی سب سے بہترین تعریف یہ ہے کہ زندگی کا جواز مل جائے۔جس دن جوازِ ہستی مل جائے، زندگی اسی دن شروع ہوجاتی ہے۔ زندگی اس دن کا نام ہے جس دن یہ احساس آئے کہ یہ زندگی ہے۔ اس سے پہلے زندگی نہیں تھی، دن تھے جو گزارے جاتے تھے۔ جس دن احسا س آجائے تو سمجھ جائیے کہ آپ کو جوازِ ہستی مل گیا۔  جب جوازِ ہستی مل جاتا ہے تو انسان بامقصد چیزوں کے قریب جانے لگتا ہے اوراسے اپنی منزل سامنے نظر آنے لگتی ہے۔آج سے اپنا سب سے اچھا کام تلاش کیجیے اور اللہ تعالیٰ سے دعاکیجیے کہ مالک، میرے سب سے اچھے کام کو اپنی راہ میں لگا۔ میرا بولنا، میرا سننا، میرا لکھنا، میرا پڑھنا، میری توانائی، میرا مال، میرے تمام تر وسائل میرے مقصد حیات پر لگ جائیں۔ یہ بھی شعور ہے کہ اپنے ساتھ جڑی ہوئی زندگیوں کی قدر کرنے لگیں۔انھیں شعور دینے لگیں۔ فہم دینے لگیں۔  اس سے بڑا مقصد اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ اللہ کا بندہ نقصان دہ نہ رہے، بلکہ فائدہ مند ہوجائے۔ اگر آدمی نے دوسروں کو نقصان پہنچانا بند کردیا اور فائدہ پہنچانا شروع کردیا تو سمجھئے کہ وہ مقصد حیات کی طرف چل پڑا ہے۔ یہ سب سے نمایاں علا...

• *صبر_کیا_ہے* صبر آخر اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے۔ اور مسئلہ یہ ہے کہ اِس کے بغیر چین بھی نہیں پڑتا...! ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* اب زندگی کو پرکھنا شروع کریں تو معلوم ہوتا ہے یہ تو صبر کے سوا کچھ بھی نہیں, کوئی بچھڑ گیا تو صبر, کوئی روٹھ گیا تو صبر, جو مانگا وہ نا ملا تو صبر,کسی نے کردار کشی کی تو صبر, ماضی ستائے تو صبر, کسی کا ذکر کرتے ہوئے آنکھ بھر آئے تو صبر, مگر صبر آتا تب ہے جب انسان اللہ کی رضا میں راضی رہنا سیکھ لیتا ہے, اور جانتے ہو صبر کرنے والوں کے لیے پھر اللہ کافی ہو جاتا ہے ہر سوال کا جواب پھر اللہ دیتا ہے..! پھر وہ سوال ذات پہ ہو یا کردار پہ..! اور سوچو ذرا جس شخص نے اللہ کے ہر فیصلے پر سر جھکا لیا اور صبر کرنا سیکھ لیا تو اسے دنیا کی کونسی چیز توڑ سکتی ہے۔۔؟ بس پھر لوگوں کا ڈر ختم ہوجاتا ہے اور اُنکی باتیں دکھ نہیں دیتی کیونکہ دل یہ سوچ کر مطمئن ہو چکا ہوتا ہے کہ اللہ کافی ہے...! ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾ صبر محبت ہے اور محبت صبر ہے...! جس نے یہ محبت کرنا سیکھ لی اس نے شہ رگ تک کا فاصلہ طے کرلیا, جس نے یہ صبر کرنا سیکھ لیا اس نے اپنے اور رب کے درمیان حائل ہونے والا ہر فاصلہ ختم کر دیا- اللہ نے جسکو جو سمجھانا ہوتا ہے وہ سمجھا دیتا ہے..! انسان کا کام دعا, یقین اور صــبـــر ہے, ایسا کرنے سے رب تو ملتا ہی ہے پھر سب مل جاتا ہے ساری کمی پوری ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔ 5

 •    *صبر_کیا_ہے*  صبر آخر اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے۔  اور مسئلہ یہ ہے کہ اِس کے بغیر چین بھی نہیں پڑتا...! ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄*  اب زندگی کو پرکھنا شروع کریں تو معلوم ہوتا ہے یہ تو صبر کے سوا کچھ بھی نہیں, کوئی بچھڑ گیا تو صبر, کوئی روٹھ گیا تو صبر,  جو مانگا وہ نا ملا تو صبر,کسی نے کردار کشی کی تو صبر, ماضی ستائے تو صبر,  کسی کا ذکر کرتے ہوئے آنکھ بھر آئے تو صبر,  مگر صبر آتا تب ہے جب انسان اللہ کی رضا میں راضی رہنا سیکھ لیتا ہے, اور جانتے ہو صبر کرنے والوں کے لیے پھر اللہ کافی ہو جاتا ہے ہر سوال کا جواب پھر اللہ دیتا ہے..!  پھر وہ سوال ذات پہ ہو یا کردار پہ..!  اور سوچو ذرا جس شخص نے اللہ کے ہر فیصلے پر سر جھکا لیا اور صبر کرنا سیکھ لیا تو اسے دنیا کی کونسی چیز توڑ سکتی ہے۔۔؟  بس پھر لوگوں کا ڈر ختم ہوجاتا ہے اور اُنکی باتیں دکھ نہیں دیتی کیونکہ دل یہ سوچ کر مطمئن ہو چکا ہوتا ہے کہ اللہ کافی ہے...!  ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾ صبر محبت ہے اور محبت صبر ہے...!  جس نے یہ محبت کرنا سیکھ لی اس نے شہ رگ تک کا فاصلہ ...

*خطر ے کی گھنٹی؟* *(عارف نظامی )* *Sat- Sep 5, 2020- 9:00 AM* بارشوں کی آفت کی وجہ سے کراچی سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سیاست بھی عجیب کھیل ہے جس میں آج کا دشمن کل کا دوست بن جاتاہے۔ قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف جو عرصہ دراز سے بیک سیٹ لئے ہوئے تھے یکدم فعال ہو گئے ہیں۔ کرا چی کے حالیہ دورے میں وہ اچانک پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملنے کے لیے ان کی اقامت گاہ پر پہنچ گئے۔ شہبازشریف کے لیے آصف زرداری سے ملنا پل صراط عبور کرنے کے مترادف تھا۔ ان کے ناقدین بالخصوص تحریک انصاف کے بھونپوؤں نے ان کے خوب لتے لئے ہیں۔ اکثرٹی وی چینلز پرانے کلپ دکھاتے رہے جس میں شہبازشریف جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے ڈائس پر مکے مارتے اور مائیک توڑتے ہوئے پرجوش انداز میں کہتے دکھائی دیتے ہیں ’’میں نے زر بابا اور ساتھیوں کو نہ لٹکایا تو میرا نام بدل دینا‘‘۔ وزیراعظم عمران خان سمیت اکثر سیاستدان حسب ضرورت اس قسم کی ڈینگیں مارتے رہتے ہیں جن کا مقصد اپنے حواریوں کو گرما کر وقتی سیاسی فائدہ اٹھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ تاہم برادر خورد کا دورہ کراچی اور آصف زرداری سے ملاقات خاصی سیا سی اہمیت کی حامل ہے۔ شہبازشریف کا زرداری ہاؤس پہنچنے کا راستہ خاصا پُرپیچ اور پیچیدگیوں سے بھرپور تھا، اپنے برادر اکبرکے مقابلے میں سیاسی طور پر زیا دہ لچک دار ہیں، وہ بھی بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف اپنے سیاسی کیریئر کے دوران انتہائی تندوتیز جملے ادا کرتے رہے ہیں اور بھٹو خاندان کو اپنے ادوار اقتدار میں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا یا لیکن2006ء میں جب لندن میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کے درمیان میثاق جمہوریت پرد ستخط ہوئے تو اس کے بعد سے میاں صا حب کی اس حوالے سے شعلہ نوائی کچھ ماند پڑ گئی اس کے باوجودمیاں صاحب پیپلزپارٹی کو اپنا حریف سمجھتے رہے ہیں۔ میموگیٹ کیس میںتو وہ وکیل کی وردی پہن کر زرداری صا حب کے خلاف سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے تھے۔ یا رلوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ نواز شریف جب پچھلی بار وزیراعظم تھے تو انہوں نے جون 2015ء میں سابق صدر کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا لیکن آصف زرداری کے اینٹ سے اینٹ بجانے کے بیان کے بعد اس وقت کے مقتدر حلقوں کے مشورے پر دعوت نامہ اچانک منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی آصف زرداری اور میاں نوازشریف کے درمیان خلیج بڑھتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ بعداز خرابی بسیار نوازشریف نے لندن میں آصف زرداری سے ملنے کی بھرپور کوشش کی لیکن پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین لندن میں موجود ہونے کے باوجود انہیں طرح دیتے رہے۔ اسی دوران لندن میں میری زرداری صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پیغام دیا کہ میاں صاحب سے کہیں کہ وہ مغل اعظم کے بجائے وزیراعظم بنیں۔ شہبازشریف کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ وہ پیپلزپارٹی سے سلسلہ جنبانی بڑھانے کے نظریاتی طور پر (اگر سیاستدانوں کا کوئی نظریہ ہوتا ہے) مخالف رہے ہیں۔ جب نواز شریف نے 1993ء میں صدر غلام اسحق خان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو انہوں نے اس وقت معتوب بے نظیر بھٹو کی طرف تعاون کا ہا تھ بڑھا یا لیکن ا س وقت شہبازشریف نے اپنے والد محترم کی مدد سے نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان کراچی میں ظہرانے پر ملاقات کے طے شد ہ پروگرام کو سبوتاژ کر دیا۔ یقینا حالیہ دورے میں شہبازشریف کے لیے آصف زرداری کے در پر حاضری دینا ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق انہیں یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ ایک طرف بھا ئی جان کا حکم تھا کہ مونچھ نیچی کر کے زرداری صاحب سے ملیں جبکہ دوسری طرف وہ قوتیں جو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان برف پگھلنے کی مخالف ہیں ان کو ناراض کرنا شہبازشریف کے لیے مشکل فیصلہ ہے۔ نوازشریف کی نئی ہدایات کے تحت ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی یکدم فعال ہو گئی ہیں اوران کے لاہور اور اسلام آباد میں حواریوں کے انٹرایکشن، جوش وخروش صدر مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ پیغام تھے کہ کیا کروں؟ نیم دروں نیم بروں کی روش اپنائے رکھی تو مسلم لیگ ن کی سیاست سے آؤٹ ہو جائیں گے۔ اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر بھارہ کہو اور اس سے پہلے نیب دفتر لاہور کے باہر دونوں جگہ پر مریم نواز کا کارکنوں کی طرف سے زبردست استقبال اور نوازشریف، مریم نوازکے حق میں خوب نعرے بازی ہوئی لیکن شہبازشریف کا انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا۔ اسی بناپر شہبازشریف کو چپ کا روزہ توڑناپڑا۔ آئندہ چند ہفتوں میں یہ پوری طرح واضح ہو جائے گا کہ اپوزیشن جو عمران مخالف الائنس میں اکٹھی ہو رہی ہے حکومت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے؟۔ صرف چند ہفتے پہلے تک ایسا الائنس بننا مشکل نظر آرہا تھا لیکن اس کی تشکیل میں تحریک انصاف کی حکومت اور نیب نے ’’شبانہ روز محنت‘‘ کی ہے۔ نیب کے تابڑ توڑ مقدمات اور اندھا دھند انتقامی کارروائیوں کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے لیے کوئی دوسرا چارہ کار نہیں تھاکہ وہ ایک صفحے پر آجائیں۔ تاریخ کا سب سے بڑ ا سبق یہ ہے کہ کوئی بھی حکمران تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا، سیا سی اپوزیشن کو انتقامی، تعزیری ہتھکنڈوں سے زیر نہیں کیا جا سکتا۔ خان صاحب نے اپنے حالیہ بیان میں اپوزیشن کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا ہے۔ ہر حکمران روایتی طور پر اپنے مخالفین پر اس قسم کے الزامات لگاتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پرلاکر ان کے تحفظات دور کئے جاتے لیکن خان صاحب سمجھتے ہیں کہ مقتدر اداروں کی تائید سے اپوزیشن کے بازو آسانی سے مروڑے جا سکتے ہیں۔ اپوزیشن سے تال میل اور مذاکرات کسی بھی جمہوری نظام کا خاصا ہوتے ہیں لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ اگر اپوزیشن کوئی بات کرے تو حکمران جماعت پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑ جاتی ہے کہ یہ این آر او مانگ رہے ہیں۔ اسی بنا پر وطن عزیز میں سیا سی اشرافیہ کا کوئی بنائے اتحاد نہیں بن پا رہا کیونکہ حکومت کے دوسال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں کہ خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے جو خاکم بدہن پورے سسٹم کو بھی⑦𝑠𝑎𝑛 𝑎

 *خطر ے کی گھنٹی؟* *(عارف نظامی )* *Sat- Sep 5, 2020- 9:00 AM* بارشوں کی آفت کی وجہ سے کراچی سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سیاست بھی عجیب کھیل ہے جس میں آج کا دشمن کل کا دوست بن جاتاہے۔ قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف جو عرصہ دراز سے بیک سیٹ لئے ہوئے تھے یکدم فعال ہو گئے ہیں۔ کرا چی کے حالیہ دورے میں وہ اچانک پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملنے کے لیے ان کی اقامت گاہ پر پہنچ گئے۔ شہبازشریف کے لیے آصف زرداری سے ملنا پل صراط عبور کرنے کے مترادف تھا۔ ان کے ناقدین بالخصوص تحریک انصاف کے بھونپوؤں نے ان کے خوب لتے لئے ہیں۔ اکثرٹی وی چینلز پرانے کلپ دکھاتے رہے جس میں شہبازشریف جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے ڈائس پر مکے مارتے اور مائیک توڑتے ہوئے پرجوش انداز میں کہتے دکھائی دیتے ہیں ’’میں نے زر بابا اور ساتھیوں کو نہ لٹکایا تو میرا نام بدل دینا‘‘۔ وزیراعظم عمران خان سمیت اکثر سیاستدان حسب ضرورت اس قسم کی ڈینگیں مارتے رہتے ہیں جن کا مقصد اپنے حواریوں کو گرما کر وقتی سیاسی فائدہ اٹھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ تاہم برادر خورد کا دورہ کراچی اور آصف زرداری سے ملاقات خاصی سیا سی اہم...

[واٹس ایپ کب اور کس نے ایجاد کی] بہت ہی کمال کی تحریر ہے ایک بار ضرور پڑھیں وہ یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا‘ خاندان عسرت میں زندگی گزار رہا تھا‘ گھر میں بجلی تھی‘ گیس تھی اور نہ ہی پانی تھا‘ گرمیاں خیریت سے گزر جاتی تھیں لیکن یہ لوگ سردیوں میں بھیڑوں کے ساتھ سونے پرمجبور ہو جاتے تھے‘ اس غربت میں 1992ء میں زیادتی بھی شامل ہو گئی‘ یوکرائن میں یہودیوں پر ایک بار پھر ظلم شروع ہو گیا‘ والدہ نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما‘ اٹیچی کیس میں بیٹے کی کتابیں بھریں اور یہ دونوں امریکا آ گئے‘ کیلیفورنیا ان کا نیا دیس تھا‘ امریکا میں ان کے پاس مکان تھا‘ روزگار تھا اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان‘ یہ دونوں ماں بیٹا مکمل طور پر خیرات کے سہارے چل رہے تھے‘ امریکا میں ’’فوڈ سٹمپ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی سلسلہ چل رہا ہے‘ حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کے لیے فوڈ سٹمپس دیتی ہے‘ یہ سٹمپس امریکی خیرات ہوتی ہیں‘ یہ لوگ اتنے غریب تھے کہ یہ زندگی بچانے کے لیے خیرات لینے پر مجبور تھے۔ جین کوم کے پاس پڑھائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا‘ یہ پڑھنے لگا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی مہنگی ہونے لگی‘ فوڈ سٹمپس میں گزارہ مشکل ہو گیا‘ جین کوم نے پارٹ ٹائم نوکری تلاش کی‘ خوش قسمتی سے اسے ایک گروسری اسٹور میں سویپر کی ملازمت مل گئی‘ اسٹور کے فرش سے لے کر باتھ روم اور دروازوں کھڑکیوں سے لے کر سڑک تک صفائی اس کی ذمے داری تھی‘ وہ برسوں یہ ذمے داری نبھاتا رہا‘ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے خبط میں مبتلا ہو گیا‘ یہ شوق اسے سین جوز اسٹیٹ یونیورسٹی میں لے گیا‘ وہ 1997ء میں ’’یاہو‘‘ میں بھرتی ہوا اور اس نے نو سال تک سر نیچے کر کے یاہو میں گزار دیئے۔ 2004ء میں فیس بک آئی‘ یہ آہستہ آہستہ مقبول ہو تی چلی گئی‘ یہ 2007ء میں دنیا کی بڑی کمپنی بن گئی‘ جین کوم نے فیس بک میں اپلائی کیا لیکن فیس بک کو اس میں کوئی پوٹینشل نظر نہ آیا‘ وہ یہ نوکری حاصل نہ کر سکا‘ وہ مزید دو سال ’’یاہو‘‘ میں رہا‘ وہ آئی فون خریدنا چاہتا تھا لیکن حالات اجازت نہیں دے رہے تھے‘ اس نے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کیے اور نیا آئی فون خرید لیا‘ یہ آئی فون آگے چل کر اس کے لیے سونے کی کان ثابت ہوا۔ جین کوم نے فون استعمال کرتے کرتے سوچا‘ میں کوئی ایسی ایپلی کیشن کیوں نہ بناؤں جو فون کا متبادل بھی ہو‘ جس کے ذریعے ایس ایم ایس بھی کیا جا سکے‘ تصاویر بھی بھجوائی جا سکیں‘ ڈاکومنٹس بھی روانہ کیے جا سکیں اور جسے ’’ہیک‘‘ بھی نہ کیا جا سکے‘ یہ ایک انوکھا آئیڈیا تھا‘ اس نے یہ آئیڈیا اپنے ایک دوست برائن ایکٹون کے ساتھ شیئر کیا‘ یہ دونوں اسی آئیڈیا پر جت گئے‘ یہ کام کرتے رہے‘ کام کرتے رہے یہاں تک کہ یہ دو سال میں ایک طلسماتی ایپلی کیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے‘ یہ ’’ایپ‘‘ فروری 2009ء میں لانچ ہوئی اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی حدیں کراس کر گئی‘ یہ ایپ ٹیلی کمیونیکیشن میں انقلاب تھی‘ اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔ یہ ایپلی کیشن واٹس ایپ کہلاتی ہے‘ دنیا کے ایک ارب لوگ اس وقت یہ ایپ استعمال کر رہے ہیں‘ یہ ایپ دنیا کا تیز ترین اور محفوظ ترین ذریعہ ابلاغ ہے‘ آپ واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ کو نیا فون اور نیا نمبر خریدنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی آپ کسی موبائل کمپنی کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے‘ آپ پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ جین کوم کو واٹس ایپ نے چند ماہ میں ارب پتی بنا دیا‘ یہ ایپلی کیشن اس قدر کامیاب ہوئی کہ دنیا بھر کی کمپنیوں نے اس کی خریداری کے لیے بولی دینا شر وع کر دی لیکن یہ انکار کرتا رہا۔ فروری 2014ء میں فیس بک بھی ’’واٹس ایپ‘‘ کی خریداری کی دوڑ میں شامل ہو گئی‘ فیس بک کی انتظامیہ نے جب اس سے رابطہ کیا تو اس کی ہنسی نکل گئی‘ اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور قہقہہ لگا کر بولا ’’یہ وہ ادارہ تھا جس نے مجھے 2007ء میں نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا‘‘ وہ دیر تک ہنستا رہا‘ اس نے اس ہنسی کے دوران ’’فیس بک‘‘ کو ہاں کر دی‘ 19 بلین ڈالر میں سودا ہو گیا‘ یہ کتنی بڑی رقم ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے کل مالیاتی ذخائر سے لگا لیجیے‘ پاکستان کا فارن ایکسچینج اس وقت 22 ارب ڈالر ہے اور پاکستان 70 برسوں میں ان ذخائر تک پہنچا جب کہ جین کوم نے ایک ایپلی کیشن 19 ارب ڈالر میں فروخت کی۔ جین کوم نے فیس بک کے ساتھ سودے میں صرف ایک شرط رکھی’’میں فوڈ سٹمپس دینے والے ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر دستخط کروں گا‘‘ فیس بک کے لیے یہ شرط عجیب تھی‘ یہ لوگ یہ معاہدہ اپنے دفتر یا اس کے آفس میں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ڈٹ گیا یہاں تک کہ فیس بک اس کی ضد کے سامنے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی‘ ایک تاریخ طے ہوئی‘ فیس بک کے لوگ فلاحی سینٹر پہنچے‘ وہ ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری کرسی پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا‘ وہ کیوں نہ روتا‘ یہ وہ سینٹر تھا جس کے اس کونے کی اس آخری کرسی پر بیٹھ کر وہ اور اس کی ماں گھنٹوں ’’فوڈ سٹمپس‘‘ کا انتظار کرتے تھے۔ یہ دونوں کئی بار بھوکے پیٹ یہاں آئے اور شام تک بھوکے پیاسے یہاں بیٹھے رہے‘ ویٹنگ روم میں بیٹھنا اذیت ناک تھا لیکن اس سے بڑی اذیت کھڑکی میں بیٹھی خاتون تھی‘ وہ خاتون ہر بار نفرت سے ان کی طرف دیکھتی تھی‘ طنزیہ مسکراتی تھی اور پوچھتی تھی’’تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے‘ تم کام کیوں نہیں کرتے‘‘ یہ بات سیدھی ان کے دل میں ترازو ہو جاتی تھی لیکن یہ لوگ خاموش کھڑے رہتے تھے۔ خاتون انھیں ’’سلپ‘‘ دیتی تھی‘ ماں کاغذ پر دستخط کرتی تھی اور یہ لوگ آنکھیں پونچھتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے‘ وہ برسوں اس عمل سے گزرتا رہا چنانچہ جب کامیابی ملی تو اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اس ویٹنگ روم میں منانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے 19 بلین ڈالر کی ڈیل پر ’’فوڈ سٹمپس‘‘ کے انتظار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کیے‘ چیک لیا اور سیدھا کاؤنٹر پر چلا گیا‘ فوڈ سٹمپس دینے والی خاتون آج بھی وہاں موجود تھی‘ جین نے 19بلین ڈالر کا چیک اس کے سامنے لہرایا اور ہنس کر کہا ’’آئی گاٹ اے جاب‘‘ اور سینٹر سے باہر نکل گیا۔ یہ ایک غریب امریکی کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے‘ یہ داستان ثابت کرتی ہے آپ اگر ڈٹے رہیں‘ محنت کرتے رہیں اور ہمت قائم رکھیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کامیابی کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے‘ .

 [واٹس ایپ کب اور کس نے ایجاد کی] بہت ہی کمال کی تحریر ہے ایک بار ضرور پڑھیں  وہ یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا‘ خاندان عسرت میں زندگی گزار رہا تھا‘ گھر میں بجلی تھی‘ گیس تھی اور نہ ہی پانی تھا‘ گرمیاں خیریت سے گزر جاتی تھیں لیکن یہ لوگ سردیوں میں بھیڑوں کے ساتھ سونے پرمجبور ہو جاتے تھے‘ اس غربت میں 1992ء میں زیادتی بھی شامل ہو گئی‘ یوکرائن میں یہودیوں پر ایک بار پھر ظلم شروع ہو گیا‘ والدہ نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما‘ اٹیچی کیس میں بیٹے کی کتابیں بھریں اور یہ دونوں امریکا آ گئے‘ کیلیفورنیا ان کا نیا دیس تھا‘ امریکا میں ان کے پاس مکان تھا‘ روزگار تھا اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان‘ یہ دونوں ماں بیٹا مکمل طور پر خیرات کے سہارے چل رہے تھے‘ امریکا میں ’’فوڈ سٹمپ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی سلسلہ چل رہا ہے‘ حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کے لیے فوڈ سٹمپس دیتی ہے‘ یہ سٹمپس امریکی خیرات ہوتی ہیں‘ یہ لوگ اتنے غریب تھے کہ یہ زندگی بچانے کے لیے خیرات لینے پر مجبور تھے۔ جین کوم کے پاس پڑھائی ...

والدین اور اولاد ایک دن ایک بُزرگ نے ایک عالمِ دِین کو روک کر کہا کہ آپ بہت سی دین کی باتیں بتاتے ہیں پر کبھی ہماری بات بھی کردیا کریں تو عالمِ دِین نے پُوچھا کہ جی کیا کہنا ہے آپ بتائیں تو سہی مجھے۔ ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* بُزرگ بولے جی ہم (میاں اور بیوی) گھر میں اکیلے ہوتے ہیں اتنا کہہ کر اس نے ایک شعر پڑھ کر سنایا اور یہ شعر سن کر عالمِ دِین بھی رو پڑے اور وہ بُزرگ بھی رونے لگے، وہ بُزرگ کہنے لگے کہ ... پُتر لے گئے نُوآں دِھیاں لے گئے ہور مائی بابا اِیویں بیٹھے جِیویں گھر وِچ بیٹھے چور بُزرگ کہنے لگے کہ گھر میں اکیلے رہ گئے ہیں تنہائی کھاگئی ہے ہمیں , نہ بیٹا ہے نہ بیٹی ہے , بیٹے الگ ہوگئے اور بیٹیاں اپنے گھر جاچُکی ہیں , بُزرگ نے روتے ہوئے کہا کہ کیا ہمارا بھی کوئی راہ ہے؟ کوئی یار ہے؟ کوئی سجن ہے؟ ہمارا بھی کوئی در رہ گیا ہے؟ آپ سے صرف ایک مُحبت بھرا پیغام ہے کہ جن کے والدین زندہ ہیں ان کے پاس بیٹھ کر وقت گُزارا کریں, ان کی باتیں سنیں , ان کی خوشی سنیں , ان کے درد سنیں , ماں کو وقت دیں , باپ کو وقت دیں ... نہیں تو آپ جانتے نہیں ہیں کہ بہت سے لوگوں کو والدین سے ملنے کے لیے قبرستان جانا پڑتا ہے , آج والدین پاس ہیں تبھی قدر نہیں ہے ہمیں مگر جس دن دُنیا سے رخُصت ہوگئے تو اس دن قبرستان کو جانے والا راستہ کبھی بھی نہیں بھول پاؤ گے , ماں باپ کی تکلیف کو نظر انداز مت کیجئے کیونکہ جب یہ بچھڑ جاتے ہیں تو ریشم کے تکیے پر بھی نیند نہیں آتی , ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾Dq والدین کے بغیر گھر قبرستان کی طرح ہوتا ہے , ماں کے بغیر گھر سُونا ہے تو باپ کے بغیر زندگی , اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا رکھئے کہ دُھوپ پر باپ اور چُولہے پر ماں جلتی ہے تب جاکر اِک گھر میں اولاد پلتی ہے. والدین کی قدر کریں !

 والدین اور اولاد  ایک دن ایک بُزرگ نے ایک عالمِ دِین کو روک کر کہا کہ آپ بہت سی دین کی باتیں بتاتے ہیں پر کبھی ہماری بات بھی کردیا کریں تو عالمِ دِین نے پُوچھا کہ جی کیا کہنا ہے آپ بتائیں تو سہی مجھے۔ ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* بُزرگ بولے جی ہم (میاں اور بیوی) گھر میں اکیلے ہوتے ہیں اتنا کہہ کر اس نے ایک شعر پڑھ کر سنایا اور یہ شعر سن کر عالمِ دِین بھی رو پڑے اور وہ بُزرگ بھی رونے لگے،  وہ بُزرگ کہنے لگے کہ ... پُتر لے گئے نُوآں دِھیاں لے گئے ہور مائی بابا اِیویں بیٹھے جِیویں گھر وِچ بیٹھے چور بُزرگ کہنے لگے کہ گھر میں اکیلے رہ گئے ہیں تنہائی کھاگئی ہے ہمیں , نہ بیٹا ہے نہ بیٹی ہے , بیٹے الگ ہوگئے اور بیٹیاں اپنے گھر جاچُکی ہیں , بُزرگ نے روتے ہوئے کہا کہ کیا ہمارا بھی کوئی راہ ہے؟ کوئی یار ہے؟ کوئی سجن ہے؟ ہمارا بھی کوئی در رہ گیا ہے؟ آپ سے صرف ایک مُحبت بھرا پیغام ہے کہ جن کے والدین زندہ ہیں ان کے پاس بیٹھ کر وقت گُزارا کریں,  ان کی باتیں سنیں ,  ان کی خوشی سنیں ,  ان کے درد سنیں ,  ماں کو وقت دیں ,  باپ کو وقت دیں ...  نہیں تو آپ جانتے ن...