• 👈 *جتنی_محنت_اتنی_کامیابی* 👉 مارک سپٹز دنیا کا نامور تیراک تھا۔ یہ تاریخ کا پہلا تیراک تھا جس نے اولمپکس میں نو بار فتح حاصل کی۔ یہ اکٹھے سات گولڈ میڈل حاصل کرنے والا پہلا تیراک بھی تھا۔ مارک سپٹز نے ١٩۷٢ء میں میونخ کے اولمپکس میں سات گولڈ میڈل لئے اور پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ وہ یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سٹیج پر بیٹھا اور ہنس کر رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دینے لگا۔ ایک رپورٹر نے اچانک اس سے کہا، ”مارک ٹوڈے از لکی فار یو“ یہ فقرہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔ وہ تڑپ کر مڑا اور رپورٹر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دے دی۔ رپورٹر ڈرتے ڈرتے سٹیج پر آ گیا۔ مارک سپٹز نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے پیار سے بولا، ”میں ١٩٦٨ء میں میکسیکو کے اولمپکس میں شریک تھا۔ میں نے بڑی کوشش کی لیکن میں آدھ منٹ یعنی تیس سیکنڈ سے ہار گیا۔ میں نے اس وقت فیصلہ کیا میں اگلا اولمپکس بھی جیتوں گا اور سب سے زیادہ گولڈ میڈل بھی حاصل کروں گا۔“ وہ رکا اور پھر بولا، ”تم جانتے ہو مجھے تیس سیکنڈ کور کرنے کے لئے کتنی محنت کرنا پڑی؟“ رپورٹر خاموش رہا۔ مارک سپٹز چند سیکنڈ رک کر بولا، ”میں چار سال میں دس ہزار گھنٹے پانی میں رہا۔ میں نے ان چار برسوں میں ایک بھی چھٹی نہیں کی۔ میں کرسمس کے دن بھی سوئمنگ پول میں ہوتا تھا اور اپنا برتھ ڈے بھی تیر کر مناتا تھا۔ ان چار برسوں میں میرے والدین کا انتقال ہوا، میرے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا، میری گرل فرینڈز مجھے چھوڑ گئیں، میرا اکاﺅنٹ خالی ہو گیا، میرے کریڈٹ کارڈز بند ہو گئے۔ میری گاڑی میرا گھر بک گیا لیکن میں نے ایک بھی دن چھٹی نہیں کی۔ تم اگر ان دس ہزار گھنٹوں کو چار پر تقسیم کرو تو یہ اڑھائی ہزار گھنٹے سالانہ اور آٹھ گھنٹے روزانہ بنتے ہیں۔ میں اتنا عرصہ پانی میں رہنے کی وجہ سے”ایسڈ ری فلکس ڈزیز“ کا شکار ہو گیا۔ میرے پورے جسم میں درد ہوتا ہے اور مجھے روزانہ فزیو تھراپی کرنا پڑتی ہے۔ میں اس بیماری اور دس ہزار گھنٹے کی پریکٹس کے بعد اپنی صرف 30 سیکنڈ کی کمی پوری کرنے کے قابل ہوا اور میں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ سات گولڈ میڈل حاصل کر لئے، لیکن تم کہتے ہو یہ میرا لکی ڈے ہے۔ میں روز پانی میں آٹھ گھنٹے پریکٹس کرتا تھا۔ تم روزانہ 10 گھنٹے پریکٹس کر لو۔ میرا لکی ڈے تمہارا لکی ڈے بن جائے گا۔“ وہ اس کے بعد رکا اور پھر تاریخی فقرہ کہا، اس نے کہا، ”انسان جتنی محنت کرتا جاتا ہے وہ اتنا خوش نصیب ہوتا جاتا ہے“۔ دنیا میں سپورٹس واحد شعبہ ہے جس میں قسمت کم اور مہارت زیادہ کام آتی ہے۔ کھیل نفسیات، کیمسٹری، فزکس اور ریاضی کا زبردست کمبی نیشن ہوتے ہیں اور آپ اس کمبی نیشن پر اسی وقت پورے اتر تے ہیں جب آپ پریکٹس کی انتہا کر دیتے ہیں۔ قسمت بھی بے شک آپ پر مہربان ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا لیکن کھلاڑی صرف قسمت سے پوری زندگی نہیں جیت سکتے۔ یہ چیمپیئن بھی نہیں بن سکتے۔ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ سچن ٹنڈولکر کی مثال لے لیجیئے۔ سچن ٹنڈولکر کو کرکٹ کا دیوتا کہا جاتا ہے اور یہ غلط بھی نہیں۔ یہ کرکٹ کی تاریخ میں 100 سنچریاں بنانے والا پہلا کھلاڑی ہے۔ یہ تاریخ کا پہلا کھلاڑی ہے جس نے 664 انٹرنیشنل میچز کھیلے اور 34 ہزار 3 سو 57 رنز بنائے۔ یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں دس ہزار رنز بنانے والا پہلا کھلاڑی بھی تھا اور یہ دنیا میں تیز ترین رنز بنانے والا بیٹس مین بھی۔ آپ سچن ٹنڈولکر کا اعتماد ملاحظہ کیجیئے ۔ آسٹریلیا کے بولر بریڈ ہوگ نے ٢٠٠۷ء میں حیدر آباد میں سچن ٹنڈولکر کو آﺅٹ کر دیا۔ یہ بریڈ کی زندگی کی سب سے بڑی اچیومنٹ تھی۔ یہ بال لے کر سچن ٹنڈولکر کے پاس چلا گیا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کیا، ”سر یہ میری زندگی کا سب سے بڑا موقع ہے، میں نے گاڈ آف کرکٹ کو آﺅٹ کر دیا۔ آپ پلیز مجھے اس بال پر آٹو گراف دے دیں۔“ سچن ٹنڈولکر نے گیند لی اور اس پر مارکر سے لکھ دیا، ”دس ول نیور ہیپن اگین“ (تمہارے زندگی میں یہ موقع دوبارہ کبھی نہیں آئے گا۔) آپ سچن ٹنڈولکر کا اپنی ذات پر اعتماد دیکھیئے۔ بریڈ ہوگ کا اس کے بعد سچن ٹنڈولکر سے ٢١ مرتبہ سامنا ہوا۔ ہوگ نے سچن کا غرور توڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن بریڈ ہوگ دوبارہ اس کی وکٹ نہیں لے سکا۔ سچن ٹنڈولکر کی اس کامیابی کے پیچھے کیا گُر تھا۔ یہ ساڑھے پانچ فٹ کا لٹل ماسٹر تھا۔ یہ بچہ دکھائی دیتا تھا لیکن یہ اس کے باوجود تاریخ کا سب سے بڑا بیٹس مین بنا اور یہ سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے اور رنز بنانے والا کرکٹر بھی۔ آخر اس شخص کے پاس کون سا فارمولا، کون سا گُر تھا؟ یہ گُر سچن ٹنڈولکر نے ٢٠١٣ء میں اپنی زبان سے دنیا کو بتایا۔ اس کا کہنا تھا میں ١٩٨٩ء میں سولہ سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ میں آیا اور ٢٠١٣ء میں دو سو (٢٠٠) ٹیسٹ میچ کھیل کر ریٹائر ہو گیا۔ میرے کیریئر کے ٢۴ سال بنتے ہیں، ان ٢۴ برسوں میں ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جب میں صبح چھ بجے گراﺅنڈ نہ پہنچا ہوں اور میں نے ۵٠٠ گیندیں فیس نہ کی ہوں. میں نے اپنے کیریئر کے ٢۴ برسوں میں موبائل فون، آئینہ اور اپنے رشتے داروں کا منہ بعد میں دیکھا اور پانچ سو گیندیں پہلے کھیلیں۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا، ”آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟“ سچن نے جواب دیا، ”میں نے ایک بھی چھٹی نہیں کی۔“ پوچھنے والے نے پوچھا ”کرسمس، نیشنل ڈے، دیوالی اور دسہرا آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟“ سچن نے جواب دیا، ”میں شادی کے دن اور سہاگ رات سے اگلی صبح بھی ٹھیک چھ بجے گراﺅنڈ میں تھا۔ میں نے زندگی میں میچز کے علاوہ صرف پریکٹس کے دوران ۴۴ لاکھ گیندیں کھیلی ہیں اور یہ وہ ۴۴ لاکھ گیندیں ہیں جن کی وجہ سے لوگ مجھے گاڈ آف کرکٹ کہتے ہیں۔“ انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ”آپ سنچری یا ڈبل سنچری کرنے کے اگلے دن بھی پریکٹس کرتے تھے۔“ سچن ٹنڈولکر نے جواب دیا ”ہم نے دو اپریل ٢٠١١ء کو ورلڈ کپ جیتا تھا۔ میں ورلڈ کپ جیتنے سے اگلی صبح یعنی ٣ اپریل کو بھی ٹھیک چھ بجے گراﺅنڈ میں تھا اور میں نے پانچ سو گیندیں کھیلنے کے بعد موبائل آن کیا تھا اور وزیراعظم من موہن سنگھ کی مبارک باد کی کال ریسیو کی تھی۔“ آپ دیکھیئے یہ پریکٹس اور خوفناک حد تک ڈسپلن تھا جس نے ساڑھے پانچ فٹ کے دھان پان سے لڑکے کو دنیا کا سب سے بڑا بیٹس مین بنا دیا۔ جس کے ریکارڈ کوئی توڑ سکا اور شاید ہی کوئی توڑ سکے گا۔ یہ صرف خوش قسمتی، ماں یا قوم کی دعائیں نہیں تھیں یہ اس شخص کا ڈسپلن اور کام سے لگن بھی تھی اور اس لگن نے اسے عزت اور شہرت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ ِیہی فلسفہ مذہب میں لاگو ہوتا ہے *جتنی محنت اتنی کامیابی۔* اگر آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں مذہب پر مکمل عمل کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر نمائشی نام نمود سے دنیا کو تو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔دائمی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ *نوٹ:* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے *︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗* 📚 📖 اردو تحـــــــاریـــــــر 📖 📚 *︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘* *📜☜ واٹس ایپ گروپ میں ایڈ ہونے کے لئے Name لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کری94*
• 👈 *جتنی_محنت_اتنی_کامیابی* 👉
مارک سپٹز دنیا کا نامور تیراک تھا۔ یہ تاریخ کا پہلا تیراک تھا جس نے اولمپکس میں نو بار فتح حاصل کی۔ یہ اکٹھے سات گولڈ میڈل حاصل کرنے والا پہلا تیراک بھی تھا۔ مارک سپٹز نے ١٩۷٢ء میں میونخ کے اولمپکس میں سات گولڈ میڈل لئے اور پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ وہ یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سٹیج پر بیٹھا اور ہنس کر رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دینے لگا۔ ایک رپورٹر نے اچانک اس سے کہا،
”مارک ٹوڈے از لکی فار یو“ یہ فقرہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔
وہ تڑپ کر مڑا اور رپورٹر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دے دی۔ رپورٹر ڈرتے ڈرتے سٹیج پر آ گیا۔ مارک سپٹز نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے پیار سے بولا، ”میں ١٩٦٨ء میں میکسیکو کے اولمپکس میں شریک تھا۔ میں نے بڑی کوشش کی لیکن میں آدھ منٹ یعنی تیس سیکنڈ سے ہار گیا۔ میں نے اس وقت فیصلہ کیا میں اگلا اولمپکس بھی جیتوں گا اور سب سے زیادہ گولڈ میڈل بھی حاصل کروں گا۔“ وہ رکا اور پھر بولا، ”تم جانتے ہو مجھے تیس سیکنڈ کور کرنے کے لئے کتنی محنت کرنا پڑی؟“ رپورٹر خاموش رہا۔ مارک سپٹز چند سیکنڈ رک کر بولا، ”میں چار سال میں دس ہزار گھنٹے پانی میں رہا۔ میں نے ان چار برسوں میں ایک بھی چھٹی نہیں کی۔ میں کرسمس کے دن بھی سوئمنگ پول میں ہوتا تھا اور اپنا برتھ ڈے بھی تیر کر مناتا تھا۔ ان چار برسوں میں میرے والدین کا انتقال ہوا، میرے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا، میری گرل فرینڈز مجھے چھوڑ گئیں، میرا اکاﺅنٹ خالی ہو گیا، میرے کریڈٹ کارڈز بند ہو گئے۔ میری گاڑی میرا گھر بک گیا لیکن میں نے ایک بھی دن چھٹی نہیں کی۔ تم اگر ان دس ہزار گھنٹوں کو چار پر تقسیم کرو تو یہ اڑھائی ہزار گھنٹے سالانہ اور آٹھ گھنٹے روزانہ بنتے ہیں۔ میں اتنا عرصہ پانی میں رہنے کی وجہ سے”ایسڈ ری فلکس ڈزیز“ کا شکار ہو گیا۔ میرے پورے جسم میں درد ہوتا ہے اور مجھے روزانہ فزیو تھراپی کرنا پڑتی ہے۔ میں اس بیماری اور دس ہزار گھنٹے کی پریکٹس کے بعد اپنی صرف 30 سیکنڈ کی کمی پوری کرنے کے قابل ہوا اور میں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ سات گولڈ میڈل حاصل کر لئے، لیکن تم کہتے ہو یہ میرا لکی ڈے ہے۔ میں روز پانی میں آٹھ گھنٹے پریکٹس کرتا تھا۔ تم روزانہ 10 گھنٹے پریکٹس کر لو۔ میرا لکی ڈے تمہارا لکی ڈے بن جائے گا۔“
وہ اس کے بعد رکا اور پھر تاریخی فقرہ کہا، اس نے کہا، ”انسان جتنی محنت کرتا جاتا ہے وہ اتنا خوش نصیب ہوتا جاتا ہے“۔
دنیا میں سپورٹس واحد شعبہ ہے جس میں قسمت کم اور مہارت زیادہ کام آتی ہے۔ کھیل نفسیات، کیمسٹری، فزکس اور ریاضی کا زبردست کمبی نیشن ہوتے ہیں اور آپ اس کمبی نیشن پر اسی وقت پورے اتر تے ہیں جب آپ پریکٹس کی انتہا کر دیتے ہیں۔ قسمت بھی بے شک آپ پر مہربان ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا لیکن کھلاڑی صرف قسمت سے پوری زندگی نہیں جیت سکتے۔ یہ چیمپیئن بھی نہیں بن سکتے۔ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ سچن ٹنڈولکر کی مثال لے لیجیئے۔
سچن ٹنڈولکر کو کرکٹ کا دیوتا کہا جاتا ہے اور یہ غلط بھی نہیں۔ یہ کرکٹ کی تاریخ میں 100 سنچریاں بنانے والا پہلا کھلاڑی ہے۔ یہ تاریخ کا پہلا کھلاڑی ہے جس نے 664 انٹرنیشنل میچز کھیلے اور 34 ہزار 3 سو 57 رنز بنائے۔ یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں دس ہزار رنز بنانے والا پہلا کھلاڑی بھی تھا اور یہ دنیا میں تیز ترین رنز بنانے والا بیٹس مین بھی۔ آپ سچن ٹنڈولکر کا اعتماد ملاحظہ کیجیئے ۔ آسٹریلیا کے بولر بریڈ ہوگ نے ٢٠٠۷ء میں حیدر آباد میں سچن ٹنڈولکر کو آﺅٹ کر دیا۔
یہ بریڈ کی زندگی کی سب سے بڑی اچیومنٹ تھی۔ یہ بال لے کر سچن ٹنڈولکر کے پاس چلا گیا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کیا، ”سر یہ میری زندگی کا سب سے بڑا موقع ہے، میں نے گاڈ آف کرکٹ کو آﺅٹ کر دیا۔ آپ پلیز مجھے اس بال پر آٹو گراف دے دیں۔“ سچن ٹنڈولکر نے گیند لی اور اس پر مارکر سے لکھ دیا، ”دس ول نیور ہیپن اگین“ (تمہارے زندگی میں یہ موقع دوبارہ کبھی نہیں آئے گا۔) آپ سچن ٹنڈولکر کا اپنی ذات پر اعتماد دیکھیئے۔ بریڈ ہوگ کا اس کے بعد سچن ٹنڈولکر سے ٢١ مرتبہ سامنا ہوا۔
ہوگ نے سچن کا غرور توڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن بریڈ ہوگ دوبارہ اس کی وکٹ نہیں لے سکا۔ سچن ٹنڈولکر کی اس کامیابی کے پیچھے کیا گُر تھا۔ یہ ساڑھے پانچ فٹ کا لٹل ماسٹر تھا۔ یہ بچہ دکھائی دیتا تھا لیکن یہ اس کے باوجود تاریخ کا سب سے بڑا بیٹس مین بنا اور یہ سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے اور رنز بنانے والا کرکٹر بھی۔ آخر اس شخص کے پاس کون سا فارمولا، کون سا گُر تھا؟ یہ گُر سچن ٹنڈولکر نے ٢٠١٣ء میں اپنی زبان سے دنیا کو بتایا۔
اس کا کہنا تھا میں ١٩٨٩ء میں سولہ سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ میں آیا اور ٢٠١٣ء میں دو سو (٢٠٠) ٹیسٹ میچ کھیل کر ریٹائر ہو گیا۔ میرے کیریئر کے ٢۴ سال بنتے ہیں، ان ٢۴ برسوں میں ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جب میں صبح چھ بجے گراﺅنڈ نہ پہنچا ہوں اور میں نے ۵٠٠ گیندیں فیس نہ کی ہوں. میں نے اپنے کیریئر کے ٢۴ برسوں میں موبائل فون، آئینہ اور اپنے رشتے داروں کا منہ بعد میں دیکھا اور پانچ سو گیندیں پہلے کھیلیں۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا، ”آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟“
سچن نے جواب دیا، ”میں نے ایک بھی چھٹی نہیں کی۔“ پوچھنے والے نے پوچھا ”کرسمس، نیشنل ڈے، دیوالی اور دسہرا آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟“ سچن نے جواب دیا، ”میں شادی کے دن اور سہاگ رات سے اگلی صبح بھی ٹھیک چھ بجے گراﺅنڈ میں تھا۔ میں نے زندگی میں میچز کے علاوہ صرف پریکٹس کے دوران ۴۴ لاکھ گیندیں کھیلی ہیں اور یہ وہ ۴۴ لاکھ گیندیں ہیں جن کی وجہ سے لوگ مجھے گاڈ آف کرکٹ کہتے ہیں۔“ انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ”آپ سنچری یا ڈبل سنچری کرنے کے اگلے دن بھی پریکٹس کرتے تھے۔“
سچن ٹنڈولکر نے جواب دیا ”ہم نے دو اپریل ٢٠١١ء کو ورلڈ کپ جیتا تھا۔ میں ورلڈ کپ جیتنے سے اگلی صبح یعنی ٣ اپریل کو بھی ٹھیک چھ بجے گراﺅنڈ میں تھا اور میں نے پانچ سو گیندیں کھیلنے کے بعد موبائل آن کیا تھا اور وزیراعظم من موہن سنگھ کی مبارک باد کی کال ریسیو کی تھی۔“
آپ دیکھیئے یہ پریکٹس اور خوفناک حد تک ڈسپلن تھا جس نے ساڑھے پانچ فٹ کے دھان پان سے لڑکے کو دنیا کا سب سے بڑا بیٹس مین بنا دیا۔ جس کے ریکارڈ کوئی توڑ سکا اور شاید ہی کوئی توڑ سکے گا۔
یہ صرف خوش قسمتی، ماں یا قوم کی دعائیں نہیں تھیں یہ اس شخص کا ڈسپلن اور کام سے لگن بھی تھی اور اس لگن نے اسے عزت اور شہرت کی انتہا تک پہنچا دیا۔
ِیہی فلسفہ مذہب میں لاگو ہوتا ہے *جتنی محنت اتنی کامیابی۔*
اگر آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں مذہب پر مکمل عمل کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر نمائشی نام نمود سے دنیا کو تو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔دائمی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔
*نوٹ:*
اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے
*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
📚 📖 اردو تحـــــــاریـــــــر 📖 📚
*︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘*
*📜☜ واٹس ایپ گروپ میں ایڈ ہونے کے لئے Name لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کریں*
*📱 +923013043455
Comments