‏جنگل کا شیر ابو شیری آپ لوگوں نے صحرا کے شیر عمر مختار کا نام تو سن رکھا ہوگا جنہوں نے لیبیا کے صحرا میں اطالوی یعنی اٹلی کی فوج کو بیس سال تگنی کا ناچ نچائے رکھا آج ہم آپ کو ایسے شیر سے متعارف کروائے گے جس کو دنیا جنگل کے شیر کے نام سے جانتی ہے جس کو عمر مختار دوم کے نام سے بھی ‏جانا جاتا ہے جس کا نام بشیر بن سالم حارثی تھا آپ مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ میں رہتے تھے اور آپ ایک عمانی عرب تھے۔ بشیر بن سالم اپنے وقت کا بہت بڑا تاجر تھا جب جرمن فوج نے مشرقی افریقہ پر قبضہ کیا وہاں کے مسلمانوں اور لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے مسلمان کو غلام بنا لیا ان کا ‏سامان لوٹ لیا مسجدوں کی بے حرمتی کی لوگوں کا قتل عام کیا تو بشیر بن سالم نے تزانیہ کے افریقی قبائل کو متحد کیا اور 1888 کو جرمن فوج کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا آپ نے 20 ہزار فوج کی قیادت کی اور جرمن فوج کی برتری کے باوجود ان کو متعدد لڑائیوں میں شکست سے دوچار کیا ‏جرمن فوج کو کافی عرصے تک ابو شیری نے تگنی کا ناچ نچائے رکھا اور جرمن پوسٹوں کو بہت حد تک تباہوں برباد کر دیا اور ساحلوں تک قبضہ کرلیا جس کی وجہ سے مشرقی افریقہ میں موجود جرمن فوج کو برلن سے مدد لینی پڑی جس کے بعد جرمن فوج نے افریقی علاقوں کو مسلمانوں سے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ‏تزانیہ کے مختلف ساحلوں پر بحری جہازوں کے ذریعے اور مختلف علاقوں میں توپوں کے ذریعے شدید گولا باری کی اور جرمن بحریہ نے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر دی تاکہ مجاہدین تک پہنچنے والی رسد و کمک کا راستہ روکا جاسکے پھر جرمن نے مختلف قبائل کو ابو شیری سے غداری کرنے پر مجبور کر دیا ‏جس کی وجہ سے بہت سارا مشرقی افریقہ کا علاقہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلنا شروع ہوگیا اور ابو شیری نے اپنے قبائل کی حفاظت کے لیے عرب فوج سے مدد مانگی۔ مگر جرمن فوج نے غداروں کے ذریعے مختلف افریقی قبائل پر دھاوا بول دیا ابو شیری اور اس کے کچھ ساتھی بمشکل جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ‏ہوئے مگر ابو شیری ایک بار پھر یاوا اور مبوگا قبیلے کو بغاوت جاری رکھنے کے لیے رضا مند کرنے پر کامیاب رہا اور وہ دارالاسلام اور مبوگائی علاقوں پر ایک بار پھر حملہ کرنے کی رہنمائی کرنے میں کامیاب رہا مگر جرمن پاور ان حملوں کو پسپا کرنے کے لیے کافی تھی اسلیے قبائل کو پسپا ہونا پڑا ‏اور انہوں نے ابو شیری کا ساتھ چھوڑ دیا جب ابو شیری نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھی قبائل نے غداری کرکے ابو شیری کو پکڑوا دیا۔ جس کے بعد 15 دسمبر 1889 کو ایک فوجی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی اور کچھ ہی دن بعد ان کو پینگانی میں پھانسی دے دی گئی اور وہی ان کو دفن کردیا گیا

‏جنگل کا شیر ابو شیری

آپ لوگوں نے صحرا کے شیر عمر مختار کا نام تو سن رکھا ہوگا جنہوں نے لیبیا کے صحرا میں اطالوی یعنی اٹلی کی فوج کو بیس سال تگنی کا ناچ نچائے رکھا 

آج ہم آپ کو ایسے شیر سے متعارف کروائے گے جس کو دنیا جنگل کے شیر کے نام سے جانتی ہے جس کو عمر مختار دوم کے نام سے بھی  ‏جانا جاتا ہے 

جس کا نام بشیر بن سالم حارثی تھا آپ مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ میں رہتے تھے اور آپ ایک عمانی عرب تھے۔ بشیر بن سالم اپنے وقت کا بہت بڑا تاجر تھا

جب جرمن فوج نے مشرقی افریقہ پر قبضہ کیا وہاں کے مسلمانوں اور لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے مسلمان کو غلام بنا لیا ان کا ‏سامان لوٹ لیا مسجدوں  کی بے حرمتی  کی لوگوں کا قتل عام کیا  تو بشیر بن سالم نے تزانیہ کے افریقی قبائل کو متحد کیا اور 1888 کو جرمن فوج کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا 

آپ نے 20 ہزار فوج کی قیادت کی اور جرمن فوج کی برتری کے باوجود ان کو متعدد لڑائیوں میں شکست سے دوچار کیا

‏جرمن فوج کو کافی عرصے تک ابو شیری نے تگنی کا ناچ نچائے رکھا اور جرمن پوسٹوں کو بہت حد تک تباہوں برباد کر دیا اور ساحلوں تک قبضہ کرلیا جس کی وجہ سے مشرقی افریقہ میں موجود جرمن فوج کو برلن سے مدد لینی پڑی جس کے بعد جرمن فوج نے افریقی علاقوں کو مسلمانوں سے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ‏تزانیہ کے مختلف ساحلوں پر بحری جہازوں کے ذریعے اور مختلف علاقوں میں توپوں کے ذریعے شدید گولا باری کی اور جرمن بحریہ نے مختلف مقامات پر  ناکہ بندی کر دی تاکہ مجاہدین تک پہنچنے والی رسد و کمک کا راستہ روکا جاسکے

 پھر جرمن نے مختلف قبائل کو ابو شیری سے غداری کرنے پر مجبور کر دیا ‏جس کی وجہ سے بہت سارا مشرقی افریقہ کا علاقہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلنا شروع ہوگیا اور ابو شیری نے اپنے قبائل کی حفاظت کے لیے عرب فوج سے مدد مانگی۔

 مگر جرمن فوج نے غداروں کے ذریعے مختلف افریقی قبائل پر دھاوا بول دیا ابو شیری اور اس کے کچھ ساتھی بمشکل جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ‏ہوئے مگر ابو شیری ایک بار پھر یاوا اور مبوگا  قبیلے کو بغاوت جاری رکھنے کے لیے رضا مند کرنے پر کامیاب رہا اور وہ دارالاسلام اور مبوگائی علاقوں پر ایک بار پھر حملہ کرنے کی رہنمائی کرنے میں کامیاب رہا 

مگر جرمن پاور ان حملوں کو پسپا کرنے کے لیے کافی تھی اسلیے قبائل کو پسپا ہونا پڑا ‏اور انہوں نے ابو شیری کا ساتھ چھوڑ دیا جب ابو شیری نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھی قبائل نے غداری کرکے ابو شیری کو پکڑوا دیا۔ 

جس کے بعد 15 دسمبر 1889 کو ایک فوجی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی اور کچھ ہی دن بعد ان کو پینگانی میں پھانسی دے دی گئی اور وہی ان کو دفن کردیا گیا

Comments

Popular posts from this blog

*ﺍُﺭﺩﻭ ﮐﮯ ﺩﺱ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﺎﻭﻝ* *تحریر: ڈاکٹر رؤف پاریکھ* 05 آگست 2020 •••••••• کسی زمانے میں یہ تاثر عام تھا کہ اردو میں عظیم ادبی ناول نہیں لکھے گئے اور اردو میں عظیم ناول تو کیا اچھے ناول بھی نہیں ہیں یا بہت کم ہیں۔۔۔ لیکن عزیز احمد نے اس سے اختلاف کیا۔۔۔ عزیز احمد ناول نگار بھی تھے اور نقاد و محقق بھی۔۔۔ ان کا خیال تھا کہ جن لوگوں نے اردو ادب کا بِالاستیعاب مطالعہ نہیں کیا وہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو میں اچھے ناول نہیں ہیں۔۔۔ شہزاد منظر نے لکھا ہے کہ آزادی کے بعد اردو میں کئی معیاری ناول لکھے گئے اور ۱۹۷۰ء کے عشرے میں متعدد اچھے ناول منظرِ عام پر آئے۔۔۔ یہ گویا ہمارے ملک کے صنعتی کلچر کی دین ہے اور غالباً اس خیال کی توثیق ہے کہ ناول دراصل صنعتی دور اور صنعتی معاشرے کی پیداوار ہے۔۔۔ زرعی معاشرہ بالعموم شاعری کو نثر پر ترجیح دیتا ہے۔۔۔ کچھ نقادوں کا خیال تھا کہ اردو ناول ۱۹۸۰ء کے لگ بھگ زوال کا شکار ہوگیا اور ۱۹۸۰ء کے بعد عمدہ ادبی ناول اردو میں نہیں لکھے گئے۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں بھی بعض عمدہ ناول لکھے گئے اگرچہ ان کی تعداد نسبۃً کم رہی۔۔۔ اکیسویں صدی کے آغاز کے لگ بھگ اردو میں ایک بار پھر اچھے ادبی ناول خاصی تعداد میں نظر آنے لگے، عرفان جاوید نے کوئی پانچ چھے سال قبل اپنے ایک انگریزی مضمون میں لکھا تھا کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں اردو ناول کا احیا ہوا ہے اور بعض بہت عمدہ ناول شائع ہوئے ہیں۔۔۔ ممتاز احمد خان نے بھی اپنی کتابوں میں نئے اور اہم ناولوں کا جائزہ لیتے ہوئے خیال ظاہر کیا ہے کہ آزادی کے بعد اردو میں بعض بہت اچھے ناول بھی لکھے گئے ہیں۔۔۔ غفور احمد نے اپنے مقالے " نئی صدی نئے ناول " میں اکیسویں صدی کے ابتدائی دس برسوں میں لکھے گئے معیاری ناولوں کا جائزہ لیا ہے۔۔۔ شاعر علی شاعر نے حال ہی میں اپنی کتاب " جدید اردو ناول " میں اکیسویں صدی میں پاکستان اور ہندوستان میں شائع ہونے اردو ناولوں کی فہرست دی ہے۔۔۔ ان کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو ہے، یہ سب اعلیٰ ادبی ناول تو نہیں ہیں لیکن کم از کم یہ اس بات کا ثبوت ضرورہے کہ اردو میں ناول لکھا جارہا ہے اور اردو میں ناول کا احیا ہو رہا ہے۔۔۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے پچھلے ماہ اپنے جریدے " ادبیات " کا ناول نمبر شائع کیا ہے اور دو جلدوں پر مشتمل اس خصوصی اشاعت میں اردو ناول پر مضامین و مقالات کے علاوہ اردو کے تقریباً تین ہزار ناولوں کے نام (مع مصنف ) دیے گئے ہیں۔۔۔ لیکن اس میں ہر قسم کے ناول شامل ہیں ، ادبی بھی اور غیر ادبی بھی۔۔۔ اتنی بڑی تعداد میں ناولوں کی موجودگی میں بہترین کا انتخاب آسان نہیں ہے۔۔۔ لیکن بہرحال اردو ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اردو کے بہترین ناولوں کی فہرست پیش کرنے کی یہ طالب علمانہ کوشش ہے۔۔۔ یہ فہرست تاریخی ترتیب سے مرتب کی گئی ہے۔۔۔ ہماری اس فہرست میں ناولوں کی ادبی اہمیت اور فنی خوبیوں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔۔۔ عوامی مقبولیت کے حامل ناول نیز خواتین کے " گھریلو، معاشرتی اور اصلاحی ناول " شامل نہیں ہیں.۔ اس میں " اسلامی " اور جاسوسی ناول بھی شامل نہیں ہیں۔۔ ممکن ہے بعض قارئین کو اس فہرست سے اختلاف ہو کیونکہ اس میں بعض معروف ادبی ناول بھی نہیں ملیں گے ، مثلاً مولوی نذیر احمد دہلوی کا ناول مراۃ العروس(۱۸۶۹ء) اس میں شامل نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نذیر احمد کے ناول موجودہ دور میں ناول کی تعریف پر پورا اتر بھی جائیں تو ان کی بعض خامیاں ان کو اچھے ناول میں شمار کرانے میں مانع ہیں، مثلا ً کرداروں کا لمبی لمبی تقریریں کرنا اور مصنف کا براہ ِ راست وعظ و تلقین پر اتر آنا۔۔۔ پھر نذیر احمد کے کردار حقیقی زندگی سے بہت دور ہیں۔۔۔ اچھا کردار نیکی اور عقل کا پتلا ہے اور برے کردار میں کوئی خوبی نہیں۔۔۔ حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا ، انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔۔۔ نذیر احمد نے کرداروں کا نفسیاتی ارتقا بھی کم دکھایا ہے۔۔۔ راشد الخیری نے تو اپنے بعض ناولوں میں لڑکیوں کی " صحیح تربیت " کے خیال سے کپڑوں کی تراش اور سلائی سکھانے کے لیے سلائی کے طریقے بھی پیش کیے ہیں اور باقاعدہ نمونے (ڈیزائن) بھی شامل کیے ہیں۔۔۔ آج کے ناولوں میں اس کا تصور بھی محال ہے۔۔ دراصل ناول میں زندگی کی تخلیق اہم ہوتی ہے۔۔۔ اس کے لیے پورے سماجی ، ثقافتی ، تاریخی اور سیاسی ماحول اور زبان کا شعور ضروری ہے۔۔ لیکن اس زندگی اور ماحول کو پورے ادبی اور فنی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بالواسطہ پیش کرنا ہوتا ہے نہ کہ بلا واسطہ اور براہِ راست۔۔۔ عبداللہ حسین کا ناول اداس نسلیں بہت مشہورہے لیکن قرۃ العین حیدر نے " کار ِ جہاں دراز ہے " میں اس پر نہ صرف سرقے کا الزام لگایا ہے بلکہ وہ جملے اور پیراگراف صفحہ نمبر کے ساتھ پیش کیے ہیں، جن سے اداس نسلیں میں ’’استفادہ ‘‘ کیا گیا ہے۔. اب یہ محض اتفاق ہی ہوگا کہ کئی مقامات پر یہ ’’استفادہ‘‘ لفظ بہ لفظ ہوگیا ہے... لہٰذا اسے بھی اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔۔۔ اس فہرست پر ہمیں اصرار بھی نہیں ہے کیونکہ ایسی کوئی بھی فہرست حتمی نہیں ہوسکتی اور ایسی کسی فہرست پر سب کا متفق ہوجانا بھی ناممکنات میں سے ہے۔۔۔ لہٰذااس فہرست میں ہر قاری اپنی پسند اور ذوق کے مطابق تبدیلی، ترمیم اور اضافہ کرسکتا ہے۔۔۔۔ ۱۔فسانۂ آزاد (۱۸۷۸ء) اُردو کے دس بہترین ناول پنڈت رتن ناتھ سرشار کا یہ شاہ کار ناول کشور کے ’’اودھ اخبار ‘‘ میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔۔۔ اس کے دو کرداروں میاں آزاد اور خوجی کا شمار اردو ادب کے معروف کرداروں میں ہوتا ہے۔۔۔ فسانۂ آزاد پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس کاصحیح معنوں میں کوئی پلاٹ نہیں ہے اور یہ حد سے زیادہ طویل ہے۔۔۔ لیکن یہ اعتراض تو دنیا کے کئی عظیم ناولوں مثلاً ٹالسٹائی کے ’’وار اینڈ پیس‘‘ اور دستووسکی کے ’’برادرز کراموزوف ‘‘ پر بھی وارد ہوتے ہیں۔۔۔ فسانۂ آزاد کی ایک بڑی خوبی اس میں لکھنوی معاشرے کی تہذیبی عکاسی ہے ۔ اس کی ٹکسالی اردو اور محاوروں کا استعمال سند کی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔ البتہ اس کا مرکزی خیال سروانتے (Cervantes)کے ہسپانوی ناول’’ دون کی ہوتی ‘‘ (Don Quixote) سے ماخوذ ہے(جس کا تلفظ اردو میں غلط طور پرڈون کوئیکزوٹ کیا جاتا ہے )۔۔۔ ۲۔ امراو جان ادا (۱۸۹۹ء) اُردو کے دس بہترین ناول مرزا ہادی رسوا کا ناول امراو جان ادا اردو میں ناول کی صنف کے ایک نئے دور کا نقیب بلکہ ناول کے باقاعدہ آغاز کی علامت ہے۔۔۔یہ اردو میں پہلا ناول تھا جس سے معلوم ہوا کہ ناول ہوتا کیا ہے۔۔۔ رالف رسل نے لکھا ہے کہ مرزا ہادی رسوا کا ناول امراو جان ادا اردو کا ’’ پہلا ‘‘ ناول اور ’’صحیح معنوں میں ناول ‘‘ ہے۔۔۔ گویا وہ اس سے قبل کے ناولوں مثلاً نذیر احمد کے ناول اور دیگر ناولوں کو صحیح معنوں میں ناول نہیں سمجھتے۔۔ اس بحث سے قطع نظر کہ امراو کا کردار حقیقی تھا یا ہادی رسوا نے اسے حقیقت بنا کر پیش کیا، یہ ناول فکشن نویسی کے فن پر ہادی رسوا کے عبور کا ثبوت ہے۔۔۔ اس میں انیسویں صدی کے نصف ِ آخر کے لکھنو ٔ کی تہذیب کی شان دار عکاسی کی گئی ہے۔۔۔ ۳۔گئو دان (۱۹۳۶ء) اُردو کے دس بہترین ناول منشی پریم چند کا آخری ناول گئو دان ان کا بہترین ناول بھی ہے۔۔۔ ہندستانی کسانوں کی قابل ِ رحم حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے پریم چند سرمایہ دارانہ نظام کے استحصالی ہتھکنڈوں پر فن کارانہ انداز میں احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ پریم چند نے لکھنے کا آغاز اردو سے کیا تھا لیکن اردو ہندی تنازع کے پس منظر میں رفتہ رفتہ وہ ہندی کے حامی ہوتے گئے اور اپنی تخلیقات کو اردو میں لکھ کر دیو ناگری رسم الخط میں ڈھالنے لگے تھے۔۔ بعد ازاں ہندی میں لکھتے اور اسے اردو میں ڈھالا جاتا۔۔۔۔ ڈاکٹر مسعود حسین نے ثابت کیا ہے کہ ان کا یہ ناول مکمل طور پر ہندی میں لکھا گیا تھا اور اقبال ورما سحرؔہتگامی نے اسے اردو میں بعد میں ڈھالا۔۔ اسی لیے مسعود صاحب نے سہ ماہی فکر ونظر (علی گڑھ ) میں لکھا کہ چونکہ گئو دان اولاً ہندی میں لکھا گیا ہے اور اردو میں ترجمہ ہے اور چونکہ تراجم کو اُس زبان کے ادب کا حصہ نہیں مانا جاتا جس میں ترجمہ کیا گیا ہو لہٰذا " گئو دان کا اردو ناول نگاری کی تاریخ میں کوئی مقام نہیں " ۔۔۔ اس سے ایک تہلکہ مچ گیا۔۔۔ تاہم بعض نقاد اسے اردو کے عظیم ناولوں میں شمار کرتے ہیں۔۔۔ ۴۔آگ کا دریا (۱۹۵۷ء) اُردو کے دس بہترین ناول قرۃ العین حیدر کے ناول آگ کا دریا کو اردو کا بہترین ناول کہا جاتا ہے۔۔۔ اگرچہ اس سے اختلاف بھی کیا جاتا ہے لیکن راقم کی ناقص رائے میں آگ کا دریا بلا شبہہ اردو کا عظیم ترین ناول ہے۔۔۔ محمد احسن فاروقی کا خیال تھا کہ ورجینیا وولف کے ناول ’’اورلینڈو‘‘ (Orlando) کا مقصد انگلستان کی تاریخ بیان کرنا تھا اور آگ کا دریا میں اسی کا اتباع کیا گیا ہے۔۔ دراصل اس ناول میں برعظیم پاک و ہند کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ بیان کی گئی ہے اور اس کا بنیادی خیال ’’ وقت ‘‘ ہے۔۔ اگرچہ اس کے ابتدائی سو ڈیڑھ سو صفحات پڑھنا ذرا مشکل ہے لیکن اس کے بعد یہ ناول قاری کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔۔۔ ۵۔خدا کی بستی(۱۹۵۸ء) اُردو کے دس بہترین ناول شوکت صدیقی کا ناول خدا کی بستی کسی زمانے میں بہت مقبول تھا۔۔۔ اس کے تقریباً پچاس ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔۔۔ پاکستان بلکہ ہندوستان میں بھی اس کے کئی غیر قانونی ایڈیشن شائع ہوئے۔۔۔ خدا کی بستی کا ترجمہ تقریباً بیس زبانوں میں ہوچکا ہے۔۔۔ شوکت صدیقی نے اپنے مخصوص ترقی پسندانہ نظریات کے تحت اس ناول میں ۱۹۵۰ء کے عشرے کے پاکستانی معاشرے کی عکاسی کی ہے لیکن فنی تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے پاکستانی معاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل اس طرح پیش کیے ہیں کہ پڑھنے والے ایک حقیقی تبدیلی کی ضرورت کے قائل ہوجاتے ہیں۔۔۔ ۶۔ آنگن (۱۹۶۲ء) اُردو کے دس بہترین ناول خدیجہ مستور کے ناول آنگن میں آنگن دراصل معاشرے کی علامت ہے اور جس طرح گھر کے آنگن میں سب اہل خانہ مل بیٹھتے ہیں اسی طرح معاشرے میں سب مل کر زندگی گزارتے ہیں۔۔۔ آنگن بظاہر گھر کی کہانی ہے لیکن اس میں سماجی ، سیاسی اور معاشی مسائل کی تصویر کشی بھی ہے۔۔ قیام ِ پاکستان سے قبل ہندوستان کا سیاسی اور معاشی ماحول، انگریز، مسلم لیگ، کانگریس اور جاگیردارانہ ماحول کی خرابیاں بھی فن کارانہ انداز میں اور بالواسطہ پیش کی گئی ہیں۔۔۔ اس میں ایک کردار اسرار میاں کا بھی ہے جو اپنی شرافت کے باوجود ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔۔ آخر میں اس شریف کردار کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور وہ کہیں غائب ہوجاتا ہے جو علامتی اور اشارتی ہے۔۔۔ خدیجہ مستور کا خوب صورت اسلوب اور زبان بھی قابل داد ہے۔۔۔ ۷۔بستی (۱۹۷۹ء) اُردو کے دس بہترین ناول انتظار حسین پر ایک بڑا الزام نوسٹلجیا (nostalgia) یعنی ماضی پرستی کا ہے۔۔۔ یہی الزام قرۃ العین حیدر پر بھی تھا۔۔۔ لیکن معترضین یہ نہیں سمجھتے کہ ان دونوں تخلیقی فن کاروں کا اصل موضوع ہی ماضی تھا اور اسی کی بنیاد پروہ اپنی تحریروں میں جادو جگاتے تھے۔۔۔ ان کے فکشن میں کبھی کبھی خود نوشت سوانح کے رنگ بھی نظر آتے ہیں۔۔ پھر ہجرت دنیا کے عظیم فکشن کا موضوع رہا ہے اور ادب کے بعض نوبیل انعام یافتگان کا موضوع بھی ہجرت اور ماضی ہے۔۔۔ اپنے ناول بستی میں انتظار صاحب نے اپنے مخصوص استعاراتی و علامتی انداز میں اپنی خود نوشت اور فکشن کو ملا جلا کر پیش کیا ہے۔۔۔ ہندوستان سے ہجرت کے بعد لاہور میں بسنا اور اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے اس نئے ملک میں خوابوں کی تعبیر پانے کی خواہش ہونا، لیکن حقیقت کا بہت مختلف اور تلخ ہونا، یہ صرف انتظار صاحب کا المیہ نہیں تھا بلکہ تمام پاکستانیوں کا المیہ ہے۔۔۔ پاکستان خوابوں کی ایک بستی ہے۔۔۔ل یکن المیۂ مشرقی پاکستان کے بعد اس بستی کے باسی سکون کی تلاش میں ہوا میں معلق ہوگئے اور آج بھی ہیں۔۔۔ یہی اس بستی کی اصل کہانی ہے۔۔۔ ۸۔ راجا گدھ (۱۹۸۱ء) اُردو کے دس بہترین ناول ممکن ہے کہ بانو قدسیہ کے ناول راجا گدھ کو اس فہرست میں شامل کرنے پر کچھ لوگ چیں بہ جبیں ہوں کیونکہ اس کا مرکزی خیال حلال و حرام کے فلسفے پر مبنی ہے۔۔۔ لیکن پاکستانی معاشرے میں مالی بدعنوانی کی ہوش ربا داستانوں کے آئے دن منظر ِ عام پر آنے کے بعد راجا گدھ کاکم از کم مطالعہ تو کیا جانا چاہیے خواہ آپ اسے بہترین ناول نہ مانیں۔۔۔ بانو قدسیہ نے اس میں یہ فلسفہ پیش کیا ہے کہ حرام کھانے کے ذہنی اور جسمانی اثرات ہوتے ہیں اور حرام کھانے والا انسان پاگل ہوجاتا ہے اور اس میں مالی اور جنسی دونوں طرح کا حرام شامل ہے۔۔۔ اس ناول میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ خود پسندی انسان کو پاگل کردیتی ہے اور یہ انسانی تہذیب کے لیے بھی خطرہ ہے۔۔۔ اس میں پرندوں کی مدد سے انسانی مسائل تمثیلی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔۔۔ ۹۔ کئی چاند تھے سرِ آسماں (۲۰۰۵ء) اُردو کے دس بہترین ناول شمس الرحمٰن فاروقی کے ناول کئی چاند تھے سر آسماں پر بھی بعض لوگوں کو کئی اعتراضات ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں داغ دہلوی کی والدہ وزیرخانم کی کردار کُشی کی گئی ہے۔۔۔ وزیر بیگم ناول کا مرکزی کردار ہے جس کی مدد سے کئی صدیوں کی ہندوستانی تاریخ بیان کی گئی ہے۔۔۔ اس کی خاص بات تاریخی کرداروں مثلاً فریزر، نواب شمس الدین اور مرزا غالب وغیرہ کی پیش کش اور تہذیب و تمدنی عکاسی ہے۔۔ اس میں مصنف نے خیال رکھا ہے کہ جس زمانے کا ذکر ہورہا ہے اس زمانے کے کردار ویسی ہی اردو بولتے ہوئے نظرآ ئیں۔۔ ناول کاعنوان احمد مشتاق کے اس شعر سے لیا گیا ہے : کئی چاند تھے سرِ آسماں جو چمک چمک کے پلٹ گئے نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمھاری زلف سیاہ تھی ۱۰۔ دھنی بخش کے بیٹے (۲۰۰۸ء) اُردو کے دس بہترین ناول حالیہ برسوں میں جو اردو ناول شائع ہوئے ہیں ان میں حسن منظر کا ناول دھنی بخش کے بیٹے موضوع کے لحاظ سے بھی اہم ہے اور اس کا اسلوب بھی قاری کو جکڑے رکھتا ہے۔۔ اس کا موضوع سندھ میں اعلیٰ طبقے کا بنایا ہوا ظالمانہ نظام ہے جو غریبوں کا استحصالِ بے جا کرتا ہے ۔ یہ ظلم صدیوں سے جاری ہے اور جاری رہے گا کیونکہ اس خطے کے باسی خود اپنی تقدیر بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔۔۔ ناول سندھ کے دھنی بخش نامی ایک گائوں سے متعلق ہے۔۔۔ یہی نام ناول کے مرکزی کردار کا بھی ہے جس کے نام پر گائوں آباد ہے۔۔۔ اس ناول میں ثانوی طور پر دو تہذیوں یعنی مغربی اور مشرقی تہذیب کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔۔۔ ••••• بشکریہ : روزنامہ جنگ

[واٹس ایپ کب اور کس نے ایجاد کی] بہت ہی کمال کی تحریر ہے ایک بار ضرور پڑھیں وہ یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا‘ خاندان عسرت میں زندگی گزار رہا تھا‘ گھر میں بجلی تھی‘ گیس تھی اور نہ ہی پانی تھا‘ گرمیاں خیریت سے گزر جاتی تھیں لیکن یہ لوگ سردیوں میں بھیڑوں کے ساتھ سونے پرمجبور ہو جاتے تھے‘ اس غربت میں 1992ء میں زیادتی بھی شامل ہو گئی‘ یوکرائن میں یہودیوں پر ایک بار پھر ظلم شروع ہو گیا‘ والدہ نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما‘ اٹیچی کیس میں بیٹے کی کتابیں بھریں اور یہ دونوں امریکا آ گئے‘ کیلیفورنیا ان کا نیا دیس تھا‘ امریکا میں ان کے پاس مکان تھا‘ روزگار تھا اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان‘ یہ دونوں ماں بیٹا مکمل طور پر خیرات کے سہارے چل رہے تھے‘ امریکا میں ’’فوڈ سٹمپ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی سلسلہ چل رہا ہے‘ حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کے لیے فوڈ سٹمپس دیتی ہے‘ یہ سٹمپس امریکی خیرات ہوتی ہیں‘ یہ لوگ اتنے غریب تھے کہ یہ زندگی بچانے کے لیے خیرات لینے پر مجبور تھے۔ جین کوم کے پاس پڑھائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا‘ یہ پڑھنے لگا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی مہنگی ہونے لگی‘ فوڈ سٹمپس میں گزارہ مشکل ہو گیا‘ جین کوم نے پارٹ ٹائم نوکری تلاش کی‘ خوش قسمتی سے اسے ایک گروسری اسٹور میں سویپر کی ملازمت مل گئی‘ اسٹور کے فرش سے لے کر باتھ روم اور دروازوں کھڑکیوں سے لے کر سڑک تک صفائی اس کی ذمے داری تھی‘ وہ برسوں یہ ذمے داری نبھاتا رہا‘ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے خبط میں مبتلا ہو گیا‘ یہ شوق اسے سین جوز اسٹیٹ یونیورسٹی میں لے گیا‘ وہ 1997ء میں ’’یاہو‘‘ میں بھرتی ہوا اور اس نے نو سال تک سر نیچے کر کے یاہو میں گزار دیئے۔ 2004ء میں فیس بک آئی‘ یہ آہستہ آہستہ مقبول ہو تی چلی گئی‘ یہ 2007ء میں دنیا کی بڑی کمپنی بن گئی‘ جین کوم نے فیس بک میں اپلائی کیا لیکن فیس بک کو اس میں کوئی پوٹینشل نظر نہ آیا‘ وہ یہ نوکری حاصل نہ کر سکا‘ وہ مزید دو سال ’’یاہو‘‘ میں رہا‘ وہ آئی فون خریدنا چاہتا تھا لیکن حالات اجازت نہیں دے رہے تھے‘ اس نے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کیے اور نیا آئی فون خرید لیا‘ یہ آئی فون آگے چل کر اس کے لیے سونے کی کان ثابت ہوا۔ جین کوم نے فون استعمال کرتے کرتے سوچا‘ میں کوئی ایسی ایپلی کیشن کیوں نہ بناؤں جو فون کا متبادل بھی ہو‘ جس کے ذریعے ایس ایم ایس بھی کیا جا سکے‘ تصاویر بھی بھجوائی جا سکیں‘ ڈاکومنٹس بھی روانہ کیے جا سکیں اور جسے ’’ہیک‘‘ بھی نہ کیا جا سکے‘ یہ ایک انوکھا آئیڈیا تھا‘ اس نے یہ آئیڈیا اپنے ایک دوست برائن ایکٹون کے ساتھ شیئر کیا‘ یہ دونوں اسی آئیڈیا پر جت گئے‘ یہ کام کرتے رہے‘ کام کرتے رہے یہاں تک کہ یہ دو سال میں ایک طلسماتی ایپلی کیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے‘ یہ ’’ایپ‘‘ فروری 2009ء میں لانچ ہوئی اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی حدیں کراس کر گئی‘ یہ ایپ ٹیلی کمیونیکیشن میں انقلاب تھی‘ اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔ یہ ایپلی کیشن واٹس ایپ کہلاتی ہے‘ دنیا کے ایک ارب لوگ اس وقت یہ ایپ استعمال کر رہے ہیں‘ یہ ایپ دنیا کا تیز ترین اور محفوظ ترین ذریعہ ابلاغ ہے‘ آپ واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ کو نیا فون اور نیا نمبر خریدنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی آپ کسی موبائل کمپنی کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے‘ آپ پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ جین کوم کو واٹس ایپ نے چند ماہ میں ارب پتی بنا دیا‘ یہ ایپلی کیشن اس قدر کامیاب ہوئی کہ دنیا بھر کی کمپنیوں نے اس کی خریداری کے لیے بولی دینا شر وع کر دی لیکن یہ انکار کرتا رہا۔ فروری 2014ء میں فیس بک بھی ’’واٹس ایپ‘‘ کی خریداری کی دوڑ میں شامل ہو گئی‘ فیس بک کی انتظامیہ نے جب اس سے رابطہ کیا تو اس کی ہنسی نکل گئی‘ اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور قہقہہ لگا کر بولا ’’یہ وہ ادارہ تھا جس نے مجھے 2007ء میں نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا‘‘ وہ دیر تک ہنستا رہا‘ اس نے اس ہنسی کے دوران ’’فیس بک‘‘ کو ہاں کر دی‘ 19 بلین ڈالر میں سودا ہو گیا‘ یہ کتنی بڑی رقم ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے کل مالیاتی ذخائر سے لگا لیجیے‘ پاکستان کا فارن ایکسچینج اس وقت 22 ارب ڈالر ہے اور پاکستان 70 برسوں میں ان ذخائر تک پہنچا جب کہ جین کوم نے ایک ایپلی کیشن 19 ارب ڈالر میں فروخت کی۔ جین کوم نے فیس بک کے ساتھ سودے میں صرف ایک شرط رکھی’’میں فوڈ سٹمپس دینے والے ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر دستخط کروں گا‘‘ فیس بک کے لیے یہ شرط عجیب تھی‘ یہ لوگ یہ معاہدہ اپنے دفتر یا اس کے آفس میں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ڈٹ گیا یہاں تک کہ فیس بک اس کی ضد کے سامنے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی‘ ایک تاریخ طے ہوئی‘ فیس بک کے لوگ فلاحی سینٹر پہنچے‘ وہ ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری کرسی پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا‘ وہ کیوں نہ روتا‘ یہ وہ سینٹر تھا جس کے اس کونے کی اس آخری کرسی پر بیٹھ کر وہ اور اس کی ماں گھنٹوں ’’فوڈ سٹمپس‘‘ کا انتظار کرتے تھے۔ یہ دونوں کئی بار بھوکے پیٹ یہاں آئے اور شام تک بھوکے پیاسے یہاں بیٹھے رہے‘ ویٹنگ روم میں بیٹھنا اذیت ناک تھا لیکن اس سے بڑی اذیت کھڑکی میں بیٹھی خاتون تھی‘ وہ خاتون ہر بار نفرت سے ان کی طرف دیکھتی تھی‘ طنزیہ مسکراتی تھی اور پوچھتی تھی’’تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے‘ تم کام کیوں نہیں کرتے‘‘ یہ بات سیدھی ان کے دل میں ترازو ہو جاتی تھی لیکن یہ لوگ خاموش کھڑے رہتے تھے۔ خاتون انھیں ’’سلپ‘‘ دیتی تھی‘ ماں کاغذ پر دستخط کرتی تھی اور یہ لوگ آنکھیں پونچھتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے‘ وہ برسوں اس عمل سے گزرتا رہا چنانچہ جب کامیابی ملی تو اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اس ویٹنگ روم میں منانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے 19 بلین ڈالر کی ڈیل پر ’’فوڈ سٹمپس‘‘ کے انتظار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کیے‘ چیک لیا اور سیدھا کاؤنٹر پر چلا گیا‘ فوڈ سٹمپس دینے والی خاتون آج بھی وہاں موجود تھی‘ جین نے 19بلین ڈالر کا چیک اس کے سامنے لہرایا اور ہنس کر کہا ’’آئی گاٹ اے جاب‘‘ اور سینٹر سے باہر نکل گیا۔ یہ ایک غریب امریکی کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے‘ یہ داستان ثابت کرتی ہے آپ اگر ڈٹے رہیں‘ محنت کرتے رہیں اور ہمت قائم رکھیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کامیابی کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے‘ .

*جاوید چوہدری* *زیرو پوائنٹ* *مرد مومن کی ڈرامائی تشکیل* دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں جینئس‘ ایوریج اور بلو ایوریج‘ ہماری دنیا میں بلو ایوریج (معمولی لوگوں) اور ایوریج (سطحی لوگوں) کی کوئی کہانی نہیں ہوتی‘ یہ لوگ آتے ہیں‘ زندگی گزارتے ہیں اور اکثر اوقات اپنے جیسے بچے پیدا کر کے چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں لہٰذا ان کی زندگی پر کوئی کہانی‘ کوئی کالم اور کوئی کتاب لکھی جاتی ہے اور نہ کوئی ڈرامہ یا فلم بنائی جاتی ہے۔ یہ دنیا میں آتے ہیں تو کسی کو پتا نہیں چلتا‘ یہ چلے جاتے ہیں تو بھی کسی کو علم نہیں ہوتاجب کہ جینئس لوگوں کی کہانیاں بھی لکھی جاتی ہیں اور ان پر فلمیں بھی بنتی ہیں اور ان کے ڈرامے بھی بنائے جاتے ہیں‘ میں اپنے سیشنز میں اکثر عرض کرتا ہوں آپ اگر تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو کوئی ایسا کام کر جائیں جس پر آنے والے لوگ کتابیں لکھیں اور ڈرامے بنائیں اور آپ اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر جینئس لوگوں کے بارے میں کتابیں لکھیں آپ بھی ان کے ساتھ زندہ رہ جائیں گے ورنہ یہ جیون سفر رائیگاں کے سوا کچھ نہیں‘ یہ ایک بات تھی‘ آپ اب دوسری بات بھی ملاحظہ کیجیے‘ دنیا کے تما ایکسٹرا آرڈنری لوگ ایک جیسی زندگی گزارتے ہیں‘ یہ آج کے دور میں ہوں یا ماضی میں‘ مصیبتیں‘ مشکلیں‘ دھوکے اور بے وفائیاں ان کا مقدر ہوتی ہیں‘ یہ بے چارے پوری زندگی گرم توے پر تیل کی بوند کی طرح اچھلتے کودتے اور سی سی کرتے رہتے ہیں اور پھر ایک دن اچانک تحلیل ہو جاتے ہیں لیکن جاتے جاتے توے پر اپنا نشان ضرور چھوڑ جاتے ہیں۔ ارطغرل ڈرامہ سیریز کا ہیرو بھی ایک ایسا ہی ایکسٹرا آرڈنری‘ ایک جینئس انسان تھا‘ یہ چھوٹے سے خانہ بدوش قبیلے میں پیدا ہوا لیکن قدرت نے اسے ایک لازوال سپہ سالار‘ ایک بڑی ریاست کا معمار اور ایک عالمی سیاست دان بنایا تھا‘ وہ قبیلے سے اٹھ کر دنیا کو دیکھ رہا تھا اور اس کا خیال تھا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک بڑی اسلامی ریاست بنا سکتا ہے۔ وہ اپنے لوگوں کا مقدر بدل سکتا ہے لیکن پھر اس کے ساتھ وہی ہوا جو دنیا میں سپرجینئس‘ جینئس یا ایکسٹرا آرڈنری لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں ارطغرل ڈرامہ سیریز بنیادی طور پر غیر معمولی لوگوں کی داستان حیات ہے اور یہ داستان ثابت کرتی ہے اگر عقاب پنجرے میں پیدا ہو جائے یا بلی کے بچوں کے درمیان شیر کا بچہ آ جائے تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ اسے منزل تک پہنچنے کے لیے کس کس مرحلے سے گزرنا اور آگ کے کس کس دریا کو تیر کر پار کرنا پڑتا ہے چناں چہ دریلیش ارطغرل صرف ڈرامہ سیریز نہیں یہ کام یابی کی ایک بے مثال داستان‘ ایک شان دار سکسیس سٹوری ہے‘ یہ غیر معمولی لوگوں کا نوحہ بھی ہے لہٰذا آپ اگر زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پھر میں آپ کو مشورہ دوں گا آپ دریلیش ارطغرل ضرور دیکھیں‘ نوٹس لیں اور ارطغرل کی طرح مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا سیکھیں۔ آپ بالآخر کام یاب ہو جائیں گے۔ارطغرل کی ڈرامہ سیریز میں اول روز سے خواری شروع ہوتی ہے‘ اس کے اپنے اور پرائے سب اس کو دکھ دیتے ہیں‘ یہ گھر سے بھی مار کھاتا ہے اور باہر سے بھی‘ یہ بار بار قبیلے سے بے دخل کر دیا جاتا ہے‘ یہ درجنوں بار قید ہوتا ہے‘ اس کا والد‘ اس کی والدہ اور بھائی بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا عزیز ترین دوست ترگت بھی اس وقت اس کے پیٹ میں خنجر گھونپ دیتا ہے جب وہ جوش میں اس سے گلے مل رہا ہوتا ہے‘ اس پر روز تلواروں‘ تیروں اور خنجروں سے حملے ہوتے ہیں‘ یہ آغوز قبائل کو اکٹھا کر کے علاقے کی بڑی سیاسی طاقت بنانا چاہتا ہے لیکن قبیلے آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور یہ آگے بڑھتا ہے تو پیچھے بغاوت ہو جاتی ہے۔ یہ دوڑ کر واپس آتا ہے تو آگے بیڑا غرق ہو جاتا ہے‘ ڈرامہ سیریز کی پانچ سو قسطوں میں اس کو سکھ کا سانس نصیب نہیں ہوتا‘ اسے اطمینان کی ایک بھی رات نہیں ملتی‘ یہ منگولوں سے بچتا ہے تو عیسائی ٹیمپلرز تلواریں لے کر نکل آتے ہیں‘ یہ ان سے بچتا ہے تو مسلمان اس کے ٹکڑے کرنے کے لیے نکل آتے ہیں‘اس کی زندگی میں اپنے اور پرائے سب برابر ہیں۔ ہر طرف جاسوسوں اور دشمنوں کا جال بچھا ہے‘ کون کس وقت حملہ کر دے یہ نہیں جانتا‘ سوتے ہوئے بھی اسے ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے‘ یہ ابھی ایک مسئلے سے نکلا نہیں ہوتا تو دوسرا مسئلہ سامنے کھڑا ہوتا ہے‘ ایک سے بچ کر نکلتا ہے تو تھپ تھپ کی آواز آتی ہے اور کوئی دوسرا اس پر حملہ کر دیتا ہے‘ مصیبتوں کے اس عالم میں اس کے صرف چار مدد گار ہوتے ہیں‘ ابن عربی‘ بیوی حلیمہ سلطان‘ والدہ حیمہ اور بچپن کے تین دوست اور بس۔ 'یہ جب انتہائی مجبور ہو جاتا تھا تو ابن عربی اس کے پاس پہنچ جاتے تھے اور وہ قرآن مجید‘ احادیث اور سیرت کے واقعات سنا کر اس کا حوصلہ بلند کرتے تھے‘ بیوی جلتے ہوئے عالم میں جذباتی سہارا تھی‘ ماں اپنے چاروں بیٹوں میں سے صرف اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور دوست اسے ہر مشکل‘ ہر قید خانے سے نکال لیتے تھے لہٰذا ارطغرل پوری سیریز میں کیچڑ میں پھنسے اس بیل کی طرح محسوس ہوتا ہے جو زور لگا کر گٹھے کو کیچڑ سے باہر نکال رہا ہے لیکن دائیں بائیں موجود لوگ اس گٹھے پر مزید سامان لادتے چلے جارہے ہیں۔ وہ ایک ایسا انسان محسوس ہوتا ہے جو اپنے لوگوں کا واحد سہارا ہے‘ جو اپنے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کر سکتا ہے لیکن وہی اپنے لوگ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے چلے جاتے ہیں‘ وہ ان سب مصیبتوں کا مقابلہ کرتا چلا جاتا ہے لیکن پھر اچانک اس کا واحد جذباتی سہارا بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے‘ اس کی اہلیہ حلیمہ سلطان عین اس وقت انتقال کر جاتی ہے جب اس کا سب سے بڑا بیٹا صرف تین سال‘ دوسرا بیٹا سال اور تیسرا ایک دن کا ہوتا ہے اور یوں ارطغرل کو منگولوں سے مقابلے کے ساتھ ساتھ اپنے بچے بھی پالنا پڑتے ہیں اور تین بچوں میں سے دو دودھ کی عمر میں ہیں۔ آپ المیے پر المیہ دیکھیے یہ جب سلطان علاؤالدین سلجوق سے صغوط کا ذرخیز ترین علاقہ لے لیتا ہے تو اس کے قبیلے کے لوگ وہاں جانے سے انکار کر دیتے ہیں اور وہ انہیں بڑی مشکل سے مناتا ہے‘ اس سے پہلے جب اس کا بڑا بھائی گوندوغدوخراسان کی طرف نقل مکانی کرنا چاہتا ہے اور یہ اسے سمجھاتا ہے اس طرف منگول ہیں۔ ہمیں اناطولیہ کے پرامن اور زرخیز علاقوں کی طرف جانا چاہیے تو بڑا بھائی اسے قبیلے سے نکال دیتا ہے اور یہ تھوڑے سے ساتھیوں کے ساتھ اناطولیہ جانے پر مجبور ہو جاتا ہے چناں چہ یہ پوری ڈرامہ سیریز مصائب اور مشکلوں کے ستائے ایک جینئس‘ ایک ایکسٹرا آرڈنری انسان کی داستان حیات ہے‘ ایک ایسے انسان کی جیون کتھا جسے سکھ کا ایک بھی دن نہیں ملتا۔ میری ارطغرل دیکھتے ہوئے کئی بار ہنسی نکل گئی‘ کیوں؟ کیوں کہ ابھی اس نے ایک ایشو نبٹایا ہے‘ ابھی کسی ایک دشمن سے جان چھڑائی ہے اور ایک نیا ایشو نکل آیا‘ کسی اور نے کسی طرف سے خط لکھ مارا یا تیر چلا دیا اور نیا سلسلہ شروع ہو گیا‘ ایک سین میں وہ ہانلی بازار کے سرائے میں کھڑا ہو کر بازنطینی سازش کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اپنے لوگوں کو سمجھا رہا ہے یہ نہ کرنا ورنہ ہم پھنس جائیں گے‘ وہ جاتے ہیں تو دوسری طرف سے بیوی منہ لٹکا کر آ جاتی ہے‘ بیوی کا خیال ہوتا ہے دوسرے قبیلے کے سردار نے اسے اپنی بیٹی سے نکاح کی پیش کش کی ہے اور یہ مجھے جان بوجھ کر نہیں بتا رہا اور وہ بے چارگی سے کبھی بیوی کی طرف دیکھتا ہے اور کبھی جاتے ہوئے لوگوں کو اور میری ہنسی نکل جاتی ہے۔ ارطغرل ڈرامہ سیریز سے یہ سبق بھی ملتا ہے آخری فتح بہرحال برداشت‘ حوصلے اور مسلسل لڑنے والے ہی پاتے ہیں‘ ارطغرل کیوں کہ پوری سیریز میں گیواپ نہیں کرتا‘ وہ کسی قسم کے حالات میں مایوس نہیں ہوتا‘ پیچھے نہیں ہٹتا‘ وہ ڈرتا نہیں‘ بکتا نہیں‘ کمپرومائز نہیں کرتا اوروہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتا چناں چہ وہ آخر کارتمام مصیبتوں پر قابو پالیتا ہے۔ بازنطینی شہنشاہ ہو‘ سلجوق سلطان ہو یا پھر منگولوں کا خان اعظم اوغدائی خان ہو وہ سب اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یوں چھوٹے سے قبیلے کا نوجوان چرواہا اپنے وقت کی تمام سپر پاورز کو متاثر کرلیتا ہے‘ وہ صغوط جیسی چھوٹی سی وادی میں تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت اور خلافت کا بیج بونے میں بھی کام یاب ہو جاتا ہے۔ میں بچپن سے علامہ اقبال‘ مولانا روم اور حضرت محی الدین ابن عربی کو پڑھ رہا ہوں‘ یہ تینوں پوری زندگی مرد مومن اور مرد مجاہد کا پرچار کرتے رہے جس کی نگاہ بلند‘ سخن دل نواز اور جان پرسوز ہو اور جو قہاری‘ غفاری‘ قدوسی اور جبروت بھی ہو‘ جو اپنی ٹھوکر سے کاخ امراء کے درودیوار ہلا دے اور جو شیر کا دل اور شاہین کی آنکھ کا مالک بھی ہو۔ میں نے ارطغرل دیکھا تو مجھے محسوس ہوا بنانے والوں نے اس ڈرامہ سیریز کے ذریعے ابن عربی‘ مولانا روم اور علامہ اقبال کے مرد مومن کے تصور کی ڈرامائی تشکیل کی ہے‘ ترک اسلامی تاریخ کی کتابوں میں چھپے مومن کو سکرین پر لے آئے ہیں اور انہوں نے کیمرے‘ لائیٹس اور مائیک کے ذریعے دنیا کو بتا دیا ہم مسلمان اصل میں یہ ہیں۔ ہم رزم حق وباطل میں فولاد اور حلقہ یاراں میں بریشم کی طرح نرم ہوتے ہیں چناں چہ دنیا اگر ہمیں فولاد دیکھنا چاہتی ہے تو یہ حق وباطل کی رزم بچھا لے اور یہ اگر ہمیں ریشم کی طرح محسوس کرنا چاہتی ہے تو پھر اسے ہمارے حلقہ یاراں میں آنا ہوگا اور بس۔ارطغرل کی داستان ختم ہو گئی‘اب کورونا ہوگا اور ہم ہوں گے دوستو!۔🌹