میرے بہت پیارے دوست *شاہ نواز بھائی* کی طرف سے آئی ایک عمدہ تحریر چاند رات کی بات .... میی کوئ سولہ سترہ سال کاتھا اور میرے چھوٹے بھائ بہنیں دو دو اڑھائ اڑھائ سال کے وقفے سے مجھ سے چھوٹے تھے اللہ سب کو سلامت رکھے آمین. ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* عید آنے والی تھی محلے اور اسکول کے بچوں کے لئیے گھر گھر عید کی تیاریاں ہو رہی تھیں نئے ملبوس تیار ہو رہے تھے نئے پاپوش خریدے جا رہے تھے ہمارے ماں باپ کو پروا ہی نہ تھی کہ اپنے بچوں کے لئیے بھی عید کی کوئ خریداری کریں. ہماری امی ہمیں آخری دن تک تسلیاں دیتی رہیں کہ تمارے ابا جان کو کہیں سے عید سے پہلے پیسے ضرور آئیں گے اور آپ سب کے لئیے نئے سوٹ اور بوٹ بازار سے جا کر لے آئیں گے. والد صاحب کو پاداش حق گوئ میں پہلے کئ مرتبہ حکومتی جبر کا نشانہ بنایا جا چکاتھا کاروبار ضبط کرلیئے جاتے تھے زبان بندی کر دی جاتی تھی اسلئیے گھر میں بعض مرتبہ پریشانی اور تنگی آجاتی تھی لیکن میرے والدین ہمیں محسوس نہیں ہونے دیتے تھے. دوچار دن کی مشکل ہوتی پھر حالات معمول پر آجاتے کہیں نہ کہیں سے اسباب رزق مہیا ہو جاتے اور ہمارے والدین اللہ کا شکر ادا کرتے. فلمی دنیا نے ابا جان کوفلمی گانے لکھنے کی پھر آفر کی اور حکمران تو چاہتے ہی تھے ان کی زبان اور قلم حکومت کی جائز و ناجائز پالیسیوں کے حق میں استعمال ہوںx مگر انہوں نے ہمیشہ کہا کہ عزت نفس کی قیمت تجھے معلوم نہ تھی. بیچ دی تو نے جو دو چار نوالوں کے لئیے. بہر حال عید کی چاند رات آگئ ہم بہن بھائ رو رلا کر مایوس ہو کر سو گئے والدہ محترمہ بھی خزانہء غیب کا انتظار کر کے مشیت ایزدی جان کر صبر و شکر کر کے نیند کی وادیوں میں کھو گئیں. مگر باپ کو نیند نہ آئی اس کا یقین اپنے رب پہ بہت پختہ تھا اس باپ نے یہ یقین کی منزل حضرت مدنی رحمتہ اللّه، حضرت لاہوری رحمتہ اللّه، حضرت امیر شریعت رحمتہ اللّه، حضرت دینپوری رحمتہ اللّه، حضرت رائے پوری رحمتہ اللّه، حضرت ھالیجوی رحمتہ اللّه جیسے بزرگوں کی چشم فیض کے نتیجہ میں حاصل کی تھی. اس کی آس نہیں ٹوٹی تھی وہ رات بارہ بجے سخت سردی کے موسم میں رضائی منہ پہ ڈال کے اپنے مالک سے رو رو کر اپنے بچوں کے لیئے نئے کپڑے اور جوتے مانگ رہا تھا. اس نے سوچا ابھی صبحِ عید طلوع ہونے میں چھ گھنٹے باقی ہیں. تہجد میں اٹھ کر دو نفل پڑھ کے مانگوں گا. اس وقت مالک بہت نزدیک ہو کے سنتا ہے سنا ہے جنت کی سب سے زیادہ حسین حورجس کا نام لائبہ ہے آسمان دنیا پہ آکر تہجد کے وقت پکارا کرتی ہے کہ ہے کوئی اللہ کا بندہ جو اس وقت میرے اللہ کوراضی کر کے مجھے حاصل کرے. نیند کی دعا مانگ کر آیت الکرسی اورمعوذتین پڑھ کر دائیں کروٹ اختیار کر ہی رہا تھا کہ دروازہ پر دستک ہوئی اور آواز آئی گیلانی صاحب دروازہ کھولئیے سردیوں کی سردترین رات , بارہ ساڑھے بارہ کا وقت اسوقت کون آگیا, بادل نا خواستہ اٹھا اور کھڑکی سے باہر جھانکا تو اندھیرے میں ایک لمبا تڑنگا نوجوان سر پر بڑا سا چادر کا ٹھاٹھا بنا کر باندھا ہوا کھڑا نظر آیا. ارے بھائی کون ہو تعارف تو کرواو جواب آیا شاہ جی دروازہ تو کھولیں سب کچھ بتاتا ہوں. اس وقت کوئی چور ڈاکو یادشمن بھی ہو سکتا تھا بتی جلا کر ڈرتےڈرتے دروازہ کھولا اور اسے کہا منہ سے اب کپڑا ہٹاو اور بیٹھو. کون ہو, جن ہو یا فرشتہ وہ بولا نہ جن نہ فرشتہ میں تو انسان ہوں جامعہ مدنیہ لاہور میں دورہء حدیث کا طالب علم ہوں حضرت مولانا سید حامد میاں نے مجھے اپنے گھر بلوایا اور فرمایاکہ ابھی اور اسی وقت جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبیداللہ انورکے پاس شیرانوالہ جاو ان کا کوئ کام ہے شاید شیخوپورہ بھیجنا ہے. وہ بولا میں مولانا انور کے پاس پہنچا وہ میرے منتظر تھے انہوں نے یہ بند لفافہ مجھے پکڑایا اور فرمایا یہ شیخو پورہ جناح پارک میں سید امین گیلانی کو دے کر آو اور مجھے واپس آکر بتاو. میں تمارا انتظار کرونگا. چنانچہ یہ لفافہ پکڑیں اور مجھے اجازت دیں. السلام علیکم. ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾ وہ طالب علم رخصت ہوا لفافہ کھولا تو اس میں اتنی رقم موجود تھی جس سے تمام بچوں کے سوٹ اور بوٹ آجائیں. یہ چاند رات کا واقعہ مجھے آج یاد آرہا ہے. ابا جان نے اسی وقت مجھے جگایا اور وہ پیسے مجھے دیئے فرمایا سب بہن بھائیوں کو بازار لے جاو آج چاند رات ہے ساری رات دکانیں کھلی ہیں ریڈی میڈ کپڑے اور نئےجوتے لے کر آو. *کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدآ یے.* اللہ حافظ دعا جو; سید سلمان گیلانی لاہور پاکستان. ۲۴ جولائ ۲۰۲۰
میرے بہت پیارے دوست *شاہ نواز بھائی* کی طرف سے آئی ایک عمدہ تحریر
چاند رات کی بات
....
میی کوئ سولہ سترہ سال کاتھا اور میرے چھوٹے بھائ بہنیں دو دو اڑھائ اڑھائ سال کے وقفے سے مجھ سے چھوٹے تھے اللہ سب کو سلامت رکھے آمین.
۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄*
عید آنے والی تھی محلے اور اسکول کے بچوں کے لئیے گھر گھر عید کی تیاریاں ہو رہی تھیں نئے ملبوس تیار ہو رہے تھے نئے پاپوش خریدے جا رہے تھے ہمارے ماں باپ کو پروا ہی نہ تھی کہ اپنے بچوں کے لئیے بھی عید کی کوئ خریداری کریں.
ہماری امی ہمیں آخری دن تک تسلیاں دیتی رہیں کہ تمارے ابا جان کو کہیں سے عید سے پہلے پیسے ضرور آئیں گے اور آپ سب کے لئیے نئے سوٹ اور بوٹ بازار سے جا کر لے آئیں گے.
والد صاحب کو پاداش حق گوئ میں پہلے کئ مرتبہ حکومتی جبر کا نشانہ بنایا جا چکاتھا کاروبار ضبط کرلیئے جاتے تھے زبان بندی کر دی جاتی تھی اسلئیے گھر میں بعض مرتبہ پریشانی اور تنگی آجاتی تھی لیکن میرے والدین ہمیں محسوس نہیں ہونے دیتے تھے.
دوچار دن کی مشکل ہوتی پھر حالات معمول پر آجاتے کہیں نہ کہیں سے اسباب رزق مہیا ہو جاتے اور ہمارے والدین اللہ کا شکر ادا کرتے.
فلمی دنیا نے ابا جان کوفلمی گانے لکھنے کی پھر آفر کی اور حکمران تو چاہتے ہی تھے ان کی زبان اور قلم حکومت کی جائز و ناجائز پالیسیوں کے حق میں استعمال ہوں.
مگر انہوں نے ہمیشہ کہا کہ
عزت نفس کی قیمت تجھے معلوم نہ تھی.
بیچ دی تو نے جو دو چار نوالوں کے لئیے.
بہر حال عید کی چاند رات آگئ ہم بہن بھائ رو رلا کر مایوس ہو کر سو گئے والدہ محترمہ بھی خزانہء غیب کا انتظار کر کے مشیت ایزدی جان کر صبر و شکر کر کے نیند کی وادیوں میں کھو گئیں.
مگر باپ کو نیند نہ آئی اس کا یقین اپنے رب پہ بہت پختہ تھا اس باپ نے یہ یقین کی منزل حضرت مدنی رحمتہ اللّه، حضرت لاہوری رحمتہ اللّه، حضرت امیر شریعت رحمتہ اللّه، حضرت دینپوری رحمتہ اللّه، حضرت رائے پوری رحمتہ اللّه، حضرت ھالیجوی رحمتہ اللّه جیسے بزرگوں کی چشم فیض کے نتیجہ میں حاصل کی تھی.
اس کی آس نہیں ٹوٹی تھی وہ رات بارہ بجے سخت سردی کے موسم میں رضائی منہ پہ ڈال کے اپنے مالک سے رو رو کر اپنے بچوں کے لیئے نئے کپڑے اور جوتے مانگ رہا تھا. اس نے سوچا ابھی صبحِ عید طلوع ہونے میں چھ گھنٹے باقی ہیں. تہجد میں اٹھ کر دو نفل پڑھ کے مانگوں گا. اس وقت مالک بہت نزدیک ہو کے سنتا ہے
سنا ہے جنت کی سب سے زیادہ حسین حورجس کا نام لائبہ ہے آسمان دنیا پہ آکر تہجد کے وقت پکارا کرتی ہے کہ ہے کوئی اللہ کا بندہ جو اس وقت میرے اللہ کوراضی کر کے مجھے حاصل کرے. نیند کی دعا مانگ کر آیت الکرسی اورمعوذتین پڑھ کر دائیں کروٹ اختیار کر ہی رہا تھا کہ دروازہ پر دستک ہوئی اور آواز آئی گیلانی صاحب دروازہ کھولئیے سردیوں کی
سردترین رات , بارہ ساڑھے بارہ کا وقت اسوقت کون آگیا, بادل نا خواستہ اٹھا اور کھڑکی سے باہر جھانکا تو اندھیرے میں ایک لمبا تڑنگا نوجوان سر پر بڑا سا چادر کا ٹھاٹھا بنا کر باندھا ہوا کھڑا نظر آیا. ارے بھائی کون ہو تعارف تو کرواو جواب آیا شاہ جی دروازہ تو کھولیں سب کچھ بتاتا ہوں.
اس وقت کوئی چور ڈاکو یادشمن بھی ہو سکتا تھا بتی جلا کر ڈرتےڈرتے دروازہ کھولا اور اسے کہا منہ سے اب کپڑا ہٹاو اور بیٹھو. کون ہو, جن ہو یا فرشتہ وہ بولا نہ جن نہ فرشتہ میں تو انسان ہوں جامعہ مدنیہ لاہور میں دورہء حدیث کا طالب علم ہوں حضرت مولانا سید حامد میاں نے مجھے اپنے گھر بلوایا اور فرمایاکہ ابھی اور اسی وقت جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبیداللہ انورکے پاس شیرانوالہ جاو ان کا کوئ کام ہے شاید شیخوپورہ بھیجنا ہے.
وہ بولا میں مولانا انور کے پاس پہنچا وہ میرے منتظر تھے انہوں نے یہ بند لفافہ مجھے پکڑایا اور فرمایا یہ شیخو پورہ جناح پارک میں سید امین گیلانی کو دے کر آو اور مجھے واپس آکر بتاو. میں تمارا انتظار کرونگا.
چنانچہ یہ لفافہ پکڑیں اور مجھے اجازت دیں. السلام علیکم.
♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾
وہ طالب علم رخصت ہوا لفافہ کھولا تو اس میں اتنی رقم موجود تھی جس سے تمام بچوں کے سوٹ اور بوٹ آجائیں.
یہ چاند رات کا واقعہ مجھے آج یاد آرہا ہے. ابا جان نے اسی وقت مجھے جگایا اور وہ پیسے مجھے دیئے فرمایا سب بہن بھائیوں کو بازار لے جاو آج چاند رات ہے ساری رات دکانیں کھلی ہیں ریڈی میڈ کپڑے اور نئےجوتے لے کر آو.
*کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدآ یے.*
اللہ حافظ
دعا جو;
سید سلمان گیلانی لاہور پاکستان.
۲۴ جولائ ۲۰۲۰
Comments