_* 🌿🌹🌿🌹🌿🌹🌿 قربانی کے معنی ہیں ،، اللّه کا تقرب حاصل کرنے والی چیز ،، اور یہ لفظ ،، قربانی قربان سےنکلا ھے اور لفظ قربان ، قرب ، سے نکلا ھے تو قربانی کے معنی یہ ہیں کہ وہ چیزجس سےاللّه تعالٰی کا تقرب حاصل کیاجائے اور اس قربانی کے سارے عمل میں یہ سکھایا گیا ھے کہ ہمارےحکم کی اتباع کانام دین ھے۔ جب ہماراحکم آجائے تو اس کےبعد عقلی گھوڑے دوڑانے کا موقع ھے نہ اس میں حکمتیں اورمصلحتیں تلاش کرنےکاموقع باقی رہتاھے اور نہ اس میں چوں وچرا کرنے کا موقع ھے ۔ ایک مؤمن کا کام یہ ھے کہ اللّه کی طرف سے حکم آجائے تو اپنا سر جھکا دے اور اس حکم کی اتباع کرے ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کےپاس حکم آگیا کہ بیٹے کو ذبح کردو اور یہ حکم بھی خواب کے ذریعے سے آیا ، اگر اللّه تعالٰی چاہتےتو وحی کے ذریعے حکم نازل فرمادیتےکہ اپنےبیٹےکو ذبح کرو لیکن اللّه تعالٰی نے ایسا نہیں کیابلکہ خواب میں آپؑ کو یہ دکھایا گیا اپنے بیٹے کو ذبح کر رھے ہیں اگر ہمارے جیسا تاویل کرنےوالاکوئی شخص ہوتاتو یہ کہہ دیتاکہ یہ توخواب کی بات ھے ۔ اس پر عمل کرنے کی کیا ضرورت ھے مگر یہ بھی حقیقت میں ایک امتحان تھا کہ چونکہ جب انبیاء علیہم السلام کاخواب وحی ہوتا ھے تو کیا وہ اس وحی پر عمل کرتے یا نہیں ؟ اس لئے آپؑ کو یہ عمل خواب دکھایا گیا اورجب آپؑ کو یہ معلوم ھوگیا کہ یہ اللّه تعالٰی کی طرف سے ایک حکم ھے کہ اپنے بیٹے کو ذبح کردو تو باپ نے پلٹ کر اللّه تعالٰی سے یہ نہیں پوچھاکہ یااللّه ! یہ حکم آخرکیوں دیاجارہا ھے؟ اس میں کیا حکمت اور مصلحت ھے ؟ دنیا کا کوئی قانون کوئی نظامِ زندگی اس بات کو اچھا نہیں سمجھتا کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے ، عقل کی کسی میزان پر اس حکم کو اتار کر دیکھے تو کسی میزان پر یہ پورا اترتا نظر نہیں آتا ۔ تو آپ علیہ السلام نے اللّه تعالٰی سے اس کی مصلحت نہیں پوچھی البتّہ بیٹے سے امتحان اور آزمائش کرنے کے لئے سوال کیا کہ : ( سورۃ الصفات آیت ۱۰۳ ) ،، اے بیٹےمیں نےتو خواب میں یہ دیکھا ھےکہ تمہیں ذبح کر رہا ھوں اب تمہاری کیا رائے ھے ؟ ان کی رائے اس لئے نہیں پوچھی کہ اگر ان کی رائے نہیں ھوگی تو ذبح نہیں کروں گا بلکہ ان کی رائے اس لئےپوچھی کہ بیٹے کو آزمائیں اور اللّه تعالٰی کے حکم کے بارے میں ان کا تصور کیاھے ؟ وہ بیٹا بھی حضرت ابراہیم خلیل اللّه کا بیٹا تھا ، وہ بیٹا جن کے صلب سے سید الاولین والآخرین ﷺ دنیا میں تشریف لانے والے تھے اس بیٹے نے بھی پلٹ کر یہ نہ پوچھا کہ ابا جان ! مجھ سےکیا جرم سرزد ھوا ھے ؟ میرا قصور کیا ھے؟ کہ مجھے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ھے اس میں کیا حکمت اور مصلحت ھے ؟ بلکہ بیٹے کی زبان پر ایک جواب تھا کہ : آیت ترجمہ ۔ ،، ابا جان ! آپ کے پاس جو حکم آیا ھے اس کو کر گزریئےاور جہاں تک میرا معاملہ ھےتو آپؑ ان شاء اللّه مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔ میں آہ وبکا نہیں کروں گا ، میں روؤں گا نہیں اور چلاؤں گانہیں اور آپؑ کو اس کام سے نہیں روکوں گا آپ کر گزریئے ۔ جب باپ بھی ایسا اولوالعزم اور بیٹا بھی اولوالعزم ، دونوں اس حکم پر عمل کرنے کے لئے تیار ھوگئے اور باپ نے بیٹے کو زمین پر لٹا دیا اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام نےفرمایاکہ اباجان آپؑ مجھے پیشانی کےبل لٹائیں اس لئے کہ اگر سیدھا لیٹا تو میری صورت سامنے ھوگی جس کی وجہ سے کہیں ایسا نہ ھو کہ آپؑ کے دل میں بیٹے کی محبّت کاجوش آجائےاور آپؑ چھری نہ چلاسکیں ۔ اللّه تعالٰی کویہ ادائیں اتنی پسند آئیں کہ اللّه تعالٰی نےان اداؤں کا ذکر قرآن کریم میں بھی فرمایا ۔ روایتوں میں آتا ھے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لٹانے لگے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اباجان ! آپؑ مجھے ذبح تو کررھےہیں ایک کام یہ کرلیجئے کہ میرےکپڑے اچھی طرح سمیٹ لیجئے اس لئے کہ کہ جب میں ذبح ھوں گاتو فطری طور پر تڑپوں گا اور تڑپنےکے نتیجے میں ھوسکتا ھے کہ خون کے چھینٹے دور تک جائیں اور اس کی وجہ سے میرے کپڑے جگہ جگہ سے خون میں لت پت ھوجائیں اور پھر میری والدہ جب میرے کپڑوں کو دیکھیں گی تو ان کو بہت ملال ھوگا اس لئے آپ میرے کپڑوں کو اچھی طرح سمیٹ لیں ۔ پھر کیا ھوا ؟ جب ان دونوں نےاپنےحصےکا کام پورا کردیا تو اللّه تعالٰی فرماتےہیں کہ جب بندوں نے اپنے حصے کا کام کرلیا تو اب مجھے اپنے حصے کا کام کرنا ھے ۔ چنانچہ فرمایا کہ : اے ابراہیمؑ تم نے اس خواب کو سچ کر دکھایا ، اب ہماری قدرت کا تماشا دیکھو ۔ چنانچہ جب آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک جگہ بیٹھے مسکرا رھے ہیں اور وہاں ایک دنبہ ذبح کیا ھوا پڑا ھے ۔ یہ پورا واقعہ جو درحقیقت قربانی کی آمد کی بنیاد ھے روز اول سےیہ بتا رہا ھےکہ قربانی اس لئےشروع کی گئی ھے تاکہ انسانوں کے دلوں میں یہ احساس یہ علم اور معرفت پیدا ھو کہ اللّه تعالٰی کا حکم ہر چیز پر فوقیت رکھتا ھے اور دین درحقیقت اتباع کا نام ھے اور جب حکم آجائے تو پھر عقلی گھوڑے دوڑانے کا موقع نہیں حکمتیں اور مصلحتیں تلاش کرنے کا موقع نہیں ھے ۔ مختصر سی کوشش امید ھے کہ سمجھدار آدمی کے لئے اس تحریر میں بہت کچھ ھے ۔۔ اللّه ربّ العزّت ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ،آمین 🦋ﷻ💖ﷺ🦋ﷻ💖ﷺ🦋,ﷻ💖ﷺ🦋ﷻ💖 💚💛🤍💚💛🤍💚💛🤍💚💛
*_
🌿🌹🌿🌹🌿🌹🌿
قربانی کے معنی ہیں ،، اللّه کا تقرب حاصل کرنے والی
چیز ،، اور یہ لفظ ،، قربانی قربان سےنکلا ھے اور لفظ
قربان ، قرب ، سے نکلا ھے تو قربانی کے معنی یہ ہیں
کہ وہ چیزجس سےاللّه تعالٰی کا تقرب حاصل کیاجائے
اور اس قربانی کے سارے عمل میں یہ سکھایا گیا ھے
کہ ہمارےحکم کی اتباع کانام دین ھے۔ جب ہماراحکم
آجائے تو اس کےبعد عقلی گھوڑے دوڑانے کا موقع ھے
نہ اس میں حکمتیں اورمصلحتیں تلاش کرنےکاموقع
باقی رہتاھے اور نہ اس میں چوں وچرا کرنے کا موقع
ھے ۔ ایک مؤمن کا کام یہ ھے کہ اللّه کی طرف سے
حکم آجائے تو اپنا سر جھکا دے اور اس حکم کی
اتباع کرے ۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کےپاس حکم آگیا کہ
بیٹے کو ذبح کردو اور یہ حکم بھی خواب کے ذریعے
سے آیا ، اگر اللّه تعالٰی چاہتےتو وحی کے ذریعے حکم
نازل فرمادیتےکہ اپنےبیٹےکو ذبح کرو لیکن اللّه تعالٰی
نے ایسا نہیں کیابلکہ خواب میں آپؑ کو یہ دکھایا گیا
اپنے بیٹے کو ذبح کر رھے ہیں اگر ہمارے جیسا تاویل
کرنےوالاکوئی شخص ہوتاتو یہ کہہ دیتاکہ یہ توخواب
کی بات ھے ۔ اس پر عمل کرنے کی کیا ضرورت ھے
مگر یہ بھی حقیقت میں ایک امتحان تھا کہ چونکہ
جب انبیاء علیہم السلام کاخواب وحی ہوتا ھے تو کیا
وہ اس وحی پر عمل کرتے یا نہیں ؟ اس لئے آپؑ کو یہ
عمل خواب دکھایا گیا اورجب آپؑ کو یہ معلوم ھوگیا
کہ یہ اللّه تعالٰی کی طرف سے ایک حکم ھے کہ اپنے
بیٹے کو ذبح کردو تو باپ نے پلٹ کر اللّه تعالٰی سے یہ
نہیں پوچھاکہ یااللّه ! یہ حکم آخرکیوں دیاجارہا ھے؟
اس میں کیا حکمت اور مصلحت ھے ؟ دنیا کا کوئی
قانون کوئی نظامِ زندگی اس بات کو اچھا نہیں
سمجھتا کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے ، عقل کی کسی
میزان پر اس حکم کو اتار کر دیکھے تو کسی میزان
پر یہ پورا اترتا نظر نہیں آتا ۔
تو آپ علیہ السلام نے اللّه تعالٰی سے اس کی مصلحت
نہیں پوچھی البتّہ بیٹے سے امتحان اور آزمائش کرنے
کے لئے سوال کیا کہ : ( سورۃ الصفات آیت ۱۰۳ )
،، اے بیٹےمیں نےتو خواب میں یہ دیکھا ھےکہ تمہیں
ذبح کر رہا ھوں اب تمہاری کیا رائے ھے ؟ ان کی رائے
اس لئے نہیں پوچھی کہ اگر ان کی رائے نہیں ھوگی
تو ذبح نہیں کروں گا بلکہ ان کی رائے اس لئےپوچھی
کہ بیٹے کو آزمائیں اور اللّه تعالٰی کے حکم کے بارے
میں ان کا تصور کیاھے ؟ وہ بیٹا بھی حضرت ابراہیم
خلیل اللّه کا بیٹا تھا ، وہ بیٹا جن کے صلب سے سید
الاولین والآخرین ﷺ دنیا میں تشریف لانے والے تھے
اس بیٹے نے بھی پلٹ کر یہ نہ پوچھا کہ ابا جان !
مجھ سےکیا جرم سرزد ھوا ھے ؟ میرا قصور کیا ھے؟
کہ مجھے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ھے اس میں کیا
حکمت اور مصلحت ھے ؟ بلکہ بیٹے کی زبان پر ایک
جواب تھا کہ : آیت ترجمہ ۔
،، ابا جان ! آپ کے پاس جو حکم آیا ھے اس کو کر
گزریئےاور جہاں تک میرا معاملہ ھےتو آپؑ ان شاء اللّه
مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔
میں آہ وبکا نہیں کروں گا ، میں روؤں گا نہیں اور
چلاؤں گانہیں اور آپؑ کو اس کام سے نہیں روکوں گا
آپ کر گزریئے ۔ جب باپ بھی ایسا اولوالعزم اور بیٹا
بھی اولوالعزم ، دونوں اس حکم پر عمل کرنے کے لئے
تیار ھوگئے اور باپ نے بیٹے کو زمین پر لٹا دیا اس
وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام نےفرمایاکہ اباجان
آپؑ مجھے پیشانی کےبل لٹائیں اس لئے کہ اگر سیدھا
لیٹا تو میری صورت سامنے ھوگی جس کی وجہ سے
کہیں ایسا نہ ھو کہ آپؑ کے دل میں بیٹے کی محبّت
کاجوش آجائےاور آپؑ چھری نہ چلاسکیں ۔ اللّه تعالٰی
کویہ ادائیں اتنی پسند آئیں کہ اللّه تعالٰی نےان اداؤں
کا ذکر قرآن کریم میں بھی فرمایا ۔
روایتوں میں آتا ھے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ
السلام اپنے بیٹے کو لٹانے لگے تو حضرت اسماعیل
علیہ السلام نے فرمایا کہ اباجان ! آپؑ مجھے ذبح تو
کررھےہیں ایک کام یہ کرلیجئے کہ میرےکپڑے اچھی
طرح سمیٹ لیجئے اس لئے کہ کہ جب میں ذبح ھوں
گاتو فطری طور پر تڑپوں گا اور تڑپنےکے نتیجے میں
ھوسکتا ھے کہ خون کے چھینٹے دور تک جائیں اور
اس کی وجہ سے میرے کپڑے جگہ جگہ سے خون
میں لت پت ھوجائیں اور پھر میری والدہ جب میرے
کپڑوں کو دیکھیں گی تو ان کو بہت ملال ھوگا اس
لئے آپ میرے کپڑوں کو اچھی طرح سمیٹ لیں ۔
پھر کیا ھوا ؟ جب ان دونوں نےاپنےحصےکا کام پورا
کردیا تو اللّه تعالٰی فرماتےہیں کہ جب بندوں نے اپنے
حصے کا کام کرلیا تو اب مجھے اپنے حصے کا کام
کرنا ھے ۔ چنانچہ فرمایا کہ :
اے ابراہیمؑ تم نے اس خواب کو سچ کر دکھایا ، اب
ہماری قدرت کا تماشا دیکھو ۔ چنانچہ جب آنکھیں
کھولیں تو دیکھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام
ایک جگہ بیٹھے مسکرا رھے ہیں اور وہاں ایک دنبہ
ذبح کیا ھوا پڑا ھے ۔
یہ پورا واقعہ جو درحقیقت قربانی کی آمد کی بنیاد
ھے روز اول سےیہ بتا رہا ھےکہ قربانی اس لئےشروع
کی گئی ھے تاکہ انسانوں کے دلوں میں یہ احساس
یہ علم اور معرفت پیدا ھو کہ اللّه تعالٰی کا حکم ہر
چیز پر فوقیت رکھتا ھے اور دین درحقیقت اتباع کا
نام ھے اور جب حکم آجائے تو پھر عقلی گھوڑے
دوڑانے کا موقع نہیں حکمتیں اور مصلحتیں تلاش
کرنے کا موقع نہیں ھے ۔
مختصر سی کوشش امید ھے کہ سمجھدار آدمی کے
لئے اس تحریر میں بہت کچھ ھے ۔۔
اللّه ربّ العزّت ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ،آمین
🦋ﷻ💖ﷺ🦋ﷻ💖ﷺ🦋,ﷻ💖ﷺ🦋ﷻ💖
💚💛🤍💚💛🤍💚💛🤍💚💛
Comments