🌾🌾 سفرِ عشق۔۔۔۔۔ 🌸🌺🥀 🌲سیاحت کا جنوں۔۔۔۔ 🏕️🏔️ 👈🏼 قسط نمبر ≋〔⋖ 3 ⋗〕≋ 📹 پاکستان قدرتی حسن، پہاروں، وادیوں، دریاؤں اور آبشاروں سے مالا مال ہے، اگر اس کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کی وادیوں کو دیکھا جائے تو شاید آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا کہ اتنے خوبصورت، پرسکون اور پرفضا مقامات کی دولت پاکستان کو اللّه تعالیٰ نے دی ہے۔ 🔅🔆🎊🎊 💎 پاکستان کے ایسے ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مشہور جگہ کی سیر ہم آپ کو کرواتے ہیں، جس کا نام ہے وادی ناران۔۔۔۔۔ 🖼️ ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* باقی مسافر حضرات، بابا جی کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جبکہ ڈرائیور پہلےکی طرح مسکرا رہا تھا جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ سب ہوٹل میں کھانا کے لیے داخل ہوئے۔ ہمیں بھوک نہیں لگ رہی تھی۔ ہوٹل کے سامنے سڑک کی دوسری جانب ایک دکان تھی۔ دکان کیا، ٹھیلہ لگ رہا تھا۔ ہم وہاں گئے۔ جوان سا لڑکا تھا۔ ہم نے 4 عدد ٹماٹر لیے اور جوان لڑکے کو آدھا کلو گھی اور 3 انڈے دینے کو کہا۔ جب وہ انڈے اور گھی دینے لگا تو ہم نے پوچھا "وادیِ کاغان تک کتنے گھنٹے کا رستہ باقی ہے”۔ اس نے کہا بس دو گھنٹے۔ پھر ہم نے دوسرا سوال کیا کہ کیا وہاں سامان خورد و نوش میسر ہے؟ تو وہ مسکرا کر کہنے لگا کہ ہاں۔ بلکل ہے۔ ہمارا جی چاہ رہا تھا کہ خریدا ہوا سامان واپس کر دیں۔ مگر "نفس ِخوب” نے ہمیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ جبکہ "نفس ِبد” ہمیشہ کی طرح ہمیں بھڑکانے کی بے جا کوشش کرتا رہا۔ جب سب کھانا کھا کر باہر نکلے تو بابا جی ہماری طرف آئے اور کہنے لگے "یہ گدھے کا بچہ آج رات ہمیں خاک میں کرے گا "۔ ہم نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ دعائیں کر کر کے بل آخر ہم منزل مقصود پر پہنچ ہی گئے۔ تاریکی میں ہماری آنکھیں کمزوری کا اظہار کرتی ہیں۔ اس لیے ہمیں زیادہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہمیں اپنا حسن بھی بہت عزیز ہے اس لیے ہم عینک کے استعمال سے گریز کرتے ہیں ۔ ہمارا یہ گمان ہےکہ کہیں ایسا نا ہو کہ کوئی دل نشین ہمارے عشق کے جال میں پھنس جائے مگر پھر ہماری عینک کو دیکھ کر اپنے دل کا فیصلہ رد کر دے ۔ دل بھی کیا کمبخت چیز ہے۔ سارے مسافرکوسٹر سے اترے ۔ اترتے ہی ہمیں محسوس ہوا کہ سڑک احمد فرازصاحب کی سی تھی۔ یعنی رخ بلندی کی جانب۔ کچھ دیر میں ہمیں محسوس ہوا کہ بجلی چلی گئی ہے کیونکہ ہر جگہ سے جنریٹر کی دل خراش آوازیں آرہی تھیں۔ بارش زور و شور سے تشویق میں مگن تھی۔ وہ فرنگی لوگ کہتے ہیں ناں کہ It was raining cat and dogs یعنی بلی اور کتوں والی بارش۔ خیر،سب نے اپنا سامان اٹھایا اور اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہم ابھی آسمان و زمین پر غور کر ہی رہے تھے کہ اچانک بابا جی کہنے لگے "کوئی جگہ نہیں ۔ ۔ ۔ تو ہمارے ساتھ آجاو” ہم نے بابا جی کا بہت شکریہ ادا کیا۔ "خدا آپ کو سلامت رکھے۔ آپ نے پوچھ لیا، بس ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ مہمان نوازی کا شکریہ۔” بابا جی کہنے لگے "نہیں نہیں، ہمارا ادھر ہوٹل ہے بچہ، ہم کرایہ لیتا ہے۔ ہم پوچھ رہا ہے اگر جگہ نہیں ہے تو ہم تم کو اپنا ہوٹل دکھاوے” تب بات سمجھ میں آئی۔ ہم نے سوچھا بابا جی اصول کے پکے نظر آتے ہیں۔ اور جگہ دیکھنے میں کیا حرج ہے۔ پسند نہیں آیا تو ہم نا کر دینگے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے ۔ جگہ دکھا دیں۔ بابا جی نے اشارہ کیا اور ہم ان کا پیچھا کرنے لگے۔ بابا جی ہمیں ایک تاریک اور تنگ گلی میں لے گئے۔ راستے میں ہم نے پوچھا "بابا جی اتنا بتا دیں کہ کرایہ کتنا ہے؟” بابا جی نے کہا "بچہ، پہلے جگہ تو دیکھ لو۔ تم کو نوبت والا کمرہ دکھائے گا۔” گلی کے اندھر جاتے ہی ہمیں ایک بہت بڑی عمارت نظر آئی۔ عمارت کی دیواروں پر خوبصورت ٹائلز لگے ہوئے تھے۔ باہر سے ہر کمرے پر نصب کی ہوئی ایک جیسی کھڑکیاں نظر آرہی تھیں جو کہ بہت صاف ستھری اور کشادہ تھیں۔ ہم نے سوچا جگہ تو بہت اچھی ہے مگر پتا نہیں کرایہ کتنا ہوگا۔ اس عمارت کے قریب جاتے ہی کیا دیکھتے ہیں کہ بابا جی کمر کی لچک دکھا کر عمارت کو چھوڑ کر دوسری جانب داخل ہوگئے۔ ہم آگے چلے اور ایک دوسری گلی میں داخل ہوئے۔ اندر ایک چھوٹی سی عمارت تھی۔ عمارت کے اندر گئے تو ہمیں پتا لگا کہ عمارت میں مرمت کا کام باقی ہے۔ راستہ میں شکستہ بوتلیں، اینٹیں، ہتھوڑے، ٹوٹی پھوٹی ٹائلیں، اور سمینٹ کی تھیلیاں پڑی تھیں۔ بابا جی پہلی منزل کی جانب گئے جو عمارت کی آخری منزل بھی تھی۔ بابا جی نے الٹے ہاتھ پرپہلےکمرے کا دروازہ کھولا اور ہم اندر گئے۔ کمرہ چھوٹا تھا۔ ایک بستر، ایک چھوٹی سی میز، جس پر ایک پانی کی بوتل اور ایک گلاس نجانے کب سے رکھا ہوا تھا، فرش پر کچھ اخبار کے صفحے جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کسی نے ان صفحات سے اپنے ہاتھ صاف کیے ہوں گے۔ ایک دروازہ غسل خانے میں جا کھلتا تھا۔ ہمیں کمرہ صحیح لگا۔ ویسے بھی ہم کونسا عیش کرنے آئے تھے؟ ہم تو آئے تھے غم اٹھانے ، دربدر ہونے، جستجو کرنے ۔ بقول جون؛ اے شخص میں تیری جستجو سے بے زار نہیں ہوں، تھک گیا ہوں ہم نے دیکھا جگہ صاف ستھری ہے۔ بابا جی بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ "نوبت والا کمرہ دکھایا ہے تم کو”۔ ہمیں بات سمجھ نہیں آئی مگر ہم خوش ہوئے۔ کوئی جدید ماڈل کا کمرہ ہوگا۔ پھر بابا جی کہنے لگے "ہمارے پاس گرم پانی موجود نہیں ہے ہم پہلے سے بتاوے”۔ ہماری خوشی دھیمی پڑھ گئی۔ ہماری اماں جنہیں ہم "مانی” پکارتے ہیں ہمیں بچپن سے کہتی چلی آرہی ہیں کہ ہم "بز مانند” ہیں۔ یعنی ہمیں سردی جلدی لگتی ہے۔ ہم اپنی انگلیاں آپس میں مسلنے(ملنے) لگےاور بابا جی سے پوچھا بابا جی کتنا؟ بابا جی نے کہا "دیکھو، تم ایسا موسم میں آیا ہے جو کوئی نہیں آتا۔ "بیجنیس” بلکل کم ہے، اور تم آئے بھی ہو اکیلے، دیکھ رہے ہو یہ کمرہ 2 لوگوں کے لیے ہے۔” ہم نے سر کجھا کر سوچا، "لے بھائی، ایسی تمہید باندھنے کے بعد ایسا نرخ بتائیں گے کہ ہم پانی مانگے بغیر ہی بھاگ جائیں گے”۔ مگر بابا جی نے کہا "400 روپیے”۔ ہم سوچ میں پڑھ گئے۔ جہاں تک ہمیں یاد آرہا تھا، مراد علی نے کہا تھا کہ کم سے کم 2 ہزار اور 1500 میں ایک کمرہ کرایہ پر دیتے ہیں۔ پھر یہ کیا ماجرا ہے؟ ہمیں سوچ میں دیکھ کر بابا جی نے دوبارہ دہرایا "بچہ ، یہ نوبت والا کمرہ ہے”۔ یہ سنتے ہی ہم نے فورا کہا ٹھیک ہے ۔ بابا جی چلے گئے۔ ہم نے دوبارہ کمرے کا خوب جائزہ لیا۔ ٹھیک لگ رہا تھا۔ کمرے میں صرف ایک کھڑکی تھی وہ بھی عمارت کے اندر ہی کھلتی تھی۔ پھر ہم نے سب سے اہم جگہ کا جائزہ لیا۔ جی ہاں،غسل خانہ۔ صاف لگ رہا تھا۔ نل کا پانی کھولا تو پانی برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔ پاس ہی ایک استعمال شدہ صابن بھی نظر آیا۔ جبکہ ایک عدد بالٹی اور لوٹہ بھی رکھا ہوا تھا۔ ہم واپس کمرے میں آئے۔ بستہ کمرے کے ایک کھونے میں پھینکا اور بستر پر گر گئے۔ سر میں درد کی شدت ابھی بھی موجود تھی۔ شاید پہلے سے بھی زیادہ۔ بارش کی آواز اپنے زوروں پر تھی۔ کپڑے بدل کر اور پاؤں وغیرہ دھو کرہم بستر پر لیٹ گیے اور پلکوں کو وصال بخشی۔ ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾ 0꙲ 🏞️اگر آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں نیچے آکر آپ کو چھولیں بلکہ لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟ اس دلچسپ سفر کے بارے میں مزید جاننے کے لئے کل کی قسط کا انتظار کریں۔ 🚙🚕🚗
🌾🌾 سفرِ عشق۔۔۔۔۔ 🌸🌺🥀
🌲سیاحت کا جنوں۔۔۔۔ 🏕️🏔️
👈🏼 قسط نمبر ≋〔⋖ 3 ⋗〕≋
📹 پاکستان قدرتی حسن، پہاروں، وادیوں، دریاؤں اور آبشاروں سے مالا مال ہے، اگر اس کے شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کی وادیوں کو دیکھا جائے تو شاید آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا کہ اتنے خوبصورت، پرسکون اور پرفضا مقامات کی دولت پاکستان کو اللّه تعالیٰ نے دی ہے۔ 🔅🔆🎊🎊
💎 پاکستان کے ایسے ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مشہور جگہ کی سیر ہم آپ کو کرواتے ہیں، جس کا نام ہے وادی ناران۔۔۔۔۔ 🖼️
۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄*
باقی مسافر حضرات، بابا جی کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جبکہ ڈرائیور پہلےکی طرح مسکرا رہا تھا جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ سب ہوٹل میں کھانا کے لیے داخل ہوئے۔ ہمیں بھوک نہیں لگ رہی تھی۔ ہوٹل کے سامنے سڑک کی دوسری جانب ایک دکان تھی۔ دکان کیا، ٹھیلہ لگ رہا تھا۔ ہم وہاں گئے۔
جوان سا لڑکا تھا۔ ہم نے 4 عدد ٹماٹر لیے اور جوان لڑکے کو آدھا کلو گھی اور 3 انڈے دینے کو کہا۔ جب وہ انڈے اور گھی دینے لگا تو ہم نے پوچھا "وادیِ کاغان تک کتنے گھنٹے کا رستہ باقی ہے”۔ اس نے کہا بس دو گھنٹے۔ پھر ہم نے دوسرا سوال کیا کہ کیا وہاں سامان خورد و نوش میسر ہے؟ تو وہ مسکرا کر کہنے لگا کہ ہاں۔ بلکل ہے۔ ہمارا جی چاہ رہا تھا کہ خریدا ہوا سامان واپس کر دیں۔ مگر "نفس ِخوب” نے ہمیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ جبکہ "نفس ِبد” ہمیشہ کی طرح ہمیں بھڑکانے کی بے جا کوشش کرتا رہا۔
جب سب کھانا کھا کر باہر نکلے تو بابا جی ہماری طرف آئے اور کہنے لگے "یہ گدھے کا بچہ آج رات ہمیں خاک میں کرے گا "۔ ہم نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔
دعائیں کر کر کے بل آخر ہم منزل مقصود پر پہنچ ہی گئے۔
تاریکی میں ہماری آنکھیں کمزوری کا اظہار کرتی ہیں۔ اس لیے ہمیں زیادہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہمیں اپنا حسن بھی بہت عزیز ہے اس لیے ہم عینک کے استعمال سے گریز کرتے ہیں ۔ ہمارا یہ گمان ہےکہ کہیں ایسا نا ہو کہ کوئی دل نشین ہمارے عشق کے جال میں پھنس جائے مگر پھر ہماری عینک کو دیکھ کر اپنے دل کا فیصلہ رد کر دے ۔ دل بھی کیا کمبخت چیز ہے۔
سارے مسافرکوسٹر سے اترے ۔ اترتے ہی ہمیں محسوس ہوا کہ سڑک احمد فرازصاحب کی سی تھی۔ یعنی رخ بلندی کی جانب۔ کچھ دیر میں ہمیں محسوس ہوا کہ بجلی چلی گئی ہے کیونکہ ہر جگہ سے جنریٹر کی دل خراش آوازیں آرہی تھیں۔ بارش زور و شور سے تشویق میں مگن تھی۔ وہ فرنگی لوگ کہتے ہیں ناں کہ
It was raining cat and dogs
یعنی بلی اور کتوں والی بارش۔
خیر،سب نے اپنا سامان اٹھایا اور اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہم ابھی آسمان و زمین پر غور کر ہی رہے تھے کہ اچانک بابا جی کہنے لگے "کوئی جگہ نہیں ۔ ۔ ۔ تو ہمارے ساتھ آجاو”
ہم نے بابا جی کا بہت شکریہ ادا کیا۔
"خدا آپ کو سلامت رکھے۔ آپ نے پوچھ لیا، بس ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ مہمان نوازی کا شکریہ۔”
بابا جی کہنے لگے "نہیں نہیں، ہمارا ادھر ہوٹل ہے بچہ، ہم کرایہ لیتا ہے۔ ہم پوچھ رہا ہے اگر جگہ نہیں ہے تو ہم تم کو اپنا ہوٹل دکھاوے”
تب بات سمجھ میں آئی۔
ہم نے سوچھا بابا جی اصول کے پکے نظر آتے ہیں۔ اور جگہ دیکھنے میں کیا حرج ہے۔ پسند نہیں آیا تو ہم نا کر دینگے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے ۔ جگہ دکھا دیں۔
بابا جی نے اشارہ کیا اور ہم ان کا پیچھا کرنے لگے۔
بابا جی ہمیں ایک تاریک اور تنگ گلی میں لے گئے۔ راستے میں ہم نے پوچھا "بابا جی اتنا بتا دیں کہ کرایہ کتنا ہے؟” بابا جی نے کہا "بچہ، پہلے جگہ تو دیکھ لو۔ تم کو نوبت والا کمرہ دکھائے گا۔”
گلی کے اندھر جاتے ہی ہمیں ایک بہت بڑی عمارت نظر آئی۔ عمارت کی دیواروں پر خوبصورت ٹائلز لگے ہوئے تھے۔ باہر سے ہر کمرے پر نصب کی ہوئی ایک جیسی کھڑکیاں نظر آرہی تھیں جو کہ بہت صاف ستھری اور کشادہ تھیں۔ ہم نے سوچا جگہ تو بہت اچھی ہے مگر پتا نہیں کرایہ کتنا ہوگا۔ اس عمارت کے قریب جاتے ہی کیا دیکھتے ہیں کہ بابا جی کمر کی لچک دکھا کر عمارت کو چھوڑ کر دوسری جانب داخل ہوگئے۔
ہم آگے چلے اور ایک دوسری گلی میں داخل ہوئے۔ اندر ایک چھوٹی سی عمارت تھی۔ عمارت کے اندر گئے تو ہمیں پتا لگا کہ عمارت میں مرمت کا کام باقی ہے۔ راستہ میں شکستہ بوتلیں، اینٹیں، ہتھوڑے، ٹوٹی پھوٹی ٹائلیں، اور سمینٹ کی تھیلیاں پڑی تھیں۔ بابا جی پہلی منزل کی جانب گئے جو عمارت کی آخری منزل بھی تھی۔ بابا جی نے الٹے ہاتھ پرپہلےکمرے کا دروازہ کھولا اور ہم اندر گئے۔
کمرہ چھوٹا تھا۔ ایک بستر، ایک چھوٹی سی میز، جس پر ایک پانی کی بوتل اور ایک گلاس نجانے کب سے رکھا ہوا تھا، فرش پر کچھ اخبار کے صفحے جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کسی نے ان صفحات سے اپنے ہاتھ صاف کیے ہوں گے۔ ایک دروازہ غسل خانے میں جا کھلتا تھا۔ ہمیں کمرہ صحیح لگا۔ ویسے بھی ہم کونسا عیش کرنے آئے تھے؟ ہم تو آئے تھے غم اٹھانے ، دربدر ہونے، جستجو کرنے ۔ بقول جون؛
اے شخص میں تیری جستجو سے
بے زار نہیں ہوں، تھک گیا ہوں
ہم نے دیکھا جگہ صاف ستھری ہے۔ بابا جی بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ "نوبت والا کمرہ دکھایا ہے تم کو”۔ ہمیں بات سمجھ نہیں آئی مگر ہم خوش ہوئے۔ کوئی جدید ماڈل کا کمرہ ہوگا۔
پھر بابا جی کہنے لگے "ہمارے پاس گرم پانی موجود نہیں ہے ہم پہلے سے بتاوے”۔ ہماری خوشی دھیمی پڑھ گئی۔ ہماری اماں جنہیں ہم "مانی” پکارتے ہیں ہمیں بچپن سے کہتی چلی آرہی ہیں کہ ہم "بز مانند” ہیں۔ یعنی ہمیں سردی جلدی لگتی ہے۔
ہم اپنی انگلیاں آپس میں مسلنے(ملنے) لگےاور بابا جی سے پوچھا بابا جی کتنا؟ بابا جی نے کہا "دیکھو، تم ایسا موسم میں آیا ہے جو کوئی نہیں آتا۔ "بیجنیس” بلکل کم ہے، اور تم آئے بھی ہو اکیلے، دیکھ رہے ہو یہ کمرہ 2 لوگوں کے لیے ہے۔”
ہم نے سر کجھا کر سوچا، "لے بھائی، ایسی تمہید باندھنے کے بعد ایسا نرخ بتائیں گے کہ ہم پانی مانگے بغیر ہی بھاگ جائیں گے”۔ مگر بابا جی نے کہا "400 روپیے”۔ ہم سوچ میں پڑھ گئے۔ جہاں تک ہمیں یاد آرہا تھا، مراد علی نے کہا تھا کہ کم سے کم 2 ہزار اور 1500 میں ایک کمرہ کرایہ پر دیتے ہیں۔ پھر یہ کیا ماجرا ہے؟ ہمیں سوچ میں دیکھ کر بابا جی نے دوبارہ دہرایا "بچہ ، یہ نوبت والا کمرہ ہے”۔ یہ سنتے ہی ہم نے فورا کہا ٹھیک ہے ۔ بابا جی چلے گئے۔
ہم نے دوبارہ کمرے کا خوب جائزہ لیا۔ ٹھیک لگ رہا تھا۔ کمرے میں صرف ایک کھڑکی تھی وہ بھی عمارت کے اندر ہی کھلتی تھی۔ پھر ہم نے سب سے اہم جگہ کا جائزہ لیا۔ جی ہاں،غسل خانہ۔ صاف لگ رہا تھا۔ نل کا پانی کھولا تو پانی برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔ پاس ہی ایک استعمال شدہ صابن بھی نظر آیا۔ جبکہ ایک عدد بالٹی اور لوٹہ بھی رکھا ہوا تھا۔
ہم واپس کمرے میں آئے۔ بستہ کمرے کے ایک کھونے میں پھینکا اور بستر پر گر گئے۔ سر میں درد کی شدت ابھی بھی موجود تھی۔ شاید پہلے سے بھی زیادہ۔ بارش کی آواز اپنے زوروں پر تھی۔ کپڑے بدل کر اور پاؤں وغیرہ دھو کرہم بستر پر لیٹ گیے اور پلکوں کو وصال بخشی۔
♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾
🏞️اگر آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں نیچے آکر آپ کو چھولیں بلکہ لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟
اس دلچسپ سفر کے بارے میں مزید جاننے کے لئے کل کی قسط کا انتظار کریں۔ 🚙🚕🚗
Comments