*💀"جنات کا غلام"💀💀* ✍🏼 تحریر شاہد نزیر چوہدری 👈🏼 *قسط 18* 🎭🎭🎭 🐍 خطرناک قوتوں کے زیرِ اثر ایک شخص پر مبنی، دہشت ناک واقعات کے گرد گھومتی یہ خوف، تجسس اور دہشت سے بھرپور کہانی، اس دلچسپ سلسلہ میں لوگوں کو خوفزدہ کر دینے والے واقعات کا نا ختم ہونے والا سلسلہ یقیناً آپ کے دلوں میں ایک دہشت کا ماحول پیدا کر دے گا۔ 🦀 ┄┅═══❁ منتخب تحریریں ❁═══┅┄ اس سے اگلی شام بھی میرے لئے بڑی مصروف اور عجیب تر تھی۔ شام کو ہی شاہ صاحب نے مجھے کہہ دیا تھا کہ آج وہ مجھے اپنے ساتھ سمبڑیال لیکر جائیں گے.... یہ قصبہ وزیرآباد سیالکوٹ روڈ پر ہے۔ نہر کے کنارے آباد اس قصبہ کو چند ماہ پہلے ہی تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہاں سکھ اور ہندو رہتے تھے۔ یہاں سیالکوٹ کا ڈرائی پورٹ بھی ہے جو لب نہر ہے۔ شاہ صاحب نے بتایا کہ انہیں ایک ستم گزیدہ گھرانے کی مدد کرنی ہے۔ اس گھر میں آنے والی ہر بہو پر جن عاشق ہو جاتا تھا۔ جس سے گھبرا کر اس گھر کے نوجوان قصبہ چھوڑ جاتے تھے۔ اب وہاں صرف چھوٹا بیٹا، ایک بیٹی، ان کی والدہ اور والد رہ رہے تھے۔ چھوٹی بہو کو بھی دورے پڑتے تھے.... لیکن انکا بیٹا عمران اپنے عقیدے پر سختی سے کاربند تھا.... وہ کہتا تھا کہ ہمارے گھر میں جن بھوت کا سایہ نہیں ہے۔ یہ صرف وہم پرستی ہے۔ گھر کا سربراہ سنیارا تھا۔ پیسے کی کمی نہیں تھی۔ خوشحالی تھی.... ہم ان کے گھر مغرب کے وقت ہی پہنچ گئے تھے۔ پرشکوہ عمارت تھی۔ لیکن ایک صدی پرانی۔ گھر میں انجیر کا پچاس سال پرانا درخت تھا۔ اس کے سامنے لان تھا جس میں گھاس اور پودے تھے.... لان سے آگے رہائشی کمرے تھے.... گھر میں ایک شیفرڈ نسل کا کتا تھا۔ بہت خوفناک شکل تھی اس کی۔ سنیارے کا نام بھٹی فرض کر لیتے ہیں۔ اصل نام لکھنے کی ہمیں اجازت نہیں ہے۔ سنیارے بھٹی نے ہمارے لئے بہت ہی پرتکلف کھانا تیار کیا تھا۔ ہیڈ مرالہ کی تازہ مچھلی پکوائی تھی.... عشاءپڑھنے تک ہم گھر والوں کے ساتھ بات چیت کرتے رہے۔ سنیارا بھٹی بار بار شاہ صاحب اور مجھ سے بابا جی کے متعلق باتیں کرتا رہا ۔ وہ بڑا مشتاق تھا۔ اسے وہم بھی تھا کہ کہیں اسے بیوقوف تو نہیں بنایا جا رہا۔ عشاءکے بعد شاہ صاحب نے گھر کے سبھی افراد کو بڑے کمرے میں بلا لیا اور دروازہ بند کر کے لائٹ بجھا دی.... انہوں نے محفل کے آداب سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔ سب نے درود ابراہیمی شروع کر دیا۔ شاہ صاحب بجلی کے سوئچ بورڈ کے پاس کھڑے تھے۔ وہ زیر لب غیر مانوس زبان میں کچھ پڑھنے لگے اور ساتھ ساتھ بجلی کو آن آف کرتے رہے۔ چند منٹ بعد وہ وہاں سے ہٹ گئے.... کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا اور ساتھ ہی ”اسلام علیکم“ کی بھاری بھرکم آواز آئی.... بابا جی اپنی اصلی شکل میں آ گئے تھے.... یہ بجلی کا بار بار بجھانا اور وظائف پڑھ کر انہیں طلب کرنا دراصل انہیں اصلی جناتی شکل میں ہی متشکل کرنے کا باعث تھا.... گھر کے سبھی افراد نے فوراً وعلیکم اسلام کہہ کر ان کا استقبال کیا۔ بابا جی کی آمد سے سنیارے بھٹی کی سانسیں جوش سے تیز ہو گئی تھیں۔ بابا جی کی آمد کے ساتھ ہی شیفرڈ کتے نے بھونکنا شروع کر دیا تھا.... ”اسے تو دفع کرنا تھا.... ریاض شاہ....“ بابا کی گھمبیر آواز سنائی دی.... ”اوہ.... مجھے یاد نہیں آیا....“ ریاض شاہ جلدی سے بولے ”عمران....“ انہوں نے سنیارے بھٹی کے بیٹے کو مخاطب کیا....“ کتے کو کسی دوسرے گھر میں چھوڑ آﺅ....“ عمران کمرے سے باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ کتا دردناک آواز میں چیخنے لگا.... ”ٹھہرو.... تم اب باہر نہ جانا....“ غازی کی چہکتی آواز سنائی دی.... ”میں نے اسے سلا دیا ہے....“ ”سلا دیا.... مار دیا.... کیا.... میرا کتا تو بہت قیمتی تھا....“ عمران کہنے لگا۔ ”تم سے زیادہ قیمتی نہیں تھا وہ....“ غازی اس کے پاس پہنچ کر بولا.... اور پھر اس نے اسے چٹکی کاٹ کھائی تھی کہ عمران بلبلانے لگا۔ ”کک.... کون ہو تم.... یہ کیا کرتے ہو.... پیچھے ہٹو ناں....“ وہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔ ”غازی ادھر آرام سے بیٹھو....“ بابا جی نے اسے ڈانٹ کر کہا تو وہ میرے پاس آ گیا.... اور میرے کان میں سرگوشی کر کے بولا۔ ”بھیا.... یہاں تو پورا قبیلہ آباد ہے.... سارے ہندو ہیں.... برسوں سے ان کی پکھی یہاں آباد ہے.... ان میں چڑیلیں بھی ہیں“۔ چڑیلیں جنات اور شیاطین (بھوت) کے درمیان میں ایک بگڑی ہوئی شیطانی مخلوق ہے۔ جس طرح گھوڑے اور گدھے کے مابین.... ایک مخلوق خچر کہلاتی ہے۔ اسی طرح جنات اور بھوتوں کے درمیان مونث النسل مخلوق چڑیل کہلاتی ہے۔ یہ کافر ہوتی ہیں.... ان کا کام انسانوں کو گمراہ کرنا اور انہیں گندگی پر مائل رکھنا ہوتا ہے۔ ”کام بہت بھاری ہے....“ بابا جی نے سب کا حال احوال جاننے کے بعد کہا.... اور پھر شاہ صاحب کے ساتھ اسی غیر مانوس آواز میں بولنے لگے.... بات مکمل کرنے کے بعد شاہ صاحب میرے پاس آئے اور ایک کند سی چھری میرے ہاتھ میں پکڑا دی اور کہا۔ ”ہوشیار رہنا.... آنکھیں نہ کھولنا.... بابا جی چڑیلوں کو پکڑنے لگے ہیں....“ ابھی انہوں نے یہ کہا ہی تھا کہ کمرے میں جیسے بھونچال سا آ گیا تھا.... ایک عورت کی دہشت ناک آوازیں آنے لگیں.... باریک اور بہت ہی تیز آواز تھی یہ.... ”اوئی میں مر گئی.... ہائے میں مر گئی....“ وہ روتے روتے چلانے لگی.... ”بابا اس کو باز کرو.... مجھے چٹکیاں کاٹ رہا ہے....“ میں نے جان بوجھ کر آنکھیں کھول دی تھیں۔ اندھیرے میرے لئے روشنی بن گئے تھے اور رات کی سیاہی میں چھپے وجود مجھ پر بے نقاب ہو گئے تھے.... چڑیل ایک بہت بڑی پرچھائیں کی طرح پورے کمرے میں بھاگ رہی تھی۔ گھر کے سبھی افراد کے پیچھے سفید لبادہاوڑھے جنات کھڑے تھے جو پرچھائیں نما چڑیلوں سے انہیں محفوظ کئے ہوئے تھے۔ غازی اسکے پیچھے بھاگ کر اسے چٹکیاں کاٹ رہا تھا.... اور پھر اس نے اسے پکڑ کر دروازے کے پاس کھڑا کر دیا تھا.... ”آپ جانتے ہیں میری پکھی بڑی طاقت والی ہے۔ اگر تم نے ان انسانوں کی وجہ سے تنگ کیا تو ہم اس گھر کو جلا کر راکھ کر دیں گے....“ ”بکواس بند کرتی ہے کہ نہیں....“ غازی نے ایک زوردار تھپڑ اسکے منہ پر مارا تو وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی تھی۔ ”جو سرکار نے پوچھا ہے اس کا جواب دو....“ ”ہم ستر سال سے یہاں آباد ہیں.... انجیر کے پودے پر ہماری پوری ”پکھی“ (خاندان) آباد ہے....“ ”ان بھلے انسانوں کو تنگ کیوں کرتی ہو....“ بابا جی نے درشت انداز میں پوچھا۔ پہلے تو اس نے ایک بار پھر جواب دینے سے گریز کیا لیکن جب غازی نے اسکی گردن ناپی تو وہ بولی۔ ”ہماری ان سے کوئی دشمنی نہیں ہے.... لیکن اس سنیارے کا باپ جب اس کوٹھی میں آباد ہوا تو اس نے ہمارے استھان پائمال کر دئیے تھے۔ اس کا باپ تہجد گزار تھا۔ بڑی عبادت کرتا تھا۔ ہم اسکو تنگ نہ کر سکیں۔ اسکے مرنے کے بعد اس موئے بھٹی کی اولاد کو ہم نے نشانہ بنایا.... اسے کہو یہ گھر چھوڑ کر چلا جائے.... ہمیں سکھ سے رہنے دے....“ ”مم.... میں کیسے گھر چھوڑ کر جا سکتا ہوں.... یہ کوٹھی.... بڑی مہنگی ہے....“ سنیارا بھٹی چڑیل کی بات سن کر کانپتی ہوئی آواز میں بولا۔ ”بابا جی.... آپ انہیں نکال دیں یہاں سے....“ چڑیل یہ سن کر بولی.... ”تم ہماری قیمت ادا نہیں کر سکتے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے....“ ”جانا تو تمہیں پڑے گا....“ بابا جی سخت انداز میں بولے اور پھر غیر مانوس زبان میں شاہ صاحب کے ساتھ باتیں کرنے لگے.... غازی نے چڑیل کا منہ بند کر رکھا تھا.... ”بھٹی صاحب.... انہیں مارنا اتنا آسان نہیں ہے اور انہیں یہاں سے رخصت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو اسکی قیمت ادا کر دی جائے....“ ”کتنی رقم چاہئے....“ سنیارا بھٹی بولا....”میرے بس میں ہوئی تو دے دوں گا....“ ”پچاس تولے سونا مانگتے ہیں یہ....“ ریاض شاہ بولے.... ”پپ.... پچاس.... تولے.... جناب میں اتنا سونا کہاں سے لاﺅں۔ پانچ دس تولے.... تو دے سکتا ہوں میں.... اور پھر سونا انکے کس کام کا“ ”نہیں.... سونا تو پچاس تولے ہی دینا ہو گا.... اور ابھی.... انہیں ادا کر کے رخصت کرنا ہو گا.... انہیں مہلت نہیں دے سکتے....“ ریاض شاہ نے کہا.... تو سنیارا بھٹی بوکھلا گیا ”یہ ممکن نہیں ہے.... میں کیسے....“ ”ارے چپ کرو جی....“ اسکی بیوی تڑخ کر بولی۔ ”کیا یہ سونا ہمارے سونے جیسے بچوں سے زیادہ قیمتی ہے....“ ابھی اس نے یہ کہا ہی تھا کہ دوسرے کمرے سے کسی بچے کے رونے کی آواز آنے لگی۔ یہ سنتے ہی سنیارے کی بہو چلائی۔ اسکا بچہ دوسرے کمرے میں تھا۔ بابا جی سمجھ گئے کہ کیا ہونے والا ہے۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ دوسرے کمرے میں جاﺅ اور بچہ اٹھا کر لے آﺅ.... ±ٍمیرے لئے ایک کمرے سے دوسرے کمر ے تک جانا کوئی بہت لمبی مسافت نہیں تھی ۔ لیکن جب کارگہ فطرت کی ایک ایسی سچائی آپ کے سامنے کھڑی ہو جسے جھٹلانا ناممکن ہو آپ کے لئے پل صراط بن جاتی ہے ‘انگار وادی بن جاتی ہے ‘خارزار بن جاتی ہے ۔ اندر بچہ بلک رہا تھا....ادھر اس کی ماں تڑپ رہی تھی ....اسے خدشہ تھا کہ یہ بلائیں اسکے بچے کو نہ مار ڈالیں۔مجھے حکم ہوچکا تھا کہ میںاندر جاﺅں اوربچے کو اٹھا کر لاﺅں ....بظاہر معمولی سی بات تھی .... کمرے کا دروازہ چار قدموںپر تھا ....میںجب اسکے دروازے تک پہنچا تو غازی کے ہاتھوں میںماہی بے آب کی طرح مچلتی پرچھائیں نے چنگاڑ ماری اور مچھلی کی طرح اس کے ہاتھوں سے نکل گئی ....۔ لمحے ساکت ہوگئے ‘کمرہ خوف کے سمند ر میںڈوب گیا۔صرف اس ایک لحظہ میںانسانوں کے دل دھڑکتے سنائی دینے لگے ....پر چھائیں مجھ پر جھپٹی تھی ....اوراس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب بابا جی سرکار اس سے بھی زیادہ تیزی کےساتھ میرے اور اسکے درمیان دیوار بن گئے تھے اور پھر انہوںنے الٹے ہاتھ کاایسا تھپڑ اسکے منہ پر مارا کہ وہ بلبلاتی اور اچھلتی ہوئی اسی کو نے میں دوبارہ مقید ہوکر رہ گئی جہاںغازی کھڑا تھا....۔ میر ا پورا بدن جھرجھری لیکر رہ گیا ۔ دماغ میںعجیب سنساہٹ تیرنے لگی ۔ باجی نے میرے کاندھوں پر اپنا روئی کے گالوں جیسا ہاتھ رکھا تو میرے اعصاب پر طاری لرزے کی چادر سرک گئی ....۔ ”جاﺅ بچے کو اٹھالاﺅ ....“بابا جی نے شفقت بھرے لہجے میں کہا ۔ دوسرا کمرہ گھپ اندھیرے میںڈوباہوا تھا....۔ کچھ سجائی نہ دیا تو میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو معاً مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر دائیں جانب شعلہ سا بلند ہوا اور کسی نادیدہ ہاتھ نے موم بتی روشن کردی ....۔ادھر ایک تخت پوش بچھا ہواتھا۔ جس پر کوئی شخص سفید چادر لیئے دو زانو ہوکر بیٹھا ہوا تھا ۔اس کے سامنے ہی ایک بڑی سی گٹھڑی رکھی ہوئی تھی جس میں خاصی اچھل کود ہورہی تھی ۔ وہ شخص تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی شے اٹھاتا اورگٹھڑی پر مارنے لگتا تو اس کے اندر مچلنے والی چیزوںکی تیز سیٹی جیسی چیخیں سنائی دینے لگتیں۔ بچہ بستر پر لیٹا ہواٹانگیں مار مار کر رو رہاتھا ۔میںنے جلدی سے اسے اٹھایا اور واپس کمرے میں پہنچاتو میری سانس پھول گئی۔ مجھے یوںلگا میں بہت دور سے بھاگ کر آیا ہوں ۔ ”بھیا ڈر گئے ....“ غازی نے کہا میرے ہانپتے کانپتے اور دھڑکتے دل کی چاپ سنی تو مجھ سے اٹکھیلیاں کرنے لگا ”یار....میںنے کبھی یہ کام نہیںکیا۔ ڈر تو لگنا ہی تھا....“ میںنے پھولی ہوئی سانسوںکے درمیان جواب دیا ۔ ”کمال ہے .... آپ تو بہت کچھ دیکھ چکے ہیں۔ ٹاہلی والی سرکار کے پاس بھی تو کالی داس کے چیلوں کی ٹھکائی ہوئی تھی .... وہاں بھی انہیں بوریوں میںبندکیا گیا تھا ....۔ یادہے ادھر جب کتا بھونکنے لگا تھا تو پکھی کی چڑیلوں نے اودھم مچادی تھی ۔ اس لیے انہیںپکڑ کر باندھنا پڑا ۔ اندر غلام محمد اور ہمارے دوسرے ساتھی جنات ان پر پہرہ دے رہے تھے ۔ ویسے بھیاآپ کو ڈرنا نہیںچاہیے تھا ۔ آپ کے پاس وظائف کاخزانہ اور ہاتھ میں چھری تھی ۔ آپ پھر بھی گھبراگئے ....“ غازی میرامذاق اڑانے لگا۔ ”یار میںکوئی عامل کامل تو ہوں نہیں ....“میںنے کہا ” ہر آدمی اپنے کام میںہی اچھا لگتا ہے ۔ ابھی میرے لئے یہ تجربات حیرت ناک اور ہولناک ہیں د ل آہستہ آہستہ مضبوط ہوگا....“ ہم دونوں کو یوںباتیںکرتے دیکھ کر اہل خانہ کے دلوں سے خوف اترنا شروع ہوگیا۔ سنیارا بھٹی تو بابا جی کی شخصیت اوران کی قوت سے اسقدر متاثر ہوگیاتھا کہ اب وہ انہیں اسی تولے سونا دینے پر بھی تیار ہوگیا تھا۔ کہنے لگا ۔ ”سرکار .... میںآپ کو اسی تولے سونا دے دیتاہوں لیکن اس بات کی ضمانت کیاہے کہ میرے بچے ان شیطانوںسے محفوظ رہیںگے ....“ ”کیاہمارا یہاںموجود ہونا اس بات کی ضمانت نہیںہے .... “ باباجی سرکار نے کہا ”ہمارا یہ بیٹا تمھارے پاس ہے ۔ جب تمھیں کبھی ایسی شکایت ہو اسے کہہ دینا ....“ انہوںنے ریاض شاہ کی طرف اشارہ کیا ۔مجھے اس سودے بازی سے بڑی کھد بد ہورہی تھی کہ باباجی نے بھٹی سنیارے کے گھر سے چڑیلوں کی پکھی ختم کرنے کےلئے یہ سودابازی کیوںکی ہے ۔ وہ اتنا سونا لیکر کیاکریںگے ۔مجھے یہ سب بڑامعیوب لگ رہا تھا ۔ چونکہ اب مجھے کسی بھی قسم کی صحبت سے منع کیاگیا تھا اس لیے میںان سے دریافت تو نہ کرسکا مگر میرے اندر کا حجتی اس تشویش میں ضرور مبتلا رہا کہ آخر انہوںنے سنیارے سے اسقدر سوناطلب کیوں کیاہے ؟ ”سنیارے پتر ....“جب معاملات طے ہو چکے تو بابا جی ایک طویل توقف کے بعد اس سے مخاطب ہوئے ” تو دل سے راضی ہے ناں ....” سنیارے بھٹی نے جواب دینے میںتامل سے کام لیا اور پھر جب بولا تو لگا جیسے اس کی شہ ر گ پر کسی نے چھری رکھ کر اسے بلوایا ہو۔” جی.... جان ہے تو جہان ہے ....“ ” اپنی جان تو سبھی کوپیار ہوتی ہے ۔تو نے سچ کہا ہے ۔“ بابا جی ہنس کر بولے ” یہ گندی مخلوق ہم نے پکڑ ی ہے اس کی بھی جان ہے ....ہم مسلمانوں کو ہرایک جان کا حساب دینا ہے ۔ہم اگر کسی کو قتل کردیںگے تو اس کی کوئی معقول وجہ ہمارے پیش نظر ہوگی۔ بے وجہ قتل کرنا اللہ کے ہاں ناپسندیدہ عمل ہوتا ہے ۔ کسی کافر کو بھی بے وجہ قتل کرنا حتیٰ کہ کیڑے مکوڑوں جانوروں کاقتال بے وجہ کرنا ایک مسلمان کے تقویٰ اور ایمان کا امتحان بن جاتاہے۔البتہ موذی جنس اور اللہ کے شریک کا قتل واجب ہوجاتا ہے جب وہ آپ کی جان لینے پر تل جائے یا وہ اللہ کی ربو بیت کو ٹھکرا دے۔.... لیکن یہ معاملہ بھی بہت حساس ہے اس پر بات فی الحال مو¿خر کرتے ہیں۔ میںتمھیں ان چڑیلوںکے قتل کے حوالے سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ انہیں ماردینا ہمارے لئے مشکل کام نہیںہے ۔ہم جہاد سمجھتے ہوئے ان کا قتل کر دیںگے .... ۔اور یہ ہم کرتے رہتے ہیں ۔ مشرک جنات اورگہرے دھوئیں کی شیطانی مخلوق کے خلاف جہاد اس وقت سے جاری ہے۔جب یہ تمھاری دنیا ....اوراس زمین پر انسان آباد نہیں کیا گیاتھا ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ شیطانی اعظم یعنی ابلیس جیسے تمام جنات سے مختلف مخلوق سمجھتے ہو۔ درحقیقت ایک جن ہی تھا اس کی اطاعت خداوندی بے مثال تھی ۔ اس نے نہ جانے کتنے زمانوںتک کافر جنات کے خلاف جہاد کیا اور اپنی عبادت و ریاضت کے درجات طے کرتاہواسلطان الملائکہ بن گیا تھا ۔ یعنی فرشتوں کو بھی درس و ہدایت کے درس دیتا تھا ۔لیکن جب وہ تکبر کے غضب میںمبتلا ہواوراس نے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو وہ شیطان ملعون کہلایا .... ۔یہ چڑیلیںبھوت جنات سے قدرے مختلف مخلوق ہیںجو صرف دین ابلیس پر عمل پیرا ہیں۔ تم مسلمان اپنی عبادات اوراللہ تعالیٰ کی عطا سے اس مخلوق پر بھاری ہو اور اس حجاب قدرت اور نظام مخلوقات کی وجہ سے ان سے محفوظ رہتے ہوجو اس مخلوق کو تو نظر آتا ہے تمھیںنہیں۔ہاںتم ریاضت عبادت کے بل بوتے پر دیکھ لو تو دیکھ لو.... اس کے علاوہ یہ مخلوق تمھیں اپنااحساس دلائے تو تمھیںپہلے گماں اور پھر یقین ہوتا ہے کہ تمھارے آ س پاس تمھاری زندگیوں میںاس مخلوق کادخل ہے ۔ تم براہ راست متاثر ہوئے تھے۔ جبکہ یہ گھر جہاںکبھی ہندوﺅں کا مرگھٹ تھااس آبادی میںسکھوں اور ہندوﺅںکی افراط رہی ہے ‘یہ یہاں کے قیامتی ہیں۔ یہ یہاں کے قابض ہیں۔ اولاً تو انہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے تھا۔ یہ حکم خداوندی ہے ۔ اس مخلوق کو انسانی بستیوں میںقیام کی اجازت نہیںہے ۔ لیکن جوجنات و بھوت چڑیلیں اپنے پرکھوںکی روایات اوراپنے خاندانوں کی عصبیت کا شکار ہوتے ہیں وہ اپنی جگہیں بڑی مشکل سے چھوڑآتے ہیں ۔ سیانے لوگ جب نیاگھر بناتے ہیںتو اسکی بنیاد رکھتے ہوئے نذر نیاز کرتے اور آیت الکریمہ پڑھاتے ہیں ۔ جس گھر کی بنیاد اعوذ بااللہ اور بسم اللہ پڑھ کر رکھ دی جائے اس مقام پر ٹھہری مخلوق نار کو چلے جانے کاحکم ہوتا ہے ۔ اگر وہاں مسلمان جنات مقیم ہوں تو وہ اطاعت خداوندی کے سامنے سرجھکا دیتے ہیں اورشیطانی مخلوق بھی وہاںنہیں ٹھہرتی کیونکہ آیات قران کے اثرات ان کے اجسام کو وہاں ٹھہرنے نہیں دیتے ۔تم نے دیکھاہوگا انسانوںمیںسے ایسے کافر انسان بھی گھروں میںآباد ہونے سے پہلے اور بعدمیںوہاںایسی رسومات اداکرتے ہیںجو بظاہر انکی مذہبی روایات کا اظہار ہوتی ہیںمگر ان کامقصد اس مقام پر مقیم ناری مخلوق کو رخصت کرنا ہوتا ہے ۔ انکے کلمات شیطانی ہوتے ہیں۔ ابلیس کاعلم شیطانی علم کہلاتا ہے جو کافروں کے ہاںمروج ہے ۔اس کی سب سے بدترین مثال ہندوﺅں کی ہے ....جب یہ لوگ گھروں میںآباد ہوتے ہیںتو یہ ایسی جڑی بوٹیاںجلاتے ہیںجن کے اندر قدرت نے ایسے اثرات رکھے ہیں کہ یہ مخلوق دوطرح سے وہاںسے رخصت ہوتی ہے .... اول تو وہ مخلوق ان جڑی بوٹیوں کے جلنے سے پیدا ہونے والی مہک کو برداشت نہیںکرسکتی دوئم یہ کہ .... اس مخلوق میںایسے بھی خناس ہوتے ہیں جو اس مہک کو اپنے لئے نعمت سمجھتے ہیںاور وہاں سے چلے جاتے ہیں۔تمھیں سمجھانے کے لیے مجھے یہ وضاحت اس لیے کرنی پڑ رہی ہے کہ تو سوچ رہا ہے کہ ہم نے اسی تولے سونا کیوں مانگا .... ان شریر اجسام نے تو تمھاری جان بھی طلب کی تھی ۔ کہتی تھیں کہ ہم کو سنیارے بھٹی کا خون پلا دیںہم یہاںسے چلی جائیںگی۔ اب تم کہو کیامیںان کی یہ بات مان لیتا ۔ میںنے کہا کہ میںا ن کو قتل کردیتا ۔ لیکن یہ ہمارے اوراس مخلوق کے درمیان لڑائی کا آغاز ہوتا۔ ہم مسلمان اجناءکافر اجناءاور شیطانی مخلو ق میں حق و باطل کی لڑائی ہوتی ہے تو ہ تمھیں نظر نہیں آتی ۔ ہم دنیا پر ظاہر نہیںہوتے ۔ اگر ہم اس حجاب فطرت کی خلاف ورزی کریںگے تو انسانی بستیاں تباہ ہوجائیںگے ۔ گھر بنیادوں سے اور چھتوںسے اڑ جائیںگے ۔ ہر سو تمھیںمٹی اور ہوا کے بگولے نظر آئیں گے ۔ تو اس کا اثر کیاہوگا ۔ یہ کہ انسان دہشت زدہ ہوجائیں گے اور پھر اس پر ہماری پکڑ ہوگی۔ میرے بچے ۔ ہم اس پکڑ سے ڈرتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ نار جہنم کیاہے ہاں.... ہم تم سے تعاون کرتے ہوئے ‘انہیں یہاں سے ہجرت کر جانے پر آمادہ کریںگے ۔ اس کے لئے ہمیں انہیں قیمت چکانی ہوگی۔ ہمیںبہت سارے ان جانوروں کی قربانی بھی کرنی ہوگی جو تمھیں اور ہمیں پسند نہیںہیں.... ہم اس اہتمام کا بھی خطرہ مول لے نہیں سکتے .... ہم یہ سونا انہیںدیںگے یا پھر ان مظلوم غلاموں کو یہ سونا دیںگے جو اسکے بدلے میںانہیںایسی غذائیں مہیا کر دیںگے جو انہیں پسند ہیں۔ ہم اپنے ہاتھوں کو غلیظ نہیںکریں گے ۔ اور ہاں .... ہمارے ہوتے ہوئے ۔ اگر ان میں سے کسی نے کسی انسان کو جانی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو رب ذوالجلال کی قسم ہم انہیںقتل کردیںگے .... اور یہ ہم نے ان سے کہہ دیاہے۔ اس مخلوق کو راضی کرکے ‘وعدہ لے کر انسانی بستیوںسے بھیج دیناتمھاری اپنی روایات میںبھی ملتا ہے ۔ اس روزمیں نے محسوس کیا کہ بابا جی سرکار بہت کھل کر بول رہے تھے ۔ ان کی عمر رفتہ کے راز اور مخلوق نار کی پر اسرار روایات سے بھی آگاہی ہورہی تھی۔ گویا بابا جی سرکار پر وجد طاری تھا ۔ میںنے اس مرحلہ پر غفلت اختیار نہ کی اوراپنی معلومات اجناءکے لیے سوال داغ دیا ۔ میرایہ سوال بہتے پانیوں میںایک دم سے تلاطم برپا کردینے کے مترادف تھا۔ لیکن اب مجھے یہ یقین ہو چکا تھا کہ بابا جی سرکار مجھ سے ناراض نہیںہوں گے ۔ ”سرکار یہ مخلوق ابلیس جو اس گھر کے سکون کو غارت کررہی تھی۔ محض اسی وجہ سے ان سے دشمنی لے رہی تھی کہ انہوںنے ان کی بستی پر قبضہ کرلیا تھا ۔ سرکار یہ گھر تو بہت چھوٹا ہے ۔ انکی بستی اس گھر کے اندر کیسے سما سکتی ہے ۔ “ میری بات سن کر سنیارے بھٹی کے منہ سے ”ہوں“نکل گیا۔ جس کا مطلب تھاکہ وہ ابھی تک شک و شبہ میںمبتلا تھا اور گویا اس کا ”ہوں “ کہنے کا مطلب تھاکہ یہ ہوا ناں سوال .... بابا جی نے قدرے خاموشی کے بعد میرے سوال کا جواب دیا ۔ اسی دوران ان کی بھرائی ہوئی سانسوںسے محسوس ہورہا تھاکہ وہ کمرے میں چہل قدمی کررہے ہیں۔ کہنے لگے ” تمھیں نہیںمعلوم .... کہ یہ مخلوق مخقی .... کی اصل جسامت کیاہے اوران کے معمولات کیاہیں۔ اگر میں تمھیں یہ کہوں کہ انجیر کے اس درخت کی ایک شاخ پر ہزاروں جنات اورابلیسی مخلوق قیام کرلیتی ہے تو تم ہنس دو گے ۔ لیکن یہ حقیقت ہے میر ے بچے جسے تمھاری سائنس بھی تسلیم کرتی ہے ذرا غور سے سنو.... اگر تم ایک چھوٹاسا قطرہ خورد بین کے نیچے رکھ کر دیکھو گے تو اس میں تمھیںہزاروں جراثیم نظر آئیں گے ۔ ان جراثیموں کی تعدادتمھیںاس وقت معلوم ہوگی جب تم انہیں دیکھنے کے لئے خورد بین کاسہارا لو گے ۔ میںحیران ہوں تم انسانوںنے اپنی اس ایجاد سے یہ نظریہ کیوںنہیںتسلیم کرلیا کہ ہوا میں یہ مخفی مخلوق ان جراثیموں کی طرح ہوسکتی ہے جو نظر نہیںآتے اور ہرانسان انکا شکار بھی نہیںہوتا ۔ لیکن جب کوئی انسان کسی ایسے جراثیم کا شکار ہوتاہے جو جان لیوا ہو ‘ کسی بیماری کو پھیلانے کاموجب بنتا ہو تو تم اس مخصوص بیماری سے نجات کے لئے معالج سے رابطہ کرتے ہوں ‘ادویات استعمال کرتے ہو ‘عمل جراحی سے گزرتے ہو .... پس یہ جان لو .... کہ یہ شیطانی مخلوق ان جراثیم سے زیادہ مہلک ہے جو تمھارے خون میں گردش کرتے رہتے ہیں ۔ ایک انسان کے اندر اسقدر جراثیم ہوتے ہیںکہ تم ان کاشمار نہ کر سکوگے ۔ ان جراثیم کا باہر کے جراثیموں کے ساتھ جب ملاپ ہوتاہے تو اندر شرارے پھوٹتے ہیں ۔ مگر یہ تمھیں معلوم نہیںہوتا.... مگر جب طبیعت خراب ہوتی ہے ٹیسٹ کراتے ہو‘علاج شروع توتب معلوم ہوتا ہے کہ بیماری کیا تھی اوراس کا علاج کیسے کیاگیا ۔ میںچونکہ خود اجناءکی دنیا میں ایک طبیب بھی ہوں ۔ اس لیے میںطب کی رو سے یہ سمجھا رہا ہوں تاکہ تمھیں معلوم ہوسکے ۔ تم جانتے ہو کہ یرقان کے مریض مرگی کوکی دوا دیکر ٹھیک نہیںکیا جاتا۔ غور کرو تو تمھیں معلوم ہوجائے گا ۔ کہ یہ علاج معالجے دراصل نظام قدرت کو سمجھنے کے اشارے ہیں۔ بالکل اس طرح ہمار ی مخلوق کے معاملات کو بھی سمجھا جا سکتاہے “ مگر سرکار جب چڑیلوںکی یہ پکھی انجیر کے اس درخت کی ایک شاخ پر آزادی سے رہ سکتی ہے تو پھر اسے کیاتکلیف ہے ۔اس گھر کے افراد کو کیوں تنگ کرتی ہے ۔“ ” شاہد پتر.... افسوس کہ میںاس وقت سے تم لوگوں کو یہی بات سمجھا رہا ہوں جو تم سمجھ نہیںپائے ۔ کہ یہ مخلوق شیطان کی پیروکار ہے ۔کیاتم نہیں سمجھتے کہ شیطان کون ہے اور وہ کیا کام انجام دے رہاہے ۔میرے بچے ۔یہ ناری مخلوق عصبیت اور انتقام سے بھری ہوئی ہے جب تک یہ شرارت نہیںکرے گی اسے سکون نہیںملے گا ۔اس کے علاوہ ایک اوربات بھی ہے ۔ یہ جو سنیارہ بھٹی ہے ناں .... جوانی میںبڑا دل پھینک قسم کا نوجوان تھا .... کیوںبھٹی ۔ کیامیں غلط کہہ رہا ہوں“ باباجی نے بڑے خوشگوار انداز میں پوچھا تو سنیارہ بھٹی اپنے بچوں کی موجودگی میں شرم سے دوہرا ہوگیا۔ ”اورکیاجی .... یہ تو اب بھی باز نہیںآتے ....“ سنیارے بھٹی کی بیوی نے اس کی خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جواب دیا ۔ تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی ۔ ” بڑی خوشبو لگاتا پھرتا تھا یہ .... اکثر دو پہر کے وقت انجیر کے درخت کے نیچے چار پائی بچھا کر اس پر لیٹ جاتا اور ریڈیو پر گانے سنتا رہتاتھا ۔ عین جب سورج دھرتی پر نیزے کی طرح کھڑا ہوتا ہے یہ ناری مخلوق اپنے جوبن پر ہوتی ہے ۔ دوپہر اورزوال کا وقت ان کی مستیوںاورمصروفیات کاوقت ہوتاہے ۔ کیوں بھٹی ....تمھیں آدھی دھوپ اورآدھی چھاﺅں میںسونے کاشوق نہیں تھاکیا....۔ ”جج جی سرکار .... ‘ ‘ وہ شرما کر بولا “ ....مگر آپ کو کیسے معلوم ہے .... “ ”انجیر کے نیچے یہ چارپائی ایسے بچھاتاتھا کہ آدھی دھوپ میںاور آدھی انجیر کی گھنی اور ٹھنڈی چھاﺅںمیںہوتی تھی ۔ اس کاآدھاجسم دھوپ کی تمازت کا لطف اٹھاتااور آدھا ٹھنڈی چھاﺅںکے لطیف احساس سے بھر جاتا ۔ خوشبو یہ جاندار لگاتا تھا ۔ .... اس کایہ بنناسنورنا انجیر پر آباداس مخلوق کی عورتوںکو بڑالبھاتاتھا۔ وہ اسکی چارپائی کے گرد چکر لگاتی پھرتیں ‘ جب دھوپ بڑھ جاتی اورہوا جھلسنے لگتی ہے تو تم نے کبھی اس ہوا کا شور سنا ہے .... یہ گرم اور جھلسی ہوئی ہواتمھیں صحراﺅںاور بیابانوںمیںمحسوس ہوگی ۔اس کااپنا وجوداور آلاپ ہے اس مخلوق پر جب مستی طاری ہوتی ہے تو یہ گاتی ناچتی پھرتی ہے ۔ گرم اورجھلسی ہواﺅں کا یہ شور در حقیقت وہ گانے اورنوحے ہیں جو یہ مخلوق گاتی ہے ۔لیکن تم اس تیش آلود ہوا کی زبان نہیںسمجھ سکتے ۔ سنیارے بھٹی کی یہ ادا ان ناری عورتوں کو بہت پسند تھی اس لیے وہ اس کی قربت کی بھی خواہش مندتھیں ....یہ بے چارہ نہ جان سکا تھا کہ اسے انجیر کے اس درخت کے نیچے جس لطف کااحساس ہوتاہے اور نیند کے بعد جس خواب اور خمار سے بیدار ہوتاہے درحقیقت وہ کیسے پیدا ہوا ۔ یہ تو بس اس خماراور خواب کارسیا تھا .... اگر بھٹی اجازت دے تو میںاسے یہ کہانی بھی سنوا سکتا ہوں ۔ اسے ان چڑیلوں کی زبانی جو اس کی طلب میںرہتی تھی........ بابا جی نے کہا تو سنیارہ بھٹی جلدی سے بولا .... “ کیا فرق پڑتا ہے ۔انہیں کہیںناں مجھے سنادیں....“ ”اس بھری محفل میں۔ سننا پسند کرو گے .... شرم کرو بھٹی ۔ بوڑھے ہوگئے ہو مگر تمھارے اندرکی ہوس نہیں گئی ....اپنے بچوں کے سامنے کہتے ہو کہ مجھے یہ کہانی سناﺅ “ اس کی بیوی ا س پر برس پڑی تو اس کا بیٹا بولا “ اماںجی کیاکرتی ہیں۔چھوڑیں ا ن باتوں کو ۔ ”وہ تو میں اس لیے کہہ رہاتھا کہ یہ تجربہ ذرا مختلف ہے ۔ مجھے تو آج تک احساس نہیںہوسکا کہ کسی دوسری مخلوق کی عورت بھی مجھ میںدلچسپی لیتی ہے ۔اس لیے ذرا . ”فضول باتیں نہ کریں ....ورنہ میںسارے کرتوت سنا دوںگی .... “ اس کی بیوی کو آج جیسے موقع مل گیا تھا ۔ غازی او رشاہ صاحب میرے پاس کھڑے تھے اور ہم تینوں ان کی باتیں سن کر لوٹ پوٹ ہورہے تھے ۔ ” سرکار ۔۔اگر اجازت دیںتو میںبھٹی صاحب کو دوسرے کمرے میںلے جاکر داستان عشق سنوا دوں.غازی سے نہ رہا گیا ” ہاں ہاں .... آﺅ....دوسرے کمرے میںچلتے ہیں “ سنیارہ بھٹی اس کے باوجود اپنے اشتیاق کو نہ روک سکا ۔ غازی باباجی کی اجازت سے اسے دوسرے کمرے میںلے گیا .... کچھ دیر بعد جب وہ واپس آئے تو سنیارہ بھٹی خاموش ہوگیاتھا۔ غازی نے کہااس سے رخصت ہونے کے بعد مجھے اس کی داستان عشق سنائی تو مجھ پر اس مخلوق کی شیطانی حرکات کاایسا پہلووا ردہوا جسے ہمارے ہاں عام سا تصور کیاجاتا ہے مگر اس میںکئی شیطانی گرہیں لگی ہوتی ہیں ۔ غازی اور سنیارہ بھٹی کی عدم موجودگی میں بابا جی سرکار نے تاسف بھرے انداز میںایک جملہ کہاتھا جو مجھے کبھی نہیںبھول سکتا ....انہوںنے کہا تھا ۔ ” اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم کی امت کو بہترین امت کادرجہ دیااوراس پر قرآن پاک جیسی کتاب نازل فرمائی .... رشد و ہدایت کے ایسے اسباق دئیے کہ اگر یہ مسلمان سوتے ’جاگتے گھر سے نکلتے ‘ گھر کے اندر آنے ‘ کھانے پینے گویا اپنے معمولات کے دوران آداب قدرت اور ذکر الٰہی کرتے ر ہیںتو یہ بدکار مخلوق ان پراثر نہیںکرسکتی ۔ “ ”بے شک....“ میںنے کہا ہم لوگ اسلامی آداب اور طرز حیات کو بھول گئے ہیں۔ اسی لیے تو یہ مخلوق ہماری زندگیوں میںمداخلت کرتی ہے ۔“ ”شاہد میاں ....یادرکھنا ! جو نوجوان شیر مادر کا لحاظ کرتا ہے وہ سار ی عمر ایسی حرکت نہیںکرے گا جو اسے ہوس اور غفلت پر آمادہ کرے....لیکن افسوس تمھاری دنیا میںآج کل کے نوجوان شیر مادر کی حرمت سے آگاہ نہیںرہے .... انہیںپاکیزگی کاخیال نہیںرہتا ۔ ذہنی و جسمانی اعتبار سے غلاظت زدہ ہیںان کی یہی حالت اس شیطانی مخلوق کو محبوب ہے ۔ کاش یہ نوجوان جان لیں کہ شیطان نے اپنی اولاد کو انسانوں پر کس کس طرحسے مامور کیا ہوا ہے ....کاش کہ یہ انسان جان لیں.... اے کاش ....بابا جی سرکار تاسف بھر ے لہجے میں کمرے میںگھوم رہے تھے ....میںنے کہا ” سرکار ارشاد .... مجھے بتا دیجئے ۔ میںجانناچاہتاہوںکہ کہ ابلیس کی اولاد ہمارے کن کن معاملات پر مامور ہے .... “ شیطان انسانوں پر کس کس طرح سے سواری ڈالتا ہے اگر انسان اس کا ادراک کرتے تو وہ بشریت کے تقاضے پورے کر سکتا ہے۔ بابا جی کہنے لگے ”ہم جنات انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ ہم انسانوں سے کیوں ڈرتے ہیں؟“ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا سوال کروں۔ محض یہ کہا ”جی“ ”اس کی بنیادی وجہ انسان کا اشرف المخلوقات کے درجہ پر فائز ہونا ہے“ ”مگر کیا .... آپ ہر انسان سے ڈرتے ہیں“ اس بار میں سوال کرنے سے نہ گھبرایا۔ ”دراصل انسان نے خود اپنی فضیلت کھو دی ہے۔ اس لئے اب جنات ہر انسان سے نہیں ڈرتے۔ جنات علم و فضل میں یکتا انسانوں سے ہی ڈرتے ہیں“ بابا جی منطق کی ایک بات سمجھاتے ہوئے کہنے لگے ”شیطان بدی کا گماشتہ ہے۔ انسان کو نفس کا غلام بنا کر اس نے انسانوں کو علمی فضیلت کے درجات سے گرا دیا ہے۔ جب سے انسان نے احکامات الہٰی کو چھوڑ کر گمراہی کے راستے اور فسق و فجور کی عادات کا انتخاب کیا ہے وہ کمزور ہو گیا ہے اور یہی بشری کمزوری جنات کو ان پر غالب ہونے میں مدد دیتی ہے“ بابا جی کے ساتھ اس روز خوب نشست رہی۔ انہوں نے سنیارے بھٹی کے گھر سے چڑیلوں کی پکھی اٹھا دی تھی۔ 80 تولے سونا لینے کے باوجود ان کا تقاضا تھا کہ وہ کچھ عرصہ بعد دوبارہ اس جگہ پر آ جائیں گی۔ بابا جی نے ان کی یہ بات نہیں مانی۔ ساری رات شور شرابہ رہا۔ بالاخر چڑیلیں اس گھر سے رخصت ہو گئیں مگر جاتے جاتے انہوں نے انجیر کے درخت کی سب سے موٹی اور پھلدار شاخ کو توڑ دیا۔ فجر کا وقت ہو گیا تھا۔ ہم نے نماز پڑھی۔ نماز کے بعد بابا جی کے جنات نے محفل سماع کا اہتمام کیا۔ ریاض شاہ نے بابا جی کی اجازت سے کمرے میں زیرو بلب روشن کر دیا تھا اور سب کو آنکھیں کھولنے کی اجازت بھی دے دی۔ بابا جی ایک کونے میں بڑے صوفے پر بیٹھے تھے۔ ان کے گرد جنات کا ایک گروہ کھڑا تھا۔ سبھی نے سفید احرام جیسا لباس پہنا ہوا تھا۔ سروں پر سفید براق پگڑ تھے جو پیشانی سے آگے تک جھکے ہوئے تھے۔ سنیارا بھٹی اور اس کا بیٹا یہ منظر دیکھ کر عش عش کر اٹھے۔ محفل سماع اپنے جوبن پر تھی کہ غازی کی آواز سنائی دی ”سرکار میں تحفے لے آﺅں“ ”آ جاﺅ غازی“ باباجی نے اسے اجازت دی۔ ہماری نظروں کے سامنے غازی انسانی شکل میں نمودار ہوا۔ اس نے ہاتھوں میں ایک بڑا تھال اٹھا رکھا تھا جس میں آب زم زم کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں۔ سرخ پتھروں والی تسبیح اور سنہرے تاروں والی دو ٹوپیاں بھی ساتھ رکھی تھیں۔ ”بیٹا .... ان سب میں مبارک تحفے تقسیم کر دو“ باباجی نے ریاض شاہ کو اشارہ کیا تو اس نے آب زم زم گھر کے افراد میں تقسیم کر دیا۔ ”بھٹی .... یہ ایک ٹوپی تمہارے لئے ہے“ انہوں نے تھال میں سے ٹوپی اٹھائی تو سنیارا بھٹی تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔ اس نے عقیدت و احترام سے بابا جی کا ہاتھ چوم لیا۔ بابا جی کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری۔ سنیارے بھٹی نے اپنا سر ان کے سامنے جھکا دیا۔ بابا جی نے ٹوپی اس کے سر پر اوڑھا دی اور کہا ”بھٹی اپنی آنکھ اور دل کی حیا کا خیال رکھنا۔“ہمارے اس بیٹے کوکبھی ناراض نہ کرنا۔یہ ہے تو ہم ہیں۔“انہوں نے ریاض شاہ کی طرف اشارہ کیا۔ ”ضرور رکھوں گا جی۔ میری توبہ۔ اب میری آنکھ کبھی میلی نہیں ہو گی“ ”یہ تسبیح تمہاری بیوی کے لئے“ باباجی نے سنیارے بھٹی کی بیوی کو بلا کر تسبیح دی اور اس کے سر پر شفقت بھرا پیار دے کر کہا! تو ہماری بیٹی ہے۔ ہمارا یہ تحفہ تمہیں ہماری یاد دلاتا رہے گا۔ بیٹی! میری ایک بات یاد رکھنا۔ اللہ کا ذکر سب سے افضل ہے۔ اللہ کے حبیب پر درود و سلام بھیجتی رہا کرو۔ سورة الکوثر بکثرت پڑھا کرو۔ اللہ تمہارے مسائل دور فرمائے۔ آمین“ باباجی نے اسے نصیحت فرمائی تو وہ عقیدت و احترام کے ساتھ الٹے قدموں چلتی ہوئی واپس اپنی نشست پر چلی گئی۔ ”یہ ٹوپی ہمارے بیٹے کے لئے ہے“ باباجی نے تبسم ریز نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا ”یہ لو .... یہ تم پہن لو“ ”مم میرے لئے“ میں نے چونک کر پوچھا ”کیوں ہم تمہیں تحفہ نہیں دے سکتے“ بابا جی ہنس دئیے۔ میں بھی جھکتا‘ آداب خاطر ملحوظ رکھتا ہوا ان کے پاس گیا۔ ان کا ہاتھ چوما۔ باباجی نے ٹوپی میرے سر پر پہنا کر کہا ”کتنی جچتی ہے تمہارے سر پر۔ سرخ داڑھی‘ سفید چہرہ‘ شفاف آنکھیں‘ میرے بچے .... یہ ٹوپی تمہارے سر پر پہنائی ہے تو لگتا ہے تو اس سرزمین کے باشندے نہیں ہو۔ ایرانی النسل لگتے ہو“ مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ بابا جی کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ میں نے ریاض شاہ کی طرف دیکھا تو وہ تبسم ریز انداز میں کہنے لگا ”بابا جی کی بات مشکل لگتی ہے سمجھ نہیں آ رہی۔ سرکار کے کہنے کا مطلب ہے اس ٹوپی کی لاج رکھنا۔ یہ تمہارے سر پر دستار فضیلت کے مترادف ہے۔ اس کو ہر وقت سر پر رکھنا تمہارے سر پر خوب جچتی ہے“ ”انشاءاللہ.... میں اسے سر سے نہیں اتاروں گا“ اس اثنا میں غازی کی چہکار سنائی دی ”انگور کھاﺅ گے بھیا“ ”انگور .... اور اس موسم میں“ میں نے ہنستے ہوئے کہا ”اگر کہو تو حاضر کروں“ ”اگر مل جائیں تو ضرور کھاﺅں گا“ میں نے جواباً کہا میرے منہ سے یہ نکلنے کی دیر تھی کہ غازی نے ایک دوسرا بڑا تھال ہمارے سامنے کر دیا۔ انگور کے بھاری رس بھرے اور تروتازہ خوشے دیکھ کر میں ہی کیا سنیارے بھٹی کے اہل خانہ بھی حیران رہ گئے۔ ہم سب نے مل کر انگور کھائے۔ انتہائی شیریں اور لذیذ انگور اور پھر بے موسمی پھل۔ میں نے غازی سے پوچھا ”کہاں سے لائے ہو“ ”یمن سے لے کر آیا ہوں“ وہ ہنستے ہوئے بولا .... کچھ اور چاہئے ہو تو لے آﺅں“ ”ہاں .... مجھے ایک عقیق یمنی لا دو“ غازی نے میری فرمائش سنی تو ہنسنے لگا ”میں نے سوچا تھا کوئی بڑی فرمائش کرو گے خیر یہ لو“ غازی نے پلک جھپکنے میں عقیق یمنی انگشتری میں سجا ہوا پیش کر دیا۔ ”لو پہن کر دیکھ لو“ میں نے انگشتری دائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں پہنی تو بالکل فٹ آ گئی۔ ایسے لگا جیسے یہ میرے لئے ہی بنائی گئی تھی۔ میں انگوٹھی اور عقیق کو بار بار دیکھنے لگا ”بہت بہت شکریہ“ میں نے غازی کا شکریہ ادا کیا تو وہ ہاتھ نچا کر بولا ”بس خالی اور سوکھا شکریہ نہیں چلے گا“ اس کی بات سن کر سنیارے بھٹی کی بیوی بولی ”ہاں بھئی اس کو خالی تو نہیں ٹرخانا چاہئے“ ”کیا چاہئے تمہیں“ میں نے غازی سے کہا تو وہ میرے کان کے قریب منہ کرکے کہنے لگا ”میں نے فلم دیکھنی ہے“ میری ہنسی چھوٹ گئی۔ ”غازی تم فلم دیکھو گے“ ”آہستہ بولو بھیا .... بابا جی سرکار نے سن لیا تو ماریں گے۔“ غازی منمنا کر بولا ”کون سی فلم دیکھنی ہے“ میں نے پوچھا ”جو مرضی دکھا دو“ اس نے کہا ”یہ ناہنجار باز نہیں آئے گا“ بابا جی ہماری سرگوشیوں کی زبان سمجھ کر بولے ”ایسے ہی تمہارا دماغ چاٹ رہا ہے بڑا حرام خور ہے۔ فلم کے بہانے تمہیں کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا“ ”سرکار .... میں“ غازی کچھ کہنے لگا تھا کہ باباجی نے اسے ڈانٹ دیا .... وہ منہ بنا کر پیچھے ہٹ گیا۔ ”اچھا بچو اب ہمارے رخصت ہونے کا وقت ہو گیا ہے“ بابا جی نے اجازت طلب کی اور ریاض شاہ سے اپنی مخصوص زبان میں کچھ کہنے لگے۔ ریاض شاہ نے جلدی سے زیرو کا بلب بند کر دیا اندھیرا ہوتے ہی بابا جی کی آواز سنائی دی ”اللہ حافظ میرے بچو“ ہم سب نے کہا ”اللہ حافظ“ چند ثانئے تک اندھیرا رہا۔ پھر ریاض شاہ نے ٹیوب لائٹ روشن کر دی اور زیرلب کچھ پڑھتے ہوئے کمرے کے کونے کونے میں پھونکیں مارنے لگا۔ وہ دوسرے کمرے میں بھی گیا اور چند منٹ بعد واپس آ کر کہنے لگا ”صبح جب دکانیں کھل جائیں تو سب سے پہلے مجھے یہ چیزیں منگوا دیں۔ آپ کے گھر کی غلاظت صاف کرنی ہے“ اس نے سفید چٹ سنیارے بھٹی کی طرف بڑھائی۔ ”گھر تو ہمارا صاف ہے شاہ صاحب“ وہ بولا ”میں اس صفائی کی بات نہیں کر رہا۔ ان بدروحوں نے ایک عرصہ تک اس گھر میں ڈیرے ڈالے رکھے تھے۔ ان کی گندگی کو یہاں سے صاف کرنا ہے اس لئے کنیر کے پھول‘ دیسی گھی‘ لوبان‘ جائپھل‘ گوگل‘ مصری ........ اور سونے چاندے کا دو تولے کا تعویذ اور زعفران چاہئے۔ جب تک تعویذ اور نقش بنا کر گھر میں دھونی نہیں دیں گے ان کے سحری اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے“ ”یہ سامان کتنے کا ہو گا“ سنیارے بھٹی نے پوچھا ”اور یہ کنیر کے پھول کہاں سے ملیں گے۔ چھوٹا سا قصبہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا یہ سارا سامان یہاں سے مل جائے گا“ ”پندرہ بیس ہزار کا سامان ہو گا۔ آپ خود نہیں لا سکتے تو پیسے مجھے دے دیں۔ میں غازی سے کہہ کر منگوا لوں گا“ ریاض شاہ نے کہا۔ ”میں اب کچھ دیر آرام کروں گا۔ دوپہر تک یہ سامان آ گیا تو میں دھونی اور عمل کرکے چلا جاﺅں گا۔ دوبارہ میرا آنا مشکل ہو گا“ میں نے محسوس کیا کہ باباجی کے رخصت ہوتے ہی ریاض شاہ کا لہجہ خاصا روکھا ہو گیا تھا۔ سنیارا بھٹی اپنے بیٹے اور بیوی کا منہ تکنے لگا۔ وہ شش و پنج میں مبتلا ہو گیا تھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے۔ پہلے باباجی کے کہنے پر اس نے 80 تولے سونا دیا۔ لاکھوں روپے ہوا برد ہو گئے تھے اور اب یہ بیس ہزار کا سامان منگوا رہے ہیں ”مجھے بستر دے دیں۔ مجھے اب آرام کرنا ہے۔ پیسوں کا بندوبست ہو جائے تو مجھے بتا دیجئے گا“ ریاض شاہ کا چہرہ تھکان سے بھرا ہو تھا۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور لہجہ بھرا گیا تھا۔ لگتا تھا اسے فوری آرام مہیا نہ کیا گیا تو اس کی حالت بگڑ جائے گی۔ سنیارے بھٹی کی بیوی نے انہیں ساتھ والے کمرے میں نیا بستر بچھا کر دیا۔ ریاض شاہ نے مجھے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ خود بستر پر دراز ہو گیا اور مجھے کہنے لگا ”یار.... میرے سر پر ذرا مالش کر دو“ میں اس کی کیفیت سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے تھیلے سے تیل کی شیشی نکالی ۔میں اس کے گھنے اور گھنگریالے بالوں میں تیل انڈیل کر مالش کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد ہی وہ سو گیا۔ مجھے ابھی تک نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ سنیارا بھٹی اپنا سر تھام کر بیٹھا ہوا تھا۔ ”مجھے بتاﺅ میں کیا کروں۔ میں تو برباد ہو جاﺅں گا“ ”اللہ کا شکر کرو جی.... آپ پیسہ خرچ کرکے برباد نہیں ہو رہے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان کا صدقہ اتار رہے ہو“ اس کی بیوی اسے سمجھا رہی تھی ”تیرا تو دماغ خراب ہو گیا ہے۔ تو مجھے برباد کرکے سکون لے گی۔ تو جانتی ہے 80 تولے سونا کتنے کا تھا اور اب یہ بیس ہزار۔ میں تو کہتا ہوں یہ سارا ڈھونگ تھا۔ باباجی اللہ کے نیک بزرگ جن ہیں تو انہوں نے اتنا زیادہ پیسہ کیوں خرچ کرا دیا۔ اللہ والے ایسا نہیں کرتے بھلی مانس تو نہیں سمجھ سکتی“ ”توبہ توبہ کریں جی .... لگتا ہے آپ پر ابھی تک ان چڑیلوں کا نشہ طاری ہے۔ ایسی گمراہوں جیسی باتیں کر رہے ہیں۔ توبہ کریں۔ بابا جی کی شان میں گستاخی نہ کریں۔ انہوں نے جو کیا حق سچ کے ساتھ کیا۔ انہوں نے سونا چاندی لے کر کیا کرنا تھا“ ”میں کب کہتا ہوں انہوں نے سونا لیا ہو گا۔ مجھے یقین ہے یہ سارا سونا اور رقم ریاض شاہ“ سنیارے بھٹی کے منہ پر دل کی بات آنے لگی تو اس کی بیوی نے جلدی سے اس کا منہ بند کر دیا۔ ”خدا کے لئے ایسی بات نہ کریں۔ شاہ صاحب نے سنا تو ناراض ہوں گے۔ آپ کو یاد ہے باباجی سرکار نے کہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رابطہ ریاض شاہ کی وجہ سے ہے۔ وہ اسے اپنا بیٹا کہتے ہیں۔ تم نے دیکھا نہیں رات بھر کتنی خوفناک چڑیلیں اور جنات ہمارے سامنے آتے جاتے رہے ہیں۔ اگر شاہ صاحب ناراض ہو گئے تو یہ ساری چیزیں واپس آ جائیں گی اور پھر .... اللہ نہ کرے۔ بس آپ جلدی سے بندوبست کر دیں“ سنیارا بھٹی زچ ہو گیا تھا۔ مجھے دیکھا تو خاموش ہو گیا۔ میں نے اسے تجویز دی ”بھٹی صاحب سونے چاندی کا تعوید تو آپ خود بنا سکتے ہیں۔ باقی جتنی رقم ہے وہ ریاض شاہ کو دے دیں وہ خود بندوبست کر لیں گے“ اس نے مجھے تو کچھ نہ کہا .... دوپہر تک اس نے سونے چاندی کا تعویذ بنا دیا تھا اور باقی رقم جو تقریباً دس ہزار بنتی تھی اس نے مجھے دینے کی کوشش کی اور کہا ”یہ شاہ صاحب کو دے دینا“ میں نے ہاتھ پیچھے کر لیا ”آپ خود انہیں دیں .... میں ایسے پیسوں کو ہاتھ نہیں لگا سکتا“ ”آپ ان کے ساتھی نہیں ہیں“ ”میں بابا جی کا مرید ہوں“ میں نے مختصر جواب دیا۔ انہوں نے میرے متعلق جاننے کی کوشش کی مگر میں نے اپنے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا۔ دوپہر کے وقت شاہ صاحب بیدار ہو گئے۔ سنیارے نے انہیں دس ہزار اور سونے چاندی کا تعویذ دے دیا۔ شاہ صاحب نے اسی وقت غازی کو طلب کیا اور اسے پیسے دے کر کہا کہ وہ عملیاتی اشیا لا دے۔ غازی دس منٹ بعد واپس آ گیا اور سارا سامان تھما کر چلا گیا۔ شاہ صاحب نے تمام اشیا کو ایک خاص ترتیب سے رکھا۔ سونے چاندی کے تعویذ پر عبارت لکھی اور دیسی گھی کا چراغ جلا کر ساری اشیا نہ جانے کس کس طریقے سے سلگاتے رہے۔ لوبان‘ جائپھل اور خوشبودار اشیا کی دھونی پورے گھر میں نہایت مسکن اور سحرانگیز مہک پھیل گئی۔ دھونی ختم ہو چکی تو ریاض شاہ نے کاغذ پر عجیب سے رسم الخط میں کچھ لکھا اور ان کے کمرے کے دروازے کی چوگھاٹ کے اوپر کیل کی مدد سے انہیں ٹھونک دیا۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد ریاض شاہ نے ان سے اجازت لی اور ہم لوگ واپس ملکوال کی طرف چل دئیے ۔ راستے میں میں نے ان سے وہی سوال پوچھ لیا جو سنیارے بھٹی کے خدشات کی صورت میں سامنے آیا تھا۔”کیا یہ سارا خرچہ کرانا ضروری تھا اب“ ”بہت ضروری تھا۔ میں ایک عامل ہوں۔ تم اچھی طرح سمجھتے ہو“ ”اتنے مہنگے تعویذ دھاگے کیوں کرتے ہیں“ میں نے پوچھا ”جادو ٹونہ اور جنات کے سحری اثرات کو ختم کرنے کے لئے یہ عمل کرنا ضروری ہوتا ہے .... بعض اوقات تو اس سے بھی مہنگے عمل کرنے پڑتے ہیں۔ اگر میں تمہیں یہ بتا دوں تو تم زیادہ پریشان ہو جاﺅ گے۔ میں تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں۔ آج سے تیس پنتیس سال پہلے کی بات ہے۔ میرے بڑے بھائی صاحب نے یہ کیس کیا تھا۔ تم سنو گے تو کبھی یقین نہیں کرو گے“ اس وقت نہر کی پٹری پر اتر گئے تھے۔ وہاں سے ہم نے تانگہ لے لیا تھا اور گاﺅں کی طرف جا رہے تھے۔ کچھ فاصلے پر مکھن سائیں کا ڈیرہ تھا۔ میری ساری توجہ اس واقعہ کو سننے کے لئے مرکوز تھی۔ ریاض شاہ کہنے لگا ”میں نے بتایا ہے کہ آج سے تیس پنتیس سال پہلے پسرور شہر میں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ پسرور میں ایک گوالے کے گھر پر جنات نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے سارے جانور انسانوں کے ہاتھ سے پانی پینے سے گریز کرنے لگے تھے۔ کیا تم اس بات پر یقین کر سکتے ہو کہ کوئی جانور اپنے کھروں سے پانی کے نلکے کی ہتھی چلا کر پانی نکالنے لگ جائے“ ”ناقابل یقین بات ہے“ میں نے کہا ”لیکن یہ حقیقت ہے۔ اس گھر کے سارے جانور نلکا خود چلا کر پانی نکالتے اور پیتے تھے۔ ان لوگوں نے دنیا بھر کے عاملوں اور پیروں سے رابطہ کیا تھا مگر کوئی بھی اس گھر سے جنات کو نہیں نکال سکا تھا۔ وہ لوگ میرے بھائی تک پہنچے اور باباجی سرکار کے ساتھ پسرور چلے گئے۔ باباجی نے اس گھر کے جانوروں پر مسلط جنات کو مار مار کر بھگا دیا تھا اور آخر میں شیر کی کھال‘ کستوری اور زعفران کی مدد سے ایک تعویذ بنا کر اس گھر میں گاڑ دیا تھا۔ اس زمانے میں شیر کی کھال اور کستوری حاصل کرنا بہت مہنگا سودا تھا لیکن بابا جی سرکار کی ہدایت پر یہ سارا سامان حاصل کر لیا گیا اور پھر جب یہ عمل کرکے تعویذ بنایا گیا تو اس گھر پر پھر کبھی جنات نازل نہیں ہوئے“میرے لئے یہ واقعہ بہت بھاری تھا اور اسے ہضم کرنا ناممکن تھا۔ لیکن میں نے اب حجت کرنا چھوڑ دی تھی اس لئے یہ سوچ کر تسلیم کر لیا کہ اگر میرے سامنے جنات اور بدروحوں کا ظہور ہو رہا ہے تو ایسا انہونا واقعہ بھی اس سرزمین پر رونما ہوا ہو گا کیونکہ جنات سے کچھ بھید نہیں ہے۔ ممکن ہے پسرور شہر کے رہنے والے پرانے لوگوں کو اس واقعہ کا علم ہو کہ وہی بہتر جانتے ہیں کہ ان کے شہر میں جب یہ شہر ایک بڑے قصبہ کی شکل میں تھا وہاں کے کسی شخص کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہو۔ ہم جب مکھن سائیں کے ڈیرے کے پاس سے گزر رہے تھے کہ کوچوان نے تانگہ روک لیا اور پھر تیزی سے نیچے اتر کر وہ نہر کی پٹری کے پاس رکھے ایک بڑے سے مٹکے کے پاس گیا۔ مٹکے کے منہ پر مٹی سے لیپ کیا ہوا تھا اور چونے سے اس کے اوپر لکھا ہوا تھا ”نذرانہ سرکار مکھن سائیں آستانہ“ کوچوان نے مٹکے کے منہ میں کئے گئے ایک چھوٹے سے سوراخ میں دو روپے ڈالے اور کانوں کی لوﺅں کو چھوتا ہوا منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا تانگے پر آ بیٹھا۔ ریاض شاہ نے میری طرف دیکھا اور کوچوان کی اس پر حرکت پر خفیف سے انداز میں مسکرا کر کہنے لگا ”ایسے ہوتے ہیں عقیدت مند“ کوچوان نے سنا تو کہنے لگا ”جناب لگتا ہے آپ پردیسی ہیں اسی لئے تو آپ نے نذرانہ نہیں ڈالا ورنہ یہاں کے لوگ جب تک روپیہ دو روپیہ نہیں ڈال دیتے انہیں سکون نہیں آتا۔ آپ نہیں جانتے ہر جمعرات کو اس غلہ سے حاصل ہونے والی رقم سے نیاز تیار ہوتی ہے۔ لوگ دور دور سے نیاز حاصل کرنے آتے ہیں“ ”کیا خیال ہے .... مکھن سائیں سے مل نہ لیا جائے“ ریاض شاہ نے مجھ سے پوچھنے لگا۔ ”کوئی حرج نہیں .... لیکن آپ انہیں جانتے ہیں“ ”وہ بھی مجھے جانتا ہے“ ریاض شاہ کے لبوں پر مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ ہم نے تانگے والے سے کہا کہ وہ ہمیں مکھن سائیں کے آستانے پر لے جائے۔ پہلے تو اس نے حیرانی سے ہمیں دیکھا پھر اس نے تانگے کا رخ آستانے کی طرف کر دیا۔ ابھی ہم راستے کے سرکنڈوں سے آگے بڑھے ہی تھے کہ مجھے مکھن سائیں کا مخصوص نعرہ مستانہ سنائی دیا۔ ایسے لگا جیسے وہ ہمارے بہت قریب ہو۔ لیکن وہ ہمیں دکھائی نہیں دیا۔ ہم آستانے پر پہنچے تو اس وقت مکھن سائیں کے مریدوں کا ہجوم وہاں اکٹھا تھا۔ ہم تانگے سے اترے اور ان کی طرف بڑھے تو معلوم ہوا کہ مکھن سائیں قبر میں ہیں اور جب تک ان کا چلہ پورا نہیں ہو جاتا وہ قبر سے باہر نہیں نکلیں گے۔ ”پھر تو ہمیں واپس چلنا چاہئے“ میں نے ریاض شاہ سے کہا تو وہ میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے ”جب مکھن سائیں نے ہمیں خود بلایا ہے تو ہمیں اس طرح جانے نہیں دے گا“ میں ریاض شاہ کا منہ دیکھنے لگا۔ ہم دونوں مکھن سائیں کے مریدوں سے ہٹ کر ایک چبوترے پر بیٹھ گئے۔ اس دوران مکھن سائیں کی کٹیا کے اندر سے ایک لڑکی ننگے سر نہایت خستہ حالت میں روتی چلاتی ہوئی باہر آئی۔ اس کے پیچھے ایک بوڑھی عورت اور بوڑھا مرد تھا۔ لڑکی کی حالت نہایت دگرگوں تھی لباس اگرچہ صاف تھا مگر جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ ”اسے پکڑو دیوانی ہو گئی ہے“ بوڑھی عورت دہائی دینے لگی۔ لڑکی کسی چھلاوے کی طرح بھاگ رہی تھی۔ سارے ملنگ مرید لڑکی کو پکڑنے کے لئے اس کی طرف لپکے مگر وہ ان کے ہاتھ سے مچھلی کی طرح پھسل پھسل جا رہی تھی لیکن کچھ دیر بعد وہ اسے پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک ہٹے کٹے ملنگ نے لڑکی کو اٹھا کر نہایت بے دردی سے قبر کے پاس پھینک دیا تھا۔ لڑکی اذیت ناک انداز میں چیخی ۔ وہ مرغ بسمل کی طرح قبر کی مٹی میں تڑپ رہی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آ گیا اور میں ریاض شاہ کی طرف دیکھنے لگا۔ ریاض شاہ نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور پھر وہ چبوترے سے نیچے اتر کر لڑکی کی طرف بڑھا ”پیچھے ہٹ جاﺅ“ ریاض شاہ کڑکدار اور پرجلال انداز میں ملنگوں اور بوڑھی عورت سے مخاطب ہوا تو وہ سب اس کا منہ تکنے لگے۔ ہٹا کٹا ملنگ ریاض شاہ کی آواز سن کر طیش میں آ گیا۔ چھ فٹ قامت‘ کسرتی بدن‘ چوڑی چھاتی نیم عریاں سیاہ بالوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ نتھنے اور دہانہ چوڑا‘ پیشانی ابھری ہوئی‘ بال لمبے اور تیل میں چپڑے ہوئے تھے۔ وہ ملنگ نہیں کوئی چھٹا ہوا بدمعاش لگتا تھا۔ ر یاض شاہ اس کی طرف بڑھا تو وہ آستین چڑھاتا ہوا آگے بڑھ آیا۔ اس کی موٹی موٹی کلائیوں پر کہنیوں تک کانسی اور پتھر کے کڑے تھے۔ ہاتھوں کی انگلیاں بھی جواہرات کی بھاری انگوٹھیوں سے بھری ہوئی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا نشہ تھا اور ان میں سرخ ڈورے صاف نظر آ رہے تھے ایسا غضب ناک اور جلالی صورت ملنگ ایک تصوراتی انسان ہی ہو سکتا تھا۔ آنکھوں میں کھینچ کر سرمہ ڈالا ہوا تھا۔ وضع قطع سے لگتا تھا کہ وہ اپنے روپ بہروپ کو سنوارنے کے لئے خاصا وقت صرف کرتا ہو گا۔ ”کون ہو تم“وہ جلالی لہجے میں ریاض شاہ سے مخاطب ہوا ”ہمارے آستانے پر ہمیں آنکھیں دکھاتے ہو، تمہیں جرات کیسے ہو گئی“ ریاض شاہ چہرے مہرے سے ایک عام سا شخص ہی لگتا تھا اس وقت اس نے یمنی عمامہ سے سر ڈھانپ رکھا تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ شخص مذہبی اور متقی ہو سکتا ہے لیکن ملنگ پر اس کی شخصیت کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس کے تیور بتاتے تھے کہ وہ ریاض شاہ کے ساتھ مار کٹائی سے گریز نہیں کرے گا ۔ ادھر لڑکی ملنگ کی آواز سن کر ایسی دہشت زدہ ہوئی کہ خود اپنے آپ سے لپٹ گئی ۔ اس پر سکتہ طاری ہو گیا۔ ریاض شاہ کے چہرے پر کسی قسم کا خوف نہیں تھا۔ وہ ملنگ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تیکھے انداز میں بولا ”اوئے شرم نہیں آتی ۔ ایک معصوم سی لڑکی کو مارتے ہو۔ انسان ہو یا درندے“ ریاض شاہ کی بات سن کر خود مجھے ایک لمحہ کے لئے حیرت ہوئی۔ ایک مظلوم لڑکی کی خاطر وہ لڑائی کرنے پر اتر آیا تھا۔ میری نظر میں تو وہ بھی درندہ تھا۔ ناجانے اس نے کتنی لڑکیوں کو درندگی کا نشانہ بنایا تھا۔ آج اس کی زبانی ایسے الفاظ سن کر مجھے حیرت ہوئی لیکن حیرت سے زیادہ اب خوشی ہو رہی تھی کہ بہرحال وہ جیسا بھی تھا بہرحال ایک لڑکی کی عزت و ناموس کی خاطر ان ملنگوں سے لڑنے پر آمادہ تھا۔ ملنگ ریاض شاہ کی بات سن کر تپ گیا اس نے منہ کی بجائے ہاتھوں سے بات شروع کر دی اور اپنا بھاری بھرکم ہاتھ ریاض شاہ کے گریبان پر جما دیا تو اس کے کہنیوں تک کڑے کھنکھنانے لگے۔ ایک عجیب سا جلترنگ پیداہوا تھا۔ ”تجھے بتاتا ہوں میں انسان ہوں یا درندہ، بڑا آیا شرم دلانے والا۔ تیری ماسی کی دھی لگتی ہے۔ ماما لگتا ہے تو اس کا“ اس نے ریاض شاہ کو گریبان سے پکڑ کر جھٹکا دیا تو وہ لڑکھڑا گیا۔ ”گریبان چھوڑ دے میرا ورنہ تیرا حشر نشر کر دوں گا“ ریاض شاہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ سے گریبان چھڑانے کی بے سود کوشش کی۔ ”بات تو ایسے کر رہا تھا جیسے کچا کھا جائے گا۔ لے۔ ہمت ہے تو گریبان چھڑا کر دیکھ“ یہ کہہ کر ملنگ نے استہزائیہ انداز میں اپنے ملنگ ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ ”اوئے کوئی مائی کا لعل ہے جو اچھو خاں ملنگ کی پکڑ توڑ سکے“ ”اچھو خاں ملنگ۔۔۔۔۔۔“ نام سنتے ہی میرے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ اگر وہ واقعی اچھو خاں ہی تھا تو اس کا ڈیل ڈول اس پر ہی جچتا تھا۔ برسوں پہلے اس نام کا ایک ڈکیٹ ہو گزرا تھا ۔انتہائی سفاک اور طاقتور۔ سنا تھا کہ وہ کسی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ کوئی کہتا تھا کہ وہ علاقہ بدر ہو گیا تھا لیکن آج برسوں بعد وہ مکھن سائیں کے ڈیرے پر نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور ایک ملنگ کے روپ میں۔۔۔۔۔ اس کے چہرے کی سفاکی اور درندگی اس بات کی غماز تھی کہ وہ اچھو ڈکیت ہی ہو سکتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ ریاض شاہ اس کی اصلیت سے آگاہ نہیں ہو گا۔ ”اگر تو اچھو خاں ڈکیت ہے تو یہ جان لے کہ اب تیری موت آنے والی ہے۔ میرا گریبان پکڑ کر تو نے بہت بڑی غلطی کی ہے“ ریاض شاہ میری توقع کے برعکس اسے جانتا تھا اور میرے لئے حیرت کی دوسری بات تھی ”ہاں .... میں اچھو خاں ڈکیت ہی تھا لیکن اب مکھن سرکار کا ملنگ ہوں“ اس نے کہا ”ایک ملنگ اور ڈکیت میں فرق دیکھ لیا تو نے۔ اگر تو نے اچھو خاں ڈکیت کو للکارا ہوتا تو میری بندوق کی گولی تیری بات کا جواب دیتی لیکن کیا کرے اب اچھو خاں .... ملنگ جو ہو چکا ہے۔ مجبوری نے روک رکھا ہے“ ”تو ملنگ نہیں اب بھی ڈکیت ہی لگتا ہے“ ریاض شاہ نے کسی گھبراہٹ کے بغیر کہا ”ملنگ ایسے ہوتے ہیں ۔۔ تو سانڈ ہے۔۔۔۔ اب بھی لوگوں کو لوٹتا ہے۔ بے رحمی سے پیش آتا ہے۔ اس بے چاری نے تیرا کیا بگاڑا تھا جو اسے یوں اٹھا اٹھا کر نیچے مارا ہے .... تو وحشی تھا اچھو .... اب بھی تو وحشی ہے“ ”اوئے زبان بند کر .... رب سوہنے کی قسم تیری زبان کاٹ ڈالوں گا“ اچھو خاں دھاڑتے ہوئے بولا۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ ریاض شاہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا۔ اس کی پیشانی کی لکیریں تن گئیں اور نتھنے پھولنے لگے۔ اس سے قبل کہ ملنگ کچھ اور کہتا ریاض شاہ نے گریبان پر قابض ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اس زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا کہ وہ کسی زخمی بھینسے کی طرح ڈکراتا ہوا قلابازیاں کھاتا ہوا کئی فٹ دور جا گرا۔ اس لمحہ برگد کے درخت پر جیسے طوفان آ گیا۔ شاخیں تیزی سے لہرانے لگیں ایسا لگتا تھا جیسے کوئی بگولا برگد کے درخت میں گھس گیا ہے اور اسے جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دے گا۔ آستانے کے ملنگ یہ منظر دیکھ کر تتر بتر ہو گئے اور برگد کے نیچے سے ہٹ کر دور کھڑے ہو گئے۔ ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾9⃣ 🎭 جنات کی دنیا پر گھومتا، خوف، تجسس اور دہشت سے بھرپور سلسلہ جاری ہے۔ 🌀💠🌀

Comments

Popular posts from this blog

*ﺍُﺭﺩﻭ ﮐﮯ ﺩﺱ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﺎﻭﻝ* *تحریر: ڈاکٹر رؤف پاریکھ* 05 آگست 2020 •••••••• کسی زمانے میں یہ تاثر عام تھا کہ اردو میں عظیم ادبی ناول نہیں لکھے گئے اور اردو میں عظیم ناول تو کیا اچھے ناول بھی نہیں ہیں یا بہت کم ہیں۔۔۔ لیکن عزیز احمد نے اس سے اختلاف کیا۔۔۔ عزیز احمد ناول نگار بھی تھے اور نقاد و محقق بھی۔۔۔ ان کا خیال تھا کہ جن لوگوں نے اردو ادب کا بِالاستیعاب مطالعہ نہیں کیا وہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو میں اچھے ناول نہیں ہیں۔۔۔ شہزاد منظر نے لکھا ہے کہ آزادی کے بعد اردو میں کئی معیاری ناول لکھے گئے اور ۱۹۷۰ء کے عشرے میں متعدد اچھے ناول منظرِ عام پر آئے۔۔۔ یہ گویا ہمارے ملک کے صنعتی کلچر کی دین ہے اور غالباً اس خیال کی توثیق ہے کہ ناول دراصل صنعتی دور اور صنعتی معاشرے کی پیداوار ہے۔۔۔ زرعی معاشرہ بالعموم شاعری کو نثر پر ترجیح دیتا ہے۔۔۔ کچھ نقادوں کا خیال تھا کہ اردو ناول ۱۹۸۰ء کے لگ بھگ زوال کا شکار ہوگیا اور ۱۹۸۰ء کے بعد عمدہ ادبی ناول اردو میں نہیں لکھے گئے۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں بھی بعض عمدہ ناول لکھے گئے اگرچہ ان کی تعداد نسبۃً کم رہی۔۔۔ اکیسویں صدی کے آغاز کے لگ بھگ اردو میں ایک بار پھر اچھے ادبی ناول خاصی تعداد میں نظر آنے لگے، عرفان جاوید نے کوئی پانچ چھے سال قبل اپنے ایک انگریزی مضمون میں لکھا تھا کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں اردو ناول کا احیا ہوا ہے اور بعض بہت عمدہ ناول شائع ہوئے ہیں۔۔۔ ممتاز احمد خان نے بھی اپنی کتابوں میں نئے اور اہم ناولوں کا جائزہ لیتے ہوئے خیال ظاہر کیا ہے کہ آزادی کے بعد اردو میں بعض بہت اچھے ناول بھی لکھے گئے ہیں۔۔۔ غفور احمد نے اپنے مقالے " نئی صدی نئے ناول " میں اکیسویں صدی کے ابتدائی دس برسوں میں لکھے گئے معیاری ناولوں کا جائزہ لیا ہے۔۔۔ شاعر علی شاعر نے حال ہی میں اپنی کتاب " جدید اردو ناول " میں اکیسویں صدی میں پاکستان اور ہندوستان میں شائع ہونے اردو ناولوں کی فہرست دی ہے۔۔۔ ان کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو ہے، یہ سب اعلیٰ ادبی ناول تو نہیں ہیں لیکن کم از کم یہ اس بات کا ثبوت ضرورہے کہ اردو میں ناول لکھا جارہا ہے اور اردو میں ناول کا احیا ہو رہا ہے۔۔۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے پچھلے ماہ اپنے جریدے " ادبیات " کا ناول نمبر شائع کیا ہے اور دو جلدوں پر مشتمل اس خصوصی اشاعت میں اردو ناول پر مضامین و مقالات کے علاوہ اردو کے تقریباً تین ہزار ناولوں کے نام (مع مصنف ) دیے گئے ہیں۔۔۔ لیکن اس میں ہر قسم کے ناول شامل ہیں ، ادبی بھی اور غیر ادبی بھی۔۔۔ اتنی بڑی تعداد میں ناولوں کی موجودگی میں بہترین کا انتخاب آسان نہیں ہے۔۔۔ لیکن بہرحال اردو ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اردو کے بہترین ناولوں کی فہرست پیش کرنے کی یہ طالب علمانہ کوشش ہے۔۔۔ یہ فہرست تاریخی ترتیب سے مرتب کی گئی ہے۔۔۔ ہماری اس فہرست میں ناولوں کی ادبی اہمیت اور فنی خوبیوں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔۔۔ عوامی مقبولیت کے حامل ناول نیز خواتین کے " گھریلو، معاشرتی اور اصلاحی ناول " شامل نہیں ہیں.۔ اس میں " اسلامی " اور جاسوسی ناول بھی شامل نہیں ہیں۔۔ ممکن ہے بعض قارئین کو اس فہرست سے اختلاف ہو کیونکہ اس میں بعض معروف ادبی ناول بھی نہیں ملیں گے ، مثلاً مولوی نذیر احمد دہلوی کا ناول مراۃ العروس(۱۸۶۹ء) اس میں شامل نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نذیر احمد کے ناول موجودہ دور میں ناول کی تعریف پر پورا اتر بھی جائیں تو ان کی بعض خامیاں ان کو اچھے ناول میں شمار کرانے میں مانع ہیں، مثلا ً کرداروں کا لمبی لمبی تقریریں کرنا اور مصنف کا براہ ِ راست وعظ و تلقین پر اتر آنا۔۔۔ پھر نذیر احمد کے کردار حقیقی زندگی سے بہت دور ہیں۔۔۔ اچھا کردار نیکی اور عقل کا پتلا ہے اور برے کردار میں کوئی خوبی نہیں۔۔۔ حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا ، انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔۔۔ نذیر احمد نے کرداروں کا نفسیاتی ارتقا بھی کم دکھایا ہے۔۔۔ راشد الخیری نے تو اپنے بعض ناولوں میں لڑکیوں کی " صحیح تربیت " کے خیال سے کپڑوں کی تراش اور سلائی سکھانے کے لیے سلائی کے طریقے بھی پیش کیے ہیں اور باقاعدہ نمونے (ڈیزائن) بھی شامل کیے ہیں۔۔۔ آج کے ناولوں میں اس کا تصور بھی محال ہے۔۔ دراصل ناول میں زندگی کی تخلیق اہم ہوتی ہے۔۔۔ اس کے لیے پورے سماجی ، ثقافتی ، تاریخی اور سیاسی ماحول اور زبان کا شعور ضروری ہے۔۔ لیکن اس زندگی اور ماحول کو پورے ادبی اور فنی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بالواسطہ پیش کرنا ہوتا ہے نہ کہ بلا واسطہ اور براہِ راست۔۔۔ عبداللہ حسین کا ناول اداس نسلیں بہت مشہورہے لیکن قرۃ العین حیدر نے " کار ِ جہاں دراز ہے " میں اس پر نہ صرف سرقے کا الزام لگایا ہے بلکہ وہ جملے اور پیراگراف صفحہ نمبر کے ساتھ پیش کیے ہیں، جن سے اداس نسلیں میں ’’استفادہ ‘‘ کیا گیا ہے۔. اب یہ محض اتفاق ہی ہوگا کہ کئی مقامات پر یہ ’’استفادہ‘‘ لفظ بہ لفظ ہوگیا ہے... لہٰذا اسے بھی اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔۔۔ اس فہرست پر ہمیں اصرار بھی نہیں ہے کیونکہ ایسی کوئی بھی فہرست حتمی نہیں ہوسکتی اور ایسی کسی فہرست پر سب کا متفق ہوجانا بھی ناممکنات میں سے ہے۔۔۔ لہٰذااس فہرست میں ہر قاری اپنی پسند اور ذوق کے مطابق تبدیلی، ترمیم اور اضافہ کرسکتا ہے۔۔۔۔ ۱۔فسانۂ آزاد (۱۸۷۸ء) اُردو کے دس بہترین ناول پنڈت رتن ناتھ سرشار کا یہ شاہ کار ناول کشور کے ’’اودھ اخبار ‘‘ میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔۔۔ اس کے دو کرداروں میاں آزاد اور خوجی کا شمار اردو ادب کے معروف کرداروں میں ہوتا ہے۔۔۔ فسانۂ آزاد پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس کاصحیح معنوں میں کوئی پلاٹ نہیں ہے اور یہ حد سے زیادہ طویل ہے۔۔۔ لیکن یہ اعتراض تو دنیا کے کئی عظیم ناولوں مثلاً ٹالسٹائی کے ’’وار اینڈ پیس‘‘ اور دستووسکی کے ’’برادرز کراموزوف ‘‘ پر بھی وارد ہوتے ہیں۔۔۔ فسانۂ آزاد کی ایک بڑی خوبی اس میں لکھنوی معاشرے کی تہذیبی عکاسی ہے ۔ اس کی ٹکسالی اردو اور محاوروں کا استعمال سند کی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔ البتہ اس کا مرکزی خیال سروانتے (Cervantes)کے ہسپانوی ناول’’ دون کی ہوتی ‘‘ (Don Quixote) سے ماخوذ ہے(جس کا تلفظ اردو میں غلط طور پرڈون کوئیکزوٹ کیا جاتا ہے )۔۔۔ ۲۔ امراو جان ادا (۱۸۹۹ء) اُردو کے دس بہترین ناول مرزا ہادی رسوا کا ناول امراو جان ادا اردو میں ناول کی صنف کے ایک نئے دور کا نقیب بلکہ ناول کے باقاعدہ آغاز کی علامت ہے۔۔۔یہ اردو میں پہلا ناول تھا جس سے معلوم ہوا کہ ناول ہوتا کیا ہے۔۔۔ رالف رسل نے لکھا ہے کہ مرزا ہادی رسوا کا ناول امراو جان ادا اردو کا ’’ پہلا ‘‘ ناول اور ’’صحیح معنوں میں ناول ‘‘ ہے۔۔۔ گویا وہ اس سے قبل کے ناولوں مثلاً نذیر احمد کے ناول اور دیگر ناولوں کو صحیح معنوں میں ناول نہیں سمجھتے۔۔ اس بحث سے قطع نظر کہ امراو کا کردار حقیقی تھا یا ہادی رسوا نے اسے حقیقت بنا کر پیش کیا، یہ ناول فکشن نویسی کے فن پر ہادی رسوا کے عبور کا ثبوت ہے۔۔۔ اس میں انیسویں صدی کے نصف ِ آخر کے لکھنو ٔ کی تہذیب کی شان دار عکاسی کی گئی ہے۔۔۔ ۳۔گئو دان (۱۹۳۶ء) اُردو کے دس بہترین ناول منشی پریم چند کا آخری ناول گئو دان ان کا بہترین ناول بھی ہے۔۔۔ ہندستانی کسانوں کی قابل ِ رحم حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے پریم چند سرمایہ دارانہ نظام کے استحصالی ہتھکنڈوں پر فن کارانہ انداز میں احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ پریم چند نے لکھنے کا آغاز اردو سے کیا تھا لیکن اردو ہندی تنازع کے پس منظر میں رفتہ رفتہ وہ ہندی کے حامی ہوتے گئے اور اپنی تخلیقات کو اردو میں لکھ کر دیو ناگری رسم الخط میں ڈھالنے لگے تھے۔۔ بعد ازاں ہندی میں لکھتے اور اسے اردو میں ڈھالا جاتا۔۔۔۔ ڈاکٹر مسعود حسین نے ثابت کیا ہے کہ ان کا یہ ناول مکمل طور پر ہندی میں لکھا گیا تھا اور اقبال ورما سحرؔہتگامی نے اسے اردو میں بعد میں ڈھالا۔۔ اسی لیے مسعود صاحب نے سہ ماہی فکر ونظر (علی گڑھ ) میں لکھا کہ چونکہ گئو دان اولاً ہندی میں لکھا گیا ہے اور اردو میں ترجمہ ہے اور چونکہ تراجم کو اُس زبان کے ادب کا حصہ نہیں مانا جاتا جس میں ترجمہ کیا گیا ہو لہٰذا " گئو دان کا اردو ناول نگاری کی تاریخ میں کوئی مقام نہیں " ۔۔۔ اس سے ایک تہلکہ مچ گیا۔۔۔ تاہم بعض نقاد اسے اردو کے عظیم ناولوں میں شمار کرتے ہیں۔۔۔ ۴۔آگ کا دریا (۱۹۵۷ء) اُردو کے دس بہترین ناول قرۃ العین حیدر کے ناول آگ کا دریا کو اردو کا بہترین ناول کہا جاتا ہے۔۔۔ اگرچہ اس سے اختلاف بھی کیا جاتا ہے لیکن راقم کی ناقص رائے میں آگ کا دریا بلا شبہہ اردو کا عظیم ترین ناول ہے۔۔۔ محمد احسن فاروقی کا خیال تھا کہ ورجینیا وولف کے ناول ’’اورلینڈو‘‘ (Orlando) کا مقصد انگلستان کی تاریخ بیان کرنا تھا اور آگ کا دریا میں اسی کا اتباع کیا گیا ہے۔۔ دراصل اس ناول میں برعظیم پاک و ہند کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ بیان کی گئی ہے اور اس کا بنیادی خیال ’’ وقت ‘‘ ہے۔۔ اگرچہ اس کے ابتدائی سو ڈیڑھ سو صفحات پڑھنا ذرا مشکل ہے لیکن اس کے بعد یہ ناول قاری کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔۔۔ ۵۔خدا کی بستی(۱۹۵۸ء) اُردو کے دس بہترین ناول شوکت صدیقی کا ناول خدا کی بستی کسی زمانے میں بہت مقبول تھا۔۔۔ اس کے تقریباً پچاس ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔۔۔ پاکستان بلکہ ہندوستان میں بھی اس کے کئی غیر قانونی ایڈیشن شائع ہوئے۔۔۔ خدا کی بستی کا ترجمہ تقریباً بیس زبانوں میں ہوچکا ہے۔۔۔ شوکت صدیقی نے اپنے مخصوص ترقی پسندانہ نظریات کے تحت اس ناول میں ۱۹۵۰ء کے عشرے کے پاکستانی معاشرے کی عکاسی کی ہے لیکن فنی تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے پاکستانی معاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل اس طرح پیش کیے ہیں کہ پڑھنے والے ایک حقیقی تبدیلی کی ضرورت کے قائل ہوجاتے ہیں۔۔۔ ۶۔ آنگن (۱۹۶۲ء) اُردو کے دس بہترین ناول خدیجہ مستور کے ناول آنگن میں آنگن دراصل معاشرے کی علامت ہے اور جس طرح گھر کے آنگن میں سب اہل خانہ مل بیٹھتے ہیں اسی طرح معاشرے میں سب مل کر زندگی گزارتے ہیں۔۔۔ آنگن بظاہر گھر کی کہانی ہے لیکن اس میں سماجی ، سیاسی اور معاشی مسائل کی تصویر کشی بھی ہے۔۔ قیام ِ پاکستان سے قبل ہندوستان کا سیاسی اور معاشی ماحول، انگریز، مسلم لیگ، کانگریس اور جاگیردارانہ ماحول کی خرابیاں بھی فن کارانہ انداز میں اور بالواسطہ پیش کی گئی ہیں۔۔۔ اس میں ایک کردار اسرار میاں کا بھی ہے جو اپنی شرافت کے باوجود ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔۔ آخر میں اس شریف کردار کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور وہ کہیں غائب ہوجاتا ہے جو علامتی اور اشارتی ہے۔۔۔ خدیجہ مستور کا خوب صورت اسلوب اور زبان بھی قابل داد ہے۔۔۔ ۷۔بستی (۱۹۷۹ء) اُردو کے دس بہترین ناول انتظار حسین پر ایک بڑا الزام نوسٹلجیا (nostalgia) یعنی ماضی پرستی کا ہے۔۔۔ یہی الزام قرۃ العین حیدر پر بھی تھا۔۔۔ لیکن معترضین یہ نہیں سمجھتے کہ ان دونوں تخلیقی فن کاروں کا اصل موضوع ہی ماضی تھا اور اسی کی بنیاد پروہ اپنی تحریروں میں جادو جگاتے تھے۔۔۔ ان کے فکشن میں کبھی کبھی خود نوشت سوانح کے رنگ بھی نظر آتے ہیں۔۔ پھر ہجرت دنیا کے عظیم فکشن کا موضوع رہا ہے اور ادب کے بعض نوبیل انعام یافتگان کا موضوع بھی ہجرت اور ماضی ہے۔۔۔ اپنے ناول بستی میں انتظار صاحب نے اپنے مخصوص استعاراتی و علامتی انداز میں اپنی خود نوشت اور فکشن کو ملا جلا کر پیش کیا ہے۔۔۔ ہندوستان سے ہجرت کے بعد لاہور میں بسنا اور اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے اس نئے ملک میں خوابوں کی تعبیر پانے کی خواہش ہونا، لیکن حقیقت کا بہت مختلف اور تلخ ہونا، یہ صرف انتظار صاحب کا المیہ نہیں تھا بلکہ تمام پاکستانیوں کا المیہ ہے۔۔۔ پاکستان خوابوں کی ایک بستی ہے۔۔۔ل یکن المیۂ مشرقی پاکستان کے بعد اس بستی کے باسی سکون کی تلاش میں ہوا میں معلق ہوگئے اور آج بھی ہیں۔۔۔ یہی اس بستی کی اصل کہانی ہے۔۔۔ ۸۔ راجا گدھ (۱۹۸۱ء) اُردو کے دس بہترین ناول ممکن ہے کہ بانو قدسیہ کے ناول راجا گدھ کو اس فہرست میں شامل کرنے پر کچھ لوگ چیں بہ جبیں ہوں کیونکہ اس کا مرکزی خیال حلال و حرام کے فلسفے پر مبنی ہے۔۔۔ لیکن پاکستانی معاشرے میں مالی بدعنوانی کی ہوش ربا داستانوں کے آئے دن منظر ِ عام پر آنے کے بعد راجا گدھ کاکم از کم مطالعہ تو کیا جانا چاہیے خواہ آپ اسے بہترین ناول نہ مانیں۔۔۔ بانو قدسیہ نے اس میں یہ فلسفہ پیش کیا ہے کہ حرام کھانے کے ذہنی اور جسمانی اثرات ہوتے ہیں اور حرام کھانے والا انسان پاگل ہوجاتا ہے اور اس میں مالی اور جنسی دونوں طرح کا حرام شامل ہے۔۔۔ اس ناول میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ خود پسندی انسان کو پاگل کردیتی ہے اور یہ انسانی تہذیب کے لیے بھی خطرہ ہے۔۔۔ اس میں پرندوں کی مدد سے انسانی مسائل تمثیلی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔۔۔ ۹۔ کئی چاند تھے سرِ آسماں (۲۰۰۵ء) اُردو کے دس بہترین ناول شمس الرحمٰن فاروقی کے ناول کئی چاند تھے سر آسماں پر بھی بعض لوگوں کو کئی اعتراضات ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں داغ دہلوی کی والدہ وزیرخانم کی کردار کُشی کی گئی ہے۔۔۔ وزیر بیگم ناول کا مرکزی کردار ہے جس کی مدد سے کئی صدیوں کی ہندوستانی تاریخ بیان کی گئی ہے۔۔۔ اس کی خاص بات تاریخی کرداروں مثلاً فریزر، نواب شمس الدین اور مرزا غالب وغیرہ کی پیش کش اور تہذیب و تمدنی عکاسی ہے۔۔ اس میں مصنف نے خیال رکھا ہے کہ جس زمانے کا ذکر ہورہا ہے اس زمانے کے کردار ویسی ہی اردو بولتے ہوئے نظرآ ئیں۔۔ ناول کاعنوان احمد مشتاق کے اس شعر سے لیا گیا ہے : کئی چاند تھے سرِ آسماں جو چمک چمک کے پلٹ گئے نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمھاری زلف سیاہ تھی ۱۰۔ دھنی بخش کے بیٹے (۲۰۰۸ء) اُردو کے دس بہترین ناول حالیہ برسوں میں جو اردو ناول شائع ہوئے ہیں ان میں حسن منظر کا ناول دھنی بخش کے بیٹے موضوع کے لحاظ سے بھی اہم ہے اور اس کا اسلوب بھی قاری کو جکڑے رکھتا ہے۔۔ اس کا موضوع سندھ میں اعلیٰ طبقے کا بنایا ہوا ظالمانہ نظام ہے جو غریبوں کا استحصالِ بے جا کرتا ہے ۔ یہ ظلم صدیوں سے جاری ہے اور جاری رہے گا کیونکہ اس خطے کے باسی خود اپنی تقدیر بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔۔۔ ناول سندھ کے دھنی بخش نامی ایک گائوں سے متعلق ہے۔۔۔ یہی نام ناول کے مرکزی کردار کا بھی ہے جس کے نام پر گائوں آباد ہے۔۔۔ اس ناول میں ثانوی طور پر دو تہذیوں یعنی مغربی اور مشرقی تہذیب کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔۔۔ ••••• بشکریہ : روزنامہ جنگ

[واٹس ایپ کب اور کس نے ایجاد کی] بہت ہی کمال کی تحریر ہے ایک بار ضرور پڑھیں وہ یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا‘ خاندان عسرت میں زندگی گزار رہا تھا‘ گھر میں بجلی تھی‘ گیس تھی اور نہ ہی پانی تھا‘ گرمیاں خیریت سے گزر جاتی تھیں لیکن یہ لوگ سردیوں میں بھیڑوں کے ساتھ سونے پرمجبور ہو جاتے تھے‘ اس غربت میں 1992ء میں زیادتی بھی شامل ہو گئی‘ یوکرائن میں یہودیوں پر ایک بار پھر ظلم شروع ہو گیا‘ والدہ نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما‘ اٹیچی کیس میں بیٹے کی کتابیں بھریں اور یہ دونوں امریکا آ گئے‘ کیلیفورنیا ان کا نیا دیس تھا‘ امریکا میں ان کے پاس مکان تھا‘ روزگار تھا اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان‘ یہ دونوں ماں بیٹا مکمل طور پر خیرات کے سہارے چل رہے تھے‘ امریکا میں ’’فوڈ سٹمپ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی سلسلہ چل رہا ہے‘ حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کے لیے فوڈ سٹمپس دیتی ہے‘ یہ سٹمپس امریکی خیرات ہوتی ہیں‘ یہ لوگ اتنے غریب تھے کہ یہ زندگی بچانے کے لیے خیرات لینے پر مجبور تھے۔ جین کوم کے پاس پڑھائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا‘ یہ پڑھنے لگا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی مہنگی ہونے لگی‘ فوڈ سٹمپس میں گزارہ مشکل ہو گیا‘ جین کوم نے پارٹ ٹائم نوکری تلاش کی‘ خوش قسمتی سے اسے ایک گروسری اسٹور میں سویپر کی ملازمت مل گئی‘ اسٹور کے فرش سے لے کر باتھ روم اور دروازوں کھڑکیوں سے لے کر سڑک تک صفائی اس کی ذمے داری تھی‘ وہ برسوں یہ ذمے داری نبھاتا رہا‘ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے خبط میں مبتلا ہو گیا‘ یہ شوق اسے سین جوز اسٹیٹ یونیورسٹی میں لے گیا‘ وہ 1997ء میں ’’یاہو‘‘ میں بھرتی ہوا اور اس نے نو سال تک سر نیچے کر کے یاہو میں گزار دیئے۔ 2004ء میں فیس بک آئی‘ یہ آہستہ آہستہ مقبول ہو تی چلی گئی‘ یہ 2007ء میں دنیا کی بڑی کمپنی بن گئی‘ جین کوم نے فیس بک میں اپلائی کیا لیکن فیس بک کو اس میں کوئی پوٹینشل نظر نہ آیا‘ وہ یہ نوکری حاصل نہ کر سکا‘ وہ مزید دو سال ’’یاہو‘‘ میں رہا‘ وہ آئی فون خریدنا چاہتا تھا لیکن حالات اجازت نہیں دے رہے تھے‘ اس نے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کیے اور نیا آئی فون خرید لیا‘ یہ آئی فون آگے چل کر اس کے لیے سونے کی کان ثابت ہوا۔ جین کوم نے فون استعمال کرتے کرتے سوچا‘ میں کوئی ایسی ایپلی کیشن کیوں نہ بناؤں جو فون کا متبادل بھی ہو‘ جس کے ذریعے ایس ایم ایس بھی کیا جا سکے‘ تصاویر بھی بھجوائی جا سکیں‘ ڈاکومنٹس بھی روانہ کیے جا سکیں اور جسے ’’ہیک‘‘ بھی نہ کیا جا سکے‘ یہ ایک انوکھا آئیڈیا تھا‘ اس نے یہ آئیڈیا اپنے ایک دوست برائن ایکٹون کے ساتھ شیئر کیا‘ یہ دونوں اسی آئیڈیا پر جت گئے‘ یہ کام کرتے رہے‘ کام کرتے رہے یہاں تک کہ یہ دو سال میں ایک طلسماتی ایپلی کیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے‘ یہ ’’ایپ‘‘ فروری 2009ء میں لانچ ہوئی اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی حدیں کراس کر گئی‘ یہ ایپ ٹیلی کمیونیکیشن میں انقلاب تھی‘ اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔ یہ ایپلی کیشن واٹس ایپ کہلاتی ہے‘ دنیا کے ایک ارب لوگ اس وقت یہ ایپ استعمال کر رہے ہیں‘ یہ ایپ دنیا کا تیز ترین اور محفوظ ترین ذریعہ ابلاغ ہے‘ آپ واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ کو نیا فون اور نیا نمبر خریدنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی آپ کسی موبائل کمپنی کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے‘ آپ پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ جین کوم کو واٹس ایپ نے چند ماہ میں ارب پتی بنا دیا‘ یہ ایپلی کیشن اس قدر کامیاب ہوئی کہ دنیا بھر کی کمپنیوں نے اس کی خریداری کے لیے بولی دینا شر وع کر دی لیکن یہ انکار کرتا رہا۔ فروری 2014ء میں فیس بک بھی ’’واٹس ایپ‘‘ کی خریداری کی دوڑ میں شامل ہو گئی‘ فیس بک کی انتظامیہ نے جب اس سے رابطہ کیا تو اس کی ہنسی نکل گئی‘ اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور قہقہہ لگا کر بولا ’’یہ وہ ادارہ تھا جس نے مجھے 2007ء میں نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا‘‘ وہ دیر تک ہنستا رہا‘ اس نے اس ہنسی کے دوران ’’فیس بک‘‘ کو ہاں کر دی‘ 19 بلین ڈالر میں سودا ہو گیا‘ یہ کتنی بڑی رقم ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے کل مالیاتی ذخائر سے لگا لیجیے‘ پاکستان کا فارن ایکسچینج اس وقت 22 ارب ڈالر ہے اور پاکستان 70 برسوں میں ان ذخائر تک پہنچا جب کہ جین کوم نے ایک ایپلی کیشن 19 ارب ڈالر میں فروخت کی۔ جین کوم نے فیس بک کے ساتھ سودے میں صرف ایک شرط رکھی’’میں فوڈ سٹمپس دینے والے ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر دستخط کروں گا‘‘ فیس بک کے لیے یہ شرط عجیب تھی‘ یہ لوگ یہ معاہدہ اپنے دفتر یا اس کے آفس میں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ڈٹ گیا یہاں تک کہ فیس بک اس کی ضد کے سامنے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی‘ ایک تاریخ طے ہوئی‘ فیس بک کے لوگ فلاحی سینٹر پہنچے‘ وہ ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری کرسی پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا‘ وہ کیوں نہ روتا‘ یہ وہ سینٹر تھا جس کے اس کونے کی اس آخری کرسی پر بیٹھ کر وہ اور اس کی ماں گھنٹوں ’’فوڈ سٹمپس‘‘ کا انتظار کرتے تھے۔ یہ دونوں کئی بار بھوکے پیٹ یہاں آئے اور شام تک بھوکے پیاسے یہاں بیٹھے رہے‘ ویٹنگ روم میں بیٹھنا اذیت ناک تھا لیکن اس سے بڑی اذیت کھڑکی میں بیٹھی خاتون تھی‘ وہ خاتون ہر بار نفرت سے ان کی طرف دیکھتی تھی‘ طنزیہ مسکراتی تھی اور پوچھتی تھی’’تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے‘ تم کام کیوں نہیں کرتے‘‘ یہ بات سیدھی ان کے دل میں ترازو ہو جاتی تھی لیکن یہ لوگ خاموش کھڑے رہتے تھے۔ خاتون انھیں ’’سلپ‘‘ دیتی تھی‘ ماں کاغذ پر دستخط کرتی تھی اور یہ لوگ آنکھیں پونچھتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے‘ وہ برسوں اس عمل سے گزرتا رہا چنانچہ جب کامیابی ملی تو اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اس ویٹنگ روم میں منانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے 19 بلین ڈالر کی ڈیل پر ’’فوڈ سٹمپس‘‘ کے انتظار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کیے‘ چیک لیا اور سیدھا کاؤنٹر پر چلا گیا‘ فوڈ سٹمپس دینے والی خاتون آج بھی وہاں موجود تھی‘ جین نے 19بلین ڈالر کا چیک اس کے سامنے لہرایا اور ہنس کر کہا ’’آئی گاٹ اے جاب‘‘ اور سینٹر سے باہر نکل گیا۔ یہ ایک غریب امریکی کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے‘ یہ داستان ثابت کرتی ہے آپ اگر ڈٹے رہیں‘ محنت کرتے رہیں اور ہمت قائم رکھیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کامیابی کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے‘ .

*تم کمزور نہیں ہو* 😊😊 کیا آپ نے کبھی سوچا ہے بیس بائیس سال کی عمر ہو ۔مصر کی شہزادی ہو۔ایک خوبرو اور اعلی اخلاق کے انسان سے شادی ہو ۔ جو پیغمبر وقت ہو ۔گود میں چند دن کا بچہ ہو۔فلسطین کی سرسبز و شاداب وادی میں رہتی ہو اسے ایک ایسی جگہ پر چھوڑ دیا گیا ۔۔جہاں نا انسان ہوں !!!!نا چھت ۔۔۔نا غذا ۔۔نہ درخت نا سایہ ۔۔۔نا پانی۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ اس تپتی دوپہر کا تصور کر سکتے ہیں ؟؟؟؟جب وہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی رہی تھی ؟؟؟ کیا اس رات کا تصور کر سکتے ہیں ۔کالی سیاہ رات کالے سیاہ بنجر پہاڑ .کوئی ذی روح نہیں !!! جب حضرت ابراہیم انہیں چھوڑ کر واپس چلے تو تین میل تک ان کے پیچھے چلتی رہیں اور پوچھا میرا قصور کیا ہے کیوں چھوڑ کے جاتے ہو ؟؟ وہ روئی نہیں گلہ شکوہ نہیں کیا ۔ جھگڑا نہیں کیا ۔پھر خود ہی ذہن میں آیا یہ حکم خداوندی نہ ہو ۔پوچھا کیا یہ خدا کا حکم ہے ۔اور اثبات میں جواب پا کر ۔واپس لوٹ گئیں ۔ صبر اور ہمت سے کام لیا خدا پر بھروسہ رکھا ۔خدا نے زمزم بھی دیا ۔بستی بھی آباد ہو گئی ۔۔۔ تو کہنا یہ چاہتا ہوں لاکھوں مصلحتوں کے ساتھ اس میں ایک مصلحت یہ بھی چھپی تھی اے بنت حوا !!!! تم کمزور نہیں ہو!!!! تم ہر مشکل سے لڑ سکتی ہو ۔اسباب پیدا کر سکتی ہو ۔ویرانوں میں بستیاں آباد کر سکتی ہو ۔ اپنے آپ کو کبھی کمزور مت جاننا !!! بس اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو کھوج لو ۔۔۔ دنبے کی قربانی کے ساتھ ساتھ ۔۔۔سیدہ ہاجرہ کے عزم و ہمت صبر و رضا اور قربانی کی عظیم داستان کو بھی یاد رکھا جاۓ ۔جنہوں نے بیٹے کی تربیت اس طرح سے کی کہ جب باپ نے کہا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں ۔تو بولے کہ ابا جان جلدی کیجئے ۔اور اپنا کرتا اتارا کر بولے . مگر ۔۔بابا میرا یہ کرتا میری ماں کو دے دینا ۔اسے میری یاد بہتt *جامعہ حیدریہ عباس آباد کوٹ سمابہ رحیم یار خان پاکستان*