Posts

*ایک شیعہ نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام شیعہ تھے*۔ *میں نے کہا وہ کیسے؟* *اس نے کہا: ”وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ* *[ القران سورت الصافات : ایت نمبر 83]* *ترجمہ: اور بے شک ابراہیم ع اس کے شیعہ میں سے ہیں*۔ *میں نے کہا تو ابھی مان جاۓ گا……* *اس نے کہا کیسے؟……… میں نے کہا:………* سنے قرآن پاک سے ۔۔۔* *( 1) ”وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ، وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ* *[ لقران آیت ۔10۔ 11 سورت الحجر]* *ترجمہ: ہم نے آپ سے پہلے شیعوں میں جتنے بھی رسول بھیجے اور جو بھی رسول آتا وہ ان کا مذاق اڑاتے"* *( 2) ”إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًاً“ [القران سورت القصص آیت نمبر 4]* *ترجمہ: "بےشک فرعون نے سر کشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو شیعہ بنا رکھا تھا"* *(3) ”مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ “* *ترجمہ:ان لوگوں میں سےجنہوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور خود بھی شیعہ ہو گۓ“* *[ القران پاک سورت الروم آیت نمبر 32]* *(4) ” إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ ٍٕ“* *ترجمہ: "بے شک جن لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے وہ شیعہ تھے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں"* *[ القران پاک سورت الانعام آیت نمبر 159]* *مجھ سے کہنے لگا دراصل آپ کی بات تو ٹھیک ہے میں تو مذاق کر رہا تھا ۔۔* *#نوٹ آپ سب سے گزارش ہے کہ اس تحریر کو اپنی وال ۔ اپنی گروپ ۔ اپنی پیج وغیرہ سے شئیر کریں تا کہ ان کو پتہ چل جائے جن کو پتہ نہیں ہے ،،*

 *ایک  شیعہ نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام شیعہ تھے*۔ *میں نے کہا وہ  کیسے؟* *اس نے کہا:  ”وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ*  *[ القران سورت الصافات : ایت نمبر 83]* *ترجمہ: اور بے شک ابراہیم ع اس کے شیعہ میں سے ہیں*۔        *میں نے کہا تو ابھی مان جاۓ گا……* *اس نے کہا کیسے؟……… میں نے کہا:………* سنے قرآن پاک  سے ۔۔۔*   *( 1)   ”وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ، وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ*  *[ لقران آیت ۔10۔ 11 سورت  الحجر]*  *ترجمہ: ہم نے آپ سے پہلے شیعوں میں جتنے بھی رسول بھیجے اور جو بھی رسول آتا وہ ان کا مذاق اڑاتے"* *( 2)   ”إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًاً“ [القران سورت القصص آیت نمبر  4]* *ترجمہ: "بےشک فرعون نے سر کشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو شیعہ بنا رکھا تھا"* *(3)  ”مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ “*   *ترجمہ:ان لوگوں میں سےجنہوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑ...

*🌹❤️جنتی مردوں اور عورتوں کی کیا کیا صفات ہیں؟؟؟؟؟؟؟* ان صفات کو اللہ تعالی نے قرآن کی ایک آیت میں جمع کردیا ہے ۔ 👈🏻إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ *بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں* 👈🏻وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ *مومن مرد اور مومنہ عورتیں* 👈🏻وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ *اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ *سچے مرد اور سچی عورتیں* 👈🏻وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ *صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ *عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ *صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ *روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں* 👈🏻وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ *اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالذَّاكِرِينَ للَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ *کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں* 👈🏻أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (الاحزاب : 35) *👌🏻👍🏻👈🏻ان سب کے لئے اللہ تعالی نے وسیع مغفرت اور بہت زیادہ ثواب تیار کر رکھا ہے* *ان آیات میں جہاں اللہ تعالی نے مثالی مرد کے دس اوصاف کا ذکر کیا ہے وہیں مثالی عورت کی بھی دس خوبیوں کا ذکر کیا ہے* •══════════B *انتخاب و پیشکش* *کوثر عباس*8 *جامعہ حیدریہ عباس آباد کوٹ سمابہ رحیم یار خان پاکستان*

 *🌹❤️جنتی مردوں اور عورتوں کی کیا کیا صفات ہیں؟؟؟؟؟؟؟*  ان صفات کو اللہ تعالی نے قرآن کی ایک آیت میں جمع کردیا ہے ۔  👈🏻إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ *بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں* 👈🏻وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ *مومن مرد اور مومنہ عورتیں*  👈🏻وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ *اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ *سچے مرد اور سچی عورتیں* 👈🏻وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ *صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں*  👈🏻وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ *عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں*  👈🏻وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ *صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ *روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں*  👈🏻وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ *اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں* 👈🏻وَالذَّاكِرِينَ للَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ *کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے ...

✍ *تین مشکلات کیلئے تین ہی راه حل* 👌 1⃣ پہلی مشکل : 💢اگر شھوت میں مبتلا ہوۓ ہو... ✅ اسکا راه حل: اپنی نماز میں تجدید نظر كرو ضرور نماز میں سستی کرتے ہو گے... دلیل فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ۔۔۔ سورہ مریم آیت 59 پھر ان کے بعد ان کی جگہ پر وہ لوگ آئے جنہوں نے نماز کو برباد کردیا اور خواہشات کا اتباع کرلیا۔۔۔ 2⃣ دوسری مشکل : 💢اگر تم عدم توفیق اور بد بختی کا احساس كرتے ہو.. ✅ اسکا راه حل : اپنی والدہ محترمہ کیساتھ تمھارا رابطہ درست نہیں ہے لہذا اس بارے تجدید نظر کرو.. دلیل وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا سورہ مریم آیت 32 اور اپنی والدہ کے ساتھ حَسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور ظالم و بدنصیب نہیں بنایا ہے۔ 3⃣تیسری مشکل: 💢اگر تنگی اور زندگی کی مشکلات کا احساس کرتے ہو۔ ✅ اسکا راه حل: قرآن کریم کیساتھ اپنا رابطه درست كرو... دلیل وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا۔۔۔سورہ طہ آیت 124 اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لئے زندگی کی تنگی بھی ہے۔ t *انتخاب* *کوثرعباس* *جامعہ حیدریہ عباس آباد کوٹ سمابہ رحیم یار خان پاکستان*

 ✍ *تین مشکلات کیلئے تین ہی راه حل* 👌 1⃣ پہلی مشکل : 💢اگر شھوت میں  مبتلا ہوۓ ہو... ✅ اسکا راه حل: اپنی نماز میں تجدید نظر كرو ضرور نماز میں سستی کرتے ہو گے... دلیل فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ۔۔۔ سورہ مریم آیت 59 پھر ان کے بعد ان کی جگہ پر وہ لوگ آئے جنہوں نے نماز کو برباد کردیا اور خواہشات کا اتباع کرلیا۔۔۔ 2⃣ دوسری مشکل : 💢اگر تم عدم توفیق اور بد بختی کا احساس كرتے ہو.. ✅ اسکا راه حل :  اپنی والدہ محترمہ کیساتھ تمھارا رابطہ درست نہیں ہے لہذا اس بارے تجدید نظر کرو.. دلیل وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا سورہ مریم آیت 32 اور اپنی والدہ کے ساتھ حَسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور ظالم و بدنصیب نہیں بنایا ہے۔ 3⃣تیسری مشکل: 💢اگر تنگی اور زندگی کی مشکلات کا احساس کرتے ہو۔ ✅ اسکا راه حل: قرآن کریم کیساتھ اپنا رابطه درست كرو... دلیل وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا۔۔۔سورہ طہ آیت 124 اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لئے زندگی کی تنگی بھی ہے۔  *انتخاب*  *کوثرعب...

مہنگے موبائل فون خریدنے والو اس پیغام کو ضرور پڑھیں 😢😢😢😢😢 ایک نو سال کا بچہ مسجد کے کونے میں بیٹھے چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے نہ جانے کیا مانگ رہا تھا؟ کپڑوں میں پیوند لگا تھا مگر نہایت صاف تھے اس کے ننھےننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل بےخبر اللہ پاک سے باتوں میں لگا ھوا تھا جیسے ہی وہ اٹھا ایک اجنبی نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا اور پوچھا اللہ پاک سے کیا مانگ رھے ھو؟ اس نے کہا کہ میرے ابو مر گۓ ھیں ان کےلئے جنت میری امی ہر وقت روتی رہتی ھے اس کے لئے صبر میری بہن ماں سے کپڑے مانگتی ھے اس کے لئے رقم اجنبی نے سوال کیا کیا آب سکول جاتے ھو؟ بچے نے کہا ہاں جاتا ھوں اجنبی نے پوچھا کس کلاس میں پڑھتے ھو؟ نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا ماں چنے بنا دیتی ھے وہ سکول کے بچوں کو فروخت کرتا ھوں بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ھیں ہمارا یہی کام دھندا ھے بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رھا تھا تمہارا کوئ رشتہ دار اجنبی نہ چاہتے ھوۓ بھی بچے سے پوچھ بیٹھا؟ امی کہتی ھے غریب کا کوئ رشتہ دار نہیں ھوتا امی کبھی جھوٹ نہیں بولتی لیکن انکل جب ھم کھانا کھا رہے ھوتےہیں اور میں کہتا ھوں امی آپ بھی کھانا کھاؤ تو وہ کہتی ھیں میں نے کھالیا ھے اس وقت لگتا ھے وہ جھوٹ بول رھی ھیں. بیٹا اگر گھر کا خرچ مل جاۓ تو تم پڑھوگے؟ بچہ:بالکل نہیں کیونکہ تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ھیں ہمیں کسی پڑھے ھوۓ نے کبھی نہیں پوچھا پاس سے گزر جاتے ھیں اجنبی حیران بھی تھا اور پریشان بھی پھر اس نے کہا کہ ہر روز اسی مسجد میں آتا ھوں کبھی کسی نے نہیں پوچھا یہاں تمام آنے والے میرے والد کو جانتے تھے مگر ہمیں کوئی نہیں جانتا بچہ زور زور سے رونے لگا انکل جب باپ مر جاتا ھے تو سب اجنبی بن جاتے ھیں میرے پاس بچے کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا ایسے کتنے معصوم ھوں گے جو حسرتوں سے زخمی ھیں بس ایک کوشش کیجۓ اور اپنے اردگرد ایسے ضروت مند یتیموں اور بےسہارا کو ڈھونڈئے اور ان کی مدد کیجئے موبائل اور لوڈ کے دینے سے پہلے اپنے آس پاس کسی غریب کو دیکھ لیں شاید اسکو آٹے کی بوری زیادہ ضرورت ھو تصویر یا ویڈیو بھیجنے کی جگہ یہ میسج کم ازکم ایک یا دو گروپ میں ضرور شئیر کریں خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھیں جزاک اللہ (ایک دفعہ شیر ضرور کیجیئے گا پلیز پڑھ کر)

 مہنگے موبائل فون خریدنے   والو  اس پیغام کو ضرور پڑھیں  😢😢😢😢😢        ایک نو سال کا بچہ مسجد کے کونے میں بیٹھے چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے نہ جانے کیا مانگ رہا تھا؟ کپڑوں میں پیوند لگا تھا مگر نہایت صاف تھے اس کے ننھےننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل بےخبر اللہ پاک سے باتوں میں لگا ھوا تھا جیسے ہی وہ اٹھا ایک اجنبی نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا اور پوچھا اللہ پاک سے کیا مانگ رھے ھو؟ اس نے کہا کہ  میرے ابو مر گۓ ھیں ان کےلئے جنت میری امی ہر وقت روتی رہتی ھے اس کے لئے صبر میری بہن ماں سے کپڑے مانگتی ھے اس کے لئے رقم اجنبی نے سوال کیا کیا آب سکول جاتے ھو؟ بچے نے کہا ہاں جاتا ھوں اجنبی نے پوچھا کس کلاس میں پڑھتے ھو؟ نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا ماں چنے بنا دیتی ھے وہ سکول کے بچوں کو فروخت کرتا ھوں بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ھیں ہمارا یہی کام دھندا ھے بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رھا تھا تمہارا کوئ رشتہ دار اجنبی نہ چاہتے ھوۓ بھی بچے سے پوچھ بیٹھا؟ امی کہتی ھے غ...

• 👈 *جتنی_محنت_اتنی_کامیابی* 👉 مارک سپٹز دنیا کا نامور تیراک تھا۔ یہ تاریخ کا پہلا تیراک تھا جس نے اولمپکس میں نو بار فتح حاصل کی۔ یہ اکٹھے سات گولڈ میڈل حاصل کرنے والا پہلا تیراک بھی تھا۔ مارک سپٹز نے ١٩۷٢ء میں میونخ کے اولمپکس میں سات گولڈ میڈل لئے اور پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ وہ یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سٹیج پر بیٹھا اور ہنس کر رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دینے لگا۔ ایک رپورٹر نے اچانک اس سے کہا، ”مارک ٹوڈے از لکی فار یو“ یہ فقرہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔ وہ تڑپ کر مڑا اور رپورٹر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دے دی۔ رپورٹر ڈرتے ڈرتے سٹیج پر آ گیا۔ مارک سپٹز نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے پیار سے بولا، ”میں ١٩٦٨ء میں میکسیکو کے اولمپکس میں شریک تھا۔ میں نے بڑی کوشش کی لیکن میں آدھ منٹ یعنی تیس سیکنڈ سے ہار گیا۔ میں نے اس وقت فیصلہ کیا میں اگلا اولمپکس بھی جیتوں گا اور سب سے زیادہ گولڈ میڈل بھی حاصل کروں گا۔“ وہ رکا اور پھر بولا، ”تم جانتے ہو مجھے تیس سیکنڈ کور کرنے کے لئے کتنی محنت کرنا پڑی؟“ رپورٹر خاموش رہا۔ مارک سپٹز چند سیکنڈ رک کر بولا، ”میں چار سال میں دس ہزار گھنٹے پانی میں رہا۔ میں نے ان چار برسوں میں ایک بھی چھٹی نہیں کی۔ میں کرسمس کے دن بھی سوئمنگ پول میں ہوتا تھا اور اپنا برتھ ڈے بھی تیر کر مناتا تھا۔ ان چار برسوں میں میرے والدین کا انتقال ہوا، میرے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا، میری گرل فرینڈز مجھے چھوڑ گئیں، میرا اکاﺅنٹ خالی ہو گیا، میرے کریڈٹ کارڈز بند ہو گئے۔ میری گاڑی میرا گھر بک گیا لیکن میں نے ایک بھی دن چھٹی نہیں کی۔ تم اگر ان دس ہزار گھنٹوں کو چار پر تقسیم کرو تو یہ اڑھائی ہزار گھنٹے سالانہ اور آٹھ گھنٹے روزانہ بنتے ہیں۔ میں اتنا عرصہ پانی میں رہنے کی وجہ سے”ایسڈ ری فلکس ڈزیز“ کا شکار ہو گیا۔ میرے پورے جسم میں درد ہوتا ہے اور مجھے روزانہ فزیو تھراپی کرنا پڑتی ہے۔ میں اس بیماری اور دس ہزار گھنٹے کی پریکٹس کے بعد اپنی صرف 30 سیکنڈ کی کمی پوری کرنے کے قابل ہوا اور میں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ سات گولڈ میڈل حاصل کر لئے، لیکن تم کہتے ہو یہ میرا لکی ڈے ہے۔ میں روز پانی میں آٹھ گھنٹے پریکٹس کرتا تھا۔ تم روزانہ 10 گھنٹے پریکٹس کر لو۔ میرا لکی ڈے تمہارا لکی ڈے بن جائے گا۔“ وہ اس کے بعد رکا اور پھر تاریخی فقرہ کہا، اس نے کہا، ”انسان جتنی محنت کرتا جاتا ہے وہ اتنا خوش نصیب ہوتا جاتا ہے“۔ دنیا میں سپورٹس واحد شعبہ ہے جس میں قسمت کم اور مہارت زیادہ کام آتی ہے۔ کھیل نفسیات، کیمسٹری، فزکس اور ریاضی کا زبردست کمبی نیشن ہوتے ہیں اور آپ اس کمبی نیشن پر اسی وقت پورے اتر تے ہیں جب آپ پریکٹس کی انتہا کر دیتے ہیں۔ قسمت بھی بے شک آپ پر مہربان ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا لیکن کھلاڑی صرف قسمت سے پوری زندگی نہیں جیت سکتے۔ یہ چیمپیئن بھی نہیں بن سکتے۔ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ سچن ٹنڈولکر کی مثال لے لیجیئے۔ سچن ٹنڈولکر کو کرکٹ کا دیوتا کہا جاتا ہے اور یہ غلط بھی نہیں۔ یہ کرکٹ کی تاریخ میں 100 سنچریاں بنانے والا پہلا کھلاڑی ہے۔ یہ تاریخ کا پہلا کھلاڑی ہے جس نے 664 انٹرنیشنل میچز کھیلے اور 34 ہزار 3 سو 57 رنز بنائے۔ یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں دس ہزار رنز بنانے والا پہلا کھلاڑی بھی تھا اور یہ دنیا میں تیز ترین رنز بنانے والا بیٹس مین بھی۔ آپ سچن ٹنڈولکر کا اعتماد ملاحظہ کیجیئے ۔ آسٹریلیا کے بولر بریڈ ہوگ نے ٢٠٠۷ء میں حیدر آباد میں سچن ٹنڈولکر کو آﺅٹ کر دیا۔ یہ بریڈ کی زندگی کی سب سے بڑی اچیومنٹ تھی۔ یہ بال لے کر سچن ٹنڈولکر کے پاس چلا گیا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کیا، ”سر یہ میری زندگی کا سب سے بڑا موقع ہے، میں نے گاڈ آف کرکٹ کو آﺅٹ کر دیا۔ آپ پلیز مجھے اس بال پر آٹو گراف دے دیں۔“ سچن ٹنڈولکر نے گیند لی اور اس پر مارکر سے لکھ دیا، ”دس ول نیور ہیپن اگین“ (تمہارے زندگی میں یہ موقع دوبارہ کبھی نہیں آئے گا۔) آپ سچن ٹنڈولکر کا اپنی ذات پر اعتماد دیکھیئے۔ بریڈ ہوگ کا اس کے بعد سچن ٹنڈولکر سے ٢١ مرتبہ سامنا ہوا۔ ہوگ نے سچن کا غرور توڑنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن بریڈ ہوگ دوبارہ اس کی وکٹ نہیں لے سکا۔ سچن ٹنڈولکر کی اس کامیابی کے پیچھے کیا گُر تھا۔ یہ ساڑھے پانچ فٹ کا لٹل ماسٹر تھا۔ یہ بچہ دکھائی دیتا تھا لیکن یہ اس کے باوجود تاریخ کا سب سے بڑا بیٹس مین بنا اور یہ سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے اور رنز بنانے والا کرکٹر بھی۔ آخر اس شخص کے پاس کون سا فارمولا، کون سا گُر تھا؟ یہ گُر سچن ٹنڈولکر نے ٢٠١٣ء میں اپنی زبان سے دنیا کو بتایا۔ اس کا کہنا تھا میں ١٩٨٩ء میں سولہ سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ میں آیا اور ٢٠١٣ء میں دو سو (٢٠٠) ٹیسٹ میچ کھیل کر ریٹائر ہو گیا۔ میرے کیریئر کے ٢۴ سال بنتے ہیں، ان ٢۴ برسوں میں ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جب میں صبح چھ بجے گراﺅنڈ نہ پہنچا ہوں اور میں نے ۵٠٠ گیندیں فیس نہ کی ہوں. میں نے اپنے کیریئر کے ٢۴ برسوں میں موبائل فون، آئینہ اور اپنے رشتے داروں کا منہ بعد میں دیکھا اور پانچ سو گیندیں پہلے کھیلیں۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا، ”آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟“ سچن نے جواب دیا، ”میں نے ایک بھی چھٹی نہیں کی۔“ پوچھنے والے نے پوچھا ”کرسمس، نیشنل ڈے، دیوالی اور دسہرا آپ نے کبھی چھٹی نہیں کی؟“ سچن نے جواب دیا، ”میں شادی کے دن اور سہاگ رات سے اگلی صبح بھی ٹھیک چھ بجے گراﺅنڈ میں تھا۔ میں نے زندگی میں میچز کے علاوہ صرف پریکٹس کے دوران ۴۴ لاکھ گیندیں کھیلی ہیں اور یہ وہ ۴۴ لاکھ گیندیں ہیں جن کی وجہ سے لوگ مجھے گاڈ آف کرکٹ کہتے ہیں۔“ انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ”آپ سنچری یا ڈبل سنچری کرنے کے اگلے دن بھی پریکٹس کرتے تھے۔“ سچن ٹنڈولکر نے جواب دیا ”ہم نے دو اپریل ٢٠١١ء کو ورلڈ کپ جیتا تھا۔ میں ورلڈ کپ جیتنے سے اگلی صبح یعنی ٣ اپریل کو بھی ٹھیک چھ بجے گراﺅنڈ میں تھا اور میں نے پانچ سو گیندیں کھیلنے کے بعد موبائل آن کیا تھا اور وزیراعظم من موہن سنگھ کی مبارک باد کی کال ریسیو کی تھی۔“ آپ دیکھیئے یہ پریکٹس اور خوفناک حد تک ڈسپلن تھا جس نے ساڑھے پانچ فٹ کے دھان پان سے لڑکے کو دنیا کا سب سے بڑا بیٹس مین بنا دیا۔ جس کے ریکارڈ کوئی توڑ سکا اور شاید ہی کوئی توڑ سکے گا۔ یہ صرف خوش قسمتی، ماں یا قوم کی دعائیں نہیں تھیں یہ اس شخص کا ڈسپلن اور کام سے لگن بھی تھی اور اس لگن نے اسے عزت اور شہرت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ ِیہی فلسفہ مذہب میں لاگو ہوتا ہے *جتنی محنت اتنی کامیابی۔* اگر آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں مذہب پر مکمل عمل کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر نمائشی نام نمود سے دنیا کو تو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔دائمی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ *نوٹ:* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے *︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗* 📚 📖 اردو تحـــــــاریـــــــر 📖 📚 *︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘* *📜☜ واٹس ایپ گروپ میں ایڈ ہونے کے لئے Name لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کری94*

 •        👈 *جتنی_محنت_اتنی_کامیابی* 👉 مارک سپٹز دنیا کا نامور تیراک تھا۔ یہ تاریخ کا پہلا تیراک تھا جس نے اولمپکس میں نو بار فتح حاصل کی۔ یہ اکٹھے سات گولڈ میڈل حاصل کرنے والا پہلا تیراک بھی تھا۔ مارک سپٹز نے ١٩۷٢ء میں میونخ کے اولمپکس میں سات گولڈ میڈل لئے اور پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ وہ یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سٹیج پر بیٹھا اور ہنس کر رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دینے لگا۔ ایک رپورٹر نے اچانک اس سے کہا، ”مارک ٹوڈے از لکی فار یو“ یہ فقرہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔ وہ تڑپ کر مڑا اور رپورٹر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دے دی۔ رپورٹر ڈرتے ڈرتے سٹیج پر آ گیا۔ مارک سپٹز نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے پیار سے بولا، ”میں ١٩٦٨ء میں میکسیکو کے اولمپکس میں شریک تھا۔ میں نے بڑی کوشش کی لیکن میں آدھ منٹ یعنی تیس سیکنڈ سے ہار گیا۔ میں نے اس وقت فیصلہ کیا میں اگلا اولمپکس بھی جیتوں گا اور سب سے زیادہ گولڈ میڈل بھی حاصل کروں گا۔“ وہ رکا اور پھر بولا، ”تم جانتے ہو مجھے تیس سیکنڈ کور کرنے کے لئے کتنی محنت کرنا پڑی؟“ رپورٹر خاموش رہا۔ مارک سپٹز چند سیکنڈ رک کر بولا، ”میں چار سال میں...
 •        👈 *جتنی_محنت_اتنی_کامیابی* 👉 مارک سپٹز دنیا کا نامور تیراک تھا۔ یہ تاریخ کا پہلا تیراک تھا جس نے اولمپکس میں نو بار فتح حاصل کی۔ یہ اکٹھے سات گولڈ میڈل حاصل کرنے والا پہلا تیراک بھی تھا۔ مارک سپٹز نے ١٩۷٢ء میں میونخ کے اولمپکس میں سات گولڈ میڈل لئے اور پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ وہ یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سٹیج پر بیٹھا اور ہنس کر رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دینے لگا۔ ایک رپورٹر نے اچانک اس سے کہا، ”مارک ٹوڈے از لکی فار یو“ یہ فقرہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔ وہ تڑپ کر مڑا اور رپورٹر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دے دی۔ رپورٹر ڈرتے ڈرتے سٹیج پر آ گیا۔ مارک سپٹز نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے پیار سے بولا، ”میں ١٩٦٨ء میں میکسیکو کے اولمپکس میں شریک تھا۔ میں نے بڑی کوشش کی لیکن میں آدھ منٹ یعنی تیس سیکنڈ سے ہار گیا۔ میں نے اس وقت فیصلہ کیا میں اگلا اولمپکس بھی جیتوں گا اور سب سے زیادہ گولڈ میڈل بھی حاصل کروں گا۔“ وہ رکا اور پھر بولا، ”تم جانتے ہو مجھے تیس سیکنڈ کور کرنے کے لئے کتنی محنت کرنا پڑی؟“ رپورٹر خاموش رہا۔ مارک سپٹز چند سیکنڈ رک کر بولا، ”میں چار سال میں...

*تین حیرت انگیز واقعات* *اور ان تینوں سے ملنے والا* *ایک سبق* *پہلا واقعہ :* بس پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی. اچانک بجلی چمکی. بس کے قریب آئی اور واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ آدھ گھنٹے بعد بجلی دوبارہ آئی‘ بس کے پچھلے حصے کی طرف لپکی لیکن واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ بجلی ایک بار پھر آ ئی. وہ اس بار دائیں سائیڈ پر حملہ آور ہوئی لیکن تیسری بار بھی واپس لوٹ گئی. ڈرائیور سمجھ دار تھا‘ اس نے گاڑی روکی اور اونچی آواز میں بولا ’’بھائیو بس میں کوئی گناہگار سوار ہے۔ یہ بجلی اسے تلاش کر رہی ہے‘ ہم نے اگر اسے نہ اتارا تو ہم سب مارے جائیں گے‘‘ بس میں سراسیمگی پھیل گئی اور تمام مسافر ایک دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے‘ ڈرائیور نے مشورہ دیا. "سامنے پہاڑ کے نیچے درخت ہے‘ ہم تمام ایک ایک کر کے اترتے ہیں اور درخت کے نیچے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ ہم میں سے جو گناہ گار ہو گا بجلی اس پر گر جائے گی اور باقی لوگ بچ جائیں گے" یہ تجویز قابل عمل تھی‘ تمام مسافروں نے اتفاق کیا‘ ڈرائیور سب سے پہلے اترا، اور دوڑ کر درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ بجلی آسمان پر چمکتی رہی لیکن وہ ڈرائیور کی طرف نہیں آئی. وہ بس میں واپس چلا گیا‘ دوسرا مسافر اترا اور درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا‘ بجلی نے اس کی طرف بھی توجہ نہیں دی‘ تیسرا مسافر بھی صاف بچ گیا یوں مسافر آتے رہے‘ درخت کے نیچے کھڑے ہوتے رہے اور واپس جاتے رہے یہاں تک کہ صرف ایک مسافر بچ گیا. یہ گندہ مجہول سا مسافر تھا. کنڈیکٹر نے اسے ترس کھا کر بس میں سوار کر لیا تھا. مسافروں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ لوگوں کا کہنا تھا: "ہم تمہاری وجہ سے موت کے منہ پر بیٹھے ہیں،تم فوراً بس سے اتر جاؤ" وہ اس سے ان گناہوں کی تفصیل بھی پوچھ رہے تھے جن کی وجہ سے ایک اذیت ناک موت اس کی منتظر تھی. مگر وہ مسافر اترنے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن لوگ اسے ہر قیمت پر بس سے اتارنا چاہتے تھے‘ مسافروں نے پہلے اسے برا بھلا کہہ کر اترنے کا حکم دیا‘ پھر اسے پیار سے سمجھایا، اور آخر میں اسے گھسیٹ کر اتارنے لگے۔ وہ شخص کبھی کسی سیٹ کی پشت پکڑ لیتا تھا‘ کبھی کسی راڈ کے ساتھ لپٹ جاتا تھا، اور کبھی دروازے کو جپھا مار لیتا تھا. لیکن لوگ باز نہ آئے‘ انھوں نے اسے زبردستی گھسیٹ کر اتار دیا. ڈرائیور نے بس چلا دی. بس جوں ہی "گناہ گار شخص "سے چند میٹر آگے گئی، دھاڑ کی آواز آئی، بجلی بس پر گری، اور تمام مسافر چند لمحوں میں جل کر بھسم ہو گئے. وہ *"گناہگار مسافر"* دو گھنٹوں سے مسافروں کی جان بچا رہا تھا۔ *دوسرا واقعہ :* مجھے کسی صاحب نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا. وہ ترکی کے راستے یونان جانا چاہتے تھے. ایجنٹ انھیں ترکی لے گیا. یہ ازمیر شہر میں دوسرے لوگوں کے ساتھ برفباری کا انتظار کرنے لگے. سردیاں یورپ میں داخلے کا بہترین وقت ہوتا تھا. برف کی وجہ سے سیکیورٹی اہلکار مورچوں میں دبک جاتے تھے، بارڈر پرگشت رک جاتا تھا، ایجنٹ لوگوں کو کشتیوں میں سوار کرتے تھے، اور انھیں یونان کے کسی ساحل پر اتار دیتے تھے، یہ ایجنٹوں کی عام پریکٹس تھی۔ اس صاحب نے بتایا: "ہم ترکی میں ایجنٹ کے ڈیرے پر پڑے تھے‘ ہمارے ساتھ گوجرانوالہ کا ایک گندہ سا لڑکا تھا‘ وہ نہاتا بھی نہیں تھا، اور دانت بھی صاف نہیں کرتا تھا. اس سے خوفناک بو آتی تھی. تمام لوگ اس سے پرہیز کرتے تھے. ہم لوگ دسمبر میں کشتی میں سوار ہوئے‘ ہم میں سے کوئی شخص اس لڑکے کو ساتھ نہیں لے جانا چاہتا تھا‘ ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رونا شروع ہو گیا‘ ایجنٹ کے پاس وقت کم تھا چنانچہ اس نے اسے ٹھڈا مار کر کشتی میں پھینک دیا. کشتی جب یونان کی حدود میں داخل ہوئی، تو کوسٹ گارڈ ایکٹو تھے۔ یونان کو شاید ہماری کشتی کی مخبری ہو گئی تھی. ایجنٹ نے مختلف راستوں سے یونان میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر ہر راستے پر کوسٹ گارڈ تھے. اس دوران اس لڑکے کی طبیعت خراب ہو گئی. وہ الٹیاں کرنے لگا. ہم نے ایجنٹ سے احتجاج شروع کر دیا. ایجنٹ ٹینشن میں تھا‘ اسے غصہ آ گیا‘ اس نے دو لڑکوں کی مدد لی، اور اس گندے لڑکے کو اٹھا کر یخ ٹھنڈے پانی میں پھینک دیا. وہ بے چارہ ڈبکیاں کھانے لگا. ہم آگے نکل گئے. ہم ابھی آدھ کلومیٹر آگے گئے تھے کہ ہم پر فائرنگ شروع ہو گئی‘ ایجنٹ نے کشتی موڑنے کی کوشش کی۔ کشتی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی، اور وہ پانی میں الٹ گئی. ہم سب پانی میں ڈبکیاں کھانے لگے‘ میں نے خود کو سردی‘ پانی اور خوف کے حوالے کر دیا. جب میری آنکھ کھلی، تو میں اسپتال میں تھا‘ مجھے هسپتال کے عملے نے بتایا "کشتی میں سوار تمام لوگ مر چکے ہیں.صرف دو لوگ بچے ہیں" میں نے دوسرے زنده شخص کے بارے میں پوچھا. ڈاکٹر نے میرے بیڈ کا پردہ ہٹا دیا، دوسرے بیڈ پر وہی لڑکا لیٹا تھا، جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے سمندر میں پھینکا تھا، سمندر کی لہریں اسے دھکیل کر ساحل تک لے آئی تھیں۔ مجھے کوسٹ گارڈز نے بچا لیا تھا. جب کہ باقی لوگ گولیوں کا نشانہ بن گئے، یا پھر سردی سے ٹھٹھر کر مر چکے تھے. میں پندرہ دن اسپتال رہا. میں اس دوران یہ سوچتا رہا: "میں کیوں بچ گیا"؟ مجھے کوئی جواب نہیں سوجھتا تھا. میں جب اسپتال سے ڈسچارج ہو رہا تھا، مجھے اس وقت یاد آیا. میں نے اس لڑکے کو لائف جیکٹ پہنائی تھی. ایجنٹ جب اسے پانی میں پھینکنے کے لیے آ رہا تھا، تو میں نے فوراً باکس سے جیکٹ نکال کر اسے پہنا دی تھی. یہ وہ نیکی تھی جس نے مجھے بچا لیا. مجھے جوں ہی یہ نیکی یاد آئی، مجھے چھ ماہ کا وہ سارا زمانہ یاد آ گیا، جو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ گزارہ تھا. ہم نہ صرف ترکی میں اس کی وجہ سے بچتے رہے تھے، بلکہ وہ لڑکا جب تک ہماری کشتی میں موجود رہا، ہم سب لوگ کوسٹ گارڈز سے بھی محفوظ رہے، یخ پانی سے بھی، اور موت سے بھی. ہم نے جوں ہی اسے کشتی سے دھکا دیا، موت نے ہم پر اٹیک کر دیا. میں نے پولیس سے درخواست کی: "میں اپنے ساتھی سے ملنا چاہتا ہوں" پولیس اہلکاروں نے بتایا: "وہ پولیس وین میں تمہارا انتظار کر رہا ہے" میں گاڑی میں سوار ہوا، اور جاتے ہی اسے گلے سے لگا لیا۔ مجھے اس وقت اس کے جسم سے کسی قسم کی کوئی بو نہیں آ رہی تھی. تب مجھے معلوم ہوا میرے ساتھیوں کو دراصل اس کے جسم سے اپنی موت کی بو آتی تھی. یہ ان لوگوں کی موت تھی، جو انھیں اس سے الگ کرنا چاہتی تھی. اور وہ جوں ہی الگ ہوئے، سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔ *تیسرا واقعہ:* میرے ایک بزرگ دوست جوانی میں ارب پتی تھے، لیکن ان کی زندگی کا آخری حصہ عسرت میں گزرا. مجھے انھوں نے ایک دن اپنی کہانی سنائی انھوں نے بتایا: "میرے والد مل میں کام کرتے تھے‘ گزارہ مشکل سے ہوتا تھا‘ ان کا ایک کزن معذور تھا‘ کزن کے والدین فوت ہو گئے‘ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں رہا‘ میرے والد کو ترس آ گیا‘ وہ اسے اپنے گھر لے آئے‘ ہم پانچ بہن بھائی تھے‘ گھر میں غربت تھی اور اوپر سے ایک معذور چچا سر پر آ گرا. والدہ کو وہ اچھے نہیں لگتے تھے‘ وہ سارا دن انھیں کوستی رہتی تھیں۔ ہم بھی والدہ کی وجہ سے ان سے نفرت کرتے تھے لیکن میرے والد کو ان سے محبت تھی‘ وہ انھیں اپنے ہاتھ سے کھانا بھی کھلاتے تھے‘ ان کا بول براز بھی صاف کرتے تھے، اور انھیں کپڑے بھی پہناتے تھے. اللہ کا کرنا یہ ہوا که ہمارے حالات بدل گئے‘ ہمارے والد نے چھوٹی سی بھٹی لگائی‘ یہ بھٹی کارخانہ بنی اور وہ کارخانہ کارخانوں میں تبدیل ہو گیا، ہم ارب پتی ہو گئے. 1980ء کی دہائی میں ہمارے والد فوت ہو گئے‘ وہ چچا ترکے میں مجھے مل گئے، میں نے انھیں چند ماہ اپنے گھر رکھا، لیکن میں جلد ہی تنگ آگیا۔ میں نے انھیں پاگل خانے میں داخل کرا دیا. وہ پاگل خانے میں رہ کر انتقال کر گئے. بس ان کے انتقال کی دیر تھی ہمارا پورا خاندان اوپر سے نیچے آ گیا. ہماری فیکٹریاں ہمارے گھر اور ہماری گاڑیاں ہر چیز نیلام ہو گئی. ہم روٹی کے نوالوں کو ترسنے لگے. ہمیں اس وقت معلوم ہوا ہمارے معذور چچا ہمارے رزق کی ضمانت تھے. ہم ان کی وجہ سے محلوں میں زندگی گزار رہے تھے. وہ گئے تو ہماری ضمانت بھی ختم ہو گئی. ہمارے محل ہم سے رخصت ہو گئے، ہم سڑک پر آ گئے۔ *تینوں واقعات سےملنے والا سبق :* یہ تینوں واقعات آپ کے لیے سبق ہیں. ہم نہیں جانتے ہم کن لوگوں کی وجہ سے زندہ ہیں؟ ہم کن کی وجہ سے کامیاب ہیں؟ اور ہم کن کی بدولت محلوں میں زندگی گزار رہے ہیں؟ ہم یہ بھی نہیں جانتے ہم کس کو بس سے اتاریں گے؟ ہم کس کو کشتی سے باہر پھینکیں گے؟ اور ہم کس کے کھانے کی پلیٹ اٹھائیں گے؟ اورپھر وہ شخص ہمارا رزق، ہماری کامیابی، اور ہماری زندگی ساتھ لے جائے گا... ہم ہرگز ہرگز نہیں جانتے، لہٰذا ہم جب تک اس شخص کو نہیں پہچان لیتے، ہمیں اس وقت تک کسی کو بھی اپنی بس یا کشتی اور گھر سے نکالنے کا رسک نہیں لینا چاہیے. کیوں؟ کیونکہ ہو سکتا ہے ہمارے پاس جو کچھ ہو، وہ سب اس شخص کا ہو. اور اگر وہ چلا گیا.... تو سب کچھ چلا جائے، ہم ہم نہ رہیں، مٹی کا ڈھیر بن جائیں۔♥♥

 *تین حیرت انگیز واقعات* *اور ان تینوں سے ملنے والا* *ایک سبق* *پہلا واقعہ :* بس پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی. اچانک بجلی چمکی. بس کے قریب آئی اور واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ آدھ گھنٹے بعد بجلی دوبارہ آئی‘ بس کے پچھلے حصے کی طرف لپکی  لیکن واپس چلی گئی‘ بس آگے بڑھتی رہی‘ بجلی ایک بار پھر آ ئی. وہ اس بار دائیں سائیڈ پر حملہ آور ہوئی لیکن تیسری بار بھی واپس لوٹ گئی. ڈرائیور سمجھ دار تھا‘ اس نے گاڑی روکی اور اونچی آواز میں بولا ’’بھائیو بس میں کوئی گناہگار سوار ہے۔ یہ بجلی اسے تلاش کر رہی ہے‘ ہم نے اگر اسے نہ اتارا تو ہم سب مارے جائیں گے‘‘ بس میں سراسیمگی پھیل گئی  اور تمام مسافر ایک دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے‘ ڈرائیور نے مشورہ دیا. "سامنے پہاڑ کے نیچے درخت ہے‘ ہم تمام ایک ایک کر کے اترتے ہیں  اور درخت کے نیچے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ ہم میں سے جو گناہ گار ہو گا  بجلی اس پر گر جائے گی اور باقی لوگ بچ جائیں گے" یہ تجویز قابل عمل تھی‘ تمام مسافروں نے اتفاق کیا‘ ڈرائیور سب سے پہلے اترا، اور دوڑ کر درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ بجلی آسمان پر چمکتی رہی  لیکن وہ ڈرائ...