*✍🏼ذخیرہ اسلامی معلومات🌴🌴🌴* ⛺ اسلامی معلومات پر مشتمل دلچسپ سلسلہ، جس میں اسلام کے بارے میں سوال جواب پیش کیے جا رہے ہیں۔ آپ کی معلومات کے لئے ہر جواب کے ساتھ حوالہ جات بھی لکھ دیے گئے ہیں۔ 🕌🕌🕌 ⚜️⚜️⚜️ *قسط نمبر* ⫷3⫸ ⚜️⚜️⚜️ ۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄* 👈🏻 *حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق چیزیں... * سوال : این الذبیحین کس کا لقب ہے اور ذبیحین کا مصداق کون ہیں - جواب : یہ ہمارے حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کا لقب ہے اور دو ذبیحوں سے مراد ایک تو حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لڑکے ہیں جن کی اولاد میں ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرے ذبیح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد محترم حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں جن کے ذبیح نام کے ساتھ موسوم ہونے کا ایک خاص واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالمطلب نے خواب میں چاہ زمزم کا نشان دیکھا اور کھودنا شروع کیا یہ وہ مقام تھا جہاں اساف اور نائلہ دو بت رکھے ہوئے تھے - قریش نے منع کیا اور لڑنے کو تیار ہوگئے - یہ صرف دو ہی شخص تھے باپ اور بیٹے ان کا کوئی مددگار و معاون نہ تھا مگر پھر بھی عبدالمطلب ہی غالب رہے اور کنواں کھودنے کے کام میں مصروف رہے اس وقت عبدالمطلب نے اپنی تنہائی کو محسوس کیا اور منت مانی کہ اگر خدائے تعالٰی نے مجھ کو دس بیٹے عطا فرما دئیے اور پانی کا چشمہ بھی نکل آیا تو میں اپنے بیٹوں میں سے ایک کو خدا کے نام پر قربان کروں گا - چند روز کی محنت کے بعد چشمہ بھی نکل آیا اور عبدالمطلب کو اللہ نے دس بیٹے بھی عطا فرما دئیے - چاہ زمزم کے نکل آنے سے قریش میں عبدالمطلب کا سکہ بیٹھ گیا تھا اور ان کو لوگ بڑا ماننے لگے تھے جب عبدالمطلب کے بیٹے جوان ہوگئے تو انہوں نے اپنی مانی ہوئی منت پوری کرنی چاہی سب بیٹوں کو لیکر کعبہ میں گئے اور ہبل نامی بت کے سامنے قرعہ اندازی کی اتفاق کی بات کہ قرعہ کا تیر سب سے چھوٹے بیٹے حضرت عبداللہ کے نام نکلا جو عبدالمطلب کو سب سے زیادہ عزیز تھا - عبدالمطلب چونکہ اپنی نذر کو پورا کرنا چاہتے تھے - مجبوراً عبداللہ کو ہمراہ لیکر قربان گاہ کی طرف چلے - عبداللہ کے تمام بھائیوں اور بہنوں اور قریش کے سرداروں نے عبدالمطلب کو اس کام( ذبح عبداللہ )سے باز رکھنا چاہا مگر عبدالمطلب نہ مانے بالآخر بڑی رد و قدح کے بعد یہ معاملہ سجاع نامی کاہنہ کے حوالے کیا گیا اس نے کہا کہ تمہارے یہاں ایک آدمی خون بہا دس اونٹوں کے برابر ہے پس تم تم ایک طرف دس اونٹ اور ایک طرف عبداللہ کو رکھو اور قرعہ ڈالو قرعہ اونٹوں کے نام نکل آئے تو ان دس اونٹوں کو ذبح کردو اور اگر قرعہ عبداللہ کے نام پر آئے تو تو دس اور بڑھا کر بیس اونٹ عبداللہ کے بالمقابل رکھو اور پھر قرعہ ڈالو اسی طرح ہر مرتبہ دس دس بڑھاتے جاؤ یہاں تک کہ قرعہ اونٹوں کے نام آجائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور قرعہ عبداللہ کے نام پر ہی نکلتا رہا - یہاں تک کہ جب اونٹوں کی تعداد سو ہوگئی تب اونٹوں کے نام قرعہ آیا عبدالمطلب نے اپنی تسکین کے خاطر کے لئے دو مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اور اب ہر مرتبہ اونٹوں کے ہی نام قرعہ نکلا وہ سو اونٹ ذبح کئے گئے اور عبداللہ کی جان بچ گئی اس وقت سے ایک آدمی کا خون بہا قریش میں سو اونٹ مقرر ہوئے - اسی وجہ سے حضرت عبداللہ ذبیح پانی کے مصداق ہیں -( تاریخ اسلام ج ١ ص ٨٦ و ص ٨٧ ) سوال : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کس بیوی کا نکاح آسمان پر ہوا - جواب : وہ بیوی حضرت زینب بنت جحش ہیں( حاشیہ جلالین ص ٣٥٥ ) سوال : آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام کے کتنے سال بعد پیدا ہوئے - جواب : آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام کے چھ ہزار ایک سو پچپن سال بعد پیدا ہوئے -( اشرف المکالمہ ص ١٨ ) - ♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾ 📢 ضروری تنبیہ: 📚 ذخیرہ اسلامی معلومات جملہ قسطوں میں چونکہ بہت سی روایات تاریخی ہیں اور تاریخی روایات صحیح و سقیم، قوی و ضعيف، راجح و مرجوح ہر طرح کی ہوتی ہیں اس لیے پوسٹ میں درج شدہ ہر قول و روایت کا راجح ہونا ضروری نہیں۔ قارئین اسی حیثیت سے اسکو دیکھیں، محققین اور محدثین کے اصول پر نہ پرکھیں۔ ۔❍•<✵⊰࿇منتخب تحریریں࿇⊱✵>•❍۔ 🏰 اسلامی معلومات پر مشتمل دلچسپ سلسلہ جاری ہے۔ 🌴🌴🌴
*✍🏼ذخیرہ اسلامی معلومات🌴🌴🌴*
⛺ اسلامی معلومات پر مشتمل دلچسپ سلسلہ، جس میں اسلام کے بارے میں سوال جواب پیش کیے جا رہے ہیں۔ آپ کی معلومات کے لئے ہر جواب کے ساتھ حوالہ جات بھی لکھ دیے گئے ہیں۔ 🕌🕌🕌
⚜️⚜️⚜️ *قسط نمبر* ⫷3⫸ ⚜️⚜️⚜️
۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄*
👈🏻 *حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق چیزیں... *
سوال : این الذبیحین کس کا لقب ہے اور ذبیحین کا مصداق کون ہیں -
جواب : یہ ہمارے حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کا لقب ہے اور دو ذبیحوں سے مراد ایک تو حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لڑکے ہیں جن کی اولاد میں ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرے ذبیح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد محترم حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں جن کے ذبیح نام کے ساتھ موسوم ہونے کا ایک خاص واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالمطلب نے خواب میں چاہ زمزم کا نشان دیکھا اور کھودنا شروع کیا یہ وہ مقام تھا جہاں اساف اور نائلہ دو بت رکھے ہوئے تھے - قریش نے منع کیا اور لڑنے کو تیار ہوگئے - یہ صرف دو ہی شخص تھے باپ اور بیٹے ان کا کوئی مددگار و معاون نہ تھا مگر پھر بھی عبدالمطلب ہی غالب رہے اور کنواں کھودنے کے کام میں مصروف رہے اس وقت عبدالمطلب نے اپنی تنہائی کو محسوس کیا اور منت مانی کہ اگر خدائے تعالٰی نے مجھ کو دس بیٹے عطا فرما دئیے اور پانی کا چشمہ بھی نکل آیا تو میں اپنے بیٹوں میں سے ایک کو خدا کے نام پر قربان کروں گا - چند روز کی محنت کے بعد چشمہ بھی نکل آیا اور عبدالمطلب کو اللہ نے دس بیٹے بھی عطا فرما دئیے - چاہ زمزم کے نکل آنے سے قریش میں عبدالمطلب کا سکہ بیٹھ گیا تھا اور ان کو لوگ بڑا ماننے لگے تھے جب عبدالمطلب کے بیٹے جوان ہوگئے تو انہوں نے اپنی مانی ہوئی منت پوری کرنی چاہی سب بیٹوں کو لیکر کعبہ میں گئے اور ہبل نامی بت کے سامنے قرعہ اندازی کی اتفاق کی بات کہ قرعہ کا تیر سب سے چھوٹے بیٹے حضرت عبداللہ کے نام نکلا جو عبدالمطلب کو سب سے زیادہ عزیز تھا - عبدالمطلب چونکہ اپنی نذر کو پورا کرنا چاہتے تھے - مجبوراً عبداللہ کو ہمراہ لیکر قربان گاہ کی طرف چلے - عبداللہ کے تمام بھائیوں اور بہنوں اور قریش کے سرداروں نے عبدالمطلب کو اس کام( ذبح عبداللہ )سے باز رکھنا چاہا مگر عبدالمطلب نہ مانے بالآخر بڑی رد و قدح کے بعد یہ معاملہ سجاع نامی کاہنہ کے حوالے کیا گیا اس نے کہا کہ تمہارے یہاں ایک آدمی خون بہا دس اونٹوں کے برابر ہے پس تم تم ایک طرف دس اونٹ اور ایک طرف عبداللہ کو رکھو اور قرعہ ڈالو قرعہ اونٹوں کے نام نکل آئے تو ان دس اونٹوں کو ذبح کردو اور اگر قرعہ عبداللہ کے نام پر آئے تو تو دس اور بڑھا کر بیس اونٹ عبداللہ کے بالمقابل رکھو اور پھر قرعہ ڈالو اسی طرح ہر مرتبہ دس دس بڑھاتے جاؤ یہاں تک کہ قرعہ اونٹوں کے نام آجائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور قرعہ عبداللہ کے نام پر ہی نکلتا رہا - یہاں تک کہ جب اونٹوں کی تعداد سو ہوگئی تب اونٹوں کے نام قرعہ آیا عبدالمطلب نے اپنی تسکین کے خاطر کے لئے دو مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اور اب ہر مرتبہ اونٹوں کے ہی نام قرعہ نکلا وہ سو اونٹ ذبح کئے گئے اور عبداللہ کی جان بچ گئی اس وقت سے ایک آدمی کا خون بہا قریش میں سو اونٹ مقرر ہوئے - اسی وجہ سے حضرت عبداللہ ذبیح پانی کے مصداق ہیں -( تاریخ اسلام ج ١ ص ٨٦ و ص ٨٧ )
سوال : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کس بیوی کا نکاح آسمان پر ہوا -
جواب : وہ بیوی حضرت زینب بنت جحش ہیں( حاشیہ جلالین ص ٣٥٥ )
سوال : آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام کے کتنے سال بعد پیدا ہوئے -
جواب : آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام کے چھ ہزار ایک سو پچپن سال بعد پیدا ہوئے -( اشرف المکالمہ ص ١٨ ) -
♾♾🍃🌸 منتخب تحریریں 🌸🍃♾♾
📢 ضروری تنبیہ:
📚 ذخیرہ اسلامی معلومات جملہ قسطوں میں چونکہ بہت سی روایات تاریخی ہیں اور تاریخی روایات صحیح و سقیم، قوی و ضعيف، راجح و مرجوح ہر طرح کی ہوتی ہیں اس لیے پوسٹ میں درج شدہ ہر قول و روایت کا راجح ہونا ضروری نہیں۔ قارئین اسی حیثیت سے اسکو دیکھیں، محققین اور محدثین کے اصول پر نہ پرکھیں۔
۔❍•<✵⊰࿇منتخب تحریریں࿇⊱✵>•❍۔
Comments