My daily dairy

👩‍❤️‍👨 میاں بیوی کا ایک دوسرے کی خوشی کا احساس
 (ایک مختصر مگر سبق آموز واقعہ)

*─━═•✵⊰منتخب تحریریں⊱✵•═━─*

ایک تہوار کےموقع پر میں نے اپنے والدین بہن بھائیوں کو اپنے ہاں رات کے کھانے پر مدعو کیا. سب گھر والے پہلے پہنچ چکے تھے 

عصر کے وقت میرے والد محترم تشریف لاۓ اور آتے ہی اِدھر اُدھر نظریں دوڑانے لگے. پھر مجھے علیحدگی میں لے جاکر کہنے لگے تو تو بہت بیوقوف ھے 

اس اچانک پڑنے والی ڈانٹ پر میرے چودہ طبق روشن ھوگئے اور میں سوالیہ نگاھوں سے والد محترم کو دیکھنے لگا. 

میری نظروں کے سوال کو بھانپ کر فرمانے لگے: 
 اس خوشی کے موقع پر تو نے اپنے سب گھر والوں کو تو جمع کرلیا مگر اپنے سسرال میں سے کسی ایک کو بھی بلانا گوارا نہ کیا خوشی کے اس موقع پر تیرے سب گھر والوں کو دیکھ کر کیا تیری بیوی اپنے گھر والوں کی کمی محسوس نہیں کرے گی؟

غلطی کے احساس سے میری جھکی گردن دیکھ کر فرمانے لگے چل فورا اپنے سسرال فون کرکے سب کو کھانے پر بلا 

میں نے قدرے پریشان ہوتے ہوئے کہا اب کھانے کا اس قدر جلد انتظام کس طرح ممکن ھے؟ 

فرمانے لگے ہم کھانا بعد میں کھالیں گے پہلے ان کی خدمت میں پیش کردیں گے. اس طرح کر کہ اپنی بیگم سے کچھ نہ کہہ بس اپنی امی سے جا کر کہہ دے کہ مزید کھانے کا انتظام کر لیں 

حکم کی تعمیل کی۔ 

خلاصہ یہ کہ جب میرے سسرال والے آۓ تو انہیں اچانک سامنے دیکھ کر میری بیگم صاحبہ خوشی سے پھولے نہیں سما رھی تھی، ان کی خوشی دیکھ کر میرے والد محترم نے مجھے بے تکلفی سے کہنی مارتے ہوۓ فرمایا. کیوں بھئی فائدہ ہوا یا نہیں ؟ جس کا جواب میں نے بھرپور قہقہے کی صورت میں دیا۔

میاں بیوی کا ایک دوسرے کی خوشی کا احساس جہاں گھریلو ماحول کو دولتِ سکون عطاء کرتا ہے وہاں والدین کی صحیح راہنمائی اسی دولت میں کئی گنا اضافے کا سبب ہے۔ 

♾♾🍃🌸 🌸🍃♾♾
  

Comments

Popular posts from this blog

*ﺍُﺭﺩﻭ ﮐﮯ ﺩﺱ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﺎﻭﻝ* *تحریر: ڈاکٹر رؤف پاریکھ* 05 آگست 2020 •••••••• کسی زمانے میں یہ تاثر عام تھا کہ اردو میں عظیم ادبی ناول نہیں لکھے گئے اور اردو میں عظیم ناول تو کیا اچھے ناول بھی نہیں ہیں یا بہت کم ہیں۔۔۔ لیکن عزیز احمد نے اس سے اختلاف کیا۔۔۔ عزیز احمد ناول نگار بھی تھے اور نقاد و محقق بھی۔۔۔ ان کا خیال تھا کہ جن لوگوں نے اردو ادب کا بِالاستیعاب مطالعہ نہیں کیا وہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو میں اچھے ناول نہیں ہیں۔۔۔ شہزاد منظر نے لکھا ہے کہ آزادی کے بعد اردو میں کئی معیاری ناول لکھے گئے اور ۱۹۷۰ء کے عشرے میں متعدد اچھے ناول منظرِ عام پر آئے۔۔۔ یہ گویا ہمارے ملک کے صنعتی کلچر کی دین ہے اور غالباً اس خیال کی توثیق ہے کہ ناول دراصل صنعتی دور اور صنعتی معاشرے کی پیداوار ہے۔۔۔ زرعی معاشرہ بالعموم شاعری کو نثر پر ترجیح دیتا ہے۔۔۔ کچھ نقادوں کا خیال تھا کہ اردو ناول ۱۹۸۰ء کے لگ بھگ زوال کا شکار ہوگیا اور ۱۹۸۰ء کے بعد عمدہ ادبی ناول اردو میں نہیں لکھے گئے۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں بھی بعض عمدہ ناول لکھے گئے اگرچہ ان کی تعداد نسبۃً کم رہی۔۔۔ اکیسویں صدی کے آغاز کے لگ بھگ اردو میں ایک بار پھر اچھے ادبی ناول خاصی تعداد میں نظر آنے لگے، عرفان جاوید نے کوئی پانچ چھے سال قبل اپنے ایک انگریزی مضمون میں لکھا تھا کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں اردو ناول کا احیا ہوا ہے اور بعض بہت عمدہ ناول شائع ہوئے ہیں۔۔۔ ممتاز احمد خان نے بھی اپنی کتابوں میں نئے اور اہم ناولوں کا جائزہ لیتے ہوئے خیال ظاہر کیا ہے کہ آزادی کے بعد اردو میں بعض بہت اچھے ناول بھی لکھے گئے ہیں۔۔۔ غفور احمد نے اپنے مقالے " نئی صدی نئے ناول " میں اکیسویں صدی کے ابتدائی دس برسوں میں لکھے گئے معیاری ناولوں کا جائزہ لیا ہے۔۔۔ شاعر علی شاعر نے حال ہی میں اپنی کتاب " جدید اردو ناول " میں اکیسویں صدی میں پاکستان اور ہندوستان میں شائع ہونے اردو ناولوں کی فہرست دی ہے۔۔۔ ان کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو ہے، یہ سب اعلیٰ ادبی ناول تو نہیں ہیں لیکن کم از کم یہ اس بات کا ثبوت ضرورہے کہ اردو میں ناول لکھا جارہا ہے اور اردو میں ناول کا احیا ہو رہا ہے۔۔۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے پچھلے ماہ اپنے جریدے " ادبیات " کا ناول نمبر شائع کیا ہے اور دو جلدوں پر مشتمل اس خصوصی اشاعت میں اردو ناول پر مضامین و مقالات کے علاوہ اردو کے تقریباً تین ہزار ناولوں کے نام (مع مصنف ) دیے گئے ہیں۔۔۔ لیکن اس میں ہر قسم کے ناول شامل ہیں ، ادبی بھی اور غیر ادبی بھی۔۔۔ اتنی بڑی تعداد میں ناولوں کی موجودگی میں بہترین کا انتخاب آسان نہیں ہے۔۔۔ لیکن بہرحال اردو ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اردو کے بہترین ناولوں کی فہرست پیش کرنے کی یہ طالب علمانہ کوشش ہے۔۔۔ یہ فہرست تاریخی ترتیب سے مرتب کی گئی ہے۔۔۔ ہماری اس فہرست میں ناولوں کی ادبی اہمیت اور فنی خوبیوں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔۔۔ عوامی مقبولیت کے حامل ناول نیز خواتین کے " گھریلو، معاشرتی اور اصلاحی ناول " شامل نہیں ہیں.۔ اس میں " اسلامی " اور جاسوسی ناول بھی شامل نہیں ہیں۔۔ ممکن ہے بعض قارئین کو اس فہرست سے اختلاف ہو کیونکہ اس میں بعض معروف ادبی ناول بھی نہیں ملیں گے ، مثلاً مولوی نذیر احمد دہلوی کا ناول مراۃ العروس(۱۸۶۹ء) اس میں شامل نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نذیر احمد کے ناول موجودہ دور میں ناول کی تعریف پر پورا اتر بھی جائیں تو ان کی بعض خامیاں ان کو اچھے ناول میں شمار کرانے میں مانع ہیں، مثلا ً کرداروں کا لمبی لمبی تقریریں کرنا اور مصنف کا براہ ِ راست وعظ و تلقین پر اتر آنا۔۔۔ پھر نذیر احمد کے کردار حقیقی زندگی سے بہت دور ہیں۔۔۔ اچھا کردار نیکی اور عقل کا پتلا ہے اور برے کردار میں کوئی خوبی نہیں۔۔۔ حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا ، انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔۔۔ نذیر احمد نے کرداروں کا نفسیاتی ارتقا بھی کم دکھایا ہے۔۔۔ راشد الخیری نے تو اپنے بعض ناولوں میں لڑکیوں کی " صحیح تربیت " کے خیال سے کپڑوں کی تراش اور سلائی سکھانے کے لیے سلائی کے طریقے بھی پیش کیے ہیں اور باقاعدہ نمونے (ڈیزائن) بھی شامل کیے ہیں۔۔۔ آج کے ناولوں میں اس کا تصور بھی محال ہے۔۔ دراصل ناول میں زندگی کی تخلیق اہم ہوتی ہے۔۔۔ اس کے لیے پورے سماجی ، ثقافتی ، تاریخی اور سیاسی ماحول اور زبان کا شعور ضروری ہے۔۔ لیکن اس زندگی اور ماحول کو پورے ادبی اور فنی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بالواسطہ پیش کرنا ہوتا ہے نہ کہ بلا واسطہ اور براہِ راست۔۔۔ عبداللہ حسین کا ناول اداس نسلیں بہت مشہورہے لیکن قرۃ العین حیدر نے " کار ِ جہاں دراز ہے " میں اس پر نہ صرف سرقے کا الزام لگایا ہے بلکہ وہ جملے اور پیراگراف صفحہ نمبر کے ساتھ پیش کیے ہیں، جن سے اداس نسلیں میں ’’استفادہ ‘‘ کیا گیا ہے۔. اب یہ محض اتفاق ہی ہوگا کہ کئی مقامات پر یہ ’’استفادہ‘‘ لفظ بہ لفظ ہوگیا ہے... لہٰذا اسے بھی اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔۔۔ اس فہرست پر ہمیں اصرار بھی نہیں ہے کیونکہ ایسی کوئی بھی فہرست حتمی نہیں ہوسکتی اور ایسی کسی فہرست پر سب کا متفق ہوجانا بھی ناممکنات میں سے ہے۔۔۔ لہٰذااس فہرست میں ہر قاری اپنی پسند اور ذوق کے مطابق تبدیلی، ترمیم اور اضافہ کرسکتا ہے۔۔۔۔ ۱۔فسانۂ آزاد (۱۸۷۸ء) اُردو کے دس بہترین ناول پنڈت رتن ناتھ سرشار کا یہ شاہ کار ناول کشور کے ’’اودھ اخبار ‘‘ میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔۔۔ اس کے دو کرداروں میاں آزاد اور خوجی کا شمار اردو ادب کے معروف کرداروں میں ہوتا ہے۔۔۔ فسانۂ آزاد پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس کاصحیح معنوں میں کوئی پلاٹ نہیں ہے اور یہ حد سے زیادہ طویل ہے۔۔۔ لیکن یہ اعتراض تو دنیا کے کئی عظیم ناولوں مثلاً ٹالسٹائی کے ’’وار اینڈ پیس‘‘ اور دستووسکی کے ’’برادرز کراموزوف ‘‘ پر بھی وارد ہوتے ہیں۔۔۔ فسانۂ آزاد کی ایک بڑی خوبی اس میں لکھنوی معاشرے کی تہذیبی عکاسی ہے ۔ اس کی ٹکسالی اردو اور محاوروں کا استعمال سند کی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔ البتہ اس کا مرکزی خیال سروانتے (Cervantes)کے ہسپانوی ناول’’ دون کی ہوتی ‘‘ (Don Quixote) سے ماخوذ ہے(جس کا تلفظ اردو میں غلط طور پرڈون کوئیکزوٹ کیا جاتا ہے )۔۔۔ ۲۔ امراو جان ادا (۱۸۹۹ء) اُردو کے دس بہترین ناول مرزا ہادی رسوا کا ناول امراو جان ادا اردو میں ناول کی صنف کے ایک نئے دور کا نقیب بلکہ ناول کے باقاعدہ آغاز کی علامت ہے۔۔۔یہ اردو میں پہلا ناول تھا جس سے معلوم ہوا کہ ناول ہوتا کیا ہے۔۔۔ رالف رسل نے لکھا ہے کہ مرزا ہادی رسوا کا ناول امراو جان ادا اردو کا ’’ پہلا ‘‘ ناول اور ’’صحیح معنوں میں ناول ‘‘ ہے۔۔۔ گویا وہ اس سے قبل کے ناولوں مثلاً نذیر احمد کے ناول اور دیگر ناولوں کو صحیح معنوں میں ناول نہیں سمجھتے۔۔ اس بحث سے قطع نظر کہ امراو کا کردار حقیقی تھا یا ہادی رسوا نے اسے حقیقت بنا کر پیش کیا، یہ ناول فکشن نویسی کے فن پر ہادی رسوا کے عبور کا ثبوت ہے۔۔۔ اس میں انیسویں صدی کے نصف ِ آخر کے لکھنو ٔ کی تہذیب کی شان دار عکاسی کی گئی ہے۔۔۔ ۳۔گئو دان (۱۹۳۶ء) اُردو کے دس بہترین ناول منشی پریم چند کا آخری ناول گئو دان ان کا بہترین ناول بھی ہے۔۔۔ ہندستانی کسانوں کی قابل ِ رحم حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے پریم چند سرمایہ دارانہ نظام کے استحصالی ہتھکنڈوں پر فن کارانہ انداز میں احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ پریم چند نے لکھنے کا آغاز اردو سے کیا تھا لیکن اردو ہندی تنازع کے پس منظر میں رفتہ رفتہ وہ ہندی کے حامی ہوتے گئے اور اپنی تخلیقات کو اردو میں لکھ کر دیو ناگری رسم الخط میں ڈھالنے لگے تھے۔۔ بعد ازاں ہندی میں لکھتے اور اسے اردو میں ڈھالا جاتا۔۔۔۔ ڈاکٹر مسعود حسین نے ثابت کیا ہے کہ ان کا یہ ناول مکمل طور پر ہندی میں لکھا گیا تھا اور اقبال ورما سحرؔہتگامی نے اسے اردو میں بعد میں ڈھالا۔۔ اسی لیے مسعود صاحب نے سہ ماہی فکر ونظر (علی گڑھ ) میں لکھا کہ چونکہ گئو دان اولاً ہندی میں لکھا گیا ہے اور اردو میں ترجمہ ہے اور چونکہ تراجم کو اُس زبان کے ادب کا حصہ نہیں مانا جاتا جس میں ترجمہ کیا گیا ہو لہٰذا " گئو دان کا اردو ناول نگاری کی تاریخ میں کوئی مقام نہیں " ۔۔۔ اس سے ایک تہلکہ مچ گیا۔۔۔ تاہم بعض نقاد اسے اردو کے عظیم ناولوں میں شمار کرتے ہیں۔۔۔ ۴۔آگ کا دریا (۱۹۵۷ء) اُردو کے دس بہترین ناول قرۃ العین حیدر کے ناول آگ کا دریا کو اردو کا بہترین ناول کہا جاتا ہے۔۔۔ اگرچہ اس سے اختلاف بھی کیا جاتا ہے لیکن راقم کی ناقص رائے میں آگ کا دریا بلا شبہہ اردو کا عظیم ترین ناول ہے۔۔۔ محمد احسن فاروقی کا خیال تھا کہ ورجینیا وولف کے ناول ’’اورلینڈو‘‘ (Orlando) کا مقصد انگلستان کی تاریخ بیان کرنا تھا اور آگ کا دریا میں اسی کا اتباع کیا گیا ہے۔۔ دراصل اس ناول میں برعظیم پاک و ہند کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ بیان کی گئی ہے اور اس کا بنیادی خیال ’’ وقت ‘‘ ہے۔۔ اگرچہ اس کے ابتدائی سو ڈیڑھ سو صفحات پڑھنا ذرا مشکل ہے لیکن اس کے بعد یہ ناول قاری کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔۔۔ ۵۔خدا کی بستی(۱۹۵۸ء) اُردو کے دس بہترین ناول شوکت صدیقی کا ناول خدا کی بستی کسی زمانے میں بہت مقبول تھا۔۔۔ اس کے تقریباً پچاس ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔۔۔ پاکستان بلکہ ہندوستان میں بھی اس کے کئی غیر قانونی ایڈیشن شائع ہوئے۔۔۔ خدا کی بستی کا ترجمہ تقریباً بیس زبانوں میں ہوچکا ہے۔۔۔ شوکت صدیقی نے اپنے مخصوص ترقی پسندانہ نظریات کے تحت اس ناول میں ۱۹۵۰ء کے عشرے کے پاکستانی معاشرے کی عکاسی کی ہے لیکن فنی تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے پاکستانی معاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل اس طرح پیش کیے ہیں کہ پڑھنے والے ایک حقیقی تبدیلی کی ضرورت کے قائل ہوجاتے ہیں۔۔۔ ۶۔ آنگن (۱۹۶۲ء) اُردو کے دس بہترین ناول خدیجہ مستور کے ناول آنگن میں آنگن دراصل معاشرے کی علامت ہے اور جس طرح گھر کے آنگن میں سب اہل خانہ مل بیٹھتے ہیں اسی طرح معاشرے میں سب مل کر زندگی گزارتے ہیں۔۔۔ آنگن بظاہر گھر کی کہانی ہے لیکن اس میں سماجی ، سیاسی اور معاشی مسائل کی تصویر کشی بھی ہے۔۔ قیام ِ پاکستان سے قبل ہندوستان کا سیاسی اور معاشی ماحول، انگریز، مسلم لیگ، کانگریس اور جاگیردارانہ ماحول کی خرابیاں بھی فن کارانہ انداز میں اور بالواسطہ پیش کی گئی ہیں۔۔۔ اس میں ایک کردار اسرار میاں کا بھی ہے جو اپنی شرافت کے باوجود ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔۔ آخر میں اس شریف کردار کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور وہ کہیں غائب ہوجاتا ہے جو علامتی اور اشارتی ہے۔۔۔ خدیجہ مستور کا خوب صورت اسلوب اور زبان بھی قابل داد ہے۔۔۔ ۷۔بستی (۱۹۷۹ء) اُردو کے دس بہترین ناول انتظار حسین پر ایک بڑا الزام نوسٹلجیا (nostalgia) یعنی ماضی پرستی کا ہے۔۔۔ یہی الزام قرۃ العین حیدر پر بھی تھا۔۔۔ لیکن معترضین یہ نہیں سمجھتے کہ ان دونوں تخلیقی فن کاروں کا اصل موضوع ہی ماضی تھا اور اسی کی بنیاد پروہ اپنی تحریروں میں جادو جگاتے تھے۔۔۔ ان کے فکشن میں کبھی کبھی خود نوشت سوانح کے رنگ بھی نظر آتے ہیں۔۔ پھر ہجرت دنیا کے عظیم فکشن کا موضوع رہا ہے اور ادب کے بعض نوبیل انعام یافتگان کا موضوع بھی ہجرت اور ماضی ہے۔۔۔ اپنے ناول بستی میں انتظار صاحب نے اپنے مخصوص استعاراتی و علامتی انداز میں اپنی خود نوشت اور فکشن کو ملا جلا کر پیش کیا ہے۔۔۔ ہندوستان سے ہجرت کے بعد لاہور میں بسنا اور اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے اس نئے ملک میں خوابوں کی تعبیر پانے کی خواہش ہونا، لیکن حقیقت کا بہت مختلف اور تلخ ہونا، یہ صرف انتظار صاحب کا المیہ نہیں تھا بلکہ تمام پاکستانیوں کا المیہ ہے۔۔۔ پاکستان خوابوں کی ایک بستی ہے۔۔۔ل یکن المیۂ مشرقی پاکستان کے بعد اس بستی کے باسی سکون کی تلاش میں ہوا میں معلق ہوگئے اور آج بھی ہیں۔۔۔ یہی اس بستی کی اصل کہانی ہے۔۔۔ ۸۔ راجا گدھ (۱۹۸۱ء) اُردو کے دس بہترین ناول ممکن ہے کہ بانو قدسیہ کے ناول راجا گدھ کو اس فہرست میں شامل کرنے پر کچھ لوگ چیں بہ جبیں ہوں کیونکہ اس کا مرکزی خیال حلال و حرام کے فلسفے پر مبنی ہے۔۔۔ لیکن پاکستانی معاشرے میں مالی بدعنوانی کی ہوش ربا داستانوں کے آئے دن منظر ِ عام پر آنے کے بعد راجا گدھ کاکم از کم مطالعہ تو کیا جانا چاہیے خواہ آپ اسے بہترین ناول نہ مانیں۔۔۔ بانو قدسیہ نے اس میں یہ فلسفہ پیش کیا ہے کہ حرام کھانے کے ذہنی اور جسمانی اثرات ہوتے ہیں اور حرام کھانے والا انسان پاگل ہوجاتا ہے اور اس میں مالی اور جنسی دونوں طرح کا حرام شامل ہے۔۔۔ اس ناول میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ خود پسندی انسان کو پاگل کردیتی ہے اور یہ انسانی تہذیب کے لیے بھی خطرہ ہے۔۔۔ اس میں پرندوں کی مدد سے انسانی مسائل تمثیلی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔۔۔ ۹۔ کئی چاند تھے سرِ آسماں (۲۰۰۵ء) اُردو کے دس بہترین ناول شمس الرحمٰن فاروقی کے ناول کئی چاند تھے سر آسماں پر بھی بعض لوگوں کو کئی اعتراضات ہیں جس میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں داغ دہلوی کی والدہ وزیرخانم کی کردار کُشی کی گئی ہے۔۔۔ وزیر بیگم ناول کا مرکزی کردار ہے جس کی مدد سے کئی صدیوں کی ہندوستانی تاریخ بیان کی گئی ہے۔۔۔ اس کی خاص بات تاریخی کرداروں مثلاً فریزر، نواب شمس الدین اور مرزا غالب وغیرہ کی پیش کش اور تہذیب و تمدنی عکاسی ہے۔۔ اس میں مصنف نے خیال رکھا ہے کہ جس زمانے کا ذکر ہورہا ہے اس زمانے کے کردار ویسی ہی اردو بولتے ہوئے نظرآ ئیں۔۔ ناول کاعنوان احمد مشتاق کے اس شعر سے لیا گیا ہے : کئی چاند تھے سرِ آسماں جو چمک چمک کے پلٹ گئے نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمھاری زلف سیاہ تھی ۱۰۔ دھنی بخش کے بیٹے (۲۰۰۸ء) اُردو کے دس بہترین ناول حالیہ برسوں میں جو اردو ناول شائع ہوئے ہیں ان میں حسن منظر کا ناول دھنی بخش کے بیٹے موضوع کے لحاظ سے بھی اہم ہے اور اس کا اسلوب بھی قاری کو جکڑے رکھتا ہے۔۔ اس کا موضوع سندھ میں اعلیٰ طبقے کا بنایا ہوا ظالمانہ نظام ہے جو غریبوں کا استحصالِ بے جا کرتا ہے ۔ یہ ظلم صدیوں سے جاری ہے اور جاری رہے گا کیونکہ اس خطے کے باسی خود اپنی تقدیر بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔۔۔ ناول سندھ کے دھنی بخش نامی ایک گائوں سے متعلق ہے۔۔۔ یہی نام ناول کے مرکزی کردار کا بھی ہے جس کے نام پر گائوں آباد ہے۔۔۔ اس ناول میں ثانوی طور پر دو تہذیوں یعنی مغربی اور مشرقی تہذیب کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔۔۔ ••••• بشکریہ : روزنامہ جنگ

[واٹس ایپ کب اور کس نے ایجاد کی] بہت ہی کمال کی تحریر ہے ایک بار ضرور پڑھیں وہ یوکرائن کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا‘ خاندان عسرت میں زندگی گزار رہا تھا‘ گھر میں بجلی تھی‘ گیس تھی اور نہ ہی پانی تھا‘ گرمیاں خیریت سے گزر جاتی تھیں لیکن یہ لوگ سردیوں میں بھیڑوں کے ساتھ سونے پرمجبور ہو جاتے تھے‘ اس غربت میں 1992ء میں زیادتی بھی شامل ہو گئی‘ یوکرائن میں یہودیوں پر ایک بار پھر ظلم شروع ہو گیا‘ والدہ نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا لیکن والد نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما‘ اٹیچی کیس میں بیٹے کی کتابیں بھریں اور یہ دونوں امریکا آ گئے‘ کیلیفورنیا ان کا نیا دیس تھا‘ امریکا میں ان کے پاس مکان تھا‘ روزگار تھا اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان‘ یہ دونوں ماں بیٹا مکمل طور پر خیرات کے سہارے چل رہے تھے‘ امریکا میں ’’فوڈ سٹمپ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی سلسلہ چل رہا ہے‘ حکومت انتہائی غریب لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کے لیے فوڈ سٹمپس دیتی ہے‘ یہ سٹمپس امریکی خیرات ہوتی ہیں‘ یہ لوگ اتنے غریب تھے کہ یہ زندگی بچانے کے لیے خیرات لینے پر مجبور تھے۔ جین کوم کے پاس پڑھائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا‘ یہ پڑھنے لگا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پڑھائی مہنگی ہونے لگی‘ فوڈ سٹمپس میں گزارہ مشکل ہو گیا‘ جین کوم نے پارٹ ٹائم نوکری تلاش کی‘ خوش قسمتی سے اسے ایک گروسری اسٹور میں سویپر کی ملازمت مل گئی‘ اسٹور کے فرش سے لے کر باتھ روم اور دروازوں کھڑکیوں سے لے کر سڑک تک صفائی اس کی ذمے داری تھی‘ وہ برسوں یہ ذمے داری نبھاتا رہا‘ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے خبط میں مبتلا ہو گیا‘ یہ شوق اسے سین جوز اسٹیٹ یونیورسٹی میں لے گیا‘ وہ 1997ء میں ’’یاہو‘‘ میں بھرتی ہوا اور اس نے نو سال تک سر نیچے کر کے یاہو میں گزار دیئے۔ 2004ء میں فیس بک آئی‘ یہ آہستہ آہستہ مقبول ہو تی چلی گئی‘ یہ 2007ء میں دنیا کی بڑی کمپنی بن گئی‘ جین کوم نے فیس بک میں اپلائی کیا لیکن فیس بک کو اس میں کوئی پوٹینشل نظر نہ آیا‘ وہ یہ نوکری حاصل نہ کر سکا‘ وہ مزید دو سال ’’یاہو‘‘ میں رہا‘ وہ آئی فون خریدنا چاہتا تھا لیکن حالات اجازت نہیں دے رہے تھے‘ اس نے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کیے اور نیا آئی فون خرید لیا‘ یہ آئی فون آگے چل کر اس کے لیے سونے کی کان ثابت ہوا۔ جین کوم نے فون استعمال کرتے کرتے سوچا‘ میں کوئی ایسی ایپلی کیشن کیوں نہ بناؤں جو فون کا متبادل بھی ہو‘ جس کے ذریعے ایس ایم ایس بھی کیا جا سکے‘ تصاویر بھی بھجوائی جا سکیں‘ ڈاکومنٹس بھی روانہ کیے جا سکیں اور جسے ’’ہیک‘‘ بھی نہ کیا جا سکے‘ یہ ایک انوکھا آئیڈیا تھا‘ اس نے یہ آئیڈیا اپنے ایک دوست برائن ایکٹون کے ساتھ شیئر کیا‘ یہ دونوں اسی آئیڈیا پر جت گئے‘ یہ کام کرتے رہے‘ کام کرتے رہے یہاں تک کہ یہ دو سال میں ایک طلسماتی ایپلی کیشن بنانے میں کامیاب ہو گئے‘ یہ ’’ایپ‘‘ فروری 2009ء میں لانچ ہوئی اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی حدیں کراس کر گئی‘ یہ ایپ ٹیلی کمیونیکیشن میں انقلاب تھی‘ اس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا۔ یہ ایپلی کیشن واٹس ایپ کہلاتی ہے‘ دنیا کے ایک ارب لوگ اس وقت یہ ایپ استعمال کر رہے ہیں‘ یہ ایپ دنیا کا تیز ترین اور محفوظ ترین ذریعہ ابلاغ ہے‘ آپ واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ کو نیا فون اور نیا نمبر خریدنے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی آپ کسی موبائل کمپنی کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے‘ آپ پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ جین کوم کو واٹس ایپ نے چند ماہ میں ارب پتی بنا دیا‘ یہ ایپلی کیشن اس قدر کامیاب ہوئی کہ دنیا بھر کی کمپنیوں نے اس کی خریداری کے لیے بولی دینا شر وع کر دی لیکن یہ انکار کرتا رہا۔ فروری 2014ء میں فیس بک بھی ’’واٹس ایپ‘‘ کی خریداری کی دوڑ میں شامل ہو گئی‘ فیس بک کی انتظامیہ نے جب اس سے رابطہ کیا تو اس کی ہنسی نکل گئی‘ اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور قہقہہ لگا کر بولا ’’یہ وہ ادارہ تھا جس نے مجھے 2007ء میں نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا‘‘ وہ دیر تک ہنستا رہا‘ اس نے اس ہنسی کے دوران ’’فیس بک‘‘ کو ہاں کر دی‘ 19 بلین ڈالر میں سودا ہو گیا‘ یہ کتنی بڑی رقم ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے کل مالیاتی ذخائر سے لگا لیجیے‘ پاکستان کا فارن ایکسچینج اس وقت 22 ارب ڈالر ہے اور پاکستان 70 برسوں میں ان ذخائر تک پہنچا جب کہ جین کوم نے ایک ایپلی کیشن 19 ارب ڈالر میں فروخت کی۔ جین کوم نے فیس بک کے ساتھ سودے میں صرف ایک شرط رکھی’’میں فوڈ سٹمپس دینے والے ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر دستخط کروں گا‘‘ فیس بک کے لیے یہ شرط عجیب تھی‘ یہ لوگ یہ معاہدہ اپنے دفتر یا اس کے آفس میں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ڈٹ گیا یہاں تک کہ فیس بک اس کی ضد کے سامنے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی‘ ایک تاریخ طے ہوئی‘ فیس بک کے لوگ فلاحی سینٹر پہنچے‘ وہ ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری کرسی پر بیٹھا ہوا رو رہا تھا‘ وہ کیوں نہ روتا‘ یہ وہ سینٹر تھا جس کے اس کونے کی اس آخری کرسی پر بیٹھ کر وہ اور اس کی ماں گھنٹوں ’’فوڈ سٹمپس‘‘ کا انتظار کرتے تھے۔ یہ دونوں کئی بار بھوکے پیٹ یہاں آئے اور شام تک بھوکے پیاسے یہاں بیٹھے رہے‘ ویٹنگ روم میں بیٹھنا اذیت ناک تھا لیکن اس سے بڑی اذیت کھڑکی میں بیٹھی خاتون تھی‘ وہ خاتون ہر بار نفرت سے ان کی طرف دیکھتی تھی‘ طنزیہ مسکراتی تھی اور پوچھتی تھی’’تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے‘ تم کام کیوں نہیں کرتے‘‘ یہ بات سیدھی ان کے دل میں ترازو ہو جاتی تھی لیکن یہ لوگ خاموش کھڑے رہتے تھے۔ خاتون انھیں ’’سلپ‘‘ دیتی تھی‘ ماں کاغذ پر دستخط کرتی تھی اور یہ لوگ آنکھیں پونچھتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے‘ وہ برسوں اس عمل سے گزرتا رہا چنانچہ جب کامیابی ملی تو اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اس ویٹنگ روم میں منانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے 19 بلین ڈالر کی ڈیل پر ’’فوڈ سٹمپس‘‘ کے انتظار میں بیٹھے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کیے‘ چیک لیا اور سیدھا کاؤنٹر پر چلا گیا‘ فوڈ سٹمپس دینے والی خاتون آج بھی وہاں موجود تھی‘ جین نے 19بلین ڈالر کا چیک اس کے سامنے لہرایا اور ہنس کر کہا ’’آئی گاٹ اے جاب‘‘ اور سینٹر سے باہر نکل گیا۔ یہ ایک غریب امریکی کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے‘ یہ داستان ثابت کرتی ہے آپ اگر ڈٹے رہیں‘ محنت کرتے رہیں اور ہمت قائم رکھیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کامیابی کے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے‘ .

*تم کمزور نہیں ہو* 😊😊 کیا آپ نے کبھی سوچا ہے بیس بائیس سال کی عمر ہو ۔مصر کی شہزادی ہو۔ایک خوبرو اور اعلی اخلاق کے انسان سے شادی ہو ۔ جو پیغمبر وقت ہو ۔گود میں چند دن کا بچہ ہو۔فلسطین کی سرسبز و شاداب وادی میں رہتی ہو اسے ایک ایسی جگہ پر چھوڑ دیا گیا ۔۔جہاں نا انسان ہوں !!!!نا چھت ۔۔۔نا غذا ۔۔نہ درخت نا سایہ ۔۔۔نا پانی۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ اس تپتی دوپہر کا تصور کر سکتے ہیں ؟؟؟؟جب وہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی رہی تھی ؟؟؟ کیا اس رات کا تصور کر سکتے ہیں ۔کالی سیاہ رات کالے سیاہ بنجر پہاڑ .کوئی ذی روح نہیں !!! جب حضرت ابراہیم انہیں چھوڑ کر واپس چلے تو تین میل تک ان کے پیچھے چلتی رہیں اور پوچھا میرا قصور کیا ہے کیوں چھوڑ کے جاتے ہو ؟؟ وہ روئی نہیں گلہ شکوہ نہیں کیا ۔ جھگڑا نہیں کیا ۔پھر خود ہی ذہن میں آیا یہ حکم خداوندی نہ ہو ۔پوچھا کیا یہ خدا کا حکم ہے ۔اور اثبات میں جواب پا کر ۔واپس لوٹ گئیں ۔ صبر اور ہمت سے کام لیا خدا پر بھروسہ رکھا ۔خدا نے زمزم بھی دیا ۔بستی بھی آباد ہو گئی ۔۔۔ تو کہنا یہ چاہتا ہوں لاکھوں مصلحتوں کے ساتھ اس میں ایک مصلحت یہ بھی چھپی تھی اے بنت حوا !!!! تم کمزور نہیں ہو!!!! تم ہر مشکل سے لڑ سکتی ہو ۔اسباب پیدا کر سکتی ہو ۔ویرانوں میں بستیاں آباد کر سکتی ہو ۔ اپنے آپ کو کبھی کمزور مت جاننا !!! بس اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو کھوج لو ۔۔۔ دنبے کی قربانی کے ساتھ ساتھ ۔۔۔سیدہ ہاجرہ کے عزم و ہمت صبر و رضا اور قربانی کی عظیم داستان کو بھی یاد رکھا جاۓ ۔جنہوں نے بیٹے کی تربیت اس طرح سے کی کہ جب باپ نے کہا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں ۔تو بولے کہ ابا جان جلدی کیجئے ۔اور اپنا کرتا اتارا کر بولے . مگر ۔۔بابا میرا یہ کرتا میری ماں کو دے دینا ۔اسے میری یاد بہتt *جامعہ حیدریہ عباس آباد کوٹ سمابہ رحیم یار خان پاکستان*